Islamic Ideology

Islamic Ideology We believe there will be no honour or victory for the Muslims until they return to the Book of Alla

31/07/2024

عاتکہ بنت زید
عبد اللہ بن ابی بکر سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے پھر زید بن خطاب سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے
پھر عمر بن خطاب سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے پھر زبیر بن عوام سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے پھر حسین بن علی سے نکاح کیا وہ شہید ہو گئے
حتی کہ اہل مدینہ نے کہا " جو شخص
شہادت کا خواہاں ہو وہ عاتکہ بنت زید سے نکاح کرلے۔
(طبقات ابن سعد ١٠٤/٣)
اور ہمارے ہاں ایک شوہر فوت ہو جائے تو
وہ عورت منحوس قرار دے دی جاتی ہے.❤️🥀☝️

19/05/2024

بریکنگ نیوز |

ایر- انی صدر- ابراہیم رئیسی کو لیجا رہا ہیلی کاپٹر کے نزدیک گر گیا۔
مزید تفصیلات کا انتظار۔

🔴*کچھ دیر قبل وسطی غزہ کے نتساریم میں آج جانبازوں کی کامیاب ترین کارروائی میں 🔻🔻2 دجالی افسران کے وڑنے ⚰️⚰️کا اعلان کردی...
29/04/2024

🔴*کچھ دیر قبل وسطی غزہ کے نتساریم میں آج جانبازوں کی کامیاب ترین کارروائی میں 🔻🔻2 دجالی افسران کے وڑنے ⚰️⚰️کا اعلان کردیا گیا۔*

ناحال بریگیڈ کی واپسی!!بظاہر تو رفح آپریشن کی تیاری کے بہانے ناحال بریگیڈ کو دجالی فوج نے واپس بلا لیا ہے۔ اب 99 ویں ڈوی...
29/04/2024

ناحال بریگیڈ کی واپسی!!
بظاہر تو رفح آپریشن کی تیاری کے بہانے ناحال بریگیڈ کو دجالی فوج نے واپس بلا لیا ہے۔ اب 99 ویں ڈویژن غـــــــــــزہ میں موجود ہے۔ الجانبازوں نے 99 ویں ڈویژن کی قیادت پر اس طرح بمباری کی جیسے وہ محاذ پر اپنے سخت کنٹرول کا اعلان کر رہے ہیں، پہلے انہیں بمباری میں جانی نقصان پہنچایا اور پھر اسی 99 ویں ڈویژن کی ایک فورس کو "المغراقہ" میں چارہ ڈال کر ایک زبردست گھات کی طرف راغب کیا اور وہاں بھی صیہونی سوروں کو سخت زخم لگائے۔ الجانبازوں نے 99واں ڈویژن کو سبق سکھا دیا ہے کہ غــــزہ کوئی پکنک کی جگہ نہیں ہے اور جیسے ناحال بریگیڈ یہاں سے زخم چاٹتے ہوئے پیچھے ہٹ گئی ہے، 99 ڈویژن بھی یہاں کھو جائے گی۔ ان شاء اللہ

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے"اے Qـــســـام! ہم تجھ پر فخر کرتے ہیں۔" یقین جانئے یہ الفاظ ہیں ان نعروں کے، جو امریکی...
28/04/2024

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

"اے Qـــســـام! ہم تجھ پر فخر کرتے ہیں۔" یقین جانئے یہ الفاظ ہیں ان نعروں کے، جو امریکی یونیورسٹیوں میں غزہ کے حق میں مظاہرے کرنے والے طلبہ لگا رہے ہیں۔ امریکہ و یورپ Hــــمـــاس اور الـــQـــســـام بریگیڈز کو دہشت گرد تحریک قرار دیتے ہیں اور جو بھی ان کی حمایت کرتا ہے اسے مجرم گردانتے ہیں۔ ایسے میں امریکی طلبہ کا الـــQـــســام بریگیڈز اور مزاحمت کی حمایت میں واضح نعرے لگانا، ایک بہت اہم تاریخی موڑ اور ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اہل غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم، پھر ان کے صبر و استقامت، تحمل و برداشت، خندہ پیشانی سے دجالی قوت کے ستم ہائے مختلفہ کو سہنا، زخم کھا کر مسکرانا، لاشیں اٹھا کر کلمات شکر بجالانا، ایسے امور ہیں، جن پر دنیا حیران ہے۔ اہل غزہ دنیا کے دل و دماغ کو چرا رہے ہیں اور انہیں اپنا گروید بنا رہے ہیں۔ خصوصاً مغرب کے سلیم الفطرت لوگ شروع سے غزہ کے حق میں اور صہیونی درندگی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب کے عام لوگ حقیقی معنوں میں انسانیت کا درد رکھتے ہیں۔ وہ بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب و ملت، ظلم کے خلاف ہیں اور پھر عملی کردار بھی نبھا رہے ہیں۔ اہل مغرب نے شہداء کے خاندانوں میں صبر و استقامت کا راز جاننے کے لیے قرآن بھی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہدایت کی فضائیں چل پڑی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سینکڑوں لوگ غزہ کی وجہ سے اسلام قبول کر چکے ہیں۔ آج کل ایک امریکی خاتون Abby Haves کی ویڈیو وائرل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "میں نے ایک فلسطینی ماں کی ویڈیو دیکھی ہے، جس نے اپنے شہید بچے کی لاش اٹھا رکھی تھی، وہ اس لمحے بھی خدا کا شکر ادا کر رہی تھی اور اس کی بڑائی بیان کر رہی تھی۔ اس کی زبان پر کوئی ناشکری یا بے صبری کے کلمات نہیں تھے۔ اور اس لمحے بھی وہ خدا کی بہت حمد وثنا بیان کر رہی تھی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ میں ایسا کرسکتی ہوں۔ میرا ایمان اتنا قوی نہیں کہ میں اس لمحے بھی رب کا شکر ادا کر سکوں، آخر کیونکر اس ماں کا ایمان اس حد تک قوی ہے! ایک ماں اپنے بچے کی لاش کو کیسے گلے لگاتی ہے؟ ایک ماں کے طور پر اس نے مجھے حیران کر دیا۔ اس نے مجھے قرآن پڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میں نے ایمان کی مضبوطی کے اس راز کی تلاش میں جو فلسطینیوں کو متاثر کرتا ہے، قرآن پڑھنا شروع کر دیا ہے۔" مغرب کا عام طبقہ بھی شروع سے فلسطین کے لیے صدائے احتجاج بلند کر رہا ہے۔ اسرائیلی جارحیت شروع ہونے کے بعد اب تک یورپ و امریکا میں تاریخی مظاہرے دیکھے گئے۔ بعض جگہ دھرنے کئی ماہ سے جاری ہیں اور اب تعلیمی اداروں میں اک انقلاب برپا ہے۔ یہ سلسلہ امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوا۔ وہاں کے طلبہ نے غزہ کی حمایت میں احتجاج کیا تو یونیورسٹی کی صدر مصری نژاد عورت نعمت شفیق نے یونیورسٹی میں اپنے طلبہ کو دبانے کے لیے پولیس بلائی اور تاریخ میں پہلی بار پولیس جامعہ کے اندر داخل ہو کر طلبہ کو گرفتار کیا۔ نعمت شفیق نے صہیونیت کی وفاداری نبھاتے ہوئے جھوٹی شکایت لگائی کہ یہاں پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔ طلبہ کی گرفتاری کے بعد اس احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ امریکا کی تمام بڑی یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی اس تحریک میں شریک ہوگئے۔ بعد میں اساتذہ اور تدریسی عملہ بھی اس کا حصہ بنا۔ پھر یہ احتجاجی لہر یورپ پہنچ گئی۔ فرانس، اٹلی اور اسپین کے تعلیمی اداروں میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ اب تو یہ سلسلہ آسٹریلیا تک بھی پہنچ چکا ہے۔ مغرب کے بڑے نامی گرامی دانشور بھی اس تحریک میں نہ صرف شامل ہیں، بلکہ ان کی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں۔ امریکی پولیس نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور جنگ کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے جارجیا کی "ایموری یونیورسٹی" میں معاشیات کی پروفیسر کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا۔ کینیڈا کی یہودی مصنفہ ڈاکٹر "نومی کلین" نے کینیڈا میں کولمبیا یونیورسٹی کی شاخ میں اپنے طلبہ کے ساتھ ایک مظاہرے میں شریک ہوئیں اور صیہونیت کے جھوٹ کو بے نقاب کرتی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ صہیونیت کے پہیے سے آزاد ہونے کا وقت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مصریوں کو بھی صیہونیت سے آزاد کیا جائے..." احتجاجی طلبہ بڑے جوش میں ہیں، گرفتاریوں کے باوجود ان کا جذبہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے اور وہ کسی کو خاطر میں لانے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کے منہ پر طلبہ نے نعرے لگائے: "مائیک، تم ایک ناگوار چہرہ ہو۔" اس کے ساتھ امریکی محکمہ خارجہ کی عربی بولنے والی ترجمان "ہالا غریط" نے غزہ پر جنگ کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ غزہ کی وجہ سے یہ وزارت میں تیسرا استعفیٰ ہے۔ غزہ میں نسل کشی کے خلاف صاحب فطرت لوگوں کا ضمیر جاگ گیا ہے۔ امریکا کی ایک یونیورسٹی کے لان میں طلبہ نے لکھ رکھا ہے کہ "اگر کوئی پوچھے کہ غزہ کیا اور کہاں ہے؟ تو ان سے کہو کہ غزہ ایک ایسی جگہ ہے جو خالص فطرت کو جگاتی ہے اور ہر صاحب فطرت کے دل میں بستی ہے۔ دنیا کے تمام آزاد لوگوں کو سلام جو غزہ کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں۔ اہل غزہ کی لازوال قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔" مظاہرین نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسکوائر میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پہلے صدر "جارج واشنگٹن" کے مجسمے کو فلسطینی رومال اور فلسطینی پرچم سے ڈھانپ رکھا ہے۔ اشرافیہ کی یونیورسٹی کہلانے والی جامعہ "جارج واشنگٹن" میں فلسطینی پرچم لہرا رہے ہیں اور ساتھ ہی اذان کی خوبصورت آواز گونج رہی ہے۔ ادھر دنیا کی معروف ترین یونیورسٹی جامعہ ہاورڈ کے لان میں John Harvard کے مشہور زمانہ مجسمے پر فلسطینی پرچم لہرا رہا ہے۔ پوری دنیا میں غزہ نے ایک ہلچل مچا رکھی ہے سوائے نام نہاد مسلم ممالک کے۔ ان کا ضمیر ابدی نیند سو چکا ہے۔ اب شاید اس مردہ ضمیر کے جاگنے کی ضرورت بھی نہیں رہی، کیوں کہ پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے! (ضیاء چترالی)

‏شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’جب بھی کوئی قوم اپنے دشمن سے جھااد کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دلوں کو جوڑ...
27/04/2024

‏شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

’جب بھی کوئی قوم اپنے دشمن سے جھااد کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دلوں کو جوڑ دیتا ہے اور اگر وہ جہاد ترک کر دے تو ایک دوسرے میں مشغول ہو جاتی ہے۔‘

27/04/2024

آج سے اس Page پر غز۔ہ اور ا۔سرائیل بارے حالات پوسٹ کیئے جائیں گے انشاءاللہ۔

17/04/2024

اگر ہر داڑھی والے کو طنزیہ طور پر مُلّا کہا جاسکتا ہے تو پھر ہر کلین شیو کو ہیجڑا کہنے میں کیا قباحت ہے؟

👍آج کے حالات مطابق وزیر کیا رپورٹ پیش کرتے ہیںایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنیں  تو صبح  وزیروں سے پو چھا کہ را...
17/04/2024

👍آج کے حالات مطابق وزیر کیا رپورٹ پیش کرتے ہیں

ایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنیں تو صبح وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے ۔۔۔
کیا وجہ ہے ؟؟
۔اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے ۔انھوں نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگی اس لیے فریاد کررہےہیں ۔۔۔
۔تو حاکم وقت نے آرڈر دیا کہ ان کا بندوبست کیا جائے 😍۔وزیر صاحب نے کچھ مال گھر بھجوادیا اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا۔۔۔۔
اگلی رات کو پھر وہیں آوازیں آئیں ۔ تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا۔تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا ۔۔۔۔۔
اس پر بادشاہ نے فرمایا کہ پھر شور کیوں ؟؟؟

۔تو وزیر نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کررہےہیں ۔تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے😜😜۔۔۔

وزیر نے حسب عادت کچھ بستر گھر بھیج دیئے اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیے۔۔۔
جب پھر رات آئی تو بدستورآوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔تو بادشاہ کو غصہ آیا اور اسی وقت وزیر کو طلب کیا کہ کیا بستروں کا انتظام نہیں کیا گیا۔۔۔۔
تو وزیر نے کہا کہ جناب وہ سب کچھ ہوگیا ہے تو بادشاہ نے فرمایا کہ پھر یہ شور کیوں ؟؟؟۔۔۔۔
تو وزیر نے اب بادشاہ کو تو مطمئین کرنا ہی تھا ۔اور اوکے رپورٹ بھی دینی تھی۔تو وہ باہر گیا کہ پتہ کرکے آتا ہوں ۔۔۔
وزیر جب واپس آیا تو مسکراہٹ لبوں پر سجائے آداب عرض کیا کہ بادشاہ سلامت یہ شور نہیں کررہے.....
بلکہ آپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں ...😜😝

اور روزانہ کرتے رہیں گے۔۔۔😝👍

بادشاہ سلامت یہ سن کے بہت خوش ہوا اور وزیر کو انعام سے بھی نوازا...!!!!

اب یہی حال ہمارے ملک کا بھی ہے ۔ ملازمین و عوام مہنگائی سے پریشان ہیں ۔مگر یہاں رپورٹ سب اوکے دی جارہی ہے۔اور بادشاہ سلامت خوش ہیں...!

15/04/2024

شام میں جاری جنگ کے 13 برس مکمل
ہوشربا اعداد و شمار

(دوسرا حصہ)
(ضیاء چترالی)
انسانی حقوق پر کام کرنے والے شامی ادارے "المرصد السوری لحقوق الانسان" اول روز سے خانہ جنگی کے نقصانات کو دستاویزی ثبوت و شواہد کے ساتھ جمع کر رہا ہے۔ اس ادارے کے پاس اب تک شہید، زخمی، لاپتہ اور گرفتار ہونے والے اکثر شامی شہریوں کا مفصل ڈیٹا موجود ہے۔ البتہ ایسے افراد بھی بے شمار ہیں، جو متاثر تو ہوئے ہیں، لیکن المرصد کے پاس ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اس رپورٹ میں ہم نے جو اعداد و شمار ذکر کئے ہیں، وہ سب اسی ادارے کی ویب سائٹ سے اخذ شدہ ہیں۔ ادارے کا خود بھی کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقیقی نقصانات کی عکاسی نہیں کرتے۔ بہرحال خانہ جنگی کے 13 برس مکمل ہونے پر المرصد السوری نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں، اس کے مطابق شام میں اب تک جو 6 لاکھ 17 ہزار 910 افراد ہلاک ہوئے ہیں، ان میں سے ایک لاکھ 5 ہزار افراد کو دوران حراست تشدد کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ 13 برسوں کے دوران 52 ہزار 799 بار زمینی گولہ باری ہوئی۔ حکومتی فضائیہ کی طرف سے 26 ہزار 403 فضائی حملے ہوئے۔ روسی افواج نے 8729 مرتبہ بمباری کی۔ 2504 فضائی حملے ایسے ہوئے، جن کے بارے میں یہ تصدیق نہ ہوسکی کہ وہ روسی طیاروں نے کی یا شامی سرکاری فضائیہ نے۔ 1028 مرتبہ ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ اب تک 5062 بم دھماکے ہوئے۔ بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے 2679 حملے ہوئے۔ جبکہ 35 بار اسرائیلی بمباری ہوئی۔ ان حملوں کے نتیجے 6 لاکھ 17 ہزار 910 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جن میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے۔ خواتین شہداء 25 ہزار 437 اور بچے 30 ہزار 546 ہیں۔ 49 ہزار 410 افراد کو سرکاری عقوبت خانوں میں تشدد کرکے شہید کر دیا گیا۔ 13 ہزار افراد کو جیلوں میں بھوکا رکھ کر مار دیا گیا۔ 52 ہزار 596 شہری بشار الاسد کے زمینی حملوں سے شہید ہوئے اور 26 ہزار 403 فضائی بمباری سے۔ 8 ہزار 696 شامیوں کو روس نے شکار کیا۔ 2504 شامی ایسی بمباری سے شہید ہوئے، جس کے بارے میں پتہ نہ چل سکا کہ روس نے بم گرائے یا بشار الاسد نے۔ 2353 شہریوں کو مختلف جنگجو گروہوں نے قتل کیا۔ 905 شامی مختلف "جہادیوں" نے مار دیئے۔ 1302 کے قاتل کا علم نہ ہوسکا۔ 453 کو سزائے موت دی گئی۔ 2039 کو اسنائپر نے نشانہ بنایا۔ 1028 شامی ممنوعہ ہتھیار سے مار دیئے گئے۔ 4708 دھماکوں کی زد میں آکر کر دنیا سے گئے۔ 400 اسرائیلی حملوں سے شہید ہوئے۔ 974 افراد ترک فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ 4873 شامیوں کو "اسلامک اسٹیٹ" تنظیم (داعش) کے درندوں نے قتل کیا۔ 478 معصوم شامی ڈیموکریٹک ملیشیا نے مار دیئے۔ 226 کے قاتل معلوم نہ ہو سکے۔ یہ تو وہ خوش نصیب ہیں، جن کے بارے میں معلوم ہے کہ دنیا کی قید سے رہائی پا گئے۔ لیکن ایک لاکھ 13 ہزار شامی شہری لاپتہ ہیں۔ کچھ نہیں معلوم کہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں۔ یہ سب عام شہری نقصانات کی تفصیلات تھیں۔ اب اک نظر لڑنے والے فریقوں پر بھی ڈالتے ہیں۔ بشار الاسد کی فوج کے اب تک 92 ہزار 839 اہلکار جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ اس کی حامی ایرانی لبنانی اور روسی ملیشیا کے مہلوکین کی تعداد 67 ہزار 905 ہے۔ جن میں لبنان کی دہشت گرد تنظیم کے 1782 اور ایران کے 8852 شامل ہیں۔ حکومت مخالف گروہوں کے مقتولین کی تعداد 80 ہزار641 ہے، جن میں سرکاری فوج سے الگ ہوکر اپوزیشن میں شامل ہونے والوں کی تعداد 3596، شامی ڈیموکریٹک کی تعداد 11 ہزار 95 اور کردوں کی تعداد 3 ہزار 239 ہے۔ داعش کے جہنم رسیدگان کی تعداد 41 ہزار 266 ہے۔ باقی جہادی گروہوں کے مقتول 28 ہزار 110 ہیں۔ ترک ہلاک شدگان 251، روسی 266 اور نامعلوموں کی تعداد 2916 ہے۔
یہ تو ہوا جانی نقصان، جن میں سے ہر ایک کی نام بہ نام تصدیق المرصد السوری لحقوق الإنسان نے بڑی جدوجہد کے بعد کی ہے۔ اس میں بشار الاسد کی جیلوں میں تشدد کرکے جن 55 ہزار شامیوں کو شہید کیا گیا، وہ شامل نہیں ہیں کہ ان کی شہادت تو کنفرم ہے، باقی تفصیلات معلوم نہیں۔ اسی طرح کردستان پارٹی کے وہ 3200 ہلاکتیں بھی شامل نہیں، جو ان بارہ برسوں کے دوران ہوئی ہیں۔ اسی طرح لبنانی حزب اللات کے وہ سینکڑوں مقتولین بھی شامل نہیں، جن کے بارے میں المرصد کو تفصیلات معلوم نہ ہوسکیں۔ اسی طرح داعش کی جیلوں میں قید وہ 3200 شامی شہری بھی شامل نہیں، جن کے انجام کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ اسی طرح مختلف جنگجو گروہوں کی جانب سے شامی سرکاری فوج اور اس کی حامی ملیشیائوں کے وہ ارکان بھی شامل نہیں، جنہیں اغوا کیا گیا تھا، جن کی تعداد 4100 بتائی جاتی ہے۔ حکومت مخالف گروہوں سے تعلق رکھنے والے ایسے مغویوں کی تعداد 1800 ہے۔
شامی انسانی حقوق کی مذکورہ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہم نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں، ان میں سے ہر ہر شخص کے بارے میں پوری تفصیلات معلوم ہیں۔ لیکن بہت سے ایسے علاقے ہیں، جہاں تک ہماری رسائی مسلسل جنگوں کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی، وہاں کے 54 ہزار مقتولین کا ڈیٹا حاصل نہیں کرسکے، وہ بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔
اب آتے ہیں زخمیوں کی طرف۔ 13 سال سے جاری جنگ کے نتیجے میں 21 ملین یعنی 2 کروڑ 10 لاکھ شامی زخمی ہوچکے ہیں۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد مستقل طور پر معذور ہونے والوں کی بھی ہے۔ 13 ملین یعنی ایک کروڑ 30 لاکھ شامی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے 6 ملین شام کی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں، باقی ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ اب یہ مختلف ممالک میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ملک کا انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ جنگ اب بھی جاری ہے۔ اس لئے مستقبل قریب میں بھی شامیوں کا اپنے وطن واپس آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ دو اعشاریہ 65 ملین بچے تعلیم سے محروم ہوگئے۔ شہریوں کا مجموعی مالی خسارہ 650 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی کی قیمت 140 گنا بڑھ گئی ہے۔ ملکی کرنسی کی قدر 13 برسوں میں 98 گنا کم ہوگئی۔ 78 فیصد اسپتال ختم ہو چکے ہیں۔ 91 فیصد شامی خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ فاقہ کشی کرنے والوں کی تعداد 3 اعشاریہ 3 ملین ہے۔ جن میں سے 2 لاکھ 32 ہزار جسمانی طور پر معذور ہیں۔ (جاری ہے)

14/04/2024

رعایت اللہ فاروقی
"فکسڈ میچ"
اسرائیل نے 2 اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر میزائل حملہ کیا تھا۔ ایران کے لئے یہ یوں ایک مشکل صورتحال تھی کہ اس طرح کے حملے کا جواب لازم ہوتا ہے تاکہ ریڈ لائن بحال رہے۔ مگر اس حملے کا تو مقصد ہی ایران کو جنگ میں گھسیٹا تھا۔ ایران اگر اس ٹریپ میں آتا تو اس پر حملے کا جواز پیدا ہوجاتا اور جواب نہ دیتا تو اس کی مٹی پلید ہونی تھی۔

اب سمجھنے والا اہم نکتہ یہ ہے کہ جب کوئی ملک اس طرح کی صورتحال میں جوابی حملہ کرتا ہے تو اس میں زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹے لگتے ہیں۔ مثلا پاکستان نے فروری 2019ء میں انڈیا کو 24 گھنٹے میں ہی جوابی حملے کا نشانہ بنایا تھا جبکہ حال ہی میں ایرانی حملے کا جواب 48 گھنٹے کے اندر دیا تھا۔ اس قسم کی صورتحال میں جب جوابی حملہ ہوئےبغیر تیسرا دن داخل ہوجائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ کوئی بڑا ملک بیچ میں کود چکا ہے اور تصفیے کی کوشش کر رہا ہے۔

بالعموم تصفیے کی اس کوشش کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متاثرہ ملک سے کہا جاتا ہے کہ اچھا یوں کرتے ہیں کہ حملہ آور ملک کے فلاں ٹارگٹ کو نشانہ بنا لو مگر میزائل ہلکا استعمال کرنا۔ یوں نہ صرف معمولی سا ملٹری ٹارگٹ طے کرلیا جاتا ہے اور وہاں سے اہم چیزیں اور افراد ہٹا دیئے جاتے ہیں بلکہ اس جوابی حملے کا باقاعدہ دن اور وقت بھی باہمی طور پر طے کرلیا جاتا ہے۔

امریکہ میں یہ صدارتی انتخابات کا سال ہے۔ جو بائیڈن کی ناک پہلے ہی یوکرین میں کٹنے کے بالکل قریب ہے۔ ایسے میں اسرائیل اسے ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنے کی جو کوشش کر رہا ہے وہ بائیڈن کے لئے خطرناک ہے۔ سو ہمارا اندازہ ہے کہ امریکہ نے پس پردہ بیچ کی راہ نکالتے ہوئے اسرائیل پر آج والے ایرانی حملے کا "اہتمام" کروایا ہے۔ ہمارے ایسا سوچنے کی چند وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ وہی کہ جوابی حملے میں ایران کو 48 گھنٹے سے زیادہ نہیں لگنے چاہئے تھے۔ اس نے جوابا ایک میزائل ہی داغنا تھا۔ اس کے لئے لمبی چوڑی سوچ کی ضرورت نہ تھی۔ اس طرح کے ملٹری پلان ہر ملک کی قومی سلامتی پالیسی کا پہلے سے ہی حصہ ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ جوبائیڈن ہی تھا جس نے تین روزقبل اچانک انکشاف کیا کہ ایران بہت جلد جوابی حملہ کرنے والا ہے۔ اور اسرائیلی حکومت نے کل سے سکول کالجز کی دو روز کے لئے تعطیل کردی تھی۔ حملے والی رات سے ایک روز قبل اور ایک روز بعد کے لئے تعطیل کا اعلان صاف بتا رہا ہے کہ تاریخ اور وقت فکس تھا۔ تیسری وجہ یہ کہ ایران نے حملے کے لئے شاہد ڈرون استعمال کئے جس کی رفتار ہی کرولا کار سے بھی تھوڑی کم یعنی 140 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اور انہیں آئرن دوم سسٹم سے بہ آسانی گرایا جاسکتا ہے۔ ایران کے پاس تو اس کے دعوے کے مطابق ہائپرسانک میزائل بھی ہیں جن کا اسرائیل کیا امریکہ کے پاس بھی توڑ نہیں۔ اس نے 200 ڈرونز کی بجائے ایک عدد ہائپرسانک میزائل کیوں استعمال نہ کیا جو سیدھا ٹارگٹ کو ہٹ کرتا ؟ چوتھی وجہ یہ کہ حملے کے فورا بعد ایران نے یہ کیوں کہا

"معاملہ ختم سمجھا جائے"

ایران کو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ اسے تو اکڑنا چاہئے تھا کہ اکھاڑ لو جو اکھاڑ سکتے ہو۔ پانچویں اور سب سے اہم وجہ یہ کہ ایران روس اور چین دونوں کی ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ سو بیجنگ اور ماسکو میں ٹینشن کے آثار کیوں نظر نہ آئے ؟ وزرائے خارجہ کی دوڑیں لگنی چاہئے تھیں کہ ایران کے جوابی حملے سے تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کا پرسکون رہنا میچ فکسنگ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ لیکن ہمارا یہ تمام تجزیہ غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اور غلط ثابت ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کردے۔ چلئے دیکھتے ہیں کہ اسرائیل ایسا کرتا ہے یا نہیں !
منقول

أَنَّ بَعْضَ أُمَّهَاتِ المُؤْمِنِينَ اعْتَكَفَتْ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌبعض ازواج مطہرات نےاستحاضہ یعنی بیماری کی حالت میں...
01/04/2024

أَنَّ بَعْضَ أُمَّهَاتِ المُؤْمِنِينَ اعْتَكَفَتْ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ
بعض ازواج مطہرات نےاستحاضہ یعنی بیماری کی حالت میں مسجد نبوی میں اعتکاف کیا ۔
صحيح البخاري: 311

Address

Faisalabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Ideology posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islamic Ideology:

Share