Mufti Haroon Ur Rasheed Shami

Call Contact the place of worship

Mufti Haroon Ur Rasheed Shami علم وعمل کی بات دلیل و رواداری کےساتھ

09/09/2026

ستمبر کا مہینہ
وقف سرکارمدینہ۔
25 ستمبر ختم نبوت کانفرنس ایلیمنٹری کالج گراؤنڈ ہری پور

05/09/2026
22/08/2026

*کتابوں کی آخری ہچکی*
آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضایع کر رہی ہیں۔
وسعت اللہ خان
August 11, 2026

اگر میں کہوں کہ جس کے پاس کتابوں کا جتنا بھی ذخیرہ ہے سنبھال کر رکھ لے۔چند برس میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب بیشتر لوگ کتابیں ڈھونڈتے پھریں گے اور انھیں اکثر کتابوں کی ایک جلد بھی نہ ملے گی۔جنھوں نے اپنا ذخیرہ محفوظ کر لیا ہوگا وہ فخریہ انداز میں باقی لوگوں کو للچائیں گے کہ دیکھو ہمارے پاس فلاں فلاں موضوع پر کتاب ہے۔

اگر آپ نے اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لیا تو زیادہ امکان ہے کہ اپنے اے آئی جنریشن کے پوتے ، نواسے یا بیٹی کو آپ انٹرنیٹ پر کتاب کی تصویر دکھا کر سمجھائیں گے کہ دیکھو بیٹا اسے کتاب کہتے ہیں۔یہ ہمارے زمانے میں کاغذ پر چھپتی تھی۔

اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں بڑی بڑی اے آئی کمپنیاں خرید رہی ہیں۔انھیں ہائی اسپیڈ سکینرز سے کاپی کر رہی ہے اور پھر ہائیڈرولک کٹرز سے کاٹ کے گودا بنا رہی ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ یہ کمپنیاں کتابوں کو کاپی کرنے کے بعد ہارڈ کاپی محفوظ کرنے کے بجائے ضایع کر رہی ہیں۔حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب آپ کو تاریخ ، فلسفے ، سماجیات ، میٹریل سائنسز سمیت کسی بھی موضوع پر بنیادی یا اعلی معلومات کی طلب ہو گی اور جب دنیا سے کتابیں غائب ہو جائیں گی تو پھر یہی اے آئی کمپنیاں ہم انسانوں کو وہی تاریخی ، فلسفیانہ ، سماجی و سائنسی معلومات فراہم کریں گی جو وہ اپنے ماڈیول کو فیڈ کریں گی۔

یعنی یہ کمپنیاں علمی حقائق میں من پسند تبدیلیوں پر قادر ہوں گی ، انھیں مسخ کر سکیں گی ، توڑ مروڑ کر پیش کر سکیں گی یا کسی بھی حقیقت کو بلیک آؤٹ کر سکیں گی۔اور پھر آپ کو یہ ’’ آلودہ علم ‘‘ فروخت کریں گی۔

ہمیں نسل در نسل بتایا گیا کہ کتاب صرف کاغذ کا پلندہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں محفوظ مواد انسانوں کا مشترکہ علمی و ثقافتی ورثہ ہے۔ مگر اے آئی کمپنیوں کے لیے کتاب اپنے اپنے اے آئی ماڈل کی تربیتی بھوک مٹانے کے لیے محض چارہ ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کمپنیاں ان کتابوں پر ہاتھ صاف کر رہی ہیں جو دو ہزار بائیس تک شائع ہوئی ہیں۔کیونکہ دو ہزار بائیس کے بعد شائع ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان کمپنیوں کو بھی خوف ہے کہ کہیں وہ اے آئی کی مدد سے نہ لکھی گئی ہوں۔

یہ سانحہ اس برس کے شروع میں افشا ہوا جب کیلی فورنیا کی ایک وفاقی عدالت کے روبرو کچھ پبلشرز کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کا مقدمہ لے کر گئے اور اینتھروپک اے آئی ماڈیول سے وابستہ پانامہ پروجیکٹ کی تفصیلات رکھی گئیں۔معلوم یہ ہوا کہ فروری دو ہزار چوبیس میں کیلیفورنیا کی سیلکان ویلی میں دنیا کے سب سے بہتر چیٹب باٹس تیار کرنے والی کمپنی نے اپنے اینتھروپ موڈیول کو سبقت کی دوڑ میں آگے رکھنے کے لیے گوگل بکس کے ایک سابق ایگزیکٹو ٹوم ٹروی کی خدمات حاصل کیں۔انھیں بس ایک کام کرنا تھا۔یعنی دنیا کی اہم زبانوں میں شائع ہونے والی سب کتابیں خرید لو۔ترجیح ان کتابوں کو دو جن کے کاپی رائٹس حقوق ختم ہو چکے ہیں تاکہ ان کے ٹھوس وجود (ہارڈ کاپی ) کو اے آئی ڈیٹا میں تبدیل کرنے کے بعد ہائیڈرولک کٹرز کے ذریعے ٹھکانے لگایا جا سکے۔

وفاقی عدالت نے فیصلہ دیا کہ کسی کتاب کی نقل شائع کرنا یقیناً کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے مگر خریدی ہوئی کتاب ایک نجی ملکیت ہے لہذا اسے تلف کرنا خلاف ورزی کے دائرے میں نہیں آتا ، کیونکہ ان کتابوں کو تلف کرنے سے پہلے ڈیٹا کی شکل میں محفوظ بھی کیا جا رہا ہے۔تاہم اندھا دھند خریداری کے جنون میں کچھ کتابوں کے مسروقہ ایڈیشن بھی خرید لیے گئے لہذا ان کتابوں کے اصلی پبلشرز کو اینتھروپ موڈیول ڈویلپ کرنے والوں کی جانب سے ڈیڑھ ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا۔

آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، یورپ اور امریکا میں پرانی کتابوں کے تاجر ان دنوں سخت پریشان ہیں کیونکہ اے آئی کمنیوں کے لیے ’’ کتابی چارہ ‘‘ خریدنے والی دلال کمپنیوں نے بھاری بھاری آرڈر دینے شروع کر دیے ہیں جو معمول کی خرید وفروخت سے کئی گنا زیادہ ہیں۔یہ دلال منہ مانگے پیسوں پر مال اٹھا رہے ہیں۔

جن کتابوں کی لاکھوں ہارڈ کاپیاں ہیں انھیں تو فوری خطرہ نہیں البتہ ایسی نادر کتابیں جن کی شائد دنیا میں پانچ چھ کاپیاں ہی بچی ہوں وہ اپنی بقا کی جنگ ہار رہی ہیں۔مثلاً سولہویں و سترہویں صدی میں شائع ہونے والے نایاب نقشے ، پندرہ سو اٹھاون میں شائع ہونے والی تاریخِ روم ، سترہویں ، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے سفرناموں کے پہلے ایڈیشن وغیرہ۔

ایک برس پہلے تک ایسی نادر کتابوں کو ایک گاہک بھی خریدتا تو دوکاندار اس قدردانی پر نہال ہو جاتا۔اب اچانک سے پرانی کتابوں کے معروف تاجروں کو کچھ نئے گاہکوں کی جانب سے جب آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کی خریداری کے ایک ساتھ تین تین ہزار آرڈرز مل رہے ہیں تو وہ خوش بھی ہیں اور حیران و پریشان بھی۔ بین الاقوامی زبانوں میں شائع کتابیں ’’ ٹو زیرو ڈبل سیون اے آئی ‘‘ نامی دلال کمپنی کے کارندے اٹھا رہے ہیں۔تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک سرکردہ تھنک ٹینک ’’ فور او فور میڈیا ‘‘ کی تحقیق کے مطابق ’’ آئی ایس بی این ڈی بی ‘‘ نامی ادارہ بیک وقت ایک ملین کتابی ٹائٹلز خریدنے کی سکت رکھتا ہے۔وہ کتابیں جو جنگوں ، بدامنی ، آتشزدگی وغیرہ جیسی آفات سے بچ بچا کے صدیاں گذار چکی ہیں اب انھیں اے آئی کا چارہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ اے آئی انسان سے بہتر اور زیادہ تیزی کے ساتھ ایک معیاری ای میل لکھ سکے۔

پرانے زمانے میں فاتحین مفتوحین کو علم سے محروم رکھنے کے لیے لائبریریاں نذرِ آتش کرتے تھے۔ یونانیوں کے ہاتھوں اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی اور ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی لائبریریوں کی بربادی کے قصے پڑھ پڑھ کے ہم سوچتے تھے کہ انسان صدیوں پہلے کتنا وحشی اور علم دشمن تھا۔ اب کتابی علم کو جدید ٹیکنالوجی کے روپ میں جس بقائی خطرے کا سامنا ہے اس کے آگے ماضی کی داستانیں طفلانہ شرارتیں لگنے لگی ہیں۔

اس سے پہلے کہ کتاب بھی بیشتر حیاتیات و نباتات کی طرح دنیا سے معدوم ہو جائے ، کاپی رائٹس کے عالمی قوانین کے ازسرِ نو جائزے کی ہنگامی ضرورت ہے۔مگر عالمی ترجیحاتی فہرست میں یہ المیہ شائد سب سے آخر میں زیرِ بحث آئے۔مگر ہم لاچار اس کے سوا کیا کہیں کہ یہ نہ ہو کہ کتابیں تو معدوم ہو جائیں اور ہمارے ہاتھ میں بس کاپی رائٹس قوانین لٹکے رہ جائیں۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter .پر کلک کیجیے)

02/07/2026

فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے
آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے

عرش کانپ جاتا تھا ایک دل دکھانے سے
وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے

خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے
امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے

دیکھ بھال کر چلنا لازمی سہی لیکن
تجربے نہیں ہوتے ٹھوکریں نہ کھانے سے

ایک ظلم کرتا ہے، ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے

کتنے زخم چِھلتے ہیں، کتنے پھول کھلتے ہیں
گاہ تیرے آنے سے، گاہ تیرے جانے سے

کارزارِ ہستی میں اپنا دخل اتنا ہے
ہنس دیے ہنسانے سے، رو دیے رلانے سے

چھوٹے چھوٹے شہروں پر کیوں نہ اکتفا کر لیں
کھیتیاں اُجڑتی ہیں بستیاں بسانے سے

زخم بھی لگاتے ہو، پھول بھی کھلاتے ہو
کتنے کام لیتے ہو ایک مسکرانے سے

اور بھی سنورتا ہے، اور بھی نکھرتا ہے
جلوۂ رُخِ جاناں دیکھنے دکھانے سے

جب تلک نہ ٹوٹے تھے خیر و شر کے پیمانے
وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے

ہر طرف چراغاں ہو تب کہیں اُجالا ہو
اور ہم گریزاں ہیں اک دیا جلانے سے

چاند آسماں کا ہو یا زمین کا، نصرتؔ
کون باز آتا ہے انگلیاں اُٹھانے سے

نصرت صدیقی

26/06/2026

نبی کے پیاروں،سیدہ کے دلاروں صحابہ کے دلداروں شہداء کربلا کی پاکیزہ زندگیوں،قربانیوں اور شہادتوں پہ لاکھوں کروڑوں سلام۔

17/06/2026

نیا ھجری سال 1448 مبارک ہو۔
اللّٰہ کرے کہ یہ سال انسانیت کیلئے امن،ہدایت،ترقی،آزادی اور خوشیوں کا باعث بنے۔

16/04/2026

کتنی قابل غور اور حکمت بھری بات ہے۔ اللّٰہ اکبر کبیرا۔ سوشل میڈیا پر کوئی بھی چیز نشر کرتے وقت اللہ تعالٰی کا یہ فرمان سامنے رہے۔

لِیَحۡمِلُوۡۤا اَوۡزَارَہُمۡ کَامِلَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۙ وَ مِنۡ اَوۡزَارِ الَّذِیۡنَ یُضِلُّوۡنَہُمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوۡنَ
تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے بھی جنھیں وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔ سن لو! برا ہے جو بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں۔(النحل 25)

وَ لَیَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَہُمۡ وَ اَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِہِمۡ ۫ وَ لَیُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ
اور یقینا وہ ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی اور بوجھ بھی۔ اور یقینا وہ قیامت کے دن اس کے متعلق ضرور پوچھے جائیں گے جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔(العنکبوت 13)

ایک تو انسان اپنے ذاتی گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا اور دوسرا اس کے ساتھ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جنھیں اس نے گمراہ کیا تھا۔

ہمارے فاضل دوست، ادیب و لبیب مولانا محمد ریحان مہاروی نے آج ہی یہ تحفہ ارسال فرمایا۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کے دل،دماغ،استعداد...
23/02/2026

ہمارے فاضل دوست، ادیب و لبیب مولانا محمد ریحان مہاروی نے آج ہی یہ تحفہ ارسال فرمایا۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کے دل،دماغ،استعداد، فن اور ہاتھوں میں مزید نکھار پیدا فرمائیں۔ آپ کو کیسا لگا ؟

آج کی شام ۔۔۔۔۔ ختم قرآن کے نام۔آپ کی آمد کے منتظر رہوں گے۔اس ایمانی قرآنی اور روحانی نشست میں کون کون حضرات کہاں کہاں س...
24/01/2026

آج کی شام ۔۔۔۔۔ ختم قرآن کے نام۔
آپ کی آمد کے منتظر رہوں گے۔اس ایمانی قرآنی اور روحانی نشست میں کون کون حضرات کہاں کہاں سے تشریف لا رہے ہیں؟

24/12/2025

ڈگری کالج ہری پور میں اس شیطانی کھیل رچانے کا ذمہ دار کون ہے؟ قوم کے سامنے آنا چاہئے

Address

Village Shah Muhammad
Haripur

Telephone

+923332220754

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Haroon Ur Rasheed Shami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Mufti Haroon Ur Rasheed Shami:

Shortcuts

Share