26/08/2026
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ بابرکت پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔
ولادت باسعادت
آپ ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں 12 ربیع الاول، عام الفیل کو ہوئی، جو عیسوی حساب سے 571ء بنتا ہے۔ عام الفیل اس سال کو کہتے ہیں جس سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ابابیل کے ذریعے اسے تباہ کر دیا۔
آپ ﷺ کا تعلق عرب کے سب سے معزز خاندان قریش کے قبیلہ بنو ہاشم سے ہے۔
والد کا نام: حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب
والدہ کا نام: حضرت آمنہ بنت وہب
آپ ﷺ کے والد آپ کی پیدائش سے چند ماہ پہلے ہی وفات پا چکے تھے، اس لیے آپ یتیم پیدا ہوئے۔
پیدائش کے وقت کے عجیب واقعات
سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ آپ ﷺ کی آمد کے وقت کئی نشانیاں ظاہر ہوئیں:
1. ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگرے گر گئے - جو ایرانی سلطنت کے زوال کی نشانی تھی۔ 2. فارس کا آتش کدہ جو ہزار سال سے جل رہا تھا، بجھ گیا۔ 3. بحیرہ ساوہ کا پانی خشک ہو گیا۔ 4. حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پیدائش کے وقت ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ ابتدائی زندگی
آپ ﷺ کو رواج کے مطابق صحرا کی صاف ہوا میں پرورش کے لیے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا گیا۔ تقریباً 4 سے 5 سال آپ بنو سعد میں رہیں۔ اس دوران شقِ صدر کا واقعہ بھی پیش آیا۔
6 سال کی عمر میں والدہ ماجدہ کا بھی انتقال ہو گیا، پھر دادا حضرت عبدالمطلب نے پرورش کی، اور ان کے بعد چچا حضرت ابو طالب نے آپ ﷺ کی کفالت فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آپ ﷺ کی آمد کا مقصد یوں بیان فرمایا:
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ"
اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
آپ ﷺ کی آمد سے جہالت، ظلم اور بت پرستی کے اندھیرے ختم ہوئے اور توحید، عدل اور انسانیت کی روشنی پھیلی۔