Al Esaar 313 - الایثار 313

Al Esaar 313 -  الایثار 313 Islamic Taqareers, Islamic Lecturer, Daroos Quran, KhhutbateJumma, Tilawate Quran, Hamad o Naat etc.

25/08/2026

سورۃ الشمس۔۔۔ قرآنِ کریم میں مسلسل قسموں کا طویل ترین تسلسل، اس کا مطلب کیا ہے ؟

اگر کوئی شخص آپ کے پاس آئے اور کہے: "واللہ... واللہ... واللہ... میرے پاس ایک انتہائی اہم بات ہے"، تو آپ اپنے ہاتھ کا تمام کام چھوڑ کر پورے وجود کے ساتھ اس کی بات سنیں گے؛ کیونکہ بار بار قسم کھانا آنے والی بات کے عظیم ہونے کی دلیل ہے۔

تو پھر اس ذات کے بارے میں کیا خیال ہے جو خود رب العالمین ہے؟

سورۃ الشمس میں اللہ سبحانه وتعالیٰ نے مسلسل گیارہ قسمیں کھائی ہیں، اور یہ قرآن کریم میں مسلسل قسموں کا طویل ترین تسلسل ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ۔۔وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا (2) ۝ وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ۝ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا ۝ وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا ۝ وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا ۝ وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا﴾

سورج اور اس کی دھوپ کی قسم، چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے آئے، دن کی قسم جب وہ (سورج کو) ظاہر کر دے، رات کی قسم جب وہ اس پر چھا جائے، آسمان کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا، زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا، اور انسانی نفس کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا، پھر اس کی برائی اور اس کی پرہیزگاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈال دی.

ان تمام عظیم قسموں کے بعد — سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور پھر انسانی نفس کی (جو تمام مخلوقات میں سب سے عجیب ہے) — جوابِ قسم آتا ہے، گویا پورا سامانِ کائنات خاموش کھڑا اس سچائی کا منتظر ہے:

﴿قَدْ أَفْللاحَ مَنْ زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾
(بیشک کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا، اور ناکام ہوا وہ جس نے اسے گناہوں میں دبا دیا۔)

یعنی آپ کی زندگی کا سب سے بڑا منصوبہ اپنے نفس کا تزکیہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر ہمیں خبر دی ہے کہ انسان کی حقیقی کامیابی کا تمام تر دارومدار صرف ایک ہی بات پر ہے: کیا آپ نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا یا اسے گناہوں میں دبا دیا؟

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "پاکیزہ نفس وہ ہے جو اللہ کی اطاعت سے بلند ہوا، اور گندا نفس وہ ہے جسے گناہوں اور خواہشات کی دلدل میں چھپا دیا گیا ہو۔"

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى ۝ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾
(بیشک وہ کامیاب ہو گیا جس نے تزکیہ حاصل کیا، اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔)

بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا کہ اس کے رسول ﷺ کی بنیادی ذمہ داری ہی نفوس کا تزکیہ ہے:
﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ... وَيُزَكِّيهِمْ﴾
(وہی ذات ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا... جو ان کا تزکیہ کرتا ہے)

انسان کا سب سے خطرناک دشمن صرف شیطان ہی نہیں... بلکہ اس کا اپنا نفس بھی ہے اگر اسے بغیر تربیت کے چھوڑ دیا جائے۔ یہی نفس برائی کا حکم دیتا ہے، سستی کو پسند کرتا ہے، خواہشات کی طرف مائل ہوتا ہے، عبادات کو بھاری سمجھتا ہے، معمولی باتوں پر غصہ ہوتا ہے، حسد کرتا ہے، غیبت کرتا ہے، تکبر کرتا ہے اور باطل کی حمایت میں جھگڑتا ہے۔

اسی لیے اسلاف اپنے نفس سے اس سے کہیں زیادہ جہاد کرتے تھے وہ اپنے دشمنوں سے کرتے تھے۔

نفس کا تزکیہ زندگی کا مکمل عملی نظام (برنامج) ہے:

1...عقیدے کا تزکیہ: شرک اور ریاکاری سے۔

2...دل کا تزکیہ: حسد، تکبر اور کینے سے۔

3...زبان کا تزکیہ: غیبت، چغلی، جھوٹ اور فضول باتوں سے۔

4...آنکھ کا تزکیہ: اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے نگاہیں پست رکھنے کے ذریعے۔

5...کان کا تزکیہ: باطل باتیں سننے سے۔

6...ہاتھ کا تزکیہ: ظلم اور حرام کھانے سے۔

7...مال کا تزکیہ: زکوٰۃ اور صدقہ ادا کرنے سے۔

8...وقت کا تزکیہ: اطاعت اور حرام کھیل کود کو چھوڑنے کے ذریعے۔

9...تعلقات کا تزکیہ: حسنِ اخلاق، درگزر اور احسان کے ذریعے۔

اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن کامیابی کا معیار دل کی سلامتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۝ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾
(جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس سلامتی والے دل کے ساتھ آئے۔)

اور نبی کریم ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی:
«اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا» (صحیح مسلم)
(اے اللہ! میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری عطا فرما، اور اس کا تزکیہ کر، تو ہی بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا سرپرست اور آقا ہے۔)

اگر تمام انسانوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ ہستی رسول اللہ ﷺ روزانہ اللہ سے اپنے نفس کے تزکیے کا سوال کرتے تھے، تو پھر ہمارا کیا حال ہونا چاہیے؟!

اے اللہ! ہمارے دلوں کو نفاق سے، ہمارے اعمال کو ریاکاری سے، ہماری زبانوں کو جھوٹ اور غیبت سے، ہماری آنکھوں کو حرام سے، ہمارے کانوں کو باطل سے پاک فرما، اور ہمارے نفوس کا تزکیہ فرما کیونکہ تو ہی ان کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے.

قاری محمد امجد عاصم :25/8/26
گوجرانوالہ
03025939947

22/08/2026

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مالک بن دینار رحمہ اللہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز اچھی طرح ادا نہیں کر رہا تھا، تو فرمایا: مجھے اس کے اہل و عیال پر بہت ترس آتا ہے۔
ان سے کہا گیا :
اے ابو یحییٰ یہ شخص اپنی نماز درست طریقے سے ادا نہیں کرتا، پھر
آپ اس کے اہل و عیال پر کیوں رحم فرمارہے ہیں؟
انہوں نے فرمایا
یہ ان کا بڑائے، اور وہ اسی سے سیکھتے ہیں۔
حلية الأولياء لأبي نعيم، 2/383

22/08/2026

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
اے ایسے غافل! جو بیدار ہونے کا نام نہیں لیتا،
اے ایسا بوجھ اٹھانے والے! جو اسے اٹھانے کی طاقت بھی نہیں رکھتا!
کیا تو وہی نہیں ہے جس نے گناہوں کے ذریعے اپنے رب کے سامنے بغاوت کی؟
کیا تو وہی نہیں ہے جس نے اپنے رب کی نافرمانی کی، حالانکہ وہ تیری نگہبانی اور پرورش فرما رہا تھا؟
*افسوس تجھ پر!* آخر تجھے کیا ہو گیا کہ تو نے اپنی ہدایت کو اپنی خواہشات کے عوض بیچ ڈالا؟
کاش! تیری آنکھیں کھلتیں اور تو گناہوں کی ذلت کو اپنے اوپر چھائی ہوئی دیکھ لیتا
التبصرة، ص: 48

17/08/2026
17/08/2026

https://youtu.be/QXPQeU6ftvY?si=bxqvisppcJ3Kqs43

قاتلانہ حملے کے بعد پہلا تاریخی خطبہ جمعۃ المبارک
غازی اسلام قاری محمد حنیف ربانی صاحب حفظہ اللہ
موضوع ۔۔ آزمائش
مکمل سننے کے لیے آپ ھمارے چینل کا وزٹ ضرور فرمائیں

16/08/2026

ہو سکتا ہے آج آپ کو پہلی بار احساس ہو کہ…

ہم ہر نماز میں سورۂ فاتحہ ہی کیوں پڑھتے ہیں؟

دن میں سترہ رکعت…

یعنی کم از کم سترہ مرتبہ یہی سورت…

اگر نفل شامل کر لیں تو شاید اس سے بھی کہیں زیادہ…

کبھی دل میں سوال آیا؟

آخر اللہ نے قرآن کی 114 سورتوں میں سے اسی ایک سورت کو ہر رکعت کا لازمی حصہ کیوں بنایا؟

جبکہ ہر سورت اپنے اندر ہدایت کا ایک سمندر رکھتی ہے۔

پھر آخر کیوں…
کیوں سورۂ یٰسین نہیں؟
کیوں سورۂ رحمٰن نہیں؟
کیوں سورۂ ملک نہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی، اس کی نماز نہیں۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

لیکن کیوں؟

ذرا تصور کیجیے…

آپ دنیا کے سب سے عظیم بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوں…

جس نے آپ کو زندگی دی…
آپ کو سانس دی…
آپ کی ہر دعا سنی…
آپ کے ہر آنسو کو دیکھا…

کیا آپ بغیر اس کی حمد کے بات شروع کریں گے؟

بغیر اس کی عظمت بیان کیے؟

بغیر اپنی محتاجی کا اعتراف کیے؟

ہرگز نہیں۔

اور نماز…

تو بندے کی اپنے رب سے ملاقات ہے۔

اسی لیے اللہ نے ہمیں خود سکھایا…
"یوں بات شروع کرو…"

"الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"
پہلے میری تعریف کرو…

پھر میری رحمت کو یاد کرو…

پھر یہ یاد کرو کہ ایک دن تمہیں میرے سامنے کھڑا ہونا ہے…

پھر اپنی بندگی کا اقرار کرو…

پھر اپنی بے بسی کا اعتراف کرو…

اور آخر میں…
اپنی سب سے بڑی ضرورت مانگو۔

غور کیجیے…

اللہ نے ہمیں دنیا مانگنا نہیں سکھایا…
رزق مانگنا نہیں سکھایا…
صحت مانگنا نہیں سکھایا…

سب سے پہلے فرمایا:
"اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ"

"اے اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔"

کیونکہ اگر راستہ درست ہو…
تو منزل بھی درست ہو جائے گی۔

اور ایسا لگتا ہے کہ گویا پوری زندگی انہی سات آیات میں سمٹ گئی۔

اور پھر ایک ایسی حقیقت…

جسے جان کر شاید آپ کبھی سورۂ فاتحہ پہلے کی طرح نہ پڑھ سکیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"میں نے نماز (یعنی سورۂ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔"
(صحیح مسلم)

ذرا تصور کیجیے…

آپ پڑھ رہے ہیں…

اور اللہ جواب دے رہا ہے۔

آپ کہتے ہیں:
"الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

اللہ فرماتا ہے:
"میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔"

آپ کہتے ہیں:
"الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ"

اللہ فرماتا ہے:
"میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔"

آپ کہتے ہیں:
"مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ"

اللہ فرماتا ہے:
"میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔"

پھر جب آپ کہتے ہیں:
"إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ"

تو گویا آپ اپنے رب سے ایک عہد کرتے ہیں…

"اے اللہ! میں صرف تیری عبادت کروں گا…

اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگوں گا۔"

پھر آخر میں…
آپ دنیا کی سب سے قیمتی دعا مانگتے ہیں۔

ہدایت۔

کیونکہ ہدایت مل جائے…

تو انسان اندھیروں میں بھی راستہ پا لیتا ہے۔

رزق کم ہو…
تب بھی سکون ہوتا ہے۔

آزمائشیں آئیں…
تب بھی دل نہیں ٹوٹتا۔

اسی لیے سورۂ فاتحہ صرف نماز کا حصہ نہیں…
یہ بندے کے ایمان کا خلاصہ ہے۔

یہ حمد بھی ہے…
یہ عقیدہ بھی ہے…
یہ عبادت بھی ہے…
یہ دعا بھی ہے…
اور یہ امید بھی ہے۔

شاید اسی لیے سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔

کیونکہ اگر یہ گفتگو ہی نہ ہو…

تو ملاقات کی روح باقی کہاں رہتی ہے؟

اب اگلی بار جب نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھیں…

تو جلدی نہ کیجیے گا۔

یہ صرف سات آیات نہیں…

یہ آپ کے رب سے ہونے والی وہ گفتگو ہے…

جو دن میں کئی بار آپ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتی ہے۔

اور رک کر سوچیے گا…
میں اس وقت قرآن نہیں پڑھ رہا…
میں اپنے رب سے بات کر رہا ہوں…

اور میرا رب…
ہر آیت کے جواب میں…
مجھے جواب دے رہا ہے۔

الحمد لله رب العالمين۔

11/08/2026

https://youtu.be/oG5sU0DcE6Y?si=wWsqfoUdbhDQCWTd
,شیر پنجاب مولانا منظور احمد صاحب حفظہ اللہ کا تاریخی خطاب
موضوع ۔۔ قرآن اور انسان
مکمل سننے کے لیے آپ ھمارے چینل کا وزٹ ضرور کریں

10/08/2026

https://youtu.be/0MEq2kujrHA?si=aF66RL3-h-SYhp9p
غازی اسلام
قاری محمد حنیف ربانی صاحب حفظہ اللہ کا
25 سال پرانا تاریخی خطبہ جمعۃ المبارک
موضوع ۔۔ سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
مکمل سننے کے لیے چینل کا وزٹ ضرور فرمائیں

07/08/2026

https://youtu.be/k8aUUrrFwQo?si=o2JMlxroe9mrqjN9
حافظ عبداللہ شیخوپوری رحمہ اللہ کا 41 سال پرانا تاریخی خطاب
موضوع ۔۔ امام اعظم صلی اللہ علیہ وسلم
مکمل سننے کے لیے آپ ھمارے چینل کا وزٹ کریں

Address

Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Esaar 313 - الایثار 313 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share