17/05/2026
عزادارو! کلیجے تھام لو... 😢 آج مصائب کے وہ تیر چلیں گے کہ پتھر دل بھی خون روئیں گے!
ذرا تصور میں لاؤ بغداد کا وہ تاریک اور بند حجرہ ... ہائے غربت! آلِ محمد کا پچیس سالہ جوان فرشِ خاک پر تڑپ رہا ہے۔ زہر نے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہیں۔ آنتیں کٹ رہی ہیں اور پیاس... ہائے پیاس کی وہ شدت کہ زبان سوکھ کر کانٹا ہو چکی ہے اور خشک ہونٹوں پر بار بار زبان پھیر کر میرا غریب امام پانی طلب کر رہا ہے۔
مگر ہائے رے شقاوت! کیسی پتھر دل تھی وہ ملعونہ جس نے اپنے ہی سرتاج کو تڑپتا دیکھ کر پانی کا ایک گھونٹ نہ دیا۔
عزادارو جانتے ہو... جب امامِ جواد نے سسکتے ہوئے پانی مانگا تو اس ظالمہ نے حجرے کے دروازے بند کروا دیے.. اور بولی...
دروازے بند کر دو! تالیاں بجاؤ... قہقہے لگاؤ... اتنا شور کرو کہ اس پیاسے کی سسکیوں اور آہوں کی آواز حجرے کی دیواروں سے باہر نہ جانے پائے!
ہائے عزادارو! اندر رسول کا جگر پارہ زہر کی آگ اور پیاس کی شدت سے خاک پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے اور باہر بے حیا کنیزیں تالیاں بجا رہی ہیں۔ تنہائی کا یہ عالم ہے کہ سرہانے نہ کوئی ماں ہے نہ بہن نہ کوئی تسلی دینے والا۔ اسی گھٹن، اسی درد اور اسی پیاس کے عالم میں فرشِ خاک پر پہلو بدلتے بدلتے میرے غریب امام نے تڑپ کر جان دے دی!
مگر ظالموں کا کلیجہ اس پر بھی ٹھنڈا نہ ہوا... ہائے رے بے بسی!
جان نکلنے کے بعد اس جوان اور مسموم لاشے کو اٹھایا اور گھر کی چھت پر تپتی ہوئی دھوپ میں لا کر پھینک دیا!
عزادارو! سورج آگ برسا رہا ہے اور زہرا کے لال کا لاشہ دھوپ میں پڑا ہے... مگر قربان جاؤں پرندوں پر، آسمان سے پرندوں کا غول اترا اور انہوں نے اپنے پروں کو جوڑ کر اس مظلوم کے لاشے پر سایہ کر دیا تاکہ دھوپ کی تمازت میرے امام کے بدن کو نہ جھلسائے۔
بس عزادارو! یہ سایہ دیکھ کر ہر عزادار کا دل پھٹ جاتا ہے اور سیدھا کربلا کی اس جلتی ہوئی ریت پر پہنچ جاتا ہے...
ہائے! کاظمین کی چھت پر تو پرندوں نے پروں کا خیمہ تان لیا تھا مگر ہائے میرا مظلوم کربلا! ہائے میرا پیاسا حسین!
کربلا کے اس تپتے ہوئے صحرا میں جب دوپہر کی دھوپ آگ برسا رہی تھی تو زہرا کا لال تین دن کا بھوکا پیاسا گرم ریت پر بے گور و کفن پڑا تھا۔ اس چھلنی بدن پر تیروں اور نیزوں کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا... وہاں کوئی سایہ کرنے والا پرندہ نہ تھا!
وہاں پرندوں کے پر نہیں تھے بلکہ ظالموں کے گھوڑوں کے بھاری سم تھے جو دوڑ دوڑ کر زہرا کے لال کی پسلیوں کو پامال کر رہے تھے! ہڈیاں ٹوٹنے کی صدائیں آ رہی تھیں... اور ایک اجڑی ہوئی بہن جلتے ہوئے خیمے کے دروازے پر خاک اڑاتی ہوئی دہائیاں دے رہی تھی:
ہائے میرا کٹا ہوا بھائی! ہائے ریت پر تڑپتا ہوا میرا بے کفن حسینؑ! اے میرے نانا... دیکھیے، آپ کا حسینؑ پیاسا ذبح کر دیا گیا!
آہ یا مولا جواد.. ہائے یا حسین.. حسین
😢 #ابوعبداللہ
#الجواد