31/05/2026
ایکسپوزنگ: شہرت کا بھوکے بھیڑیے!
یہ بات میں بعد میں بتاؤں گا کہ یہ ڈاکٹر کیا کر رہا تھا، اس کے پیچھے وجہ کیا تھی، اور ہم روزانہ ایسے مریضوں کو چیک کرنے کے لیے یہ عمل کیوں کرتے ہیں۔
لیکن اس سے پہلے میرا ایک سوال عقل مند پاکستانیوں سے ہے۔
یہ جو ویڈیو ہے، اس میں ابھی تک ڈاکٹر نے مریض کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا کہ اُس شخص نے پہلے ہی ویڈیو ریکارڈنگ شروع کر دی۔ گویا اُسے پہلے سے معلوم تھا کہ ڈاکٹر صاحب اب کوئی نامناسب حرکت کرنے والے ہیں، اس لیے اُس نے پہلے ہی کیمرہ آن کر لیا۔
دوسری بات، وہ خاتون جو بظاہر ایسی حالت میں وہاں آئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کو اس کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) چیک کرنا پڑا۔ جیسے ہی ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے لیے اُسے ہاتھ لگایا، اُس نے فوراً ڈاکٹر کا ہاتھ جھٹک دیا اور ایسے ردِعمل کا مظاہرہ کیا جیسے کوئی نامناسب حرکت کی جا رہی ہو، تاکہ ایک خاص تاثر پیدا کیا جا سکے۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ ڈاکٹر صاحب دراصل کیا کر رہے تھے۔
یہ GCS (Glasgow Coma Scale) کہلاتا ہے۔ جب بھی کوئی مریض بے ہوشی یا شعور کی کم سطح کے ساتھ ہمارے پاس آتا ہے تو ہم اُس کے دماغی افعال کا جائزہ لینے کے لیے یہ اسیسمنٹ کرتے ہیں۔ ویڈیو میں ڈاکٹر جو اسٹرنم (سینے کی ہڈی) پر دباؤ دے رہے تھے، وہ دراصل painful stimulus دے رہے تھے، جو GCS معائنے کا ایک معمول کا حصہ ہے۔
حتیٰ کہ اگر کوئی مکمل طور پر ہوش میں ہو اور جان بوجھ کر بے ہوشی کی اداکاری کر رہا ہو، تو وہ بھی عموماً اس محرک پر کسی نہ کسی قسم کا ردِعمل ضرور دیتا ہے۔
یہ ایک روزمرہ کا طبی معائنہ ہے اور اس میں کوئی غیر معمولی یا نامناسب بات نہیں۔
حکومت نے تو ڈاکٹروں پر موبائل فون استعمال کرنے کی پابندی لگا دی، لیکن ہر دوسرا شخص کیمرہ اٹھا کر ہسپتال میں داخل ہو جاتا ہے، اُس کا کیا؟ اُن پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟
کیا جان بوجھ کر لوگوں کو ایسی حرکتوں کی اجازت دی جا رہی ہے؟ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ شہرت کے بھوکے بہت سے لوگ اب اپنی توجہ ہسپتالوں کی طرف کر چکے ہیں، کیونکہ یہاں سے سنسنی خیز مواد بنا کر فوری شہرت حاصل کی جا سکتی ہے!
Copied
#