Bani Fatimah Official

Bani Fatimah Official Say what's on your mind to be recognized.

02/11/2025
02/11/2025

Celebrating my 3rd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

26/08/2025

ٰ_آزادکشمیر
#سیّدجوادنقوی

 ٰ_آزادکشمیر  #سیّدجوادنقوی
26/08/2025

ٰ_آزادکشمیر
#سیّدجوادنقوی

 ٰ_آزادکشمیر  #سیّدجوادنقوی
26/08/2025

ٰ_آزادکشمیر
#سیّدجوادنقوی

25/08/2025

*فــارسی نـوحـہ🎙️ :❤️
حياتُنا حُسینؑ | انقلابی نوحہ خوان مہدی پورکپا*

حـــیـاتُـنا حُسـین، مَـــمـاتُـنا حُسـین
`ہمارا جینا حسینؑ ہںے، ہمارا مرنا حسینؑ ہںے`

حَــبیبُنـا حُسین وَ حُــــبُّـهُ یَجــمَعُـنا
`ہمارے محبوب حسینؑ ہیں اور ان کی محبت ہمیں جوڑتی ہںے`

یـا أبـا عــبدالله تویی تو نـاجیِ دنیا
`اے ابا عـبداللہؑ ! آپ ہںی دنیا کے نجات دہندہ ہیں`

حَــــرفُ مُشترَکِ مَــا، حسین حسین
`ہمارا مشترکہ نعرہ صرف حسینؑ حسینؑ ہںے`

یـا أبـا عـــبـدالله تویی تو فـاتحِ دلهـا
`اے ابا عـبداللہؑ ! آپ دلوں کے فاتح ہیں`

مَــا غــلام و تو مــولا، حسین حسین
`ہم غلام ہیں اور آپ مولا ہیں، حسینؑ حسینؑ`

حسین لایتناهی، نعمتِ دیرینِ الهی
`حسینؑ ہیں لامحدود نعمت، پرانی ربانی عطا`

حسین کارِ خدایی، عشقِ همه سلیقه‌هایی
`حسینؑ ہیں خدائی مشن، ہر دل کا پسندیدہ عشق`

حسین شور و نوایی، مقصدِ اربعین مایی
`حسینؑ ہیں عشق کا ولولہ، ہماری منزل اربعین ہںے`

حـــــــیـاتُـنـا حُسـین، مَـمـــاتُـنا حُسـین
`ہمارا جینا حسینؑ ہںے، ہمارا مرنا حسینؑ ہںے`

🚩 *یزیدیت شکن و صیہونیت ستیز اربعینِ حسینی* 🚩

🗓 23 اگست 2025ء، بروز ہفتہ
📍 *جــامعہ العروة الـوثقیٰ، لاہںور*
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
ٰ_آزادکشمیر
#سیّدجوادنقوی

انسان اپنی ہںی روح کا معمار لیکن کیسے؟ : ملا صدرا کا خیالاس دنیا کے اندر ہم جس 'شکل و صورت' میں ہیں، جس جگہ پیدا ہںوئے ہ...
12/08/2025

انسان اپنی ہںی روح کا معمار لیکن کیسے؟
: ملا صدرا کا خیال

اس دنیا کے اندر ہم جس 'شکل و صورت' میں ہیں، جس جگہ پیدا ہںوئے ہیں، جن سہولیات اور خوبیوں و خصائل کے ساتھ ہیں اور جن حالات میں ہیں، وہ ہم نے انتخاب نہیں کیا ہںے بلکہ ہمارے امتحان کے واسطے یہ سبھی ہم پر نافذ ہںے لیکن مرنے کے بعد "عالم مثال" (برزخ) میں ہماری شکل و صورت کیسے ہںو گی، ہماری جگہ کونسی ہںو گی، ہماری خوبیاں و خصائل اور سہولیات کیا کیا ہںوں گی اور ہمارے حالات کیا ہںوں گے، یہ سب ہمارے اوپر منحصر ہںے اور ہماری اپنے ہاتھ کی کمائی ہںے۔ اس بات کو ملا صدرا بڑے خوبصورت طریقے سے واضح کرتا ہںے۔

آئیے جانتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملا صدرا سے پہلے فلسفیوں کا جو نظریہ مقبول تھا یعنی شیخ ابن سینا کا نظریہ تو وہ کیا ہںے.

: بُو علی سینا کا نظریہ

ارسطو اور بو علی سینا کے مطابق اس "دنیا" میں موجود ہر چیز کی "ماہیت" یعنی Essence فکس ہںے اور پہلے سے طے شدہ ہںے جو کبھی تبدیل نہیں ہںو سکتا ہںے اور جو چیز تبدیل ہںوتی ہیں، وہ اس ماہیت کے محض اعراض تبدیل ہںوتے ہیں ماہیت کا مطلب ہںے کہ کوئی چیز "کیا" ہںے اور اعراض کا مطلب ہںے کہ وہ چیز "کیسے" ہیں اور یہ "اعراض" کسی چیز کی ماہیت نہیں ہںوتے ہیں بلکہ اس کو لاحق یا اس سے جڑی ایسی خصوصیات ہںوتی ہںے جو اس چیز کا لازمی حصہ نہیں ہںوتے ہیں۔ مثال کے طور پر رنگ، قد، سائز، نمبر وغیرہ۔ ان کے مطابق چیزوں کی 'ماہیت' فکس ہںے جو کبھی تبدیل نہیں ہںو سکتی ہںے یعنی (وہ کیا ہںے) کبھی "تبدیل" نہیں ہںوتا ہںے لیکن "اعراض" میں تبدیلیاں ہںوتی ہںے یعنی کہ وہ چیز "کیسی" ہںے یہ تبدیل ہںوتا رہتا ہںے۔
: مثال

مثال کے طور پر سیب ہںونا ایک فکس ماہیت ہںے اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہںوتا ہںے اور Appleness میں تبدیلی نہیں ہںوتی ہںے۔ سیب اگر "بیج" (Seed) کی صورت میں ہںے، یہ پھر بھی سیب ہںی ہںے لیکن ابھی اسکی حقیقت مکمل ظاہر نہیں ہںوئی ہںے اور اس کی حقیقت چھپی ہںوئی (Potentiality) میں ہںے اور سیب اگر کسی 'تناور درخت' پر پکا ہںوا لگا ہںے تو اب بھی یہ سیب ہںی ہںے جسکی اب صورت و حقیقت مکمل واضح ہںو چکی ہںے یعنی Actualize ہںو چکی ہںے مطلب یہ کہ سیب ہر وقت سیب ہںی تھا اور بیج سے لیکر پکی ہوئی حالت تک اس کی "ماہیت" یعنی (یہ کیا ہے) تبدیل نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ہر وقت سیب ہی تھا اس دوران جو تبدیلیاں ہوئی ہے، یہ سیب کی ماہیت (کیا ہے) میں نہیں ہوئی ہے بلکہ سیب کے اعراض {(کیسے ہیں) سائز جگہ پوزیشن اور ذائقہ وغیرہ} میں ہوئی ہے جو کہ 'بنیادی' نہیں ہے بلکہ بنیادی چیز اس کی ماہیت یا Essence ہے جو فکس ہںے۔

: ماہیت و وجود کا فرق

اس کے علاؤہ انکے مطابق کسی چیز کی ماہیت موجود ہںونے کا مطلب یہ نہیں ہںے کہ وہ چیز "موجود" بھی ہںے اور ماہیت اور وجود میں فرق ہںے۔ یہ ممکن ہںے کہ کسی چیز کی ماہیت موجود ہںے لیکن وہ پھر بھی "وجود" سے عاری ہںے۔ مثال کے طور پر 'اڑنے والا گھوڑا' ایک ایسی چیز ہںے کہ جسکی ماہیت ہمیں معلوم ہںے کہ ایسا گھوڑا جو اڑتا ہںے لیکن ماہیت موجود ہںونے کے باوجود اس کا "وجود" موجود نہیں ہے کیونکہ ایسا کوئی گھوڑا حقیقت میں موجود نہیں ہے۔

ان کے مطابق ماہیت بنیادی ہے اور ہر چیز کی ماہیت خدا کے "علم" میں ہمیشہ سے موجود ہے اور خدا جب چاہتا ہے کسی بھی ماہیت کو "وجود" بخش دیتا ہے سو وجود "ثانوی" چیز ہے اور ماہیت بنیادی ہے اور ماہیت وجود کے بغیر بھی ممکن ہے لیکن وجود بغیر ماہیت کہ نہیں ہو سکتا ہے۔

: خلاصہ

اس نظریہ کے مطابق سیب "ہمیشہ "سیب رہںے گا، کتا ہمیشہ کتا رہںے گا، گائے ہمیشہ گائے رہںے گی، انسان ہمیشہ انسان رہںے گا، عورت ہمیشہ عورت رہںے گی مرد ہمیشہ مرد رہںے گا وغیرہ سو اس نظریہ میں کسی ارتقاء اور Constructivist اپروچ کی عام طور پر 'اجازت' نہیں ہے بلکہ ماہیت فکس ہںے، فکس تھی اور فکس رہںے گی۔

ان کے اس نظریہ کے برخلاف ملا صدرا کھڑا ہںے جس نے اس کی بنیادوں میں تبدیلیاں کی ہںے۔ مختصراً یہ بھی جان لیں کہ امام الغزالی نے جن بڑی بڑی وجوہات کی بنا پر شیخ ابن سینا کا رد کیا تھا، ملا صدرا نے ایسی تبدیلیاں کی ہیں کہ وہ اعتراض اب قائم نہیں رہتے ہیں تاہم وہ اس پوسٹ کا مدعا نہیں ہںے۔

: ملا صدرا کا نظریہ

سولہویں صدی کے فلسفی ملا صدرا نے اس نظریہ کی بساط ہںی الٹ دی ہںے انکے مطابق ماہیت یا Essence وغیرہ ساری "خیالی اور دماغی" چیزیں ہیں جو وجود کے بعد آتی ہیں۔ سب سے بنیادی چیز "وجود" ہںے اور کسی چیز کی موجودگی سب سے اہم ہںے وگرنہ اگر وہ موجود نہیں ہںے تو آپ کی یہ ماہیت کی بحث محض خیالی پلاؤ ہںے اور اسکے سوا کچھ نہیں ہںے۔
اسلیے سب سے بنیادی چیز وجود ہے کیونکہ اگر وجود ہے تو ماہیت کو لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اگر انسان کا اپنا وجود ہی نہ ہوتا تو "ماہیت" کی بحث ممکن ہی نہیں تھی سو بنیادی اور اولین چیز "وجود" ہے اس کے بعد ہم اس پر ماہیت کی بحث کرتے ہیں کہ اس کی ماہیت یہ ہو سکتی ہے اور وہ ہو سکتی ہے وغیرہ سو ملا صدرا کے مطابق "ماہیت" بنیادی نہیں بلکہ ثانوی ہے اور "وجود" یا Existence بنیادی ہے اور سب سے پہلے وجود (Existence) آتا ہے۔ اس نظریہ کو کہ سب سے پہلے وجود آتا ہے اصالۃ الوجود (Primacy of Existence) کہتے ہیں۔

: وجود و ماہیت کا فرق اور حرکت جوہری

بو علی سینا کے مطابق محض اعراض تبدیل ہوتے ہیں لیکن ماہیت یا Essence یعنی Substance تبدیل نہیں ہوتا ہے لیکن صدرا کے مطابق اعراض کے ساتھ ماہیت یا Essence یعنی کہ Substance بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یہ اسلیے ہیں کیونکہ "وجود" ہر لمحہ ہی تبدیلی میں اور حرکت میں رہتی ہے۔ اس کو "حرکت جوہری" کہتے ہیں۔

ملا صدرا کے مطابق 'وجود' فکس نہیں ہے بلکہ وجود ہمیشہ سے ہی 'تبدیل' ہو رہا ہے اب بھی تبدیل ہو رہا ہے اور مستقبل میں بھی تبدیل ہوگا. جب "وجود" تبدیل ہو رہا ہے تو اس کے ساتھ "ماہیت" بھی تبدیل ہو رہی ہے کیونکہ ماہیت ہم وجود پر لاگو کرتے ہیں سو جب وجود تبدیل ہو رہا ہے تو ماہیت کا تبدیل ہونا لازمی ہے سو ملا صدرا کے مطابق کسی بھی چیز کی "ماہیت" فکس نہیں ہے بلکہ تبدیل ہوتی رہتی ہے کیونکہ یہ محض ہمارے 'تخیل' کی پیداوار ہے اور حقیقی اور فکس نہیں ہے سو ملا صدرا کے مطابق بنیادی وجود ہے اور ماہیت نہ بنیادی ہے اور نہ ہی فکس ہے اور وجود جو بنیادی ہے وہ بھی فکس نہیں ہے تاہم لازمی ضرور ہے۔ یہ خیال کہ وجود ہر لمحہ ہی "حرکت" میں ہے اور "فکس" نہیں ہے بلکہ حرکت کی وجہ سے تبدیل ہو رہا ہے، اس خیال کو حرکت جوہری یا Substantial motion کہتے ہیں جس کا اوپر بھی ذکر کیا جا چکا ہے۔

: خـلاصہ

ملا صدرا کے مطابق سیب کا 'ہمیشہ سیب رہنا "لازمی" نہیں ہے کتے اور گائے کا کتا اور گائے رہنا لازمی نہیں ہے، انسان کا انسان رہنا بھی "لازمی" نہیں ہے بلکہ یہ سب ارتقائی مراحل سے گزر کر دیگر "چیزوں' میں تبدیل ہو سکتے ہیں اور انسان تو عقلی ارتقاء سے فرشتوں سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔

: وجود کے درجات (تشکیک در وجود) اور خدا

صدرا کے مطابق ہر چیز کا وجود ایک 'بنیادی وجود' سے اخذ شدہ ہے اور ہرگز برابر نہیں ہے بلکہ کچھ وجود زیادہ موجود ہے اور کچھ کم موجود ہے اور اسی وجہ سے ہی وجود یعنی Existence کے مختلف درجات ہے۔ صدرا اس کو تشکیک در وجود یا Gradation of Existence کہتا ہںے۔

صدرا کے مطابق وجود کامل جو کہ اصلی وجود ہے اور باقی سبھی چیزوں کو وجود "بخشنے" والا ہے، وہ "خدا تعالیٰ" کا وجود ہے۔ صدرا کے مطابق اس کائنات کے اندر باقی جو بھی موجود ہے یہ محض خدا کے وجود کی وجہ سے ہیں اور اس ایک بنیادی وجود یعنی خدا کے وجود' سے اخذ شدہ مختلف اقسام ہی ہے۔ انکے مطابق 'خدا تعالیٰ' کا وجود ایک بہت بڑی روشنی کی طرح ہے، جس سے باقی ساری 'چیزیں' اپنا وجود اخذ کر رہی ہے۔ خدا باقی سب چیزوں کے وجود کا سورس و منبع ہے اور یہ سبھی "چیزیں" خدا سے اپنا وجود اخذ کرتی ہے جیسے "شعاعیں" سورج سے اپنا وجود اخذ کرتی ہے۔ اس وجہ سے وجود کچھ چیزوں میں بہت شدت سے موجود ہے اور کچھ چیزوں میں بہت زیادہ دھیما موجود ہے سو کائنات میں محض وجود موجود ہے جس کی مختلف Intensities یعنی 'شدتوں' نے مختلف 'صورتیں' اپنائی ہوئی ہے اور ہمیں مختلف صورتوں میں نظر آتی ہے اور 'چیزوں' کا وجود برابر نہیں ہے۔

: مثال

اسکو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یوں سمجھیں کہ سورج سب سے شدید اور اصلی وجود (خدا کا وجود) ہے جس سے شعاعوں کی صورت میں دیگر وجود باہر نکل رہے ہیں۔ اسی طرح خدا سب سے شدید اور اصلی وجود ہے جس سے باقی ساری چیزیں اپنا وجود 'اخذ' کر رہی ہے۔ جسطرح سورج کی شعاعیں سورج کے قریب زیادہ شدید ہوتی ہے اور دور جاتے ہوئے رفتہ رفتہ ان کی شدت میں کمی آتی جاتی ہے اور بہت دور جا کر وہ انتہائی مدھم ہو جاتی ہے، اسی طرح خدا سے قریب چیزوں کا "وجود" بہت شدت کے ساتھ "اصلی" ہوتا ہے اور جیسے جیسے خدا سے نیچھے کی طرف سفر شروع ہوتا ہے تو وجود کی شدت میں بھی کمی آتی جاتی ہے سو وجود اس لیول کا نہیں رہتا ہے سو 'خدا کے وجود سے ہر چیز اپنی حیثیت کے مطابق اپنا وجود اخذ کر رہی ہںے۔

: وجود کے مختلف درجات

ہماری کائنات میں موجود ہر چیز کی "وجود" کی Intensity یعنی کہ شدت مختلف ہںے۔یںیں جمادات سب سے نچھلے درجہ کے وجود ہیں جو غیر جاندار ہے، ان کے بعد 'پودے یا نباتات' اس سے زیادہ شدت سے وجود رکھتے ہیں سو وہ زندہ ہے، ان کی گروتھ ہوتی ہے، جانور اس سے زیادہ شدت سے وجود رکھتے ہیں سو وہ زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ چل پھر سکتے ہیں اور مشاہدے اور 'سینس ڈیٹا' کا بھی استعمال کر سکتے ہیں اور ہم انسان ان جانوروں سے بھی زیادہ شدت سے وجود رکھتے ہیں کیونکہ ہم انسانوں میں عقل و شعور موجود ہے اور آزاد اختیار رکھتے ہیں۔

: انسانی زندگی کے مراحل

ملا صدرا کے مطابق انسان بھی ان مراحل سے گزرتا ہے اپنی زندگی کے آغاز میں یعنی "ماں کے پیٹ" میں انسان کی روح نباتاتی لیول پر ہوتی ہے جو محض گروتھ کرنا ہی جانتی ہے۔ اس کے بعد اس کی روح حیوانی بن جاتی ہے جو گروتھ کے ساتھ بنیادی مشاہدہ اور چلنا پھرنا اور کھانا پینا وغیرہ بھی کر سکتا ہے تاہم وہ مکمل اپنی جبلت پر چلتا ہے۔ اس کے بعد اسکی روح انسانی بن جاتی ہے جس میں 'عقل و شعور' پیدا ہو جاتا ہے، وہ خود کو پہچان لیتا ہے، خود آگہی ہو جاتی ہے آزادانہ اختیار، فری ول اور اخلاقیات کا حامل ہو جاتا ہے اور اس کے انسانی تقاضے پورے ہو جاتے ہیں۔

اس مرحلہ کے بعد انسان اپنے اعمال کی فصل بونا شروع کر دیتا ہے اور اپنی "روح" کو خود ترتیب دینا شروع کر دیتا ہے اور اب اس کے بعد وہ یا تو "شیطان کا پجاری" بنتا ہے اور یا پھر "رحمان کا پجاری" بنتا ہے. اگر وہ اپنے اوپر محنت کریں، علم حاصل کریں، "معرفت الہٰی" حاصل کریں اور تزکیہ نفس کریں تو اسکی روح مزید اپگریڈ ہو کر 'روح ایمانی' بن جاتی ہے۔ اس مرحلہ پر خدا انسان کے دل کو ایمان سے اور روشنی سے منور کر دیتا ہے اور وہ مومن کامل بن جاتا ہے اگر انسان محنت مزید جاری رکھیں تو وہ ان سے بھی اگلے مرحلے تک پہنچ سکتا ہے جب اس کی روح روح قدسی بن جاتی ہے۔ اب وہ اپنے حواس خمسہ کے بجائے بلاواسطہ فوری طور پر علم یعنی حضوری علم حاصل کرتا ہے یہ مقام خدا کے مقربین کا ہوتا ہے جن میں انبیاء و عظیم صلحاء شامل ہے۔ باقی "عام انسان' زیادہ تر روح انسانی کے اندر ہی موجود رہتے ہیں اور اس میں سٹرگل کرتے ہیں۔

: اہم ترین بات

صدرا کے نظریہ میں سب سے اہم بات یہ ہںے کہ انکے مطابق ہم اس دنیا میں اپنی روح کے معمار خود ہیں۔ ہم اپنی مرضی اور آزادانہ اختیار سے خدا یا شیطان میں کسی کو راضی کر کے اپنی روح کو شاندار یا داغدار خود بناتے ہیں لیکن اسکی بہت ہںی بڑی قیمت ہںے اور اگر ہم دانشمندی اور عقل سے کام نہیں لیتے ہیں تو وہ ہم کو چُکانی پڑیگی۔ ان کے مطابق ہم اس دنیا میں جو بھی اعمال کرتے ہیں، اس کے ذریعے سے ہم روح کو اپنی مرضی کے انداز سے تشکیل دیتے ہیں اور ہمیں معلوم ہںے کہ روح کے لیے کیا اچھا ہںے اور کیا برا ہںے سو موت سے پہلے جتنا ہمارے ساتھ وقت ہںے یعنی جو "میعاد" خدا نے ہم کو دی ہںے اس میں ہم اپنی روح کو اپنی مرضی سے کسی نہ کسی انداز میں "تشکیل" دیتے ہیں اور ہم خود ہںی اس کے ذمہ دار ہیں۔

موت کے بعد ؟

جب کسی انسان کی موت واقع ہںو جاتی ہںے سو اس نے اپنی روح کو جتنا اور جیسے بنایا تھا اسی کے مطابق برزخ (عالم مثال) میں اس کے لیے ایک الگ جسم (لطیف جسم) تیار کر لیا جاتا ہںے اور اگر کسی انسان کی روح اچھی ہںے اور اس نے روح کو اچھا بنایا تھا تو اس کا وہ لطیف جسم بھی اسطرح ہںی خوبصورت اور رحمانی ہںو گا اور اگر کسی انسان نے اپنی روح کو داغدار کیا ہںے اور اسکو شیطان اور نفس کیوجہ سے آلودہ کیا ہںے، تو اسکا جسم بھی عالم مثال (برزخ) میں گندہ اور شیطانی اور برائی سے بھرپور بنایا جائے گا سو اب یہ ہم پر منحصر ہںے کہ ہم اس دنیا کے کرتوتوں سے اپنا جسم عالم مثال (برزخ) میں کیسے تخلیق کرتے ہیں اس دنیا میں تو ہم اپنی مرضی کے بغیر ایک جسم کے ساتھ پیدا ہںوئے ہیں لیکن عالم مثال میں ہم اپنا جسم اور اپنا مقام کیا بناتے ہیں یہ تو اب ہماری مرضی اور آزادانہ اختیار پر ہںی منحصر ہںے۔

یاد رہںے کہ موت کے ساتھ ہمارا اختیار ختم اور اسکے بعد ہم نے جو خود تخلیق کیا ہںے وہںی بھگتیں گے سو عالم مثال اور برزخ میں نیک لوگ باغات، خوبصورت جسم اور خوبصورت جگہوں میں ہںونگے کیونکہ ان لوگوں نے اپنے لیے خود ہںی یہ تخلیق کیا ہںے اور اسطرح "برے اور منفی" لوگ گندی جگہوں گندی شکلوں اور گندے حالات وغیرہ میں ہںونگے کیونکہ یہ ان کی اپنی ہںی 'کمائی' ہںے سو ہم اپنی روح کو کیسے تشکیل دیتے ہیں اور اسکا کتنا خیال رکھتے ہیں یہ ہماری مرضی پر ہی منحصر ہے اور سب سے اہم فیصلہ ہے۔

عالم مثال و برزخ میں ہم جس جگہ پر ہونگے تو وہ ہم خود ہی فیصلہ کرنے والے ہیں یعنی کہ وہاں کی سٹارٹنگ لائن ہم خود ہی منتخب کرتے ہیں لیکن وجود میں تبدیلی ادھر بھی نہیں رکتی ہے سو آپ نے جس سمت میں اپنی روح کو کھڑا کیا ہے اور جس جگہ کھڑا کیا ہے وہ اس "سمت" میں قیامت تک اپنا سفر جاری رکھے گی اور یا تو لطف و مزہ میں ہوگی اور یا غم و پریشانی میں ہوگی اور جب قیامت آ جائیں تو اس وقت یہ اپنی ان حالات میں پرفیکشن تک پہنچ جائیگی اور پھر ہمیشہ کے لیے خوشی یا پھر ہمیشہ کی پشیمانی ہے۔

انسان ہںی خاص کیوں ہںے ؟

ایک اہم سوال پیدا ہںوتا ہںے کہ انسان کو یہ "مقام" کیوں ملا کہ وہ اپنے روح کی تخلیق خود کر سکتا ہے اور "آزاد" اختیار کا حامل ہے اور اس کائنات میں اپنی مرضی چلاتا ہے وغیرہ تو برادران محترم یہ فیصلہ انسان کا اپنا ہے۔ قرآن کریم کے سورہ الاحزاب کے اندر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ

ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی، تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا، اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کا بوجھ اٹھا لیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ظالم، بڑا نادان ہے ۔

مطلب یہ کہ یہ ذمہ داری آسمان و زمین اور اس کے درمیان موجود ہر چیز کے سامنے پیش کی گئی لیکن سب مخلوقات اس کو اٹھانے سے ڈر گئیں کیونکہ اس کے اندر رسک موجود ہے یہان تک کہ بہت سارے انسان ارواح نے بھی یہ ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا تھا لیکن بہت سارے انسانی ارواح نے اس کو قبول بھی کر لیا ہے سو جنہوں نے اس سے انکار کیا تھا وہ اس دنیا میں بلوغت سے پہلے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں یا ان کے حواس اتنے نہیں ہوتے ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ کے پیغام کی سمجھ آ سکیں لیکن جنہوں نے اس کو اٹھانے کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ اس دنیا میں صحیح سالم اور نارمل حواس والے ہی ہیں اور اب یہ انکا امتحان ہے کہ اپنی اس ذمہ داری کو کیسے نبھاتے ہیں۔

انسان کی خدائی مدد

اس ذمہ داری کو اچھی طرح سے نبھانے کے لیے "خدا" نے ان کو ایسی چیزیں عطاء کی ہے جو محض انسان کا خاصہ ہے اور جس میں کوئی اور اس کے ساتھ شامل نہیں ہے اور اس وجہ سے اس کو اس امتحان میں مدد ملتی ہے۔

1) خدا نے انسانوں کو اچھائی برائی سچائی اور انصاف کی قدردانی پیدائش سے ہی اس کے دل میں ودیعت کر دی ہے تاکہ اسکو امتحان میں آسانی ہو اور وہ آسانی سے اچھائی کر سکیں اور برائی سے بچ سکیں۔

2) خدا نے علم کا "بےتحاشہ پوٹینشل" انسان کے اندر ودیعت کر دیا ہے تاکہ وہ کائنات کے ذرہ ذرہ کو سمجھنے کے قابل ہو سکیں اور کائنات کو اپنے لیے مسخر کر سکیں۔

3) ان دو چیزوں کے اہتمام کے بعد خدا نے دنیا کے ہر خطہ و ہر زمانہ میں انسان کی "رہنمائی" کے لیے ایسے لوگ بھیجے ہیں جو ان کو اپنا مقصد یاد دلا سکیں اور انسان کو اس کی طرف بلا سکتا ہے۔

4) اس کے علاوہ خدا نے انسان کی رہنمائی کے لیے 100 سے زیادہ کتابیں نازل کیں تاکہ انسان اپنے مقصد کو بھول ہی نہ سکیں۔

5) ان میں پہلی دو چیزیں ہی انسان کے لیے کافی تھی لیکن یہ خدا کا احسان ہے کہ اس نے مزید دو چیزوں کو بھیج کر ان کو مکمل واضح کر دیا ہے

خلاصہ

ان "چار چیزوں" میں سے جس انسان کو جس قدر حصہ ملا ہے اسی قدر اس کا 'امتحان' ہے اور اسی قدر اس نے خدا کو جواب دینا ہے اور اپنی موجودہ روح کی آنے والی زندگی کے لیے تشکیل کرنی ہے سو اب یہ انسان پر ہی "منحصر'" ہے کہ وہ کیا کرتا ہے اور کیسے کرتا ہے۔

اگر کوئی انسان اپنی روح کی آواز کو دبا کر محض جسم کو پالنے میں ہی لگا ہوا ہے تو یہ اس کا اپنا اختیار ہے لیکن اگر وہ اپنے اس اختیار سے روح کے لئے کچھ بھی جمع نہیں کر رہا ہے اور روح کو گھائل در گھائل کر رہا ہے تو مرنے کے بعد اس کی روح کے نتیجے میں اس کا جو بدنصیب جسم بنے گا اور جو گندی جگہ ملے گی اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہے بلکہ یہ خود ہے۔ اس نے خود ہی "زمہ داری" قبول کی ہے اور یہ خود ہی کر رہا ہے جو بھی کر رہا ہے اور اس کا انجام بھی اس کو خود ہی بھگتنا ہوگا۔

دوسرا اہم سوال؟

انسان کو ذمہ داری اٹھانے کا وعدہ ہوبہو یاد کیوں نہیں ہںے؟

دیکھیں عالم جبروت میں ہم نے خدا تعالیٰ سے جو وعدہ کیا ہںے تو اس وقت ہم محض لطیف سی روح تھے جس کو روح سلطانی کہتے ہیں۔ اسکے بعد عالم ملکوت میں آتے وقت اس پر ایک چادر چڑھائی گئی جسکو روح نورانی کہتے ہیں۔ اس کے بعد عالم ناسوت میں داخلہ کے لئے اس پر مزید اور چادر بھی چڑھائی گئی ہںے جس کو روح جسمانی کہتے ہیں سو یہ روح کا سفر جب ہںوتا ہںے تو اس میں ہمارا وہ والا حصہ جس نے خدا کو وعدہ کیا تھا کہ میں یہ "ذمہ داری" اٹھانے کے لیے تیار ہںوں، وہ کافی 'نیچھے' چلا گیا ہںے اور ایسا مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ 'خاص مقصد' کے تحت ہںوا ہںے کیونکہ اگر ہمیں خدا سے کیا گیا "وعدہ" 'مکمل وضاحت' سے یاد ہںوتا تو پھر تو امتحان کا تصور ہںی ختم ہںے اور 'امتحان' ہںو ہںی نہیں سکتا ہںے اور دوسری طرف اگر ہم سے وہ "وعدہ" اور اس کی ساری چیزیں ہںی 'مکمل بھولی' ہںوئی ہںے تو یہ بھی انسان کے امتحان کو بالکل نظر انداز کرنے والی بات ہںے۔

وعدہ کی یادداشت کدھر ہںے؟

وہ وعدہ نہ ہمیں ہںو بہو یاد ہںے اور نہ ہم سے مکمل بھولا ہںوا ہںے بلکہ ہمارے 'لاشعور' میں موجود ہںے لیکن ہمارے شعور کے اندر نہیں ہںے اور انسان اپنی زندگی کے 98 فیصد اعمال اپنے لاشعور کے زیر اثر کرتا ہںے، "شعور" تو محض فیصلہ کرنے کی جگہ ہںے اور انسان کی لاشعور سے چیزیں بار بار اسکے شعور کے آئینہ پر نمودار ہںوتی ہںے جس کے اندر اب تک ہںی وہ وعدہ موجود ہںے۔

1) نفسیات کی بیشمار سٹڈیز سے یہ ثابت ہںے کہ انسان میں خدا کا تصور پیدائشی ہںے۔ (اس پر ایک تحریر موجود ہںے اور دوسری لکھنے کا ارادہ ہںے)

2) انسان میں "انصاف اور سچائی" سے محبت کا تصور بھی پیدائش سے ہیں وگرنہ ہمارے اردگرد ایسا کچھ بھی موجود نہیں ہںے۔

3) انسان میں ظلم اور برائی سے نفرت کا تصور پیدائشی ہںے جبکہ انسان کے ماحول میں یہی سب موجود ہںے۔

4) انسان میں علم کا پوٹینشل اس کی سروائیول سے اربوں گنا زیادہ ہںے جو اس چیز کا ہںی غماز ہںے۔

5) انسان میں Transcendence و Infinity اور Eternity اور Perfection کا تصور موجود ہںے جو اسکو ظاہر کرتا ہںے۔

: نتیجہ

مطلب یہ ہے کہ خدا سے کیا گیا وہ وعدہ ہمارے لاشعور میں اور فطرت میں آج تک موجود ہے جس وجہ سے ہم سب ہی شعوری طور پر اپنے آپ کو باقی سب مخلوقات سے برتر ہی تصور کرتے ہیں اور خدا کا شعور رکھتے ہیں اور انسانیت کے ازل سے آج تک یہ تصور واضح ترین اکثریت میں موجود رہا ہے لیکن کھلم کھلا اور ہوبہو یاد ہونا نہ صرف "انسانیت" کے مقصد بلکہ اس کل کائنات کے مقصد کی ہی موت ہے اب اگر کوئی بھی انسان اپنے اندر موجود اس خدائی Impulse کو خود ہںی قبول نہیں کرنا چاہتا ہںے یا پھر وہ کہتا ہںے کہ میرے اندر ایسا کوئی بھی "Impulse' موجود نہیں ہںے باوجودیکہ Peer Reviewed تحقیقات کہتی ہںے کہ "موجود" ہںے تو یہ اس کا اور "خدا" کا معاملہ ہںے اور خدا سب سے زیادہ انصاف کرنے والا ہںے۔

(نوٹ) یاد رہںے یہ وعدہ اور زمہ داری کی قبولیت اور اس کے آس پاس کا سیکشن سٹرکٹ صدرین نہیں ہںے۔

عبید کی وال سے


 ٰ_آزادکشمیر
12/08/2025

ٰ_آزادکشمیر

Address

Hajira
12160

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bani Fatimah Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Bani Fatimah Official:

Share