25/03/2025
اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔ شریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔
اعتکاف قرآن میں
پچھلی قوموں میں بھی اعتکاف کی عبادت موجود تھی، اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا:
وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ
ترجمہ
” اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کر دو[1] “
اعتکاف حدیث میں
احادیث میں بھی اعتکاف کا ذکر موجود ہے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے:
” سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے نے بیان کیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات (بیویاں) بھی اعتکاف کرتی رہیں۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔[2][3][4][5]
“
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
” جس نے اللہ کی رضا کیلئے ایک دن کا اعتکاف کیا اللہ اس کے اور دوزخ کے درمیان مشرق سے مغرب جتنے فاصلے جتنے چوڑی تین چوڑی خندقیں کھود دے گا۔[6]