15/04/2025
قسط ۸: جب قصیدہ، فلمی دھن میں قید ہو جائے
تحریر احقر العباد ذکی حسینی
قصیدہ
جس کا مطلب ہے مدح، تعریف، تعظیم،
اور اگر یہ اہل بیتؑ کے لیے ہو، تو اس کا مقام عبادت سے کم نہیں۔
مگر آج کچھ لوگ اس قصیدے کو
میوزک کے پنجرے میں قید کر کے
اس کی روح کو مار رہے ہیں!
قصیدہ یا نغمہ؟
جب دھن کسی بھارتی فلم کی ہو،
لے کسی مشہور گانے کی ہو،
اور الفاظ میں صرف "یا علیؑ" یا "یا حسینؑ" شامل کر دیے جائیں —
تو یہ ذکرِ اہل بیتؑ ہے یا میوزیکل پرفارمنس؟
ایسے قصائد اب کاور سانگز بن چکے ہیں:
پرانے گانے کی لے،
نئی ویڈیو،
اور "مولا مولا" کا تکرار!
امام علیؑ کا فرمان:
"كلامُ العاقلِ وراءَ قلبِه، وقلبُ الأحمقِ وراءَ كلامِه."
"عاقل کی بات اس کے دل سے نکلتی ہے، اور احمق کا دل اُس کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔"
(نہج البلاغہ، حکمت ۴۰)
تو وہ ذاکر جو
گانے کی لے میں ذکر کرے،
اور لوگوں کی واہ واہ سن کر جھومے —
کیا وہ عقل مندوں کے قافلے میں ہے؟
یہ فیشن نہیں، فتنہ ہے!
کیا آپ جانتے ہیں؟
آج کل جو قصائد پڑھے جا رہے ہیں،
اُن میں سے اکثر کی لے، میٹر، اور تمپو
گانوں سے کاپی کی گئی ہوتی ہے۔
کبھی “بول کفن چومتا ہے” کو
کسی پنجابی گانے پر پڑھتے دیکھو،
کبھی “عباسؑ آئے ہیں” کو
کسی شادی کے گانے کی بیٹ پر سنو —
تو دل سے چیخ نکلتی ہے:
"کیا یہ ذکرِ اہل بیتؑ ہے یا بے ادبی کی محفل؟"
حدیث امام صادقؑ:
"الغناءُ يُميتُ القلبَ، ويُورثُ النفاقَ، ويُبطئُ عن ذكرِ الله."
"غناء دل کو مردہ کر دیتا ہے، نفاق پیدا کرتا ہے اور ذکرِ خدا سے دور کرتا ہے۔"
(الکافی، ج ۶، ص ۴۳۴)
تو جو چیز ذکرِ خدا سے روکتی ہے،
کیا وہ ذکرِ حسینؑ کے قابل ہے؟
یہ ذکر ہے، مذاق نہیں!
قصیدہ ہو، نوحہ ہو، سلام ہو —
اگر اُس میں روحِ عزاداری نہ ہو،
اور صرف دھن، ریتم، اور ساز ہو،
تو وہ ذکر نہیں، فنکاری ہے۔
اہل بیتؑ کی مدح کو
میوزیکل شو نہ بناؤ!
آخری سوال:
اگر شہزادی زینبِ کبریٰؑ آج کسی ذاکر کو
اپنے بھائی کے غم کو گانے کی لے پر پڑھتے دیکھتیں —
وہ شہزادی کی جس کو شام میں سب سے زیادہ تکلیف ناچ گانے والی عورتوں نے دی۔۔
تو کیا خوش ہوتیں؟
یا ان کی غیرت چلاّ اُٹھتی؟
اَللّٰهُمَّ أرزُقنا فَهمَ مَدحِ آلِ مُحَمَّدٍ كما يَرضاهُم، لا كما يُرضِي أهلَ الطربِ والغِناء.