BOL Organization (Better Opportunity for Leadership)

BOL Organization (Better Opportunity for Leadership) BOL Organization is a Youth led Organization Registered under the Societies Registration Act, XXI of

BOL envision a peaceful, progressive, Just and developed Pakistan. Core Values:

Awareness
Action
Advocacy
Excellence
Integrity
Innovation
Equality
Involvement

06/02/2024

سیاسی جماعتوں کے منشور میں اقلیتوں سے وعدے
پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 25 کے مطابق 41 اور 91 کو دوبارہ دیکھتے ہوئے غیر مسلم کی صدر اور وزیر اعظم نہ بننے کی آئینی تفریق کو ٹھیک کرنے کی بات کی، پڑھ کر اور سن کر دل تو خوش ہوتا ہے مگر دماغ سوال کرتا ہے ٓ یہ وعدہ پورے کیسے ہو گا؟

پیپلز پارٹی نے مزید آرٹیکل 20، 22 اور 36 پر عمل درآمد، مسیحیوں کے شادی اور طلاق کے قوانین، ہندووں کے شادی کے قوانین پر عملدرآمد، ملازمت کوٹے پر عملدرآمد، سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے کے مطابق کمیشن قائم بنانے اور پنجاب اور کے پی میں ہندو میرج ایکٹ کے رولز بنانے کی بات کی ہے

پی ایم ایل نے مذہب کی جبراً تبدیلی کو روکنے کے لئے اقدامات، شہری سماجی اور مذہبی حقوق کا تحفظ، عبادت گاہوں اداروں اور اثاثوں کا تحفظ، بین الاقوامی پروٹوکول معاہدے کو یقینی بنانا، مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے اقدامات، اقلیتوں کے مضبوط کمیشن اور شمولیت، اشتراک، سہولت کو یقینی بنانا جیسے وعدے کیے ہیں۔

ایم کیو ایم نے قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کو آئین کا حصے بنانے، امتیازی قوانین میں ترامیم، نیشنل مینارٹی کمیشن کا قیام، شہریوں کی برابری، جبری شادیوں اور جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام، تکفیر کے غلط الزام پر الزام دہندہ کے خلاف ریاستی ایف آئی آر، مذہبی آزادی اور جاب کوٹے میں اضافہ جیسے وعدے کیے ہیں۔

جماعت اسلامی نے اقلیت کا لفظ ختم کر کے پاکستانی برادری کی اصطلاح متعارف کروانا کا منفرد وعدہ اور پی ٹی آئی پسے ہوئے طبقات کے ساتھ اقلیتوں کو اعلی تعلیم دلوانے کا منفرد وعدہ شامل ہے۔
https://thewhiteposts.com/urdu/yasar-talib-04/

سیاسی جماعتوں کے منشور میں اقلیتوں سے وعدے پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 25 کے مطابق 41 اور 91 کو دوبارہ دیکھتے ہوئے غیر مسلم کی...
06/02/2024

سیاسی جماعتوں کے منشور میں اقلیتوں سے وعدے
پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 25 کے مطابق 41 اور 91 کو دوبارہ دیکھتے ہوئے غیر مسلم کی صدر اور وزیر اعظم نہ بننے کی آئینی تفریق کو ٹھیک کرنے کی بات کی، پڑھ کر اور سن کر دل تو خوش ہوتا ہے مگر دماغ سوال کرتا ہے ٓ یہ وعدہ پورے کیسے ہو گا؟

پیپلز پارٹی نے مزید آرٹیکل 20، 22 اور 36 پر عمل درآمد، مسیحیوں کے شادی اور طلاق کے قوانین، ہندووں کے شادی کے قوانین پر عملدرآمد، ملازمت کوٹے پر عملدرآمد، سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے کے مطابق کمیشن قائم بنانے اور پنجاب اور کے پی میں ہندو میرج ایکٹ کے رولز بنانے کی بات کی ہے

پی ایم ایل نے مذہب کی جبراً تبدیلی کو روکنے کے لئے اقدامات، شہری سماجی اور مذہبی حقوق کا تحفظ، عبادت گاہوں اداروں اور اثاثوں کا تحفظ، بین الاقوامی پروٹوکول معاہدے کو یقینی بنانا، مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے اقدامات، اقلیتوں کے مضبوط کمیشن اور شمولیت، اشتراک، سہولت کو یقینی بنانا جیسے وعدے کیے ہیں۔

ایم کیو ایم نے قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر کو آئین کا حصے بنانے، امتیازی قوانین میں ترامیم، نیشنل مینارٹی کمیشن کا قیام، شہریوں کی برابری، جبری شادیوں اور جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام، تکفیر کے غلط الزام پر الزام دہندہ کے خلاف ریاستی ایف آئی آر، مذہبی آزادی اور جاب کوٹے میں اضافہ جیسے وعدے کیے ہیں۔

جماعت اسلامی نے اقلیت کا لفظ ختم کر کے پاکستانی برادری کی اصطلاح متعارف کروانا کا منفرد وعدہ اور پی ٹی آئی پسے ہوئے طبقات کے ساتھ اقلیتوں کو اعلی تعلیم دلوانے کا منفرد وعدہ شامل ہے۔
https://thewhiteposts.com/urdu/yasar-talib-04/

             جنرل الیکشن 2024 کی انتخابی تیاری کے مراحل سے گزرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور تحریری شکل میں عوام کو پیش کر دیے ہیں اور جماعتوں کے سربراہان اپ....

24/01/2024


اقلیتوں نے ”میں بھی پاکستان ہوں“ مہم کے تحت اقلیتی فورم پاکستان نے سندھ اور پنجاب کے 40 اضلاع کی مقامی قیادت اور ووٹرز س...
15/01/2024

اقلیتوں نے ”میں بھی پاکستان ہوں“ مہم کے تحت اقلیتی فورم پاکستان نے سندھ اور پنجاب کے 40 اضلاع کی مقامی قیادت اور ووٹرز سے باہمی مشاورت اور رائے عامہ کی روشنی میں، قومی بیانیہ میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کے حصول کے لئے مندرجہ ذیل قومی مسائل کو سیاسی جماعتوں کی الیکشن مہم میں نمایاں کرنے کے لئے منتخب کیا ہے۔

1۔ قائد اعظم کی 11 اگست 1947 ء کی تقریر کو آئین اور قومی صوبائی نصاب میں شامل کیا جائے۔
2۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 22 الف پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ اکثریتی مذہب کی تعلیم اقلیتی طلباء پر لازم نہ ہو۔

3۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس تصدق حسین جیلانی کی 19 جون 2014 ء کے فیصلے پر عمل درآمدی کمیٹی بنائی جائے جو اپنی عمل درآمدی رپورٹ ہر تین ماہ میں صوبائی و قومی اسمبلی میں پیش کرے۔

4۔ کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے۔
5۔ اقلیتوں کے بذریعہ قانون سازی با اختیار وفاقی و صوبائی کمیشن بنائے جائیں۔

07/01/2024
https://thewhiteposts.com/%d8%a7%d9%82%d9%84%db%8c%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d9%86%da%a9%...
26/12/2023

https://thewhiteposts.com/%d8%a7%d9%82%d9%84%db%8c%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-%d8%a7%db%8c%d8%ac%d9%86%da%88%d8%a7/

Page Views: 10 تحریر: یاسر طالب عام انتخابات میں مذہبی اقلیتوں نے الیکشن 2024 کے پیش نظر اپنے دیرینہ مسائل کے حل اور سیاسی جماعتوں کے گزشتہ تین منشوروں میں کیے گئے وعدوں پر تو....

My insights of Gujranwala in regard to discussion with victims and local administration.
25/08/2023

My insights of Gujranwala in regard to discussion with victims and local administration.

ماں آپ نے مجھے پاکستان سے پیار کرنا سکھایا, لیکن کیا پاکستان بھی ہم سے پیار کرتا ہے؟
18/08/2023

ماں آپ نے مجھے پاکستان سے پیار کرنا سکھایا, لیکن کیا پاکستان بھی ہم سے پیار کرتا ہے؟

“ماں آپ نے مجھے پاکستان سے پیار کرنا سکھایا لیکن کیا پاکستان بھی ہم سے پیار کرتا ہے؟ @...

8 اکتوبر 1950 کو جوگندر ناتھ منڈل وزیرقانون و لیبر نے وزیر اعظم پاکستان کے نام اپنی وزارت سے استعفی لکھا۔ پاکستان کے پہل...
11/08/2023

8 اکتوبر 1950 کو جوگندر ناتھ منڈل وزیرقانون و لیبر نے وزیر اعظم پاکستان کے نام اپنی وزارت سے استعفی لکھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے اپنے استعفی میں وزیر اعظم پاکستان کو پاکستانی شہریوں کو درپیش مسائل خصوصاً ہندؤ شیڈول کاسٹ بچیوں کے زبردستی اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کی نشاندہی کہ سرزمین پاک پر کیسے ”کثیر تعداد میں ہندؤ لڑکیوں کو اغوا کے بعد مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے او ر متعلقہ اتھارٹیز کو بیشتر درخواستوں کے بعد ان میں سے 4 لڑکیوں کو بازیاب کروایا گیا ہے۔ اس ضمن میں گمشدہ لڑکیوں اور ملزمان کی تفصیل بمعہ نام گورنمنٹ کو بھیجی گئی۔ مگر متعلقہ افسر سے جو آخری جواب موصول ہوا اس میں متعلقہ افسر نے لکھا کہ“ میرا کام ہندؤ لڑکیوں کو بازیاب کروانا ہے اور ”اچھوت“ ہندو نہیں ہیں۔ ”

6اگست 2023 کو مریم اورنگزیب صاحبہ سے دوران پریس بریفنگ محترمہ سے معروف صحافی اور وی لاگر عمران ریاض کی جبری گمشدگی کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے بھی حسب روایت عمران ریاض کو صحافی نہ ہونے کا جواز دے کر ان کی جبری گمشدگی کے سوال کو نظر انداز کر دیا اور یاد رہے کہ یہ جواب انہوں نے پہلے بھی کئی دفعہ دیا ہے۔
دونوں جوابات کا بغور جائزہ لیں تو سمجھ آتا ہے کہ ملک پاکستان میں انسان ہونا یا پاکستانی شہری ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی ڈیفیکٹو حیثیت کوئی نہیں ہے، اور شہریوں پر ریاستی قوانین کا اطلاق تو ہوتا ہے مگر ان کے حقوق کی فراہمی کا فیصلہ ریاستی ادارے اور مقتدرہ اپنے معیار ”ڈیفیکٹو محب وطن“ کی بنیاد پر کرے گی۔ جوگندر ناتھ منڈل صاحب استعفی عرض پاک کی بیوروکریسی نے ڈیفیکٹو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی مثال ہے۔ جس نے ناصرف پاکستان کے پہلے وزیر قانون اور تحریک آزادی پاکستان میں قائد اعظم کے عظیم ساتھی جوگندر ناتھ منڈل کو استعفی دینے بلکہ عرض پاک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

مزید غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ مقتدرہ (بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ایک پیج کے لوگ) میں یہ سوچ اور معیار قیام پاکستان سے تھا اور آج بھی ہے، کہ کیسے ”ڈیفیکٹو محب وطن“ کے نعرے سے انسانوں کی آزادی کو سلب کرنی ہے اور تکنیکی انداز سے، کیسے اصل مسئلے کو نظر انداز کرنا ہے کیونکہ مقتدرہ کو پاکستان میں شہریوں صرف ایک چیز ہضم نہیں ہوتی اور وہ ہے شہریوں حقوق آزادیوں کی مانگ اور اظہار۔
شہریوں کا اظہار رائے مقتدرہ کو کس قدر گراں گزرتا ہے اس کہ ایک مثال آج کل معروف فلم ساز سرمد کھوسٹ کی بڑی ہمت سے بنائی گئی فلم ”زندگی تماشا“ ہے۔ جو ریاستی اداروں ہمارے معاشرتی رویوں کی سچائی کو بیان کرتی ہے۔ جس میں انہوں نے تکفیر مذہب قوانین کے استعمال میں پنہاں ذاتی اور ریاستی فوائد کے حصول کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ مگر فیصلہ سازوں نے حسب معمول گزشتہ فلموں ”جوائے لینڈ، مالک اور بول“ پر کو معاشرتی اور مذہبی روایات کے برعکس ہونے پر پابندی لگائی۔ مقصد کافی حد تک واضح ہے کہ سچائی سے عدم واقفیت اور ذاتی مفادات پر مبنی نظریات کیا بنیاد پر عشروں سے مذہب کے نام پر لوگوں کا استحصال ہو رہا ہے۔ اور ڈر ہے کہ سچائی سے واقفیت کہیں لوگوں میں بوسیدہ نظام سے آزاد ہونے کی خواہش نہ پیدا کر دے۔
مگر موجودہ عشرے میں بے روز گاری، انسانی حقوق کی پامالیوں، لاقانونیت، طاقت کے بگڑتے ہوئے توازن، اقلیتی شہریوں کی تحفظ کو مسلسل نظرانداز اور ذاتی مفادات پر مبنی قانون سازی کی بنیاد پر حالات اس قدر بدلیں ہیں کہ ناصرف مذہبی اقلیتوں میں احساس محرومی بڑھا ہے بلکہ اکثریت میں سے تقریباً 1 ملین نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لیے یا مایوس ہو کر یا خوف میں یا مجبوری میں پاکستان چھوڑ گئے ہیں۔
ادارہ برائے سماجی انصاف نے اپنے سالانہ رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ سال 21۔ 2022 میں بالترتیب 78 اور 124 ٹوٹل 202 اغوا اور کم عمری کی شادی کے زیر دفعات مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں مذہبی اعتبار سے 120 ہندووں، 80 مسیحی اور 2 سکھ لڑکیاں اور عورتیں شامل ہیں۔ جس میں 55 بچیاں کی عمر 14 سال سے، 78 کی 14 سے 18 کے درمیان، 20 کی 18 سال سے زیادہ اور 49 کی عمر کی تصدیق نہ ہو سکی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے دیکھیں تو سندھ میں 122، پنجاب میں 76، کے پی 2 اور بلوچستان میں 2 کیس ہیں جو کسی نہ کسی ادارے میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تکفیر مذہب کے قوانین کے زیر دفعات میں 2020۔ 2022 تک 463 مقدمات درج ہوئے ہیں۔ جن میں سے 288 مسلم، 139 احمدی، 22 مسیحی، ہندو 11 اور تین کی تصدیق نہ ہو سکی ہے۔
جبری گمشدگیوں کے مسئلے میں صوبہ بلوچستان سمیت تمام صوبوں خصوصاً 9 مئی کے بعد پنجاب میں جبری گمشدگیوں کی داستانیں اس قدر طویل ہیں کہ اب تو لوگوں نے اپنے پیاروں کی تلاش میں گورنمنٹ اور ریاستی اداروں سے نا امیدی اور لاتعلقی کا اظہار شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ کم عمری کی شادیاں اور حالیہ مذہبی مقدمات کی لہر (سرگودھا، پاکپتن، لاہور، اوکاڑہ میں درج مقدمات) اور ملک میں بنیادی حقوق کی ڈیفیکٹو معطلی نے خوف کی فضا قائم کی ہوئی۔
ان حالات میں 15 ماہ کی حکومتی قانون سازی کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا جائے تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ، صحابہ، اہل بیت، امہات المومنین کی توہین پر عمر قید کی سزا کا بل، نیب ایکٹ میں ترامیم، عدالتی نظام سے لے کر الیکشن ایکٹ قوانین میں تبدیلی اور الیکشن اصلاحات سمیت نگران حکومت کے اختیارات میں قانون سازی حکومتی ترجیحات میں ذاتی اور عوامی ترجیحات کو عیاں کرتی ہے۔

             8 اکتوبر 1950 کو جوگندر ناتھ منڈل وزیرقانون و لیبر نے وزیر اعظم پاکستان کے نام اپنی وزارت سے استعفی لکھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل نے اپ...

 time with permanant news.
02/08/2023

time with permanant news.

Address

House # P910, Stret # 2, Hajwery Town
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BOL Organization (Better Opportunity for Leadership) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to BOL Organization (Better Opportunity for Leadership):

Share