Tasawwuf o Sulook

Tasawwuf o Sulook Tasawwuf o Sulook Like our page for Live Broadcast Bayanaat, Short Clips, Events & Quotes.

by
Hazrat Maulana Peer Zulfiqar Ahmad Naqshbandi DB

Please....
Like
Share
Comments ﺗﺼﻮﻑ ﻭ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ
ﻣﺤﻨﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ
ﻣﻌﺮﻓﺖ ﻭ ﻧﺴﺒﺖ ﺣﺎﺻﻞ
ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ،ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺑﮍﮮ
ﻏﯿﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻏﯿﺮ ﺍﻟﻠﮧ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﻣﯿﻼﻥ
ﺑﮭﯽ ﺳﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺷﺎﮨﺮﺍﮦ
ﻃﺮﯾﻘﺖ ﺳﮯ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﻭﺻﻮﻝ ﺍﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ
ﻣﻨﺰﻝ ﺳﮯ ﮐﻮﺳﻮﮞ ﺩﻭﺭ
ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺍﯾﮏ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺑﺪ ﻧﻈﺮﯼ
ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ
ﺍﺫﮐﺎﺭ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮭﯿﺮ ﺩﯾﺘ


ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺳﺎﻟﮏ ﻣﺤﺒﻮﺏ
ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﺎ ﻭﺻﻞ ﺣﺎﺻﻞ
ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻝ
ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﻮﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﻭﮞ
ﮐﻮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﻦ ﺳﮯ
ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺩﻝ
ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ،ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﺱ
ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﮩﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺉ ﻣﺤﺘﺎﻁ
ﺭﻭﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ
ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻮﮦ ﻣﺤﺒﻮﺏ
ﮐﺎ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﻮ
ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ...
ﭼﺸﻢ ﺑﻨﺪ ﻭ ﮔﻮﺵ ﺑﻨﺪ ﻭ ﻟﺐ
ﺑﻨﺪ
ﮔﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﻨﯽ ﺳﺮ ﺣﻖ ﺑﺮ ﻣﻦ
ﺑﺨﻨﺪ
(ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ،ﺍﭘﻨﮯ
ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ،ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ
ﮐﻮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﮯ ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ
ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﺣﻖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ
ﻣﺰﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﺎ)

ازافادات:
حضرت اقدس مولانا
شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی دامت برکاتھم

24/05/2026
24/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ اتوار
🌙 '07 ذوالحجہ 1447ھ
📆 24 مئی 2026ء

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ:
«يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالسَّنَةَ الْقَابِلَةَ»
(صحيح مسلم)

📜 حضرت ابو قتادہ انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ گزشتہ ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم)

🌿 یومِ عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ بہت فضیلت والا ہے۔
جو مسلمان اس دن اخلاص کے ساتھ روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے ایک سال اور آئندہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔

💧 یومِ عرفہ حج کا سب سے عظیم دن ہے۔
جو لوگ حج پر نہ ہوں، ان کے لیے اس دن روزہ رکھنا نہایت افضل اور باعثِ اجر ہے۔
حدیث میں “گناہوں کی معافی” سے مراد عموماً صغیرہ گناہ ہیں، جبکہ کبیرہ گناہوں سے توبہ ضروری ہے۔
یہ روزہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور بندے کی روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس دن کے روزے کی خاص فضیلت بیان فرمائی تاکہ مسلمان اس مبارک موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
اہم پیغام:
یومِ عرفہ کا روزہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اس دن زیادہ سے زیادہ:
روزہ رکھیں
دعا کریں
استغفار کریں
درود شریف پڑھیں
ذکرِ الٰہی میں مشغول رہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں یومِ عرفہ کی برکتیں نصیب فرمائے۔ آمین۔

23/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ ہفتہ
🌙 '06 ذوالحجہ 1447ھ
📆 23 مئی 2026ء

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:
"مَنْ حَفِظَ لِسَانَهُ وَسَمْعَهُ وَبَصَرَهُ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى عَرَفَةَ"
(رواہ البیہقی)

📜 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص یومِ عرفہ میں اپنی زبان، اپنے کان اور اپنی نگاہ کی حفاظت کرے، اس کے ایک عرفہ سے دوسرے عرفہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”

🌿 یومِ عرفہ بہت بابرکت دن ہے۔ اس دن صرف روزہ اور عبادت ہی کافی نہیں بلکہ انسان کو اپنی زبان، آنکھوں اور کانوں کو بھی گناہوں سے بچانا چاہیے۔ جو شخص اس دن اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔

💧 اس حدیث میں یومِ عرفہ کی عظیم فضیلت بیان کی گئی ہے۔
اسلام صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ انسان کے پورے کردار کی اصلاح چاہتا ہے۔
1. زبان کی حفاظت
جھوٹ، غیبت، گالی، چغلی اور فضول باتوں سے بچنا ضروری ہے۔
2. کانوں کی حفاظت
غیبت، موسیقی یا گناہ کی باتیں سننے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
3. نگاہ کی حفاظت
غلط اور حرام چیزوں کو دیکھنے سے بچنا مؤمن کی شان ہے۔
یومِ عرفہ میں جو شخص اپنے اعضاء کو گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے، اس کی عبادت زیادہ قبول ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔
حاصلِ سبق:
یومِ عرفہ مغفرت کا عظیم دن ہے۔
صرف عبادت نہیں بلکہ گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے۔
زبان، کان اور آنکھ کی حفاظت ایمان کی علامت ہے۔
تقویٰ اختیار کرنے والا اللہ کی رحمت حاصل کرتا ہے۔

22/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ جمعہ
🌙 '05 ذوالحجہ 1447ھ
📆 22 مئی 2026ء

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: «سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ»
(سنن ابن ماجہ)
اور بعض روایات میں ہے:
«يَا فَاطِمَةُ، قُومِي إِلَى أُضْحِيَّتِكِ فَاشْهَدِيهَا، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِهِ»

📜 حضرت فاطمہؓ سے فرمایا گیا:
“اے فاطمہ! اپنی قربانی کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اسے دیکھو، کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔”
حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! کیا یہ فضیلت صرف ہمارے اہلِ بیت کے لیے ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے بھی؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ ہمارے لیے بھی ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی۔”

✨ یہ حدیث قربانی کی عظیم فضیلت کو بیان کرتی ہے۔ قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اخلاص کے ساتھ قربانی کرنے والے کے گناہوں کی مغفرت اور اجرِ عظیم کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ فضیلت صرف اہلِ بیت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔

🌿 قربانی حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے اور اسلام میں بہت عظیم عبادت شمار ہوتی ہے۔
جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ قربانی کو قبول فرما لیتے ہیں۔
اس حدیث میں قربانی کی روح یعنی اخلاص، تقویٰ اور اللہ کی رضا کو بیان کیا گیا ہے۔
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات اور محبتوں کو اللہ کے حکم کے سامنے قربان کرنے کا درس بھی دیتی ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ خوش دلی، تقویٰ اور سنت کے مطابق قربانی ادا کرے۔
اہم سبق:
قربانی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔
اخلاص کے ساتھ کی گئی قربانی گناہوں کی معافی کا سبب بنتی ہے۔
قربانی کی فضیلت تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔
سنتِ ابراہیمی کو زندہ رکھنا ایمان کی علامت ہے۔

22/05/2026

Friday Bayan||22-05-26||Qari Muhammad Tayaib Qasmi Naqshbandi DB||Hong Kong||

21/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ جمعرات
🌙 '04 ذوالحجہ 1447ھ
📆 21 مئی 2026ء

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:
«مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، وَإِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا»
(جامع الترمذی)

📜 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں۔ بے شک قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت حاصل کر لیتا ہے، لہٰذا خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔”

🌿 عید الاضحی کے دن سب سے افضل عمل قربانی ہے۔
قربانی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب عبادت ہے۔
قربانی کا اجر قیامت کے دن مکمل صورت میں ملے گا۔
مسلمان کو اخلاص اور خوشی کے ساتھ قربانی کرنی چاہیے۔

💧 اس حدیث میں قربانی کی عظیم فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو عید الاضحی کے دن سب سے زیادہ پسندیدہ عمل قربانی ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کی یادگار ہے، جس میں اللہ کے حکم کے سامنے کامل اطاعت کا درس ملتا ہے۔
حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے پورے وجود کے ساتھ پیش ہوگا، جو قربانی کرنے والے کے لیے اجر و ثواب کا ذریعہ بنے گا۔ “خون زمین پر گرنے سے پہلے قبول ہو جاتا ہے” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اخلاص کے ساتھ کی گئی قربانی کو فوراً شرفِ قبولیت عطا فرماتا ہے۔
لہٰذا قربانی کرتے وقت ریاکاری، دکھاوا یا بوجھ محسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ محبتِ الٰہی اور خوش دلی کے ساتھ یہ عبادت ادا کرنی چاہیے۔

20/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ بدھ
🌙 '03 ذوالحجہ 1447ھ
📆 20 مئی 2026ء

عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:
أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي كُلَّ سَنَةٍ۔
(سنن الترمذی: 1507)

📜 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ:
“رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں دس سال قیام پذیر رہے، اور آپ ﷺ ہر سال قربانی کرتے تھے۔”

✨ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی قربانی کے اہتمام کو بیان کیا گیا ہے۔
آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ہر سال باقاعدگی سے قربانی کی، جس سے قربانی کی اہمیت اور اس کی سنتِ مؤکدہ ہونا معلوم ہوتا ہے۔

🌿 قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت ہے جسے نبی کریم ﷺ نے زندہ رکھا۔
رسول اللہ ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا اس عمل کی فضیلت اور تاکید پر دلالت کرتا ہے۔
امتِ مسلمہ کو بھی چاہیے کہ استطاعت ہونے پر قربانی کا اہتمام کرے۔
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور اطاعت کا اظہار ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال میں دوام اور پابندی بہت اہم ہے۔
اہم سبق
قربانی ایک عظیم عبادت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنا محبتِ رسول ﷺ کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ قربانی کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔

19/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ منگل
🌙 '02 ذوالحجہ 1447ھ
📆 19 مئی 2026ء

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضي الله عنه قَالَ:
قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟
قَالَ: «سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ»
قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟
قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ»
قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟
قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ»
(مسند أحمد، ابن ماجہ)

📜 حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ ﷺ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے۔”
صحابہؓ نے عرض کیا:
اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔”
انہوں نے عرض کیا:
اور اون کا کیا حکم ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔”

💧 یہ حدیث قربانی کی عظیم فضیلت بیان کرتی ہے۔ قربانی حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب عمل ہے۔ قربانی کرنے والے کو جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی عطا کی جاتی ہے۔

✨ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی محبوب چیز قربان کرنے کا جذبہ ہے۔
اس عمل کے ذریعے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم اطاعت و فرمانبرداری کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا اجر بہت زیادہ ہے، یہاں تک کہ جانور کے ہر بال پر نیکی ملتی ہے۔
قربانی انسان کے دل میں تقویٰ، اخلاص اور ایثار پیدا کرتی ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ قربانی خالص اللہ کی رضا کے لیے کرے اور اس سنتِ ابراہیمی کو اہتمام کے ساتھ ادا کرے۔

18/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ پیر
🌙 '01 ذوالحجہ 1447ھ
📆 18 مئی 2026ء

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
«مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هٰذِهِ الْأَيَّامِ»
يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ.
قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟
قَالَ:
«وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذٰلِكَ بِشَيْءٍ»
(صحیح البخاری)

📜 حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی بھی دن میں نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں محبوب ہیں۔”
صحابہؓ نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ! کیا اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“جہاد بھی نہیں، سوائے اُس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور پھر کچھ واپس لے کر نہ آیا (یعنی شہید ہوگیا)۔”

🌿 ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت فضیلت والے ہیں۔ ان دنوں میں عبادت، ذکر، تلاوت، صدقہ، روزہ اور دیگر نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ ان دنوں کو غفلت میں ضائع نہ کرے۔

💧 ذوالحجہ کے پہلے دس دن سال کے سب سے بابرکت دن شمار ہوتے ہیں۔
ان دنوں میں نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، صدقہ، نفلی روزے اور توبہ و استغفار کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
خاص طور پر 9 ذوالحجہ (یومِ عرفہ) کا روزہ بہت فضیلت رکھتا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں میں کیا گیا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔
یہ دن قربانی، حج اور اللہ کی اطاعت کے جذبے کی یاد دلاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ذوالحجہ کے ان مبارک دنوں کی قدر کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

17/05/2026

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ

⏳ اتوار
🌙 '29 ذوالقعدہ 1447ھ
📆 17 مئی 2026ء

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ»
(سنن أبي داود)

📜 حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے دشمنی رکھی، اللہ کے لیے دیا، اور اللہ کے لیے روک لیا، اس نے اپنے ایمان کو مکمل کر لیا۔”

🌿 کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان کے تعلقات، محبت، ناراضی، خرچ کرنا اور روکنا سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوں، نہ کہ ذاتی خواہشات یا دنیاوی مفاد کے تحت۔

💧 یہ حدیث ایمان کی حقیقت اور اس کے کمال کو بیان کرتی ہے۔
مسلمان کی زندگی صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس کے جذبات، تعلقات اور معاملات بھی اللہ کے حکم کے تابع ہونے چاہییں۔
اللہ کے لیے محبت کرنا:
نیک لوگوں، دین، اور بھلائی سے محبت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
اللہ کے لیے ناراض ہونا:
گناہ، ظلم اور دین دشمنی سے نفرت اللہ کے حکم کی وجہ سے ہو، ذاتی ضد یا انا کی بنا پر نہیں۔
اللہ کے لیے دینا:
صدقہ، مدد اور تعاون اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے ہو۔
اللہ کے لیے روکنا:
جہاں دین منع کرے وہاں خرچ یا تعاون سے رک جانا بھی ایمان کا حصہ ہے۔
یہ حدیث ہمیں اخلاص سکھاتی ہے کہ مسلمان کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع ہونا چاہیے۔ ایسا شخص ایمان کے اعلیٰ درجے کو حاصل کرتا ہے۔

Address

Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tasawwuf o Sulook posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Tasawwuf o Sulook:

Share