11/08/2023
8 اکتوبر 1950 کو جوگندر ناتھ منڈل وزیرقانون و لیبر نے وزیر اعظم پاکستان کے نام اپنی وزارت سے استعفی لکھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے اپنے استعفی میں وزیر اعظم پاکستان کو پاکستانی شہریوں کو درپیش مسائل خصوصاً ہندؤ شیڈول کاسٹ بچیوں کے زبردستی اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کی نشاندہی کہ سرزمین پاک پر کیسے ”کثیر تعداد میں ہندؤ لڑکیوں کو اغوا کے بعد مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے او ر متعلقہ اتھارٹیز کو بیشتر درخواستوں کے بعد ان میں سے 4 لڑکیوں کو بازیاب کروایا گیا ہے۔ اس ضمن میں گمشدہ لڑکیوں اور ملزمان کی تفصیل بمعہ نام گورنمنٹ کو بھیجی گئی۔ مگر متعلقہ افسر سے جو آخری جواب موصول ہوا اس میں متعلقہ افسر نے لکھا کہ“ میرا کام ہندؤ لڑکیوں کو بازیاب کروانا ہے اور ”اچھوت“ ہندو نہیں ہیں۔ ”
6اگست 2023 کو مریم اورنگزیب صاحبہ سے دوران پریس بریفنگ محترمہ سے معروف صحافی اور وی لاگر عمران ریاض کی جبری گمشدگی کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے بھی حسب روایت عمران ریاض کو صحافی نہ ہونے کا جواز دے کر ان کی جبری گمشدگی کے سوال کو نظر انداز کر دیا اور یاد رہے کہ یہ جواب انہوں نے پہلے بھی کئی دفعہ دیا ہے۔
دونوں جوابات کا بغور جائزہ لیں تو سمجھ آتا ہے کہ ملک پاکستان میں انسان ہونا یا پاکستانی شہری ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی ڈیفیکٹو حیثیت کوئی نہیں ہے، اور شہریوں پر ریاستی قوانین کا اطلاق تو ہوتا ہے مگر ان کے حقوق کی فراہمی کا فیصلہ ریاستی ادارے اور مقتدرہ اپنے معیار ”ڈیفیکٹو محب وطن“ کی بنیاد پر کرے گی۔ جوگندر ناتھ منڈل صاحب استعفی عرض پاک کی بیوروکریسی نے ڈیفیکٹو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی مثال ہے۔ جس نے ناصرف پاکستان کے پہلے وزیر قانون اور تحریک آزادی پاکستان میں قائد اعظم کے عظیم ساتھی جوگندر ناتھ منڈل کو استعفی دینے بلکہ عرض پاک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
مزید غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ مقتدرہ (بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ایک پیج کے لوگ) میں یہ سوچ اور معیار قیام پاکستان سے تھا اور آج بھی ہے، کہ کیسے ”ڈیفیکٹو محب وطن“ کے نعرے سے انسانوں کی آزادی کو سلب کرنی ہے اور تکنیکی انداز سے، کیسے اصل مسئلے کو نظر انداز کرنا ہے کیونکہ مقتدرہ کو پاکستان میں شہریوں صرف ایک چیز ہضم نہیں ہوتی اور وہ ہے شہریوں حقوق آزادیوں کی مانگ اور اظہار۔
شہریوں کا اظہار رائے مقتدرہ کو کس قدر گراں گزرتا ہے اس کہ ایک مثال آج کل معروف فلم ساز سرمد کھوسٹ کی بڑی ہمت سے بنائی گئی فلم ”زندگی تماشا“ ہے۔ جو ریاستی اداروں ہمارے معاشرتی رویوں کی سچائی کو بیان کرتی ہے۔ جس میں انہوں نے تکفیر مذہب قوانین کے استعمال میں پنہاں ذاتی اور ریاستی فوائد کے حصول کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ مگر فیصلہ سازوں نے حسب معمول گزشتہ فلموں ”جوائے لینڈ، مالک اور بول“ پر کو معاشرتی اور مذہبی روایات کے برعکس ہونے پر پابندی لگائی۔ مقصد کافی حد تک واضح ہے کہ سچائی سے عدم واقفیت اور ذاتی مفادات پر مبنی نظریات کیا بنیاد پر عشروں سے مذہب کے نام پر لوگوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ اور ڈر ہے کہ سچائی سے واقفیت کہیں لوگوں میں بوسیدہ نظام سے آزاد ہونے کی خواہش نہ پیدا کر دے۔
مگر موجودہ عشرے میں بے روز گاری، انسانی حقوق کی پامالیوں، لاقانونیت، طاقت کے بگڑتے ہوئے توازن، اقلیتی شہریوں کی تحفظ کو مسلسل نظرانداز اور ذاتی مفادات پر مبنی قانون سازی کی بنیاد پر حالات اس قدر بدلیں ہیں کہ ناصرف مذہبی اقلیتوں میں احساس محرومی بڑھا ہے بلکہ اکثریت میں سے تقریباً 1 ملین نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لیے یا مایوس ہو کر یا خوف میں یا مجبوری میں پاکستان چھوڑ گئے ہیں۔
ادارہ برائے سماجی انصاف نے اپنے سالانہ رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ سال 21۔ 2022 میں بالترتیب 78 اور 124 ٹوٹل 202 اغوا اور کم عمری کی شادی کے زیر دفعات مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں مذہبی اعتبار سے 120 ہندووں، 80 مسیحی اور 2 سکھ لڑکیاں اور عورتیں شامل ہیں۔ جس میں 55 بچیاں کی عمر 14 سال سے، 78 کی 14 سے 18 کے درمیان، 20 کی 18 سال سے زیادہ اور 49 کی عمر کی تصدیق نہ ہو سکی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے دیکھیں تو سندھ میں 122، پنجاب میں 76، کے پی 2 اور بلوچستان میں 2 کیس ہیں جو کسی نہ کسی ادارے میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تکفیر مذہب کے قوانین کے زیر دفعات میں 2020۔ 2022 تک 463 مقدمات درج ہوئے ہیں۔ جن میں سے 288 مسلم، 139 احمدی، 22 مسیحی، ہندو 11 اور تین کی تصدیق نہ ہو سکی ہے۔
جبری گمشدگیوں کے مسئلے میں صوبہ بلوچستان سمیت تمام صوبوں خصوصاً 9 مئی کے بعد پنجاب میں جبری گمشدگیوں کی داستانیں اس قدر طویل ہیں کہ اب تو لوگوں نے اپنے پیاروں کی تلاش میں گورنمنٹ اور ریاستی اداروں سے نا امیدی اور لاتعلقی کا اظہار شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ کم عمری کی شادیاں اور حالیہ مذہبی مقدمات کی لہر (سرگودھا، پاکپتن، لاہور، اوکاڑہ میں درج مقدمات) اور ملک میں بنیادی حقوق کی ڈیفیکٹو معطلی نے خوف کی فضا قائم کی ہوئی۔
ان حالات میں 15 ماہ کی حکومتی قانون سازی کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا جائے تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ، صحابہ، اہل بیت، امہات المومنین کی توہین پر عمر قید کی سزا کا بل، نیب ایکٹ میں ترامیم، عدالتی نظام سے لے کر الیکشن ایکٹ قوانین میں تبدیلی اور الیکشن اصلاحات سمیت نگران حکومت کے اختیارات میں قانون سازی حکومتی ترجیحات میں ذاتی اور عوامی ترجیحات کو عیاں کرتی ہے۔
8 اکتوبر 1950 کو جوگندر ناتھ منڈل وزیرقانون و لیبر نے وزیر اعظم پاکستان کے نام اپنی وزارت سے استعفی لکھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے اپ...