Mufti Haroon Ur Rasheed Shami

Mufti Haroon Ur Rasheed Shami علم وعمل کی بات دلیل و رواداری کےساتھ

آج کی شام ۔۔۔۔۔ ختم قرآن کے نام۔آپ کی آمد کے منتظر رہوں گے۔اس ایمانی قرآنی اور روحانی نشست میں کون کون حضرات کہاں کہاں س...
24/01/2026

آج کی شام ۔۔۔۔۔ ختم قرآن کے نام۔
آپ کی آمد کے منتظر رہوں گے۔اس ایمانی قرآنی اور روحانی نشست میں کون کون حضرات کہاں کہاں سے تشریف لا رہے ہیں؟

24/12/2025

ڈگری کالج ہری پور میں اس شیطانی کھیل رچانے کا ذمہ دار کون ہے؟ قوم کے سامنے آنا چاہئے

برادر عزیز ڈاکٹر مفتی محمد جنید انور (لیکچرر اسلامی یونیورسٹی بہاولپور)چوتھی سالانہ سیرت النبی کانفرنس بغداد (عراق) میں ...
15/11/2025

برادر عزیز ڈاکٹر مفتی محمد جنید انور (لیکچرر اسلامی یونیورسٹی بہاولپور)چوتھی سالانہ سیرت النبی کانفرنس بغداد (عراق) میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں. اللّٰہ تعالیٰ مزید عزتوں اور سعادتوں سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔ 15 نومبر 2025

12/11/2025

برادرم عزیز از جان ڈاکٹر عثمان علی خان کو پی ایچ ڈی مکمل کرنے پر دلی مبارکباد

01/11/2025

یکم نومبر 1922 ایک تاریک دن۔ خلافت عثمانیہ کے بعد سے مسلسل تاریکی میں ہیں۔رحم یااللہ

26/09/2025

مجلسِ تدوینِ فقہِ حنفی: اجتماعی فقہی شعور کی درخشاں روایت

از پروفیسر سید عدنان حیدر

فقہ اسلامی کی تاریخ میں اگر کوئی مکتب فکر علمی گہرائی، منطقی تسلسل، اور اجتماعی فقہی محنت کا کامل نمونہ ہے، تو وہ فقہِ حنفی ہے۔ یہ مکتب فکر نہ صرف اپنے بانی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی وسعتِ نظر، فہمِ شریعت، اور اصولی بصیرت کا آئینہ دار ہے، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک ایسی علمی تحریک کارفرما ہے جس نے اسلامی قانون کو ایک ضابطہ بند اور منظم شکل میں پیش کیا۔ فقہِ حنفی کا سب سے امتیازی وصف یہی ہے کہ یہ کسی ایک فرد کی محدود بصیرت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک فقہی مجلس، ایک اجتماعی فکر، اور علمی مذاکرے کا ثمر ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے جس فقہی دبستان کی بنیاد رکھی، اس میں صرف ان کا اجتہاد کارفرما نہ تھا، بلکہ ایک باقاعدہ علمی مجلس — جسے مجلسِ تدوینِ فقہ کہا جاتا ہے — تشکیل دی گئی، جہاں متعدد جلیل القدر علما شب و روز مسائلِ شرعیہ پر بحث کرتے، قرآن و سنت، اجماع، قیاس اور عرف کے اصولوں کی روشنی میں دلائل و شواہد جمع کرتے، اور تب جا کر کسی مسئلے پر امام صاحب کی راے مرتب ہوتی۔ یہ طریقہ نہ صرف فقہِ حنفی کو ایک منہجِ استدلال عطا کرتا ہے، بلکہ اسلامی فقہی تاریخ میں اسے ایک منفرد علمی روایت بناتا ہے جس کی نظیر بہت کم ملتی ہے۔

اس مجلسِ تدوینِ فقہ کے ارکان کی تعداد چالیس بتائی جاتی ہے، جیسا کہ محترم طفیل ہاشمی صاحب نے اپنی ایک تحقیق کتاب میں نقل کیا ہے، اور ڈاکٹر محمد میاں صدیقی نے مختلف قدیم مصادر سے ان اسماء کو ترتیب دیا تھا۔ یہ وہ جلیل القدر علما تھے جو نہ صرف امام صاحب کے تلامذہ میں شمار ہوتے تھے بلکہ علمی مذاکرے میں ان کی حیثیت برابر کی تھی۔ ان میں سے بعض نے امام کے ساتھ براہِ راست فقہی مباحث میں حصہ لیا، بعض نے اُن کے نظریات کو مدون کیا، اور بعض نے بعد ازاں ان افکار کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ یہ سب افراد اسلامی فقہ کی تاریخ کے ان چراغوں کی مانند ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے وقت کو منور کیا بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے بھی راہیں روشن کیں۔

ان میں سب سے نمایاں نام امام ابو یوسف کا ہے، جو قاضی القضاة کے منصب پر فائز رہے اور فقہِ حنفی کو سلطنتِ عباسیہ کے عدالتی نظام میں رائج کیا۔ امام محمد بن حسن شیبانی وہ دوسرے ستون ہیں جنہوں نے فقہِ حنفی کو مدون اور مرتب کیا اور ان کی کتب آج بھی اصولِ فقہ اور بین الاقوامی قانون کے مباحث میں حوالہ بن چکی ہیں۔ امام حسن بن زیاد بھی امام صاحب کے قریبی شاگرد تھے جن کی روایت کردہ فقہی آرا کو مستند سمجھا جاتا ہے۔ امام زفر بن ہذیل علمِ منطق اور قیاس میں کمال رکھتے تھے اور مجلس میں اجتہادی قوت کے ساتھ نمایاں کردار ادا کرتے۔ امام مالک بن مغول نے فقہِ معاملات پر توجہ دی اور عملاً بہت سے پیچیدہ مسائل کو سلجھایا۔ امام داود طائی، جو زہد و ورع میں مشہور تھے، ابتداء ہی سے اس علمی مجلس کا حصہ رہے۔ امام مندل بن علی اور امام نصر بن عبدالکریم نے اصولی و قیاسی مباحث میں اپنی مہارت سے امام صاحب کے استدلال کو استحکام بخشا۔ امام عمرو بن میمون اور امام حیان بن علی جیسے علما نے دقیق فقہی مباحث کو سہل اور عام فہم بنانے میں کردار ادا کیا۔

امام ابو عصمہ اور امام زہیر بن معاویہ نے حدیثی دلائل کو فقہی گفتگو میں شامل کیا۔ امام قاسم بن معین اور امام حاد بن ابی حنیفہ اصولی بصیرت کے حامل تھے، جبکہ امام بیاحج بن بسطام کا اسلوب اور تحقیق کی طاقت مجلس میں نمایاں تھی۔ امام شریک بن عبداللہ نے جرح و تعدیل کے اصول فقہ میں استعمال کیے۔ امام عافیہ بن یزید اور امام عبداللہ بن مبارک، جو محدثین میں بھی بلند مرتبہ رکھتے تھے، شریعت کے عملی پہلوؤں پر توجہ دیتے۔ امام نوح بن دراج اور امام جشم بن بشیر نے قضائی اصولوں کو وضاحت بخشی، جبکہ امام ابو سعید یحییٰ بن زکریا نے کلامی اور فقہی بحثوں کے درمیان توازن پیدا کیا۔ امام فضیل بن عیاض، جو اپنے زہد کے لیے مشہور تھے، فقہ میں روحانیت کا رنگ بھرتے۔ امام اسد بن عمرو اور امام علی بن مسر عملی فتاویٰ میں مہارت رکھتے تھے۔ امام یوسف بن خالد اور امام عبداللہ بن ادریس نے مجتہدانہ بصیرت سے امام صاحب کی آرا کو تقویت دی۔

امام فضل بن موسیٰ، امام علی بن ظبیان، اور امام حفص بن غیاث نے جزوی مسائل پر دقیق بحث کی۔ امام وکیع بن الجراح اور امام یحییٰ بن سعید القطان محدثین کی صف اول میں تھے اور فقہ کو حدیث کے ترازو میں تولنے کا ہنر رکھتے تھے۔ امام شعبہ بن الحجاج کا علم و عمل ایسا تھا کہ بڑے بڑے محدثین ان سے روایت پر فخر کرتے تھے۔ امام ابو معاویہ بن عبدالرحمٰن، امام مطیع بلخی، اور امام خالد بن سلیمان نے مجلسِ فقہ کو جغرافیائی وسعت عطا کی۔ امام عبدالمجید، امام ابو عاصم النبیل، اور امام مکی بن ابراہیم نے متاخرین میں مجلس کا تسلسل برقرار رکھا اور بعد ازاں فتاویٰ کی صورت میں اس کام کو محفوظ کیا۔ امام عباد بن عوّاس اور امام عبدالرحمن بن مہدی جیسے علما نے فقہ و حدیث دونوں میں گہرائی پیدا کی اور ان کے ذریعے فقہ حنفی کو علمی معیار پر استحکام حاصل ہوا۔

یہ تمام ارکان، اپنے اپنے میدان میں کمال رکھتے تھے۔ ان کی موجودگی نے امام ابو حنیفہ کے فقہی نظام کو محض نظریاتی بحث سے نکال کر ایک منظم، متوازن اور عملی ضابطہ بنا دیا۔ اگر فقہ حنفی آج بھی دنیا کے سب سے بڑے فقہی مکاتب میں شمار ہوتی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ یہ فقہ ایک "مجلس" کی پیداوار ہے، نہ کہ صرف ایک فرد کی بصیرت کا نتیجہ۔ یہ وہی مجلس ہے جہاں دلیل و برہان کو عزت دی گئی، اختلاف کو وسعتِ ظرف سے سنا گیا، اور اجتہاد کو جماعتی حکمت سے جوڑا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی آج بھی اپنی جامعیت، ترتیب، اور اصولی توازن کی بدولت امت مسلمہ میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔

فہرست ارکانِ مجلسِ

ذیل میں ان چالیس ارکان کے نام ایک فہرست کے طور پر دیے گئے ہیں، جنہیں محترم طفیل ہاشمی صاحب نے اپنی ایک تحقیق کتاب میں بطور فہرست نقل کیا اور جسے اولاً ڈاکٹر محمد میاں صدیقی نے ترتیب دیا تھا، اور ہر ایک کے لیے ایک مختصر جُملہ تاریخی حیثیت یا خصوصیت بیان کی گئی ہے:

۱. امام ابو یوسف (م. ۱۸۲ ہ) — قاضیِ اعظم بغداد اور امام ابوحنیفہ کے سب سے مشہور شاگرد۔
۲. امام محمد بن حسن شیبانی (م. ۱۸۹ ہ) — الفتاوی و تصانیف کے عالم، فقہ حنفی کا دوسرا قطب۔
۳. امام حسن بن زیاد (م. ۲۰۲ ہ) — احادیث و مسائلِ فقہ میں متبحر تلمذ۔
۴. امام زفر بن ہذیل (م. ۱۵۸ ہ) — فاضلِ کوفہ، مباحثِ فقہی میں نمایاں مقام۔
۵. امام مالک بن مغول (م. ۱۵۹ ہ) — فقہِ معاملات پر محقق اور مخلص پیشوا۔
۶. امام داود طائی (م. ۱۲۰ ہ) — ان ابتدائی ارکان میں شمار، جنہوں نے فقہی اصول پر اثر ڈالا۔
۷. امام مندل بن علی (م. ۱۶۸ ہ) — حلّ و عقد اور قیاس کی مباحث میں معروف۔
۸. امام نصر بن عبدالکریم (م. ۱۹۰ ہ) — فقہی استدلال اور مآخذِ شرعی پر کاربند۔
۹. امام عمرو بن میمون (م. ۱۴۱ ہ) — مباحثِ اصول اور مسائلِ متعدد کا مفکر۔
۱۰. امام حیان بن علی (م. ۱۴۲ ہ) — اسلوبِ بحث اور تجاویز میں مہارت۔
۱۱. امام ابو عصمہ (م. ۱۴۳ ہ) — فتاوی اور اجتہاد میں شرکت کرنے والا عالم۔
۱۲. امام زہیر بن معاویہ (م. ۱۴۳ ہ) — مروج و متداول مسائل میں فعال۔
۱۳. امام قاسم بن معین (م. ۱۴۵ ہ) — حدیث و روایت کا ماہر، فقہ و اصول پر ٹیک۔
۱۴. امام حاد بن ابی حنیفہ (م. ۱۶۲ ہ) — نسبتاً نزدیکِ خانوادگی رشتہ اور فقہ میں شُمولیت۔
۱۵. امام بیاحج بن بسطام (م. ۱۴۴ ہ) — فقہی مباحث میں مستعد اور تحریری صلاحیت کا حامل۔
۱۶. امام شریک بن عبداللہ (م. ۱۷۸ ہ) — متقدم ارکان میں سے، مسائلِ اجتماعی پر غور کرنے والا۔
۱۷. امام عافیہ بن یزید (م. ۱۸۱ ہ) — بعض روایات کے حافظ، علمی مباحث کا حصہ۔
۱۸. امام عبداللہ بن مبارک (م. ۱۸۱ ہ) — مشہور حدیث گو اور محدثِ معروف۔
۱۹. امام نوح بن دراج (م. ۱۸۲ ہ) — اجتہادی مباحث میں شریک۔
۲۰. امام جشم بن بشیر سلمی (م. ۱۸۳ ہ) — علمی مجلسوں میں شرکت کرنے والا عالم۔
۲۱. امام ابو سعید یحییٰ بن زکریا (م. ۱۸۲ ہ) — فقہ اور اسلوبِ فکر کا حامل۔
۲۲. امام فضیل بن عیاض (م. ۱۸۷ ہ) — زہد و ورع کا عالم، بعض روایات میں ذکر۔
۲۳. امام اسد بن عمرو (م. ۱۸۸ ہ) — مسائلِ فقه میں مباحث کرنے والا۔
۲۴. امام علی بن مسر (م. ۱۸۹ ہ) — استدلالی انداز اور مسئلہ شناسی میں فعال۔
۲۵. امام یوسف بن خالد (م. ۱۸۹ ہ) — کتب و فتاوی میں حصہ لینے والا۔
۲۶. امام عبداللہ بن ادریس (م. ۱۹۲ ہ) — علمی حلقوں میں مشاورتی کردار۔
۲۷. امام فضل بن موسیٰ (م. ۱۹۲ ہ) — فقہ اور مباحث کا حصہ۔
۲۸. امام علی بن ظبیان (م. ۱۹۲ ہ) — کلامی اور فقہی دونوں مباحث پر دسترس۔
۲۹. امام حفص بن غیاث (م. ۱۹۲ ہ) — فقیہ اور متفکر اسلوب کا حامل۔
۳۰. امام وکیع بن الجراح (م. ۱۹۴ ہ) — روایت و فتوہ میں سرگرم۔
۳۱. امام یحییٰ بن سعید القطان (م. ۱۹۸ ہ) — قاضی و محدث و فقیہ کا امتزاج۔
۳۲. امام شعبہ بن الحجاج (م. ۱۹۸ ہ) — فقہ اور مباحثِ اصولی میں ممتاز۔
۳۳. امام ابو معاویہ بن عبدالرحمٰن (م. ۱۹۹ ہ) — تالیفی و تحقیقی مباحث میں شرکت۔
۳۴. امام مطیع بلخی (م. ۱۹۹ ہ) — بلخ کے عالم، علم کا پھیلاؤ کرنے والا۔
۳۵. امام خالد بن سلیمان (م. ۱۹۹ ہ) — علمی مجلسوں کا رکن، فکری حصہ۔
۳۶. امام عبدالمجید (م. ۲۰۲ ہ) — متأخرِ مجلس کا ایک فعال رکن۔
۳۷. امام ابو عاصم النبیل (م. ۲۱۲ ہ) — مباحثی اور فتاوی تنظیم میں شریک۔
۳۸. امام مکی بن ابراہیم (م. ۲۱۵ ہ) — متأخر ترین ارکان میں شمار، علمی خدمات کا حامل۔
۳۹. امام عبّاد بن عوّاس (م. ۲۱۱ ہ) — فقہی مباحث اور اجتہادی بحث کا حصہ۔
۴۰. امام عبدالرحمٰن بن مہدی (م. ۱۹۰ ہ) — محدث و فقیہ معروف، حدیثی روایات میں نمایاں۔

09/05/2025

یااللہ،جس طرح فیل (ہاتھی)والوں کو برباد کیاتھا۔ رافیل والوں کو بھی ذلیل ومغلوب فرما۔ آمین

02/11/2024


(سید سلمان گیلانی کی ایک تحریر)....درود شریف کے فیوض و برکات.....
حضرت خواجہ خان محمدخانقاہ سراجیہ رح کی باتیں چل رہی ہیں.
2001 کی بات ہے میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ حج پہ گیا جس کی روئیداد چند دن قبل احاطہءِتحریر میں لا کر آپ دوستوں کے ذوق مطالعہ کی نذر کر چکا ہوں جی اُسی حج کے سفر میں جب ہمارا قیام مدینہ طیبہ میں تھا تو بعد نماز عصر میں حرم نبوی سے رباط مکی والد صاحب کو حضرت خواجہ صاحب سے ملوانے لے جایا کرتا تھا.
اور یوں ہم باپ بیٹا ان کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہوا کرتےتھے. میں کبھی کبھی خود کو مقامِ ناز پہ تصور کر کے حضرت سے لاڈیاں بھی کر لیتا تھا کبھی کبھی کوئ لطیفہ سنا دیتا اور پھر حضرت کےہلکے ہلکے تبسم سے لطف اندوز ہوتا آپ کے لبوں پر گلہائے تبسم کی بہار دیکھ کر میرے دل میں انبساط کے شگوفے کِھل اُٹھتے اور پہروں ان کی مہک میرے مشام جاں مں سمائ رہتی اور روح و قلب کو معطر رکھتی.
پھرجب مغرب سےعشاء تک مواجہ اطہر پہ حاضری کا لطف آتا اور صلاة و سلام عرض کرتے ہوئے لذت و سرور کی کیفیت ہوتی اس کوالفاظ کا روپ دینے سے میری فکر رسا عاجز ہے.حرمین شریفین کے
میرے آج تک جتنےاسفار ہوَے ہیں ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد پینتیس چھتیس ہے. پہلا سفر 1992 میں ہوا اس کی کہانی بھی عجیب ہے بلکہ ہر سفر کی کہانی الگ اور منفرد ہے میں نے حالیہ کہی گئ ایک نعت مبارک میں اظہار بھی کیا ہے
مدینے پہنچا کئ بار یوں بھی گیلانی
کہ میری جیب میں درہم, ریال ہے ہی نہیں
توایک مرتبہ کسی وجہ سے کوئ سال اس سفر کے لیئے میرے اللہ کی حکمت میں میرے لیئے موزوں نہیں تھا سو حاضری سے محروم رہا. بڑی بے چینی و بے قراری کا سال تھا میں اپنے گناہوں پر نظر ڈالتا تو سوچتا شاید اس گناہ کی پاداش میں یہ سعادت نہیں ملی شاید اس گناہ کی نحوست کے سبب یہ محرومی ہوئ لیکن پھر سوچتا میں پہلے کون سا جنید و بایزید تھا آخر پہلے بھی تو محض ان کے کرم سے یہ عزتیں یہ سعادتیں ملتی رہی ہیں اے جاہل اس میں تیری کسی نیکی یا گناہ کا کیا دخل ہے.
سو حضرت سے میں عرض گزار ہوا کہ مجھے کوئ وظیفہ بتا دیں جس کی برکت سے سال میں کم از کم ایک حاضری تو ہوا کرے.
حضرت مسکرائے اور فرمایا شاہ جی بس درود پاک کی کثرت کریں, میں نے اسی نشست میں ذرا بے تکلف ہو کر پے در پے کئ سوال کر ڈالے کہ اچھا یہ بھی بتا دیں کہ جب کسی کام میں رکاوٹ آجائے تب کیا پڑھا کروں فرمایا درودشرف کی کثرت کیا کریں میں نے کہا بچوں کی اصلاح اور ہدایت کی دعا کس وظیفہ کے بعد مانگوں فرمایا درود شریف کثرت سے پڑھا کریں
میں نےکہا دعاوں کی قبولیت کے لیئے کوئ گُر ارشاد فرمائیں فرمایا درودشریف ہی بہترین وظیفہ ہے.اللہ اللہ.
اچھا جی جب کوئ دکھ پرشانی یا بیماری آ جائے پھر کس اسم کا ورد کیا کروں فرمایا درود شریف کا وردکیا کریں میں نے رزقِ حلال کی کُشادگی کے لیئے وظیفہ پوچھا ارشاد ہوا درودشریف کی کثرت کریں
آخر میں نے پوچھ ہی لیا کون سا درود شریف پڑھا کروں
فرمایا درود ابراہیمی یا کوئ بھی درود جس میں دل لگے اور حضورِقلبی حاصل ہو آپ نقشبندی سلسلہ کا خانقاہی درود کم از کم ایک ہزار مرتبہ روزانہ پڑھ لیا کریں کثرت سے درودپڑھنے والوں میں آپ کا شمار ہو گا.
میں نے حضرت کے ارشاد پر عمل کیا آج تک کوئ سال ایسا نہیں آیا جو حاضری کے بغیر گزراہو رزق حلال کے دروازے کھل گئے کرائے کے مکان سے نکل کر اپنی ایک سادات سرائے اللہ تعالی نے عطا فرمادی. الحمدللہ
بچوں کی شادیاں اچھے گھرانوں میں ہو گئیں. تمام کام بہ حُسن و خوبی سر انجام پا رہے ہیں
میں نے پھر اسی رات درود شریف کے فضائل پر نعت مبارکہ کہی.
دل بے سکوں ہو جب تُو نبی پر درود پڑھ.
تسکیں کا ہے سبب تُو نبی پر درود پڑھ.
لیتے ہیں بوسہ نام محمد کا خود ہی دیکھ.
آپس میں مل کے لب,تو نبی پر درود پڑھ.
جنت کرے گی تیری طلب میری بات مان.
جنت نہ کر طلب, تو نبی پر درود پڑھ.
روضے پہ حاضری کی تمنا ہے گر تجھے.
اےدوست روز وشب تو نبی پر درود پڑھ.
کر لی خدا کی حمد قیام و سجود میں.
دو زانو بیٹھ اب تو نبی پر درود پڑھ.
کچھ کر کے روز مرہ کے اوقات کار میں.
لمحات منتخب , تو نبی پر درود پڑھ.
اللہ نے کلامِ مُبیں میں اُنہیں دیئے.
کیا کیا حَسِیں لقب, تو نبی پر درود پڑھ.
فرمایا خود نبی نے کہ قبروں میں انبیاء.
زندہ ہیں سب کےسب تونبی پردرود پڑھ.
سنتےبھی ہیں سلام وہ دیتےبھی ہیں جواب.
پر شرط ہے ادب, تو نبی پر درود پڑھ.
ہم جیسی انکی زیست نہ ہم جیسی انکی موت.
ان کے الگ ہیں ڈھب تُو نبی پر درود پڑھ.
اے دوست چاہتا ہے تو سلمان کی خوشی.
خوش رکھےتجھکو رب تو نبی پر درود پڑھ.

ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء.
آخر میں خانقاہی درود لکھ رہا ہوں توفیق ملے تو روزانہ ایک ہزار مرتبہ ضرور پڑھ لیاکیجے یا جتنا آسانی سے پڑھ سکیں اور پھر اس کے فیوض و برکات دیکھیں.
اللھم صلی علی سیّدِنا محمدِِ وعلٰی آلِ سیّدِنا محمدِِ اَفضَلَ صَلَواتِکَ بِعَدَدِ مَعلُوماتِکَ وَبارِک وَسلِّم.
اس پوسٹ کو شئیر کرنے والےکو اپنی قدر اللہ اور اس کے حبیب کی نگاہوں میں بروز قیامت معلوم ہو گی.
دعا گو۔
سید سلمان گیلانی لاہور پاکستان

05/10/2024

یوم استاد
لوگ سمجھتے ہیں کہ جو یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے وہ بڑا ہوتا ہے اور اسکول و مدرسے میں پڑھانے والا چھوٹا۔ یاد رکھنے کا نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی واقعی استاد ہے تو وہ کبھی چھوٹا نہیں ہوسکتا، وہ انسان ہی کیا جو اپنے مقام کے لیے کسی منصب کا محتاج ہو، بندہ واقعی بندہ ہے تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھی اپنی دنیا پیدا کرلیتا ہے، اور اگرہ وہ بونا ہے تو بڑی سے بڑی یونیورسٹی اور بڑے سے بڑا منصب بھی اس کا بونا پن ختم نہیں کرسکتا ۔ انسان کو بڑا، اس کا منصب نہیں اس کا کام بناتا ہے۔ منصب کی تلاش اسے ہوتی ہے جو منصب کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔
آج کا یوم استاد ایسے ہر استاد کے نام،جو کسی منصب کے بغیر بھی معاشرے کی نظر میں استاد ہے۔
سیدعزیزالرحمن

29/09/2024

ان سے ملنے کی یہی ہے اک راہ
ملنے والوں سے راہ پیدا کر
صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم
(خالداقبال تائب)

11/09/2024

حجرہ دل میں روشنی کیلئے
آو ناصح! درود پڑھتے ہیں۔
صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم

Address

Village Shah Muhammad
Haripur

Telephone

+923332220754

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Haroon Ur Rasheed Shami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Mufti Haroon Ur Rasheed Shami:

Share