25/05/2026
روحانیت اور تصوف میں پیر بھائیوں (یعنی ایک ہی شیخ کے مریدوں) کے درمیان لین دین کے معاملات میں احتیاط اور حتیٰ کہ پرہیز کی تلقین کی گئی ہے، تاکہ محبت، اخلاص اور روحانی تعلق دنیاوی مفادات کی نذر نہ ہو جائیں۔ بزرگانِ دین نے اس بارے میں بہت حکیمانہ نصیحتیں فرمائی ہیں۔
حضرت امام غزالیؒ
نے فرمایا:
“دنیا کی محبت اکثر دینی محبت کو خراب کر دیتی ہے، اور مال کے معاملات دلوں میں کدورت پیدا کرتے ہیں۔”
یہی وجہ ہے کہ صوفیہ اپنے مریدوں کو مالی جھگڑوں اور قرض و لین دین سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے تاکہ اخوت اور محبت باقی رہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ
کا ارشاد ہے:
“فقیر وہ ہے جو دنیا کے فائدے کے لیے کسی سے تعلق نہ رکھے۔”
یعنی روحانی تعلق خالص اللہ کے لیے ہو، نہ کہ دنیاوی منفعت کے لیے۔
حضرت اشرف علی تھانویؒ
نے فرمایا:
“اکثر دوستیاں اور تعلقات روپے پیسے کے معاملات سے خراب ہوتے دیکھے گئے ہیں، اس لیے اہلِ تعلق کو بہت احتیاط چاہیے۔”