kiran Islamic official

kiran Islamic official “This page is dedicated to sharing Islamic teachings, Quran & Hadith guidance, supplications, inspira

21/08/2026

اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ»“بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے، یہاں ...
19/08/2026

اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ»
“بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے چھوڑتا نہیں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حدیث کی واضح تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہمیں اللہ تعالیٰ کے عدل اور ظالم کے انجام کے بارے میں خبردار فرما رہے ہیں۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی پر ظلم کرتا ہے، اس کا حق مارتا ہے، کسی کو تکلیف دیتا ہے یا اپنی طاقت کے بل پر لوگوں کو ستاتا ہے، لیکن بظاہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً کوئی گرفت نظر نہیں آتی۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ظلم سے بے خبر ہے یا اسے ظلم کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے۔ وہ چاہے تو فوراً پکڑ سکتا ہے، لیکن اپنی حکمت کے مطابق اسے وقت دیتا ہے تاکہ شاید وہ ظلم سے باز آجائے، توبہ کرلے اور لوگوں کے حقوق واپس کردے۔
لیکن جب ظالم اپنی سرکشی پر قائم رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو پھر وہ اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔
قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ﴾
“اور تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔”
(سورۃ ابراہیم: 42)
اس حدیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
ظالم کو دنیا میں کچھ عرصہ کامیابی مل جانا اس کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔
اللہ تعالیٰ ظالم کے ہر ظلم کو جانتا اور دیکھتا ہے۔
مظلوم کو اللہ کی پکڑ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
ظالم کو ملنے والی مہلت کو اللہ کی رضا نہ سمجھا جائے۔
ظالم کے لیے سب سے بہتر راستہ یہ ہے کہ فوراً ظلم چھوڑے، اللہ سے توبہ کرے اور جس کا حق مارا ہے وہ حق واپس کرے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ جب آتی ہے تو انسان اپنی طاقت، مال اور منصب کے باوجود بچ نہیں سکتا۔
مختصر پیغام:
دنیا میں ظالم کا کچھ عرصہ آزاد گھومنا اللہ کی طرف سے غفلت نہیں بلکہ مہلت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کوئی ظلم بھلایا نہیں جاتا۔ مظلوم کا حق ضرور دلایا جائے گا، چاہے دنیا میں یا آخرت میں۔

17/08/2026
09/08/2026

🌸 آیت نمبر 2
ترجمہ:
بے شک ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
تفصیل:
اس آیت میں سچے مومنوں کی تین اہم صفات بیان ہوئی ہیں:
اللہ کا ذکر سن کر دل میں خشیت اور خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے۔
قرآن کی آیات سن کر ان کا ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے۔
وہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔
🌸 آیت نمبر 3
ترجمہ:
وہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
تفصیل:
سچے ایمان کی عملی علامت یہ ہے کہ انسان نماز کی پابندی کرے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔ یعنی ایمان صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے اثرات انسان کے عمل میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔
🌸 آیت نمبر 4
ترجمہ:
یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجات ہیں، اور بخشش ہے اور عزت والی روزی ہے۔
تفصیل:
اللہ تعالیٰ ان آیات میں ان مومنوں کے لیے عظیم اجر بیان فرماتے ہیں جو اللہ سے ڈرتے، قرآن سے اپنا ایمان بڑھاتے، اللہ پر بھروسہ کرتے، نماز قائم کرتے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں بلند درجات، مغفرت اور باعزت رزق ہے۔
✨ سبق:
ان آیات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سچا ایمان دل کی کیفیت کے ساتھ ساتھ نماز، توکل اور نیک اعمال سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

07/08/2026

06/08/2026

04/08/2026

سورۃ الانفال آیات 2 تا 4
اردو ترجمہ اور مختصر تفسیر
آیت 2
ترجمہ:
بے شک سچے مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل خوفِ خدا سے لرز اٹھیں، اور جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے، اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومنوں کی پہلی تین صفات بیان فرمائی ہیں:
اللہ کی عظمت اور اس کے ذکر سے دل میں خشیت پیدا ہونا۔
قرآن کریم سن کر ایمان میں اضافہ ہونا۔
ہر حال میں صرف اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنا۔ یہ صفات اس بات کی علامت ہیں کہ انسان کا ایمان زندہ اور مضبوط ہےآیت 3
ترجمہ:
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
تفسیر:
سچے مومن صرف زبانی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ اپنے اعمال سے ایمان کا ثبوت دیتے ہیں۔
نماز کی پابندی کرتے ہیں اور اسے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے زکوٰۃ، صدقہ اور دیگر نیک کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ دونوں اعمال بندے کے اللہ اور مخلوق کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔
آیت 4
ترجمہ:
یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں بلند درجات، مغفرت اور عزت والی روزی ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ان صفات والے مومنوں کو تین عظیم انعامات کی خوشخبری دی ہے:
جنت میں بلند درجات۔
گناہوں کی مکمل مغفرت۔
عزت و احترام کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی بہترین روزی (جنت کی نعمتیں)۔
مختصر سبق:
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کامل ایمان کی نشانیاں یہ ہیں:
اللہ کا خوف اور خشیت۔
قرآن سے ایمان میں اضافہ۔
اللہ پر مکمل توکل۔
نماز کی پابندی۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔
جو شخص یہ صفات اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں کامیابی، مغفرت اور جنت کے بلند درجات عطا فرماتا ہے۔

Address

Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when kiran Islamic official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share