Mysticism/ تصوف

Mysticism/ تصوف Experience the power of inner transformation with Mysticism - the Islamic spiritual path.

01/01/2024

اسلاف بزرگان تین ایسی باتوں کی وصیت فرمایا کرتے تھے کہ اگر ان باتوں کو سونے کے مقابلے میں تو لا جائے تو قیمتی ثابت ھونگی۔۔۔

نمبر1: جس نے اپنے اور اللہ تعالی جل شانہ کے مابین معاملات درست کرلئے اللہ تعالی جل شانہ اس کے اور مخلوق کے مابین معاملات درست فرما دیں گے۔

نمبر2: جس نے اپنے باطن کو ٹھیک کر لیا اللہ تعالی جل شانہ اس کا ظاہر درست فرما دیں گے۔

نمبر3 : جس نے دنیا پر آخرت کو ترجیح اور اہمیت دی ' اللہ تعالی جل شانہ اس کی دنیا و آخرت دونوں سنوار دیں گے۔۔۔

اے اللہ ھمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔

عربی سے بامحاورہ ترجمہ۔
فقیر قسمت اللہ سروری قادری

07/07/2023

‏بھارت میں شائع ہونے والی کتاب ”کالکی اوتار“ نے دنیا بھر ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں يہ بتایا گیا ہے کہ ہندووں کی مذہبی کتابوں میں جس "کالکی اوتار" کا تذکرہ ملتا ہے، وہ آخری رسول محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بن عبداﷲ ہی ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا، تو وہ اب تک جیل میں ہوتا اور اس کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی، مگر اس کے مصنف "پنڈت وید پرکاش" برہمن ہندو ہیں۔ اور وہ الہ آباد یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ سنسکرت زبان کے ماھر اور معروف محقق اسکالر ہیں۔
پنڈت وید پرکاش نے کالکی اوتار کی بابت اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور ومعروف محقق پنڈتوں کے سامنے پیش کیا تھا، جو اپنے شعبے میں مستند گرادنے جاتے ہیں۔ ان پنڈتوں نے کتاب کے بغور مطالعے اور تحقیق کے بعد يہ تسلیم کیا ہے کہ کتاب میں پیش کيے گئے حوالے جات مستند اور درست ہیں۔
برھمن پنڈت وید پرکاش نے اپنی اس تحقیق کا نام ”کالکی اوتار“ یعنی تمام کائنات کے رہنما رکھا ہے۔ہندووں کی اہم مذہبی کتب میں دراصل ايک عظیم رہنما کا ذکر ملتا ہے۔ جسے ”کالکی اوتار“ کا نام دیا جاتا ہے، سو پنڈت وید پرکاش گہری تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا ھے کہ اس کالکی اوتار سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں، جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں، ان کو اب کسی اور کالکی اوتار کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کیلئے انہیں محض اسلام قبول کرنا ہے، اور آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے، جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔
اپنے اس دعوے کی دليل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب”وید“ سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کیئے ہیں۔

1۔ ”وید" کتاب میں لکھا ہے کہ
(( کالکی اوتار بھگوان کاآخری اوتار ہوگا، جو پوری دنیا کو راستہ دکھائے گا۔ ))
ان کلمات کا حوالہ دينے کے بعد پنڈت وید پرکاش لکھتے ہیں کہ اس پیش گوئی کا اطلاق صرف حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے معاملے میں درست ہو سکتا ہے۔

2۔”ویدوں“ کی پیش گوئی کے مطابق (( کالکی اوتار ايک جزیرے میں پیدا ہوں گے))
اور يہ عرب علاقہ ھی ہے، جسے جزیرة العرب کہا جاتا ہے۔

3۔ مقدس کتاب وید میں لکھا ہے کہ (( ”کالکی اوتار“ کے والد کا نام ’‘وشنو بھگت“ اور والدہ کا نام ”سومانب“ ہوگا۔))
جبکہ سنسکرت زبان میں ”وشنو“ ﷲ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور” بھگت“ کے معنی غلام اور بندے کے ہیں۔ چنانچہ عربی زبان میں ”وشنو بھگت“ کا مطلب ﷲ کا بندہ یعنی ”عبد ﷲ“ ہوا۔
اور سنسکرت میں ”سومانب“ کا مطلب "امن" ہے, جو کہ عربی زبان میں ”آمنہ“ ہو گا، اور آخری رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے والد کا نام عبد ﷲ اور والدہ کا نام آمنہ ہی ہے۔

4۔وید کتاب میں لکھا ہے کہ
((”کالکی اوتار“ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اور وہ اپنے قول وقرار میں سچا اور دیانتدار ہو گا۔ ))
اور يہ دونوں پھل حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو مرغوب تھے۔ جبکہ آپ سچائی اور دیانتداری میں تو اس حد تک معروف تھے کہ مکہ میں محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے صادق اور امین کے لقب استعمال کيے جاتے تھے۔

5۔ ”وید “ کے مطابق ((”کالکی اوتار“ اپنی سر زمین کے معزز خاندان میں سے ہوگا))
اور يہ بھی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے، جس کی پورے عرب میں عزت اور شام وعراق میں پہچان تھی۔

6۔ہماری کتاب کہتی ہے کہ ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذريعے ايک غار میں پڑھائے گا۔))
اس معاملے میں يہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ کی وہ واحد شخصیت تھے، جنہیں ﷲ تعالی نے غار حراء میں اپنے خاص فرشتے حضرت جبرائیل کے ذريعے تعلیم دی۔

7۔ ہمارے بنیادی عقیدے کے مطابق ((بھگوان ”کالکی اوتار“ کو ايک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا، جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کر آئے گا۔))
اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا ”براق پر معراج کا سفر“ اس پیش گوئی کا مصداق بن کر اسے آپ کی بابت ھی درست ثابت کرتا ہے؟

8۔ نیز لکھا ھے کہ
((ہمیں یقین ہے کہ بھگوان ”کالکی اوتار“ کی بہت مدد کرے گا اور اسے بہت قوت عطا فرمائے گا۔))
اور ہم یہ جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں ﷲ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرشتوں سے مدد فرمائی۔

9۔ ہماری ساری مذہبی کتابوں کے مطابق یہ پیش گوئی ملتی ھے کہ
((” کالکی اوتار“ گھڑ سواری، تیز اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوگا۔))

پنڈت وید پرکاش نے اس پیش گوئی پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ جو بڑا اہم اور قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
"گھوڑوں،تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکاہے۔اب تو ٹینک، توپ اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا يہ عقل مندی نہیں ہے کہ ہم اس دور جدید میں تلواروں، نیروں اور برچھیوں سے مسلح گروہوں کا انتظار کریں۔۔💗

copied

03/04/2023





مرحباً ماہ رمضان ✨اللّٰہ رب العزت ہمیں اس ماہ کی تمام برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ✨❤️
22/03/2023

مرحباً ماہ رمضان ✨
اللّٰہ رب العزت ہمیں اس ماہ کی تمام برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ✨❤️

پیشانی کو جھوٹی و خطاء کار کیوں کہا گیا..اللہ رب العزت نے سورہ علق میں ارشاد فرمایا .....كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَ...
16/03/2023

پیشانی کو جھوٹی و خطاء کار کیوں کہا گیا..

اللہ رب العزت نے سورہ علق میں ارشاد فرمایا .....

كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ

ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے. کیسی پیشانی جھوٹی پیشانی..

سوال بنتا ھے کہ ..

پیشانی کو جھوٹی اور خطاء کار کیوں کہا گیا ھے..

حالانکہ فیصلہ دل و دماغ سے کیا جاتا ھے..
جب سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو حیران ہو کر رہ گئے ..
کہ جو معمہ اس ترقی یافتہ دور میں حل ہوا ..

قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا..

دماغ کا اگلا حصہ جو پیشانی کی جانب واقع ہے وہاں سے فیصلے صادر ہوتے ہیں..

پیشانی کے اس حصے سے جذبات ظاہر ہوتے ہیں..
پیشانی کا یہی اگلا حصہ شخصیت کی صفات بناتا ھے..

محققین کہتے ہیں کہ....

پیشانی کا یہ حصہ کاٹ دیا جائے تو انسان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا ..
اور کچھ کرنے یا نہ کرنے کی صلاحیت کھو دے گا..

اس حصے کی ان خصوصیات کی بناء پر قرآن کریم میں فرمایا کہ ...

اسی پیشانی کے بال کھینچے جائیں گے کیونکہ یہی ارادہ کرنے فیصلہ کرنے کی جگہ ہے..

محققین نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جانوروں میں دماغ کا یہ حصہ چھوٹا اور کمزور ہے..

اسی لیئے جانور درست فیصلہ نہیں کر سکتے اور قیادت کے اھل نہیں ہیں..

اسی طرف قرآن کریم میں یوں اشارہ ہے ..

ما من دابة إلا هو آخذ بناصيتها

کوئی جاندار نہیں مگر اس کی پیشانی رب العزت کی قدرت میں نہ ہو..

اور حدیث پاک میں یوں دعاء ھے..

ناصيتي بيدك....

اے رب میری پیشانی تیرے قبضہ قدرت میں ہے..

یعنی اکمل و اتم طور پر میں خود کو تیرے حوالے کرتا ہوں تیری مرضی کے آگے میری مرضی کچھ نہیں ہے..

اور یہی نماز میں سجدہ کرنے کی حکمت ہے کہ پیشانی کا وہ خود مختار حصہ زمین پر رکھ کر رب العالمین کی بارگاہ میں اپنے ہونے کی نفی اپنی مرضی کی نفی کر دی جاتی ہے..

کہ یاربی تو نے جو میرے اندر مختار حصہ رکھا ہے..
جو حصہ فیصلہ کرتا ہے ..
میں اسی حصے کو تیری چوکھٹ پر رکھ رہا ہوں..
تیری رضا پر میں راضی ہوں..
جب انسان سجدہ کرتا ہے تو دل سے خون دماغ میں جمع ہوتا ہے..
وہ سارے جذبات جو دل میں ہوں وہ اس وقت اس حصے میں جمع ہوتے ہیں..

غصہ نفرت بغض جرم و عصیاں یہ سب خیال کی صورت وہاں جمع ہوتے ہیں..
مگر انسان جیسے ہی وہ خیالوں گناہوں کی آماجگاہ کو زمین پر رکھ کر خود کو رب العالمین کے سپرد کرتا ھے تو رحمت کی تجلی پڑتی ہے..

حدیث پاک میں ..

بندہ سجدے کی حالت میں سب سے زیادہ رب کی رحمت کے قریب ہوتا ھے..

اور اسی وجہ سے بندے میں تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں..
پرسکون ہوجاتا ھے ..

تبھی روایت میں آیا غصہ آئے تو نماز پڑھنے سے جاتا رہتا ھے..
بندہ گناہوں سے باز آجاتا ہے..

تبھی قران کریم میں ہے..

ان الصلاۃ تنھی عن الفحشاء و المنکر...

نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے..

اسی لیئے طویل سجدے کرنے کا حکم ہے..

جو طویل سجدے کرتا ھے پرسکون رہتا ھے..
گناہوں سے باز رہتا ھے..

یہی حکمت ہے کہ عاملین جب جنات وغیرہ کو قابو کرنا چاہتے ہیں..

تو متاثرہ شخص کو پیشانی سے پکڑتے ہیں..

کیونکہ اسی جگہ سے ارادہ و فیصلہ کیا جاتا ھے ..
عامل جنات کے ارادے کو کمزور بناتے ہیں..
یہ قرآن کا اعجاز ہے ..
کہ ایک لفظ سے طویل سائنس کا دروازہ کھول دیا ھے!......!!!!!!! جزاک اللہ۔۔۔




 :اللہ کا علم نبیوں کے پاس ہے، حقیقت کا علم رسولوں کے پاس ہے، دلائل کا علم اللہ کے پیغمبروں کا خاصہ ہے! اس کے بعد اگر تہ...
10/03/2023

:

اللہ کا علم نبیوں کے پاس ہے، حقیقت کا علم رسولوں کے پاس ہے، دلائل کا علم اللہ کے پیغمبروں کا خاصہ ہے! اس کے بعد اگر تہذیب، علم، اخلاق، برداشت اور انسانیت سکھائی ہے تو اللہ کے ولیوں، فقیروں اور درویشوں نے سکھائی ہے!
باقی ہمارے نام نہاد دانشور جو خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں وہ صرف محلات، گاڑیوں، پیسوں، شرابوں، عورتوں، پرفیوموں، جسموں، قہقہوں، اور رنگ رلیوں کا علم رکھتے ہیں. پھر ان کے جائز اور درست ہونے کا دلیل کوشش کر کے فلسفیوں، شاعروں، تاریخ دانوں اور غاصب سیاسی مدبروں کے اقوال اور تحریروں سے دیتے ہیں. وہ اس لیے کہ جو بظاہر مہذب ظلم اور ناانصافی وہ کرنے جا رہے ہوتے ہیں ان کے لیے کچھ نا کچھ جواز تو بنانا ہوتا ہے نا ان کو بھی! کیوں کہ یہ بیچارے بھی سماج کا حصہ ہوتے ہیں اور یہیں ان کو رہنا بھی ہوتا ہے.
https://www.facebook.com/mysticism7?mibextid=ZbWKwL


شب برات بھی ان خاص ایام کے قبیل سے تعلق رکھنے والی ایک اہم رات ہے، جس میں احساسِ زیاں کو اجاگر کرنا مقصود ہے اس لئے کہ ق...
07/03/2023

شب برات بھی ان خاص ایام کے قبیل سے تعلق رکھنے والی ایک اہم رات ہے، جس میں احساسِ زیاں کو اجاگر کرنا مقصود ہے اس لئے کہ قرآن کریم کا الوہی پیغام ’لعلکم یتذکرون، لعلکم یتفکرون‘ کی صورت میں ہر وقت بلند ہورہا ہے۔ براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد کی رات ہے، شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمٍ

حا میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کردیا جاتاہے۔

الدخان، 44: 1تا4

جاراللہ ابو قاسم زمخشری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

نصف شعبان کی رات کے چار نام ہیں:
لیلۃ المبارکہ
لیلۃ البراۃ
لیلۃ الصک
لیلۃ الرحمۃ
اور کہا گیا ہے کہ اس کو شب برات اور شب صک اس لئے کہتے ہیں کہ بُندار یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ میں وہ پیمانہ ہوکہ جس سے ذمیوں سے پورا خراج لے کر ان کے لئے برات لکھ دیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس رات کو اپنے بندوں کے لئے بخشش کا پروانہ لکھ دیتا ہے۔ اس کے اور لیلۃ القدر کے درمیان چالیس راتوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ رات پانچ خصوصیتوں کی حامل ہوتی ہے۔

اس میں ہر کام کا فیصلہ ہوتا ہے۔
اس میں عبادت کرنے کی فضیلت ہے۔
اس میں رحمت کانزول ہوتا ہے۔
اس میں شفاعت کا اتمام ہوتا ہے۔
اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رات میں یہ عادت کریمہ ہے کہ اس میں آب زمزم میں ظاہراً زیادتی فرماتا ہے۔
نبی اکرم (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرہ شعبان کی رات کو اپنی امت کی بخشش کے بارے میں سوال کیا تو آپ کو تیسرا حصہ عطا فرمایا گیا۔ پھر چودھویں رات کو دعا مانگی تو آپ کو دو تہائی امت عطا فرمائی گئی۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرھویں شعبان کی رات کو دعا مانگی تو آپ کی تمام امت سوائے چند نافرمان اشخاص کے آپ کے سپرد کردی گئی۔

تفسیر الکشاف 4: 269، تفسیر سورة الدخان

امام بغوی نے نبی اکرم (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوع روایت نقل کی ہے کہ آپ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:

شعبان سے شعبان تک اموات لکھی جاتی ہیں یہاں تک کہ آدمی نکاح کرتا ہے اور اس کے گھر اولاد پیدا ہوتی ہے حالانکہ اس کا نام مُردوں میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔

تفسير ابن ابی حاتم، 10: 3287، رقم: 18531

امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہما) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول مبارکہ ’فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْم‘ کے تحت روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا:

ایک سال سے دوسرے سال تک کے امور (شقاوت و سعادت) یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس کتاب میں تحریر ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا

تفسير ابن ابی حاتم، 10: 3287، رقم: 18531

امام جلال الدین سیوطی ’’تفسیر در منثور‘‘ میں لکھتے ہیں کہ خطیب بغدادی اور ابن نجار نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ:

رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام شعبان کے روزے رکھ کر اس کو رمضان کے ساتھ ملادیتے تھے اور آپ کسی بھی ماہ کے تمام دنوں کے روزے نہ رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کا مہینہ آپ کو بڑا پسند ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہاں۔ اے عائشہ (رضی اللہ عنہا): کوئی نفس بھی پورے سال میں فوت نہیں ہوتا مگر اس کی اجل شعبان میں لکھ دی جاتی ہے۔ تو میں پسند کرتا ہوں کہ جب میری اجل لکھی جائے تو میں اللہ کی عبادت اور عمل صالح میں مصروف ہوں۔

تفسير درالمنثور، 6: 26)

امام ابن ماجہ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

جب نصف شعبان کی رات آئے تو رات کو قیام کرو اور اس کی صبح کا روزہ رکھو کیونکہ اس رات کو اللہ تعالیٰ کی رحمت غروب آفتاب سے لے کر آسمان دنیا پر آکر پکارتی ہے: ہے کوئی بخشش مانگنے والا میں اس کو بخش دوں، ہے کوئی رزق کا طالب میں اس کو رزق دوں، ہے کوئی بیمار جو شفا طلب کرے، میں اس کو شفا دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔

سنن ابن ماجه، کتاب ماجآء فی شهر رمضان، باب ماجآء فی لیلة النصف من شعبان

ابن ابی شیبہ ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی آپ فرماتی ہیں کہ:

میں نے نبی اکرم (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک رات بستر استراحت پر نہ پایا تو میں آپ کی جستجو میں نکلی آپ کو بقیع میں اس طرح پایا کہ آپ کا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھا ہوا ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ کیا تمہیں اس کا خوف ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا۔ عرض کیا: مجھے یہ خوف نہیں ہے مگر میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کسی اور زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ تب آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ (عزوجل) آسمان دنیا کی طرف پندرھویں شعبان کی شب کو (اپنی شان کے مطابق) نزول فرماتا ہے۔ پس قبیلہ ’’بنی کلب‘‘ کی بکریوں کے بالوں کی گنتی سے زیادہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو بخش دیتا ہے۔

جامع ترمذی، کتاب الصوم، باب ماجآء فی ليلة النصف من شعبان

حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:

نصف شعبان کی رات رحمتِ خداوندی آسمان دنیا پر نازل ہوتی ہے۔ پس ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے سوائے مشرک شخص کے یا جس کے دل میں کینہ ہو۔

شعب الایمان، رقم: 26/3827

امام بیہقی نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کی ہے کہ:

رسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور بہت طویل سجدہ کیا، حتی کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں اٹھی اور آپ کے پائے اقدس کا انگوٹھا ہلایا وہ ہلا تو پھر میں لوٹ آئی۔ جب آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور نماز تمام کی۔ تو فرمایا: اے عائشہ اے حمیرا: کیا تم کو یہ گمان ہوگیا تھا کہ نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے زیادتی کی ہے؟ عرض کیا: نہیں خدا کی قسم! یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیکن آپ کے طویل سجدہ نے مجھے وفات کے خوف میں مبتلا کردیا تھا۔ فرمایا: کیا تم جانتی ہو کہ یہ کونسی رات ہے؟۔ عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے۔ فرمایا: پندرھویں شعبان کی رات ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس رات میں اپنے بندوں پر ظہور فرماتا ہے تو توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور کینہ پروروں کو جیسے وہ تھے۔ اسی پر رکھتا ہے۔

شعب الایمان، رقم :3835

درج بالا تمام اقتباسات اور احادیث مبارکہ سے عیاں ہوتا ہے کہ شب برات بھٹکے ہوئے اور سرکش لوگوں کے لئے ایک دستک ہے جو آخرت کی زندگی کو بھول کر دنیاوی زندگی کے گورکھ دھندوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ رات ان کے لئے اپنے رب کی طرف بلاوہ، اور اسے منانے کی رات ہے۔ جب کوئی شخص کماحقہ اس رات کو اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد میں بسر کرتا ہے، تسبیح و تہلیل کرتا ہے، درود و سلام کے گجرے پیش کرتا ہے، گناہوں سے معمور دامن ذکر الہٰی سے صاف کرتا ہے تو یہ رات اسکے لئے بہت سے انعام و اکرام لاتی ہے۔ تقدیریں بدل جاتی ہیں، زندگی کے حالات بدل جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس ایک عظیم رات کو اس میں کار فرما روح کے مطابق گزارنے کے ہی بدولت ممکن ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔

یَمْحُوا اﷲُ مَا یَشَآئُ وَ یُثْبِتُج وَ عِنْدَه اُمُّ الْکِتٰبِ

اﷲ جس (لکھے ہوئے) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوحِ محفوظ) ہے۔

الرعد، 13: 39

شب برات ہمارے احوال کو بدل دیتی ہے۔ اگر انسان احسن طور پر اس کے لوازمات پورے کرے تو یہ رات گناہوں کے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر اس رات اپنے رب کے حضور ندامت اشک کے آنسو بہائے اور نالہ و فریاد کرے، اپنے صغائر و کبائر گناہوں کے لئے معافی کا خواست گار بنے تو اس وقت بدحالی، خوشحالی اور تنگی، آسانی میں بدل جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے ایک بے حد گناہگار شخص نے صرف توبہ کا ارادہ کیا، ابھی مکمل طور پر توبہ نہ کی، مگر نیت و ارادہ کے سبب تقدیر بدل دی گئی اور جنت میں پہنچایا گیا۔ اگر آج حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افضل امت کا ایک گناہگار اور سرکش شخص توبہ کرے تو کیا اس کی تقدیر نہیں بدل سکتی؟ بالخصوص شب برات کا تو اور افضل مقام ہے جہاں حضورصلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی کی رو سے اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگنا اور آہ و زاری کرکے اپنے رب سے آئندہ گناہوں سے سچی توبہ کرنا ہے۔ شب برات ہمیں اس عمل کی طرف دعوت دے رہی ہے کہ اس رات محاسبہ نفس، توبہ، تجدید عہد کے ذریعے دنیاوی و اخروی فلاح کا ساماں تیارکریں۔

شب برات کا دوسرے دنوں اور راتوں سے موازنہ کیا جائے تو شب برات دوسرے شب و روز سے بالکل مختلف ہے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات کی بجاآوری کا صلہ ہیں۔ اس میں انسان کو رمضان المبارک کے روزوں کی ادائیگی کے عوض عیدالفطر کی خوشی عطا ہوتی ہے۔ عیدین کا تعلق ہمارے باہمی معاملات سے ہے۔ احکامات کی بجا آوری کا صلہ اور انعام ہے۔

اگر ہماری روزمرہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ احساس پیدا ہونا چاہئے اور عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ ہم آئے روز اپنے بہت سے اعزاء و اقارب اور دوست احباب کو کل نفس ذائقۃ الموت کے ارشاد کے مطابق اپنے سے رخصت کرتے ہیں۔ اُن کا رخصت ہونا اصل میں ہمارے لئے دعوتِ فکر ہے کہ ہم نے اپنے لئے کیا ساماں تیار کررکھا ہے؟

شب برات دنیا و آخرت کے سنوارنے کے لئے ایک فکر کا نام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوری کو ختم کرکے قربت کی طرف ایک الارم ہے۔ حب الہٰی اور محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک دعوت ہے۔ جس پر عمل پیرا ہوکر انسان دنیا اور آخرت سنوار سکتا ہے۔ شب برات ہمارے لئے ایک الٹی میٹم ہے کہ اس رات اللہ کی یاد میں اشکبار ہوں۔ یہ رات اللہ کے فیوضات کا بحرِ بیکراں ہے جس میں غوطہ زن ہوکر اپنے من کو سیراب کیا جاسکے۔ لیکن آج کے دور میں ہم اس کے برعکس اس رات کو پٹاخوں اور آتش بازی جیسے کاموں کی نذر کردیتے ہیں۔

شب برات اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اسلام کے اصولوں سے عاری لوگوں کے خلاف ایک نقارہ ہے جس میں باور کروایا جارہا ہے کہ یہ یاس اور قنوطیت تمہارے کئے ہوئے اعمال کی بناء پر ہے۔ اس رات اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف ترغیب دی جارہی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
https://www.facebook.com/mysticism7?mibextid=ZbWKwL

بسم الله الرحمن الرحیم!!!شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭...
24/02/2023

بسم الله الرحمن الرحیم!!!
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں ۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے ۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کےلیے کھلے رہتے ہیں ۔ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضاٶں میں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے ۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے ۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کےلیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطاٶں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے ۔ ان خاص لمحوں ، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے ۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماہِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب ، شعبان ، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے ۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا ۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں ، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں ۔ اسی لیے شعبان کو ’اَلْمُکَفِّر‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے ۔

حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لیے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کےلیے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ 141،چشتی)(فضائل الایام والشہور صفحہ 404 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ)

شعبان المعظّم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے

(1) اس مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی ۔

(2) اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارک ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے ۔

(3) اسی مبارک مہینہ میں مسجد ضرار کو نذرِآتش کیاگیا ۔

(4) اسی مبارک مہینہ میں جھوٹامدعی نبوت مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا ۔

(5) اسی مبارک مہینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔

(6) اسی مبارک مہینہ میں قرآنِ مجید کے نزول کا فیصلہ ہوا ۔

(7) اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا ۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا ۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ ﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے ۔ (عجائب المخلوقات صفحہ نمبر 47،چشتی)(فضائل الایام والشہور ، صفحہ نمبر 405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ (الجامع الصغیر حدیث 4889 صفحہ 301)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں ۔

’غنیۃ الطالبین‘ میں ہے : لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے : (ش، ع، ب، الف اور ن) ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اُلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے ۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے ، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے ۔

آیت درود و سلام کا شانِ نزول
امام قسطلانی نے ’المواہب اللدنیہ‘ میں ایک لطیف بات کہی ہے فرماتے ہیں : إِنَّ شَهْرَ شَعْبَان شَهْرُ الصَّلَاةِ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم، لِاَنَّ آيَةَ الصَّلَاةِ يَعْنِي: اِنَّ اﷲَ وَمَلٰئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ۔ (الأحزاب، 33/ 56) نَزَلَتْ فِيْهِ ۔
ترجمہ : بے شک شعبان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر درود و سلام بھیجنے کا مہینہ بھی ہے ، اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت نازل ہوئی ۔ (قسطلانی المواهب اللدنية 2/ 650،چشتی)

یہ آیت ماہِ شعبان میں نازل ہوئی تو شعبان کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے درود و سلام کے ساتھ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش و مغفرت اور توبہ کے ساتھ بھی ہے لہٰذا اس ماہ اور شب برات کی عبادت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ سے بھی قربت نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی قرب نصیب ہوتا ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیا اور اس ماہ کی حرمت و تعظیم کو اپنی حرمت و تعظیم قرار دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے اور دیگر اَعمال صالحہ بجالاتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ ۔
ترجمہ : ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے ، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے ۔ (کنزالعمال، 8/ 217، رقم: 23685،چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماہِ رجب کی آمد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یوں فرمایا کرتے : اَللّٰهُمَّ، بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبٍ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ۔
ترجمہ : اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں نازل فرما اور رمضان ہمیں نصیب فرما ۔ (المعجم الاوسط، رقم 3939)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ماہِ شعبان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کثرت سے روزے رکھتے ۔ کَانَ اَحَبُّ الشُّهُورِ إِلٰی رَسُوْلِ ﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم اَنْ يَصُوْمَهُ شَعْبَانَ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 6/ 188، رقم: 25589،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے افضل روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : صَوْمُ شَعْبَانَ تَعْظِيْمًا لِرَمَضَانَ ۔
ترجمہ : شعبان کے روزے رمضان کی تعظیم و قدر کیلیے ہیں ۔(بيهقی، السنن الکبری، 4/ 305، رقم: 8300)

ماہِ شعبان کی اہمیت و فضیلت کا اس امر سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مہینے میں بندوں کے اَعمال ﷲ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ۔

حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں ۔ (اس کی کیا وجہ ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ذٰلِکَ شَهْرٌ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيْهِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِيْنَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ ۔
ترجمہ : یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں ۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں اَعمال رب العالمین کے حضور لے جائے جاتے ہیں ۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں ۔ (نسائی، السنن، کتاب الصيام، 4/ 201، رقم: 2357)

اس حدیث مبارکہ میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس ماہ کی فضیلت کا ایک راز یہ بتا دیا کہ شعبان میں ہمارے اَعمال ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ۔ جو شخص اس مہینے میں جتنے زیادہ اعمال صالحہ بجا لاتا ہے ، زیادہ عبادات کرتا ہے ، روزے رکھتا ہے ، صدقات و خیرات کرتا ہے ۔ اسے اتنی ہی ﷲ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت نصیب ہوتی ہے اور اسی قدر بارگاہِ الٰہی سے قرب اور مقبولیت نصیب ہوتی ہے ۔

سلسلہ قادریہیہ درویشوں کا ایک سلسلہ ہے جو عبدالقادر جیلانی (المتوفی561ھ / 1166ء) کے نام سے منسوب ہے۔ عبدالقادر جیلانی حن...
21/02/2023

سلسلہ قادریہ
یہ درویشوں کا ایک سلسلہ ہے جو عبدالقادر جیلانی (المتوفی561ھ / 1166ء) کے نام سے منسوب ہے۔ عبدالقادر جیلانی حنبلی مذہب سے تعلق رکھتے تھے، بغداد میں ایک رباط (خانقاہ) اور مدرسہ کے ناظم تھے اور ان دونوں مقامات پر وعظ فرمایا کرتے تھے۔ بعد میں آپ کے وعظوں کا مجموعہ ”الفتح الربانی“ کے نام سے شائع ہوا۔ 1258ءمیں بغداد کی تباہی کے بعد رباط اور مدرسہ بھی ختم ہوگئے۔ شیخ کے بعد ان کے بیٹے عبدالوہاب (المتوفی593ھ / 1196ء) اور عبدالرزاق (المتوفی 603ھ / 1206ء) ان کے جانشین ہوئے۔ کچھ عرصہ کے بعد اس گروہ نے بہت ترقی کی اور پیری مریدی کا سلسلہ مستقل طور پر پھیل گیا۔ پیر اپنے جس مرید کو کامل سمجھتا تھا اس کو خرقہ دے کر دوسرے مقامات یا ممالک میں مذہب کی اشاعت کے لیے روانہ کردیتا تھا۔ شیخ کی زندگی ہی میں مختلف مریدوں نے مختلف ممالک میں شیخ کی تعلیمات کی تلقین شروع کردی۔ پاک وہند میں بھی طریقت کے دوسرے سلسلوں سے سلسلہ قادریہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ برصغیر پاک وہند میں یہ سلسلہ حضرت شیخ محمد الحسنی جیلانی، شیخ عبدالقادر ثانی، حضرت شاہ کمال کیتھلی اور حضرت شاہ سکندر محبوب الٰہی کے ذریعے پہنچا۔ برصغیر پاک وہند میں کئی معروف علماءاور صوفی بزرگ اس سلسلہ سے متعلق رہے ہیں۔[1]

سلاسلِ تصوف میں سلسلۂ قادریہ سب سے قدیم اوردسب سے زیادہ مشہور و مستند سلسلۂ روحانیت مانا جاتاہے [حوالہ درکار]اور اس سلسلے میں پیروکار پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، بلقان کے علاوہ مشرقی اور مغربی افریقہ میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

شيخ عبدالقادر جيلانی آئمہ اسلام میں سے ہیں جواپنے دور کے مسلم علماء و فضلا کے سردار تھے اوراسی طرح ان کی بہت سی دینی خدمات ہیں، شيخ عبدالقادر جيلانی اپنے دور میں سب سے زیادہ شریعت اسلامیہ کا التزام کرنے والوں اورامر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرنے والوں میں شامل ہوتے ہیں، وہ شریعت اسلامیہ کوہر چيز پر مقدم رکھتے اور زھد و علم میں ید طولی رکھتے تھے اور عظیم واعظ اور خطیب تھے۔ ان کی مجلس میں بہت سے لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے تھے، اللہ تعالٰی نے انہیں ذکر کرنے میں ایک جمال عطا کیا تھا اورلوگوں کے درمیان میں ان کا فضل پھیلایا اللہ تعالٰی ان پر اپنی رحمت برساۓ۔

شيخ عبدالقادر جيلانی متبع دین تھے نہ کہ مبتدع۔ وہ دین میں بدعات کی ایجاد کے مخالف تھے، اور وہ سلف صالحین کے منہج اورطریقے پر چلتے اور اپنی تصانیف میں سلف کی اتباع کرنے پر ابھارتے اوران کی اتباع کا حکم دیتے تھے، اوراس کے ساتھ ساتھ دین میں بدعات کی ایجاد سے منع کرتے تھے۔ شيخ عبدالقادر جيلانیاہل حق کی موافقت کرتے، ان کا عقیدہ اورمسائل توحید اورایمان اور نبوت اور یوم آخرت کے بارہ میں مکمل منہج، اہل حق کا منہج تھا۔
https://www.facebook.com/mysticism7?mibextid=ZbWKwL

رجب المرجب کی فضیلتاسلامی تاریخ کا ساتواں مہینہ رجب المرجب ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے۔ ترجیب کے ...
18/02/2023

رجب المرجب کی فضیلت

اسلامی تاریخ کا ساتواں مہینہ رجب المرجب ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے۔ ترجیب کے معنی تعظیم کے ہیں۔ اہل عرب اس کو اللہ کا مہینہ کہتے تھے اور اس کی تعظیم بجا لاتے تھے۔

رجب المرجب کے اہم واقعات

رجب کی پہلی تاریخ کو سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے۔ چار تاریخ کو جنگ صفین کا واقعہ پیش آیا۔ ستائیسویں شب کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسمانی معراج کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ اٹھائیسویں تاریخ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا۔ (عجائب المخلوقات، ص 45)

رجب کی ستائیسویں شب کی فضیلت

رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والوں کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سی ایک سور ت اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھے اور بارہ رکعتیں پوری ہونے پر 100 مرتبہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر، استغفار سو بار، درود شریف سو بار پڑھے اور پھر دنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے گا۔ سوائے اس دعا کے جو گناہ کے لئے ہو۔

(شعب الايمان، ج3، ص384، حديث 3812)

رجب کے نوافل

رجب کی ستائیسویں شب کو دو رکعت نفل اس طرح پڑھیں کہ الحمدللہ کے بعد قل ھواللہ احد اکیس مرتبہ پڑھیں۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دس مرتبہ درود شریف پڑھیں اور پھر کہیں۔

اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُکَ بِمُشَاهَدَةِ اَسْرَارِ الْمُحِبِّيْنَ وَبِالْخَلْوَةِ الَّتِيْ خَصَّصْتَ بِهَا سَيِّدَالْمُرْسَلِيْنَ حِيْنَ اَسْرَيْتَ بِهِ لَيْلَةِ السَّابِعِ وَالْعِشْرِيْنَ اَنْ تَرْحَمُ قَلْبِيْ الْحَزِيْنَ وَتُجِيْبُ دَعْوَتِيْ يَا اَکْرَمَ الْاَکْرَمِيْنَ.

تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔

(نزهة المجالس، ج1، ص130)۔

رجب کے روزے کا ثواب

صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں ایک نہر ہے جسے رجب کہا جاتا ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے جو کوئی رجب کا روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے اس نہر سے سیراب کرے گا۔

(شعب الايمان، ج3، ص368، حديث: 3800)

سیدنا ابو قلابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رجب کے روزہ داروں کے لئے جنت میں ایک محل ہے۔
(شعب الايمان، ج3، ص368، حديث: 3802)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ستائیس رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے تو یہ اس کے لئے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔
(فتاویٰ رضويه ج10، 648)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رجب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے تو گویا اس نے سو سال کے روزے رکھے۔
(شعب الايمان، ج3، ص374، حديث: 3811)




Address

Hajira
12160

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mysticism/ تصوف posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Mysticism/ تصوف:

Share