02/11/2024
(سید سلمان گیلانی کی ایک تحریر)....درود شریف کے فیوض و برکات.....
حضرت خواجہ خان محمدخانقاہ سراجیہ رح کی باتیں چل رہی ہیں.
2001 کی بات ہے میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ حج پہ گیا جس کی روئیداد چند دن قبل احاطہءِتحریر میں لا کر آپ دوستوں کے ذوق مطالعہ کی نذر کر چکا ہوں جی اُسی حج کے سفر میں جب ہمارا قیام مدینہ طیبہ میں تھا تو بعد نماز عصر میں حرم نبوی سے رباط مکی والد صاحب کو حضرت خواجہ صاحب سے ملوانے لے جایا کرتا تھا.
اور یوں ہم باپ بیٹا ان کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہوا کرتےتھے. میں کبھی کبھی خود کو مقامِ ناز پہ تصور کر کے حضرت سے لاڈیاں بھی کر لیتا تھا کبھی کبھی کوئ لطیفہ سنا دیتا اور پھر حضرت کےہلکے ہلکے تبسم سے لطف اندوز ہوتا آپ کے لبوں پر گلہائے تبسم کی بہار دیکھ کر میرے دل میں انبساط کے شگوفے کِھل اُٹھتے اور پہروں ان کی مہک میرے مشام جاں مں سمائ رہتی اور روح و قلب کو معطر رکھتی.
پھرجب مغرب سےعشاء تک مواجہ اطہر پہ حاضری کا لطف آتا اور صلاة و سلام عرض کرتے ہوئے لذت و سرور کی کیفیت ہوتی اس کوالفاظ کا روپ دینے سے میری فکر رسا عاجز ہے.حرمین شریفین کے
میرے آج تک جتنےاسفار ہوَے ہیں ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد پینتیس چھتیس ہے. پہلا سفر 1992 میں ہوا اس کی کہانی بھی عجیب ہے بلکہ ہر سفر کی کہانی الگ اور منفرد ہے میں نے حالیہ کہی گئ ایک نعت مبارک میں اظہار بھی کیا ہے
مدینے پہنچا کئ بار یوں بھی گیلانی
کہ میری جیب میں درہم, ریال ہے ہی نہیں
توایک مرتبہ کسی وجہ سے کوئ سال اس سفر کے لیئے میرے اللہ کی حکمت میں میرے لیئے موزوں نہیں تھا سو حاضری سے محروم رہا. بڑی بے چینی و بے قراری کا سال تھا میں اپنے گناہوں پر نظر ڈالتا تو سوچتا شاید اس گناہ کی پاداش میں یہ سعادت نہیں ملی شاید اس گناہ کی نحوست کے سبب یہ محرومی ہوئ لیکن پھر سوچتا میں پہلے کون سا جنید و بایزید تھا آخر پہلے بھی تو محض ان کے کرم سے یہ عزتیں یہ سعادتیں ملتی رہی ہیں اے جاہل اس میں تیری کسی نیکی یا گناہ کا کیا دخل ہے.
سو حضرت سے میں عرض گزار ہوا کہ مجھے کوئ وظیفہ بتا دیں جس کی برکت سے سال میں کم از کم ایک حاضری تو ہوا کرے.
حضرت مسکرائے اور فرمایا شاہ جی بس درود پاک کی کثرت کریں, میں نے اسی نشست میں ذرا بے تکلف ہو کر پے در پے کئ سوال کر ڈالے کہ اچھا یہ بھی بتا دیں کہ جب کسی کام میں رکاوٹ آجائے تب کیا پڑھا کروں فرمایا درودشرف کی کثرت کیا کریں میں نے کہا بچوں کی اصلاح اور ہدایت کی دعا کس وظیفہ کے بعد مانگوں فرمایا درود شریف کثرت سے پڑھا کریں
میں نےکہا دعاوں کی قبولیت کے لیئے کوئ گُر ارشاد فرمائیں فرمایا درودشریف ہی بہترین وظیفہ ہے.اللہ اللہ.
اچھا جی جب کوئ دکھ پرشانی یا بیماری آ جائے پھر کس اسم کا ورد کیا کروں فرمایا درود شریف کا وردکیا کریں میں نے رزقِ حلال کی کُشادگی کے لیئے وظیفہ پوچھا ارشاد ہوا درودشریف کی کثرت کریں
آخر میں نے پوچھ ہی لیا کون سا درود شریف پڑھا کروں
فرمایا درود ابراہیمی یا کوئ بھی درود جس میں دل لگے اور حضورِقلبی حاصل ہو آپ نقشبندی سلسلہ کا خانقاہی درود کم از کم ایک ہزار مرتبہ روزانہ پڑھ لیا کریں کثرت سے درودپڑھنے والوں میں آپ کا شمار ہو گا.
میں نے حضرت کے ارشاد پر عمل کیا آج تک کوئ سال ایسا نہیں آیا جو حاضری کے بغیر گزراہو رزق حلال کے دروازے کھل گئے کرائے کے مکان سے نکل کر اپنی ایک سادات سرائے اللہ تعالی نے عطا فرمادی. الحمدللہ
بچوں کی شادیاں اچھے گھرانوں میں ہو گئیں. تمام کام بہ حُسن و خوبی سر انجام پا رہے ہیں
میں نے پھر اسی رات درود شریف کے فضائل پر نعت مبارکہ کہی.
دل بے سکوں ہو جب تُو نبی پر درود پڑھ.
تسکیں کا ہے سبب تُو نبی پر درود پڑھ.
لیتے ہیں بوسہ نام محمد کا خود ہی دیکھ.
آپس میں مل کے لب,تو نبی پر درود پڑھ.
جنت کرے گی تیری طلب میری بات مان.
جنت نہ کر طلب, تو نبی پر درود پڑھ.
روضے پہ حاضری کی تمنا ہے گر تجھے.
اےدوست روز وشب تو نبی پر درود پڑھ.
کر لی خدا کی حمد قیام و سجود میں.
دو زانو بیٹھ اب تو نبی پر درود پڑھ.
کچھ کر کے روز مرہ کے اوقات کار میں.
لمحات منتخب , تو نبی پر درود پڑھ.
اللہ نے کلامِ مُبیں میں اُنہیں دیئے.
کیا کیا حَسِیں لقب, تو نبی پر درود پڑھ.
فرمایا خود نبی نے کہ قبروں میں انبیاء.
زندہ ہیں سب کےسب تونبی پردرود پڑھ.
سنتےبھی ہیں سلام وہ دیتےبھی ہیں جواب.
پر شرط ہے ادب, تو نبی پر درود پڑھ.
ہم جیسی انکی زیست نہ ہم جیسی انکی موت.
ان کے الگ ہیں ڈھب تُو نبی پر درود پڑھ.
اے دوست چاہتا ہے تو سلمان کی خوشی.
خوش رکھےتجھکو رب تو نبی پر درود پڑھ.
ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء.
آخر میں خانقاہی درود لکھ رہا ہوں توفیق ملے تو روزانہ ایک ہزار مرتبہ ضرور پڑھ لیاکیجے یا جتنا آسانی سے پڑھ سکیں اور پھر اس کے فیوض و برکات دیکھیں.
اللھم صلی علی سیّدِنا محمدِِ وعلٰی آلِ سیّدِنا محمدِِ اَفضَلَ صَلَواتِکَ بِعَدَدِ مَعلُوماتِکَ وَبارِک وَسلِّم.
اس پوسٹ کو شئیر کرنے والےکو اپنی قدر اللہ اور اس کے حبیب کی نگاہوں میں بروز قیامت معلوم ہو گی.
دعا گو۔
سید سلمان گیلانی لاہور پاکستان