26/08/2026
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
سوچیں، آپ دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں۔ نیویارک، پیرس، ٹورنٹو اور لندن میں آپ کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی ہر قیمتی ترین آسائش آپ کو حاصل ہے۔ آپ کی زندگی میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ دنیا کی ہر نعمت آپ کے پاس ہے، مگر آپ کے پاس رب کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت، جو تمام جہانوں کے لیے باعثِ رحمت ہیں، نہ ہوں تو آپ کی حیثیت کیا ہوگی؟
نبی آخر الزمان، صلی اللہ علیہ وسلم، کی امت کے لیے آپ کا چنا جانا رب تعالیٰ کی آپ پر سب سے بڑی عنایت ہے۔ وہ نبیِ ہادی، صلی اللہ علیہ وسلم، جن کی امت میں شامل ہونا پہلے نبیوں کی خواہش تھی، آپ کو بغیر کسی درخواست کے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی، صلی اللہ علیہ وسلم، کی امت کے لیے چن لیا۔ مجھے بتائیں، اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے؟ مگر ہم لوگوں نے اس نعمت کو Taken for granted لیا ہوا ہے، یعنی اس کی قدر نہیں کرتے اور اسے ایک معمول کی چیز سمجھ بیٹھے ہیں۔
ہمیں اس نعمت کی ذرا برابر بھی قدر نہیں ہے۔ سوچیں، کیا آپ کو قدر ہے؟ اپنے دل سے پوچھیں، پھر جواب دیں۔
ہمارے اعمال اس کا بہترین جواب ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم وجۂ وجودِ کائنات ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اول اور سب سے آخر بھی ہیں۔ سیدنا اوّل، صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا آخر، صلی اللہ علیہ وسلم۔
مولوی غلام رسول عالمپوری، رحمت اللہ علیہ، نے اس کو ایسے بیان کیا ہے:
جدوں اوہ محبوب موجود آہا
تدوں کدوں آدم مسجود ہویا
اوہ ہے جان جہان دی جان جانی
اول ہو آخر مقصود ہویا
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا، جس کا مفہوم ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو۔
اللہ تعالیٰ اور فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند فرما رہا ہے۔ میلاد کیا ہوتا ہے؟ درود و سلام پڑھنا، سیرت کا تذکرہ کرنا، سنتوں پر عمل کرنا، یہ سب محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کے طریقے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے یومِ ولادت، پیر والے دن، روزہ رکھا کرتے تھے۔
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔
بات صرف غور کرنے اور فکر کرنے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں کسی ایک جگہ جمع ہو کر اللہ کی اس عظیم الشان نعمت کا شکر ادا کرنا، اس پر فخر کرنا، سیرت بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ، درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی کا اظہار ہی تو ہے۔
اس پر تنقید کرنے والے یہ سوچیں کہ آپ اعتراض کیوں کر رہے ہیں؟ اور کس چیز پر کر رہے ہیں؟
کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے لیے، معاذ اللہ، یہ لوگ کیوں جمع ہوئے ہیں؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں چراغاں کیوں کیا گیا ہے؟
یہ تنقید ہر لحاظ سے غلط اور گمراہ کن ہے۔ کوئی دلیل نہ پیش کیا کریں۔
دوسری طرف جو لوگ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم منا رہے ہوتے ہیں، وہ منبر پر بیٹھ کر ان لوگوں پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں جو میلاد نہیں مناتے۔ آپ ذکرِ حبیبِ خداوندِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کریں، مگر ان کے امتیوں پر تنقید ہرگز نہ کریں۔
میرے شیخ، حضرت ابو انیس، "انت حبیبی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" میں فرماتے ہیں:
"میں نے تیری مخلوق اور تیرے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے خلاف ہر ہتھیار پھینک دیا اور قطعی پھینک دیا۔ آج سے میں نے کسی کے خلاف کبھی کچھ نہیں کہنا اور کبھی کچھ نہیں کرنا۔"
یا حی یا قیوم!
یہ وفا اور محبت کی ایک حد ہے۔ آپ سوچیں کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر تنقید کر کے کیا ان صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ آپ ان صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کریں گے۔
میرے شیخ، حضرت ابو انیس، مزید "انت حبیبی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" میں فرماتے ہیں:
"خبردار! تیرے باطن کی کوئی حرکت تیرے مولا صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی فرمان کے کبھی خلاف نہ ہو! باطن کی جو حرکت ظاہر کے خلاف، طریقت کے منافی اور نامقبول ہے۔"
یا حی یا قیوم!
مزید آگے جا کر فرماتے ہیں:
**"سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا مقام سب سے اونچا مقام ہے اور ہر مقام، اس ایک ہی مقام کا مقام ہے۔ سنت کی اتباع تجھے حاصل نہیں، تو پھر کیا ہوگا!
سنت کی پوری اتباع کسی کو بھی حاصل نہیں۔ دنیا درجات کے پیچھے مارے مارے پھرتی ہے۔ جس مقام کی بدولت تمام درجات حاصل ہوتے ہیں، اسے کوئی حاصل نہیں کرتا اور وہ کسی کو بھی حاصل نہیں!
نفس تجھے دھوکہ دیتا ہے، تیری توجہ کو سنت کے مقام سے اٹھا کر ادھر اُدھر کرتا ہے۔ خبردار، اے جانِ من! اپنی توجہ کو ہر طرف سے موڑ کر سنت کی اتباع پر جما!
بہترین عمل سنت کی اتباع ہے، جسے تو عام سمجھتا ہے، خاص ہے۔ اگر تو اپنی ساری طاقت سنت کی اتباع پر لگاتا تو کبھی نہ تھکتا اور نہ ہی کسی مقام کی کوئی بھی طلب تیرے دل میں رہتی!"**
یا حی یا قیوم!
پھر ایک اور جگہ مقالاتِ حکمت، مقالہ نمبر 184 میں فرماتے ہیں:
"یہ عشق جو آج ہر زبان پر جاری ہے، محض زبانی ہے، ورنہ اگر کوئی واقعۃً حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر عاشق ہوتا تو کبھی کوئی قدم کسی سنت کے خلاف ہرگز نہ اٹھاتا اور ہر سنت کو اپناتا۔"
کائنات کی تخلیق کا اولین دستور محبت ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے ہمیں اپنی محبت کے لیے پیدا فرمایا۔ عبادت کا نچوڑ و مفہوم محبتِ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
درحقیقت اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم، روحی فدا، جانم فدا، صلی اللہ علیہ وسلم، کی محبت میں کائنات تخلیق کی۔ تمام خلائق کو اپنے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے لیے تخلیق کیا۔
اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند فرمایا۔ ہمیں بھی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر دعوت و تبلیغ کے ذریعے، ذکرِ الٰہی کے ذریعے، مخلوق کی بے لوث خدمت کے ذریعے، سنت کی پیروی کے ذریعے، دینِ اسلام کو اپنے گھر، گاؤں، شہر اور ملک میں نافذ کرنے کی کوشش کے ذریعے، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف ڈٹ جانے کے ذریعے، اور درود و سلام کے ذریعے بلند کریں۔
۔۔۔جاری ہے۔۔۔
وقاص احمد نون ہوشیارپوری