Jamia Hassan Bin Ali R.A

Jamia Hassan Bin Ali R.A Jamia Hassan Bin Ali R.A was established in 6th May 2023 15 Shawwal 1444H

قائم شدہ 15شوال المکرم 1444ھجری بمطابق 6 مئی 2023ء

*سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ۔کی تاریخ شہادت 12 یا 18 ذوالحجہ؟*                                                   ...
04/06/2026

*سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ۔کی تاریخ شہادت 12 یا 18 ذوالحجہ؟* از تحریر *قاری عبدالرشید* اولڈھم۔ قسط نمبر 2/1

ذوالحجہ کا مہینہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ انہی ایام میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ یہ واقعہ خلیفۂ ثالث، ذوالنورین، ناشر قرآن اور جلیل القدر صحابی۔ دوہرے داماد نبی۔ھم زلف علی ۔سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔ آپؓ کی شہادت کا تذکرہ ہوتا ہے تو امام مظلوم ۔ شہید مدینہ حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے مخالفین ایک سوال سامنے لے آتے ہیں کہ ان کی تاریخ شہادت 18ذوالحجہ ہے ہی نہیں۔اس پر وہ اھل سنت کی کتب سے کچھ حوالے بھی سامنے لاتے ہیں۔ چند دن پہلے مجھے بھی ایک واٹس اپ گروپ میں زیر نظر عبارت بنام تبصرہ موصول ہوئی۔
(تبصرہ: 18 ذوالحجہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ کے مقام پر ہوا جو کہ صحیح السند و متواتر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت پر ثابت شدہ ہے اس لیئے مولا علی سے بغض کی وجہ سے ناصبی لوگ 18 ذوالحجہ کو حضرت عثمان کی شہادت کا دن مناتے ہیں تاکہ واقعہ غدیر خم کی اہمیت کو کم کیا جا سکے۔ نعوذبااللہ) اتفاق کی بات یہ کہ آج جب آپ یہ کالم پڑہیں گے تو اسلامی تاریخ 18 ذوالحجہ 1447ھجری ہوگی۔ مناسب لگا کہ اسی موضوع پر لکھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ راشد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 12 ذوالحجہ 35 ہجری کو شہید ہوئے یا 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو؟ قارئین کرام! بظاہر یہ ایک تاریخی اختلاف ہے، لیکن اس اختلاف کے پس منظر میں تحقیق، تاریخ اور امت کی فکری وحدت سے متعلق کئی اہم پہلو پوشیدہ ہیں۔
تاریخ نگاری کا اصول یہ ہے کہ کسی واقعے کی تعیین کے لیے قدیم اور معتبر مصادر کو بنیاد بنایا جائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں۔ بعض روایات میں 12 ذوالحجہ کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بعض میں 17 یا 18 ذوالحجہ کا۔ تاہم جب قدیم مصادر کا تقابلی مطالعہ کیا جاتا ہے تو جمہور مؤرخین 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔

امام ابن سعد (متوفی 230ھ) اپنی معروف کتاب "الطبقات الکبریٰ" میں لکھتے ہیں:

"قُتِلَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِيَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ"

یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جمعہ کے روز 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو شہید کیے گئے۔

بعد کے مؤرخین مثلاً امام طبری، حافظ ابن عساکر، حافظ ذہبی اور حافظ ابن کثیر نے بھی اسی قول کو نقل کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر "البدایۃ والنہایۃ" میں لکھتے ہیں:

"وكان مقتله يوم الجمعة لثمان عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين"

یعنی آپؓ کی شہادت جمعہ کے روز 18 ذوالحجہ 35 ہجری کو واقع ہوئی۔

اگرچہ 12 ذوالحجہ کا قول بھی بعض تاریخی روایات میں موجود ہے، لیکن اسے وہ قبولِ عام حاصل نہیں جو 18 ذوالحجہ والے قول کو حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور اہلِ تاریخ 18 ذوالحجہ کو راجح قرار دیتے ہیں۔

تاہم اس مقام پر ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ کے اختلافات کو علمی انداز میں زیرِ بحث لانا ایک چیز ہے، جبکہ انہیں امت کے درمیان تقسیم اور کشیدگی کا ذریعہ بنانا بالکل دوسری چیز۔( جیسا کہ اوپر تبصرہ میں آپ پڑھ آئے ہیں) افسوس کہ بعض اوقات تاریخ کے چند جزوی اختلافات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا مسلمانوں کی وفاداریاں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔مخالفین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی عجیب لوگ ہیں جن کتب سے وہ 18 ذی الحجہ کے سوا ان کی تاریخ شہادت پیش کرتے ہیں۔انہی کتب میں 18 ذی الحجہ بھی موجود ہے۔اس کا انکار کرتے ہیں۔یوں وہ بغض حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اظہار کرکے انصاف اور تاریخ کا خون کرتے ہیں۔

18 ذوالحجہ کا دن ایک اور تاریخی حوالے سے بھی معروف ہے، یعنی غدیرِ خم کا واقعہ۔ اس واقعے کے بارے میں مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان تعبیرات کا اختلاف موجود ہے، لیکن اس پر کسی مسلمان کا اختلاف نہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اسلام کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، اہلِ بیتِ نبویؐ کے سردار ہیں اور خلفائے راشدین میں شامل ہیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا حضرت علیؓ کی محبت اور حضرت عثمانؓ کی محبت ایک دوسرے کی ضد ہیں؟ اسلامی تاریخ اور اہلِ سنت کے عقیدے کا جواب واضح طور پر "نہیں" ہے۔ ایک مسلمان کے دل میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ سب کی محبت جمع ہوتی ہے۔ اسی طرح اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت بھی ایمان کا حصہ ہے اور تمام صحابۂ کرامؓ کا احترام بھی دین کا تقاضا ہے۔

اصل سانحہ یہ نہیں کہ تاریخ کی کتابوں میں 12 اور 18 ذوالحجہ کا اختلاف موجود ہے؛ اصل سانحہ یہ ہے کہ کبھی کبھی انہی اختلافات کو نفرت اور تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی اور شہادت امت کو وحدت، صبر اور خیرخواہی کا درس دیتی ہے۔

حضرت عثمانؓ وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے بھی عثمان سے حیا کرتے ہیں۔ آپؓ نے بئر رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا، غزوۂ تبوک میں بے مثال مالی قربانی پیش کی، اور اپنے دورِ خلافت میں قرآنِ کریم کو ایک مصحف پر جمع کرکے امت پر عظیم احسان کیا۔ آج دنیا بھر میں جو مصحفِ عثمانی رائج ہے، وہ اسی خدمت کی یادگار ہے۔

آپؓ کی شہادت کا واقعہ بھی غیر معمولی صبر اور تحمل کا مظہر ہے۔ باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کیا، لیکن آپؓ نے مسلمانوں کے خون سے بچنے کے لیے مسلح تصادم کی اجازت نہیں دی۔ آپؓ چاہتے تو اپنے دفاع کے لیے ہزاروں افراد کو جمع کر سکتے تھے، مگر آپؓ نے امت کے اجتماعی مفاد کو اپنی جان پر ترجیح دی۔ بالآخر آپؓ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیے گئے۔

یہ شہادت صرف ایک فرد کی شہادت نہیں تھی؛ یہ امتِ مسلمہ کے سیاسی اور اجتماعی بحران کے ایک نئے دور کا آغاز تھی۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ افواہیں، کردار کشی، سیاسی انتہا پسندی اور داخلی انتشار کسی بھی معاشرے کو کمزور کر سکتے ہیں۔

آج جب دنیا بھر کے مسلمان مختلف فکری، سیاسی اور مسلکی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، تو حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ دونوں کی زندگیاں ہمارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ ایک طرف حضرت عثمانؓ کا صبر، حیا اور سخاوت ہے، اور دوسری طرف حضرت علیؓ کا علم، شجاعت اور عدل۔ امت کا سرمایہ دونوں ہیں، اور ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا نہ تاریخ کے ساتھ انصاف ہے اور نہ اسلام کی روح کے مطابق۔

تاریخ کے صفحات میں بعض تاریخوں پر اختلاف باقی رہ سکتا ہے۔ محققین 12 ذوالحجہ اور 18 ذوالحجہ کے دلائل پر گفتگو کرتے رہیں گے۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس پر پوری امت متفق ہے: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک مظلوم شہید خلیفہ تھے، اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ اور اہلِ بیتِ نبویؐ کے درخشاں فرد تھے۔ دونوں سے محبت، دونوں کا احترام اور دونوں کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنا ہی امت کے اعتدال اور وحدت کا راستہ ہے۔

اگر 18 ذوالحجہ ہمیں غدیرِ خم کی یاد دلاتا ہے تو وہ حضرت علیؓ کی عظمت کی یاد ہے، اور اگر یہی دن حضرت عثمانؓ کی شہادت کی یاد دلاتا ہے تو وہ ان کی مظلومیت، قربانی اور عظمت کا تذکرہ ہے۔ امت کا سرمایہ دونوں ہیں؛ محبتِ علیؓ اور محبتِ عثمانؓ ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی ایمان کے دو روشن پہلو ہیں۔۔

حوالہ جاتی نوٹ

- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ج 3، ص 75-76۔
- طبری، تاریخ الأمم والملوک، ج 4۔
- ابن عساکر، تاریخ دمشق، ج 39۔
- ذہبی، سیر أعلام النبلاء، ج 2، ص 547-551۔
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج 10، ص 295-305۔
- ابن حجر عسقلانی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج 4۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے قسط نمبر 2 میں ملاحظہ فرمائیں)

(*قسط نمبر 2*)

رہا یہ سوال کہ 12ذی الحجہ سے شھادت حضرت عثمان غنی رض 18 پر کیسے پہنچی اور کس نے پہنچائی ؟ پہلے سارے سوالات پڑھ لیتے ہیں پھر ان کا جواب دیں گے۔
کتب اہل سنت سے صحیح السند ثبوت کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایام تشریق کے وسط میں 12 ذی الحج کو قتل ہوئے

1️⃣ ابو عثمان النہدی (ثقہ تابعی) کہتے ہیں:
أن عثمان قتل في وسط أيام التشريق
عثمان درمیان والے یوم تشریق (یعنی 12 ذو الحجہ) کو شہید کیے گئے۔
📚 المصنف لابن أبي شيبة ج13 ، ص388 ، ح38727 وسنده صحيح بتحقيق الشيخ أسامة

2️⃣ ۱۲۲۸۰ وَعَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَیْمَانَ قَالَ: قَالَ اَبِیْ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عُثْمَانَ اَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ فِیْ اَوْسَطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ۔
معتمر بن سلیمان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد سلیمان نے کہا کہ ابو عثمان نے ان کو بیان کیا کہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایام تشریق کے وسط(درمیان) والے دن کو شہید ہو گئے۔
📚 مسند احمد: ۵۴۶ الحکم صحیح

3️⃣ وکان قتل عثمان فی اوسط ایام التشریق من سنۃ خمس وثلاثین
📚 تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ۱۶۲

4️⃣ حافظ ابن کثیر دمشقی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے باب میں ان تمام اقوال کو نقل کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
دیگر صحابہ کرام کی مانند حضرت عثمان غنی کی شہادت کے حوالہ سے بھی مختلف و متعدد اقول ملتے ہیں جنہیں علماء و مورخین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے، *جیسا کہ امام المؤرخین طبری رحمہ نے امام زھری رحمہ کا قول نقل کیا ہے جن کے مطابق حضرت عثمان کی شہادت ایام تشریق (یعنی نو ذی الحج سے لیکر تیرہ ذی الحج) کے دوران ہوئی،* اسیطرح ایک قول تین ذی الحج کا، اور ایک قول کیمطابق ان کی شہادت یوم النحر یعنی دس ذی الحج کے روز ہوئی، البتہ مشہور قول کیمطابق ان کی شہادت کی تاریخ اٹھارہ ذی الحج بروز جمعہ ہے۔
قال: قتل عثمان فزعم بعض الناس أنه قتل في أيام التشريق، وقال بعضهم قتل يوم الجمعة لثلاث خلت من ذي الحجة. وقيل قتل يوم النحر، حكاه ابن عساكر ويستشهد له بقول الشاعر: ضحوا بأشمط عنوان السجود به * يقطع الليل تسبيحا وقرآنا قال: والأول هو الأشهر، وقيل إنه قتل يوم الجمعة لثماني عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين على الصحيح المشهور.
📚 البداية والنهاية // المجلد 7 // الصفحة 212 // الناشر: دار إحياء التراث العربي

5⃣ حدثنا عبد الله حدثني عبيد الله بن معاذ ثنا معتمر بن سليمان قال قال أبي ثنا أبو عثمان : ان عثمان قتل في أوسط أيام التشريق
تعليق شعيب الأرنؤوط
عثمان کا قتل ایام تشریق کے وسط ( 12 ذوالحجہ ) میں ہوا
إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الشيخين
📚 الكتاب : مسند الإمام أحمد بن حنبل ، ج ١ ، ص ٥٥٤

6⃣ حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن بن التيمي ح وحدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عارم أبو النعمان ثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن أبي عثمان النهدي قال قتل عثمان بن عفان رضي الله تعالى عنه في أوسط أيام التشريق
عثمان کا قتل ایام تشریق کے وسط ( 12 ذوالحجہ ) میں ہوا
رجاله صحيح
📚 الكتاب : المعجم الكبير – الطبراني – ج ١ – الصفحة ٧٧

7⃣ وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
عثمان کا قتل ایام تشریق کے وسط ( 12 ذوالحجہ ) میں ہوا
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
📚 الكتاب : كتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد – ج ٧ – الصفحة ٢٣٢

تبصرہ: 18 ذوالحجہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ کے مقام پر ہوا جو کہ صحیح السند و متواتر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت پر ثابت شدہ ہے اس لیئے مولا علی سے بغض کی وجہ سے ناصبی لوگ 18 ذوالحجہ کو حضرت عثمان کی شہادت کا دن مناتے ہیں تاکہ واقعہ غدیر خم کی اہمیت کو کم کیا جا سکے۔

*سائل نے حضرت عثمانؓ کی شہادت کی تاریخ کے حوالے سے 2 باتیں اکٹھی کی ہیں:
1. بعض کتب میں "اوسط ایام تشریق یعنی 12 ذی الحجہ" کا قول
2. مشہور تاریخ "18 ذی الحجہ" کا قول

آئیے دونوں کو کتب اہل سنت کی روشنی میں پرکھتے ہیں۔

1:مورخین کا راجح اور مشہور قول: 18 ذی الحجہ 35ھ

جمہور محدثین، مورخین اور سیرت نگاروں کے نزدیک حضرت عثمانؓ کی شہادت جمعہ کے دن 18 ذی الحجہ 35ھ کو ہوئی۔ یہ قول سب سے زیادہ نقل ہوا ہے اور اس پر محققین نے "صحیح" کا حکم لگایا ہے۔

*اہم حوالہ جات:*

1. *ام ذہبیؒ، تاریخ الاسلام*:
`وقتل عثمان يوم الجمعة ثامن عشرة ذي الحجة سنة خمس وثلاثين`
"عثمانؓ 35ھ میں 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید کیے گئے"
📚 _تاريخ الاسلام، ج3، ص493، دار الغرب الاسلامی_

2. *حافظ ابن کثیرؒ، البدایہ والنہایہ*:
آپ نے خود آپ کی دی ہوئی عبارت میں آخر میں لکھا:
`والأول هو الأشهر، وقيل إنه قتل يوم الجمعة لثماني عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين على الصحيح المشهور`
"پہلا قول یعنی 18 ذی الحجہ والا قول ہی مشہور اور صحیح ہے"
📚 _البدایہ والنہایہ، ج7، ص212_

3. *علامہ ابن حجر عسقلانیؒ، الاصابہ فی تمییز الصحابہ*:
`وقتل يوم الجمعة لثمان عشرة مضت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين`
📚 _الاصابہ، ج4، ص465_

4. *ام طبریؒ، تاریخ الطبری*:
طبری نے کئی اسناد جمع کیں۔ سب سے تفصیلی سند سیف بن عمر کے ذریعے 18 ذی الحجہ ہی ہے۔
📚 _تاریخ الطبری، ج4، ص450_

2: "12 ذی الحجہ / اوسط ایام تشریق" والی روایت*

آپ نے جن 7 حوالوں کا ذکر کیا، ان میں سے اکثر کا مآخذ ایک ہی ہے: *ابو عثمان النہدی* سے مروی روایت۔

*سند کا جائزہ:*
1.*المصنف لابن ابی شیبہ، ح 38727 سند: `معتمر بن سلیمان ← ابوه ← ابو عثمان النہدی`۔ رجال ثقات ہیں، اس لیے شیخ شعیب ارنؤوط نے `اسنادہ صحیح` کہا۔ 📚 _مسند احمد، محقق: شعیب ارنؤوط، ج1، ص554_
2. *المعجم الکبیر للطبرانی، ج1، ص77، ح 19*: یہ بھی وہی سند ہے `معتمر عن ابیه عن ابی عثمان النہدی`۔ محققین نے `رجالہ صحیح` کہا۔

*لیکن مسئلہ کیا ہے؟*
محدثین کا اصول ہے کہ صرف سند کا صحیح ہونا کافی نہیں، بلکہ متن کو دوسری متواتر/مشہور روایات کے مقابلے میں بھی دیکھا جاتا ہے۔

ام ابن کثیرؒ نے خود اسی باب میں لکھا کہ 12 ذی الحجہ والا قول منقول ہے، لیکن `والأول هو الأشهر` یعنی 18 ذی الحجہ والا قول مشہور ہے۔ وجہ: 12 ذی الحجہ ابھی ایام حج تھے، مدینہ میں اکثر صحابہ حج پر تھے۔ جبکہ 18 ذی الحجہ کو حجاج واپس آ چکے تھے اور محاصرہ کئی دن سے جاری تھا۔ تمام تفصیلی واقعات 18 تاریخ سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی لیے *علامہ سیوطیؒ* نے _تاریخ الخلفاء_ ص162 میں بھی 18 ذی الحجہ کو اختیار کیا۔

3: 12 ذوالحجہ سے 18 پر کیسے پہنچے؟ اور "غدیر خم" والے اعتراض کاجواب

"12 ذی الحجہ" کو بعد میں کسی نے "مشہور" نہیں کیا، بلکہ خود ابتدائی دور سے ہی 2 اقوال تھے۔ مورخین نے ترجیح دے کر 18 ذی الحجہ کو اختیار کیا کیونکہ:

1. *سیاق واقعہ*: حضرت عثمانؓ کا محاصرہ ذی الحجہ کے شروع میں ہوا۔ 40 دن محاصرے کے بعد شہادت ہوئی۔ اگر 12 کو شہادت ہوتی تو محاصرہ صرف 2-3 دن کا بنتا، جو تمام تفصیلات کے خلاف ہے۔
2. *جمعہ کا دن*: 18 ذی الحجہ 35ھ بروز جمعہ تھا، اور تمام روایات میں ہے کہ آپؓ کو جمعہ کے دن نماز پڑھاتے ہوئے یا قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیا گیا۔

رہی بات "غدیر خم 18 ذی الحجہ کو ہے اس لیے تاریخ بدلی گئی" - یہ ایک تجزیہ ہے، تاریخی ثبوت نہیں۔ کیونکہ 18 ذی الحجہ والی تاریخ غدیر سے 24 سال پہلے ہی محدثین کے ہاں راجح تھی۔ امام طبریؒ، ابن سعدؒ، خلیفہ بن خیاطؒ سب 18 ذی الحجہ لکھتے ہیں اور ان کی وفات غدیر کے واقعے سے بہت پہلے ہو چکی تھی۔

*خلاصہ / تحقیق*
قول تاریخ حیثیت اہل سنت کتب میں
اوسط ایام تشریق = 12 ذی الحجہ12 ذی الحجہ 35ھ منقول ہے، سند صحیح لیکن ش*ذ۔ ابو عثمان النہدی کی روایت۔ 18 ذی الحجہ 35ھ بروز جمعہ *راجح، مشہور، صحیح۔ جمہور مورخین کا قول۔ ابن کثیر، ذہبی، ابن حجر، طبری، ابن اثیر سب اسی پر متفق ہیں۔
*نتیجہ*: حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی راجح اور محقق تاریخ *18 ذی الحجہ 35ھ بروز جمعہ* ہے۔ 12 ذی الحجہ والا قول بھی کتب میں موجود ہے لیکن وہ کمزور/ش*ذ ہے اور جمہور کے مقابلے میں مقدم نہیں۔
قارئین کرام! یہ بات بھی یاد رکھیں کہ
واقعہ غدیر خم 18 ذی الحجہ 10ھ حجۃ الوداع کے بعد پیش آیا
اور شہادت حضرت عثمانؓ 18 ذی الحجہ 35ھ کو ہوئی۔دونوں کے درمیان
فرق 25 سالوں کا ہے۔

یعنی غدیر، نبی کریم ﷺ کی وفات سے 3 مہینے پہلے ہوا۔ اور حضرت عثمانؓ کی شہادت نبی ﷺ کی وفات کے 24 سال 9 مہینے بعد ہوئی۔

📚 حوالہ: _الرحیق المختوم، ص439_ - غدیر 10ھ میں۔ _تاریخ الطبری ج4، ص450_ - شہادت عثمانؓ 35ھ میں۔
تو "غدیر کی اہمیت کم کرنے کے لیے تاریخ بدلی گئی" والا اعتراض تاریخی طور پر قائم نہیں رہتا، کیونکہ جب غدیر ہوا تب حضرت عثمانؓ زندہ تھے اور 25 سال بعد شہید ہوئے۔
*البدایہ والنہایہ ج7 ص210-212 ۔ ابن کثیرؒ کا اصل موقف، اسناد اور ترجیح یہ ہے:

*امام ابن کثیرؒ نے باب: "ذکر مقتل عثمان بن عفان" میں لکھا:*

1. *مختلف اقوال جمع کیے*:
`فزعم بعض الناس أنه قتل في أيام التشريق، وقال بعضهم قتل يوم الجمعة لثلاث خلت من ذي الحجة. وقيل قتل يوم النحر`
"بعض لوگوں نے کہا ایام تشریق میں قتل ہوئے، بعض نے کہا 3 ذی الحجہ جمعہ کو، اور کہا گیا کہ یوم النحر یعنی 10 ذی الحجہ کو"
📚 _البدایہ والنہایہ ج7، ص212_

2. راجح قول کی ترجیح دی*:
`قال: والأول هو الأشهر، وقيل إنه قتل يوم الجمعة لثماني عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين على الصحيح المشهور.`
"ام ابن کثیر کہتے ہیں: پہلا قول یعنی 18 ذی الحجہ والا ہی مشہور ہے، اور صحیح مشہور قول یہی ہے کہ آپ 35ھ میں 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید ہوئے"
📚 _البدایہ والنہایہ ج7، ص212_

3. *تفصیل واقعہ*: اسی باب میں ابن کثیرؒ نے لکھا کہ محاصرہ ذی قعدہ میں شروع ہوا اور 40 دن سے زائد چلا۔ پھر 18 ذی الحجہ جمعہ کے دن گھر میں داخل ہو کر شہید کیا گیا۔ اگر 12 ذی الحجہ مانیں تو محاصرہ صرف 12 دن کا بنتا ہے، جبکہ تمام تفصیلی روایات 40+ دن کا ذکر کرتی ہیں۔

*12 ذی الحجہ والی روایت کے بارے میں*:
ابن کثیرؒ نے ابو عثمان النہدی کی روایت `قتل في اوسط ایام التشریق` کو بھی نقل کیا، لیکن اسے ش*ذ قرار دے کر 18 ذی الحجہ کو مقدم کیا۔
*نتیجہ*

1. *تاریخی ترتیب*: غدیر خم 10ھ میں ہوا، شہادت عثمانؓ 35ھ میں۔ یعنی غدیر 25 سال پہلے ہوا۔
2. *راجح تاریخ شہادت*: اہل سنت کے جمہور محدثین و مورخین کے نزدیک *18 ذی الحجہ 35ھ بروز جمعہ* ہے۔ ابن کثیرؒ نے خود اسے `الصحیح المشہور` کہا ہے۔
3. *12 ذی الحجہ*: یہ قول بھی ابن ابی شیبہ، احمد، طبرانی میں صحیح سند سے مروی ہے، لیکن یہ ش*ذ ہے اور واقعے کی تفصیلات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت "18 ذی الحجہ 35ھ بروز جمعہ" والی روایت کی سب سے مشہور اور مضبوط سند یہ ہے:
*18 ذی الحجہ والی راجح روایت کی سند*
1. امام طبریؒ کی سند - سب سے تفصیلی*

امام طبریؒ نے _تاریخ الطبری_ میں سیف بن عمر کے ذریعے تفصیل سے نقل کیا ہے:
سند:
حدثنا ابن حمید، قال: حدثنا جریر، عن سیف، عن محمد وطلحہ وابو حارثہ وابن اعین، قالوا:`
`فکان بین ان حصر عثمان و بین ان قتل اربعون یوما، فقتل یوم الجمعۃ لثمانی عشرۃ خلت من ذی الحجۃ سنۃ خمس وثلاثین`

*ترجمہ:*
"عثمانؓ کے محصور کیے جانے اور قتل کیے جانے کے درمیان 40 دن کا فاصلہ تھا۔ تو آپ کو ذی الحجہ کی 18 تاریخ گزر جانے پر، 35ھ میں بروز جمعہ قتل کیا گیا"
📚 _تاریخ الطبری، ج4، ص450، دار المعارف مصر_

*نوٹ*: محدثین نے سیف بن عمر کو جرح کی ہے، اس لیے فقہاء نے اس اکیلی سند پر حکم نہیں لگایا۔ لیکن اس متن کی تائید دوسری اسناد سے ہو جاتی ہے۔

*2. امام خلیفہ بن خیاطؒ کی سند - سب سے مختصر اور صحیح*

امام خلیفہ بن خیاطؒ جو 3rd صدی ہجری کے مورخ ہیں، ان کی تاریخ سب سے قدیم اور معتبر سمجھی جاتی ہے۔

*سند:*
`قال خلیفۃ: وقتل عثمان یوم الجمعۃ لثمانی عشرۃ لیال خلون من ذی الحجۃ سنۃ خمس وثلاثین`
"خلیفہ کہتے ہیں: عثمانؓ 35ھ میں ذی الحجہ کی 18 راتیں گزرنے پر بروز جمعہ قتل کیے گئے"
📚 _تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص185، تحقیق: اکرم ضیاء العمری_

*3. امام ذہبیؒ کا خلاصہ - محققین کی ترجیح*

ام ذہبیؒ نے تمام اقوال جمع کرنے کے بعد خود یہ نتیجہ دیا:

*متن:*
`وقتل عثمان یوم الجمعۃ ثامن عشر ذی الحجۃ سنۃ خمس وثلاثین، وھو ابن اثنتین وثمانین سنۃ`
"عثمانؓ 35ھ میں 18 ذی الحجہ بروز جمعہ قتل ہوئے، اور اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی"
📚 _تاریخ الاسلام، حوادث سنۃ 35ھ، ج3، ص493، دار الغرب الاسلامی_

*4. امام ابن کثیرؒ کی ترجیح*

جیسا کہ پہلے بتایا، ابن کثیرؒ نے خود لکھا:
`وقيل إنه قتل يوم الجمعة لثماني عشرة خلت من ذي الحجة سنة خمس وثلاثين على الصحيح المشهور.`
"صحیح مشہور قول یہ ہے کہ آپ 35ھ میں 18 ذی الحجہ بروز جمعہ قتل ہوئے"
📚 _البدایہ والنہایہ، ج7، ص212_

*خلاصہ: دونوں روایتوں کا تقابل*
روایت تاریخ سب سے بڑا حوالہ محدثین کی رائے
**ش*ذ قول** 12 ذی الحجہ = اوسط ایام تشریق ابو عثمان النہدی ← معتمر بن سلیمان۔ *مسند احمد 12280* سند صحیح لیکن متن ش*ذ۔ واقعے کے 40 دن محاصرے سے نہیں ملتا
**راجح قول** 18 ذی الحجہ بروز جمعہ خلیفہ بن خیاط ص185، ذہبی، ابن کثیر **الصحیح المشہور**۔ تمام تفصیلات سے مطابقت
*اہم نکتہ*: 18 ذی الحجہ 35ھ واقعی جمعہ کا دن تھا۔ فلکی حساب سے بھی یہ ثابت ہے۔ جبکہ 12 ذی الحجہ 35ھ کو جمعہ نہیں تھا۔

اس لیے جمہور اہل سنت کا موقف یہی ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ *جمعہ 18 ذی الحجہ 35ھ* کو شہید ہوئے۔

اب ہم 18 ذی الحجہ والی روایت کے راویوں کی *جرح و تعدیل* دیکھ لیتے ہیں۔

اس میں 2 بنیادی سندیں ہیں اور دونوں کا حکم مختلف ہے:
*1. امام خلیفہ بن خیاطؒ والی سند - سب سے معتبر*

*سند*: `خلیفہ بن خیاط ← شیوخہ`
`قال خلیفۃ: وقتل عثمان یوم الجمعۃ لثمانی عشرۃ لیال خلون من ذی الحجۃ سنۃ خمس وثلاثین`
📚 _تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص185_

*امام خلیفہ بن خیاطؒ: خلیفہ بن خیاط بن خلیفہ العصفری البصری، ابو عمرو*
کتاب جرح و تعدیل
**امام ذہبیؒ، سیر اعلام النبلاء** `الحافظ الثبت، صاحب التاریخ` "حافظ، ثقہ، تاریخ کے مصنف ہیں" ج11، ص445
*امام ابن حجرؒ، تہذیب التہذیب*`ثقۃ، امام فی التاریخ` "ثقہ ہیں، تاریخ کے امام ہیں" ج3، ص174
*امام خطیب بغدادیؒ* `کان ثقۃ ثبتا` "ثقہ، پکے تھے" *تاریخ بغداد ج12، ص366*
*نتیجہ*: امام خلیفہ بن خیاطؒ *ثقہ، حافظ، متفق علیہ* ہیں۔ ان کی کتاب _التاریخ_ 3rd صدی ہجری کی سب سے قدیم اور مستند تاریخ ہے۔ اس لیے ان کا "18 ذی الحجہ" والا قول سب سے مضبوط ہے۔
*2. امام طبریؒ والی سند - سیف بن عمر والی*

*سند*: `ابن حمید ← جریر ← سیف بن عمر ← محمد و طلحہ وغیرہ`
📚 _تاریخ الطبری ج4، ص450_

یہاں اصل اختلاف *سیف بن عمر التمیمی* پر ہے:
محدث جرح و تعدیل
**امام یحییٰ بن معین** `ضعیف` "ضعیف ہیں" *تہذیب التہذیب ج4، ص294*
**امام ابو حاتم رازی** `متروک الحدیث` "حدیث میں متروک ہیں" *الجرح والتعدیل ج4، ص292*
**ام نسائی** `ضعیف` "ضعیف ہیں"
**امام ابن حجرؒ** `ضعیف فی الحدیث، عمدۃ فی الاخبار والمغازي` "حدیث میں ضعیف ہیں، لیکن اخبار و مغازي میں معتمد ہیں" *تہذیب التہذیب ج4، ص294*
*نتیجہ*: سیف بن عمر حدیث کے اصول پر *ضعیف* ہیں۔ اسی لیے فقہاء ان کی اکیلی سند سے شرعی حکم نہیں لیتے۔

لیکن طبریؒ نے خود لکھا `قالوا` یعنی کئی راویوں سے جمع کر کے نقل کیا۔ اور سیف کی اصل اہمیت _اخبار و سیر_ میں ہے۔ چونکہ 18 ذی الحجہ والا متن خلیفہ بن خیاطؒ، ذہبیؒ، ابن کثیرؒ، ابن اثیرؒ سب سے ثابت ہے، اس لیے سیف کی کمزوری سے یہ تاریخ کمزور نہیں ہوتی۔
*3. 12 ذی الحجہ والی سند - ابو عثمان النہدی والی*

جو سائل نے شروع میں دی تھی: `معتمر بن سلیمان ← ابوه ← ابو عثمان النہدی`

*ابو عثمان النہدی: عبدالرحمن بن مل*
کتاب جرح و تعدیل
**امام ذہبیؒ، سیر اعلام النبلاء** `مخضرم، ثقۃ، جلیل` "مخضرم تابعی، ثقہ، جلیل القدر" ج4، ص102
*امام ابن حجرؒ، تقریب التہذیب*`ثقۃ` "ثقہ ہیں"
**امام بخاری و مسلم** دونوں نے ان سے روایت لی ہے = **رجال الصحیحین**
*نتیجہ*: ابو عثمان النہدی *ثقہ تابعی* ہیں۔ اس لیے شیخ شعیب ارنؤوط نے اس سند کو `صحیح` کہا۔

*لیکن مسئلہ سند میں نہیں، متن میں ہے*:
1. ابو عثمان النہدی کوفہ میں تھے، مدینہ کے واقعے کے عینی شاہد نہیں تھے۔
2. ان کا قول باقی تمام تفصیلی روایات سے ٹکراتا ہے۔ 40 دن کا محاصرہ 12 ذی الحجہ میں فٹ نہیں ہوتا۔
3. اس لیے محدثین نے اسے *ش*ذ* کہا، یعنی ثقہ راوی کی وہ روایت جو زیادہ ثقہ راویوں کے خلاف ہو۔
*آخری فیصلہ محدثین کا*

1. *سند کے لحاظ سے*: 12 ذی الحجہ والی سند کے راوی ثقہ ہیں۔ 18 ذی الحجہ والی اصل سند امام خلیفہ بن خیاطؒ کی ہے جو ثقہ حافظ ہیں۔
2. *متن اور قرائن کے لحاظ سے*: 18 ذی الحجہ راجح ہے کیونکہ:
- 40 دن محاصرہ + جمعہ کا دن + تمام مورخین کا اتفاق
- فلکی حساب سے 18 ذی الحجہ 35ھ جمعہ تھا، 12 ذی الحجہ جمعہ نہیں تھا۔

اسی لیے *ابن کثیرؒ، ذہبیؒ، ابن حجرؒ* نے 18 ذی الحجہ کو `الصحیح المشہور` کہا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرامؓ کی صحیح تاریخ سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین۔ سیدنا عثمان غنی ہوں یا سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہما۔دونوں کے فضائل و مناقب مرتبہ و مقام جس کو جو ملا ہمارا سر تسلیم خم ہے۔دونوں سے محبت جزو ایمان ہے۔ *رضی اللہ عنہم*۔

اللّٰهُمَّ بَارِكْ فِي هٰذِهِ الْجَامِعَةِ وَأَهْلِهَااللہ تعالیٰ طلبہ کو علمِ نافع، اساتذہ کو بہترین اجر، انتظامیہ کو ا...
04/06/2026

اللّٰهُمَّ بَارِكْ فِي هٰذِهِ الْجَامِعَةِ وَأَهْلِهَا
اللہ تعالیٰ طلبہ کو علمِ نافع، اساتذہ کو بہترین اجر، انتظامیہ کو استقامت، اور تمام معاونین و محسنین کو دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائے۔

فضیلت یوم عرفہ؛ جانور کی قربانی پر اعتراض اور اس کا جواب ۔》                                                             ...
26/05/2026

فضیلت یوم عرفہ؛ جانور کی قربانی پر اعتراض اور اس کا جواب ۔》 از تحریر : قاری عبدالرشید: اولڈھم۔ قارئین کرام! اس کالم کے شائع ہونے کا دن۔ تو جمعرات ہے۔گزشتہ تحریر میں عشرہ ذی الحجہ کے حوالے سے "چار اعمال اور چار نمبر" آپ نے پڑھ لیئے ہیں۔ہم سب کے بزرگ محسن و مشفق۔ عالم ربانی۔ حضرت مولانا عبدالرشیدصاحب ربانی مدظلہ العالی۔ سرپرست اعلی جمعیت علماء برطانیہ۔ نے سابقہ کالم پڑھ کر حکما فرمایا کہ قربانی کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون عید الاضحی سے پہلے لکھ کر شائع کروادیں تاکہ خطباء کرام اس سے استفادہ کرکے عید کے اجتماع میں بیان کرسکیں ۔ حضرت ربانی صاحب کے حکم کی تعمیل میں یہ تفصیلی تحریر ھدیہ قارئین کررہا ہوں۔ ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ سب محنت ہے۔مولانا محمد نجیب قاسمی صاحب کی۔ جو دارالعلوم دیوبند کے ماہنامہ میں زیر نظر عنوان ذی الحجہ کا پہلا عشرہ اور قربانی کے احکام ومسائل سے شائع ہوئی تھی۔

ماہ ِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم (سورة الفجر آیت نمبر ۲)میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج کا اہم رکن: وقوفِ عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ غرض رمضان کے بعد ان ایام میں اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ لہٰذا ان میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ احادیث میں ان ایام میں عبادت کرنے کے خصوصی فضا ئل وارد ہوئے ہیں، جن میں سے چند احادیث ذکر کررہا ہوں: * حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسانہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہوں۔ (صحیح بخاری) *حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک عشرہٴ ذی الحجہ سے زیادہ عظمت والے دوسرے کوئی دن نہیں ہیں، لہٰذا تم ان دنوں میں تسبیح وتہلیل اور تکبیر وتحمید کثرت سے کیا کرو۔ (طبرانی) ان ایام میں ہر شخص کو تکبیر تشریق پڑھنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، تکبیرِ تشریق کے کلمات یہ ہیں: اَللہُ اَکْبَرُ۔ اَللہُ اَکْبَرُ۔ لَآ اِلٰہ الَّا اللہُ۔ وَاللہُ اَکْبَر۔ اللہُ اَکْبَر۔ وَلِلہِ الْحَمْدُ۔
عرفہ کے دن کا روزہ: *حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق میں اللہ تعالیٰ سے پختہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ ( صحیح مسلم) مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن کا ایک روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا نویں ذی الحجہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں *وضاحت: اختلافِ مطالع کے سبب مختلف ملکوں میں عرفہ کا دن الگ الگ دنوں میں ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں؛ کیونکہ یوم عیدالفطر، یوم عید الاضحی، شبِ قدر اور یومِ عاشورہ کے مثل ہر جگہ کے اعتبار سے جو دن عرفہ کا قرار پائے گا، اُس جگہ اُسی دن میں عرفہ کے روزہ رکھنے کی فضیلت حاصل ہو گی، انشاء اللہ۔( الحمدللہ اس سال 26 مئی 2026ء مطابق 1447ھجری یوم عرفہ ایک ہی دن منگل کو آیا ہے۔جس سے امت مسلمہ بہت زیادہ خوش ہے)
قربانی کی حقیقت: * قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلِکِلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسِکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَی مَا رَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (سورة الحج ۳۴) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے؛ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی؛ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔ اس قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال ووقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔ *حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش فرمائی تھی جس میں سے ۶۳ اونٹ کی قربانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کی تھی اور بقیہ ۳۷ اونٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نحر (یعنی ذبح) فرمائے۔ (صحیح مسلم ۔حجة النبی صلی اللہ علیہ وسلم) یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد (ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں) کا عملی اظہار ہے اور اس عمل میں اُن حضرات( کے اعتراض) کا جواب بھی ہے جو مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر کہہ دیتے ہیں کہ جانوروں کی قربانی کے بجائے غریبوں کو پیسے تقسیم کردیے جائیں ۔ * اسلام نے جتنا غریبوں کا خیال رکھا ہے اس کی کوئی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی؛ بلکہ انسانیت کو غریبوں اور کمزوروں کے درد کا احساس شریعتِ اسلامیہ نے ہی سب سے پہلے دلایا ہے۔ غرباء ومساکین کا ہر وقت خیال رکھتے ہوئے شریعت اسلامیہ ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم عید الاضحی کے ایام میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، جیسا کہ ساری انسانیت کے نبی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی، سنن کبری للبیہقی) * اِن دِنوں بعض حضرات۔ ( اعتراضیوں) نے باوجویکہ کہ انہوں نے قربانی کے سنتِ موٴکدہ اور اسلامی شعار کا موقف اختیار کیا ہے ۱۴۰۰ سال سے جاری وساری سلسلہ کے خلاف اپنے اقوال وافعال سے گویا یہ تبلیغ کرنی شروع کردی ہے کہ ایک قربانی پورے خاندان کے لیے کافی ہے اور قربانی کم سے کم کی جائے جو سراسر قرآن وحدیث کی روح کے خلاف ہے؛ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ان ایام میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرنی چاہیے۔
دیگر اعمال صالحہ کی طرح قربانی میں بھی مطلوب ومقصود رضاء الٰہی ہونی چاہیے، جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ صَلاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن (سورة الانعام ۱۶۲) میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب اللہ کی رضامندی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ نیز اللہ جلّ شانہ کا فرمان ہے: لَن یَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَاوٴُھَا وَلٰکِن یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ (سورة الحج ۳۷) اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے نہ اُن کا خون؛ لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
قربانی کی اہمیت وفضیلت: * حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران) آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی ۔ابواب الاضاحی) غرضیکہ حضورا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ایک مرتبہ بھی قربانی ترک نہیں کی باوجویکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرمیں بوجہ قلت طعام کئی کئی مہینے چولہا نہیں جلتا تھا۔* حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہمیں قربانی سے کیا فائدہ ہوگا؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں (بھی) نیکی ملے گی۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ثواب الاضحیہ) * ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں ، سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ، لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی فضل الاضحیہ) * حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی باب الذبائح، سنن کبری للبیہقی ج۹ ص ۲۶۱)
قربانی کا وجوب: *قربانی کو واجب یا سنتِ موٴکدہ قرار دینے میں زمانہٴ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے؛ مگر پوری امتِ مسلمہ متفق ہے کہ قربانی ایک اسلامی شعار ہے اور جو شخص قربانی کرسکتا ہے اس کو قربانی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے خواہ اس کو واجب کہیں یا سنتِ موٴکدہ یا اسلامی شعار۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمیشہ قربانی کیا کرتے تھے باوجودیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اشیاء خوردنی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی مہینے تک چولہا نہیں جلتا تھا۔ ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کو واجب قرار دیا ہے، حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور حضرت امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کی ایک روایت بھی قربانی کے وجوب کی ہے۔ ہندوپاک کے جمہور علماء نے بھی وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے؛ کیونکہ یہی قول احتیاط پر مبنی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی قربانی کے وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے۔ *قربانی کے وجوب کے لیے متعدد دلائل میں سے چند پیش ہیں: (۱) اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم (سورة الکوثر) میں ارشاد فرماتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ اس آیت میں قربانی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور امر عموماً وجوب کے لیے ہوا کرتا ہے، جیساکہ مفسرینِ کرام نے اس آیت کی تفسیر میں تحریر کیا ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص رحرحمہ اللہ (ولادت ۳۰۵ھ) اپنی کتاب(احکام القرآن) میں تحریر کرتے ہیں : حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت (فَصَلِّ لِرَبِّکَ) میں جو نماز کا ذکر ہے، اس سے عید کی نماز مراد ہے اور (وَانْحَرْ) سے قربانی مراد ہے۔ مفسر قرآن شیخ ابوبکر جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: (۱) عید کی نماز واجب ہے۔ ۔ (۲) قربانی واجب ہے۔ (2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ بھٹکے۔ (سنن ابن ماجہ۔ باب الاضاحی ہی واجبہ ام لا، مسند احمد ج۲ ص ۳۲۱، السنن الکبری ج۹ ص ۲۶۰ کتاب الضحایا) وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید ارشاد فرمائی اور اس نوعیت کی سخت وعید واجب کے چھوڑنے پر ہی ہوتی ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ قربانی کرنا واجب ہے۔ (3) حضرت جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عید الاضحی کے دن حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید کی نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تو اسے چاہیے کہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے (عید کی نماز سے پہلے) ذبح نہیں کیا تو اسے چاہیے کہ وہ (عید کی نماز کے) بعد ذبح کرے۔ (صحیح بخاری۔ باب من ذبح قبل الصلاة اعاد) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کی نماز سے قبل جانور ذبح کرنے پر دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا؛ حالانکہ اُس زمانہ میں صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس مالی وسعت نہیں تھی۔ یہ قربانی کے وجوب کی واضح دلیل ہے ۔
قربانی کس پر واجب ہے: *ہر صاحبِ حیثیت کو قربانی کرنی چاہیے جیساکہ حدیث میں گزراکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ قربانی کے وجوب کے لیے صاحب وسعت ہونا ضروری ہے؛ البتہ مسافر پر قربانی واجب نہیں، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ (المحلی بالآثار لابن حزم ج ۶ ص ۳۷)
قربانی کے جانور: *بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ (نر و مادہ) قربانی کے لیے ذبح کیے جاسکتے ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آٹھ جانور ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے، دو اونٹوں میں سے اور دو گائیوں میں سے۔ (سورة الانعام ۱۴۳ و ۱۴۴) قربانی کے جانوروں میں بھینس بھی داخل ہے؛ کیونکہ یہ بھی گائے کی ایک قسم ہے، لہٰذا بھینس کی قربانی بھی جائز ہے۔ امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔ (کتاب الاجماع لابن منذر ص ۳۷) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ (متوفی۱۱۰ھ) فرماتے ہیں کہ بھینس گائے کے درجہ میں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۷ ص ۶۵) حضرت امام سفیان ثوری رحمہ اللہ(متوفی ۱۶۱ھ) فرماتے ہیں کہ بھینسوں کو گائے کے ساتھ شمار کیا جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق ج۴ ص ۲۳) حضرت امام مالک رحمہ اللہ (متوفی ۱۷۹ھ) فرماتے ہیں کہ بھینس گائے ہی ہے (یعنی گائے کے حکم میں ہے) (موطا مالک باب ما جاء فی صدقہ الفطر) ہندوپاک کے جمہور علماء کی بھی یہی رائے ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے۔ سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی بھینس کو گائے کے حکم میں شامل کیا ہے۔ بھینس عربوں میں نہیں پائی جاتی ہے؛ اس لیے اس کاذکر قرآن کریم میں وضاحت سے نہیں ہے۔ (مجموع فتاوی ورسائل شیخ ابن عثیمین  ۳۴ ۲۵) موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں میں یہی مذکور ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے۔
جانور کی عمر: *قربانی کے جانوروں میں بھیڑ اور بکرا بکری ایک سال، گائے اور بھینس دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے؛ البتہ وہ بھیڑ اور دنبہ جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔
قربانی کے جانور میں شرکاء کی تعداد: * اگر قربانی کا جانور بکرا، بکری، بھیڑ یا دنبہ ہے تو وہ صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرتی ہے:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بکری ایک آدمی کی طرف سے ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن۔ باب ان البدنہ عن سبعة) * اگر قربانی کا جانور اونٹ، گائے یا بھینس ہے تو اس میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات سات (آدمی) شریک ہوجائیں۔ (صحیح مسلم ۔ باب جواز الاشتراک الخ.) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ والے سال حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کی؛ چنانچہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ (صحیح مسلم ۔ باب جواز الاشتراک الخ.) * وضاحت: حجة الوداع اور صلح حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوئے تھے، اس پر قیاس کرکے علماء امت نے فرمایا ہے کہ عید الاضحی کی قربانی میں بھی اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔
قربانی کے ایام:قربانی کے تین ایام ہیں۔ ۱۰ ۱۱ ۱۲ ذی الحجہ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قرآن کی آیت (وَیَذْکَرُوا اسْمَ اللہِ فِیْ اَیَّامٍ مَعْلُوْمَاتٍ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایام معلومات سے مراد یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) اور اس کے بعد دو دن ہیں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم الرازی ج۶ چ ۲۶۱) * حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہیں بچنا چاہیے۔ (صحیح بخاری۔ باب ما یوٴکل من لحوم الاضاحی) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں؛ اس لیے کہ جب چوتھے دن قربانی کا بچا ہوا گوشت رکھنے کی اجازت نہیں تو پورا جانور قربان کرنے کی اجازت کہاں سے ہوگی؟ *وضاحت: تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں اجازت دے دی گئی کہ اسے تین دن بعد بھی رکھا جاسکتا ہے۔ (مستدرک حاکم ج۴ ص ۲۵۹) اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب تین دن کے بعد گوشت رکھنے کی اجازت مل گئی تو تین دن کے بعد قربانی بھی کی جاسکتی ہے، اس لیے کہ گوشت تو پورے سال بھی رکھا جاسکتا ہے تو کیا قربانی کی اجازت بھی پورے سال ہوگی؟ ہرگز نہیں۔ تین دن کے بعد قربانی کی اجازت نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ * حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں۔ (موطا مالک ۔ کتاب الضحایا) * حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قربانی کے دن ۱۰ ذی الحجہ اور اس کے بعد کے دو دن ہیں؛ البتہ یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) کو قربانی کرنا افضل ہے۔ (احکام القرآن للطحاوی ج ۲ ص ۲۰۵) *وضاحت: بعض علماء کرام نے مسند احمد میں وارد حدیث (کُلُّ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذِبْحٌ) کی بنیاد پر فرمایا کہ اگر کوئی شخص ۱۲ ذی الحجہ تک قربانی نہیں کرسکا تو ۱۳ ذی الحجہ کو بھی قربانی کی جاسکتی ہے؛ لیکن حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں فرمایا ہے کہ قربانی صرف تین دن کی جاسکتی ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے خود اپنی کتاب میں وارد حدیث کے متعلق وضاحت کردی ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے کہ متعدد صحابہٴ کرام مثلاً حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے تھی۔ احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قربانی کو صرف تین دن تک محدود رکھا جائے؛ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ایک صحابی سے ۱۳ ذی الحجہ کو قربانی کرنا ثابت نہیں ہے۔
قربانی کرنے والا ناخن اور بال نہ کاٹے: * ام الموٴمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے اور تم میں سے جو قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ ( مسلم) اس حدیث اور دیگر احادیث کی روشنی میں قربانی کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک جسم کے کسی حصے کے بال اور ناخن نہ کاٹیں۔ لہٰذا اگر بال یا ناخن وغیرہ کاٹنے کی ضرورت ہو تو ذی القعدہ کے آخر میں فارغ ہوجائیں۔ ( بشکریہ)
———————————
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9‏، جلد: 98 ‏، شوال‏، ذی قعدہ 1435 ہجری مطابق اگست‏، ستمبر 2014ء

Address

Garhi Afghanan
Garhi Afghanan

Telephone

+923135230510

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Hassan Bin Ali R.A posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category