22/05/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عِلْمِ لَدُنّی وہ خاص علم ہے ،جو انسان کو بغیر کسی واسطے کے محض اللہ تعالی کی طرف سے اور اس کی خصوصی عطا سے حاصل ہو بالخصوص باطنی امور، اشیاء کی حقائق اور اللہ تعالی کی ذات، صفات اور افعال سے متعلق علوم واسرار وغیرہ ۔کسی انسان کے سکھانے سے جو علم حاصل ہو ،وہ علم لدنی نہیں ، بلکہ علم لدنی اسی کو کہیں گے جو تحصیل علم کے معروف اسباب کے بغیر محض اللہ تعالی کی عطا سے حاصل ہوا ہو ۔ اور اس کی بہت قسمیں و صورتیں ہیں ،جیسے وحی ، الہام ، کشف اور فراست وغیرہ ۔ وحی کا معاملہ انبیائےکرام کے ساتھ خاص ہے اور الہام عموماً اولیائے کرام کو ہوتا ہے۔ کشف و فراست وغیرہ مومنین کو ان کے ایمان کی کیفیت کے مطابق نصیب ہوتا ہے۔
علمِ لدنی کی خصوصیات:
بغیر واسطہ: یہ علم سیکھنے کے لیے ظاہری اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی۔
القاء و کشف: یہ دل پر الہام یا کشف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
روحانی پاکیزگی: یہ علم اکثر اللہ کے مقرب بندوں کو ملتا ہے۔
روحانیت سے مراد مذہبی نقطہء نظر سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے اور اللہ تعالٰی کی عطا اور توفیق سے عبادات و ریاضت کے ذریعے پاکیزگی و طہارت کی اُس منزل پر پہنچ جائے، جہاں اُس کے ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن بھی منور اور روشن ہو جائے۔ بطور اشرف المخلوقات انسان دیگر تمام مخلوقات بشمول فرشتے، جنات وغیرہ سے برتر ہے لیکن یہ اصطلاح حقیقتاً صرف اُن انسانوں کے لیے ہے جو اللہ کے عشق میں اِتِّبَاعِ شَہَوَات سے بے نیاز ہوکر اپنی زندگی کا محور و مقصد محض رضائے الٰہی بنا لیتے ہیں۔