Inquilab ka qadam

Inquilab ka qadam I am a man of ALLAH. I am a follower of MUHAMMAH [S.A.W].

ڈاکٹر اسرار احمد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ‎بہت مضطرب رہتے تھے ، انہوں نے صدر مشرف کو اس ‎حوالے سے دردناک انجام سے خبر...
13/05/2026

ڈاکٹر اسرار احمد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے
‎بہت مضطرب رہتے تھے ، انہوں نے صدر مشرف کو اس
‎حوالے سے دردناک انجام سے خبردار کیا تھا
‎کاش وہ حیات ہوتے تو آج ، عافیہ کی رہائی میں
‎تاخیر کا سبب بننے والے حکمرانوں کو بھی
‎ضرور ببانگ دہل ان کے دردناک انجام سے باخبر کرتے
‎
‎وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں دل کے عارضہ
‎میں مبتلا رہ کر 2010 میں انتقال کر گئے تھے
‎14 اپریل 2026 کو ان کی سولہویں برسی گزری ہے
‎اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے
‎
‎اس پوسٹ کا سبب یہ ہے کہ گزشتہ دنوں ان کی برسی پر اس بات کا تذکرہ ہوا کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے 2003 میں واقعہ اغواء کے 2008 میں منظر عام پر آنے کے بعد اس وقت کے صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کو انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ انسانیت سوز مظالم کی جو تفصیلات آرہی ہیں، اس کے ذمہ دار مشرف ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے یہ بھی کہا تھا ان کی اچھل کود کا انجام بہت درد ناک ہوگا۔ انہوں نے انجام کی تنبیہہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
‎
‎ڈاکٹر فوزیہ صدیقی بھی ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک بیان میں شریک رہی ہیں۔ دیگر شرکاء بھی گواہی دیں گے کہ انہوں نے کس طرح دور پر آشوب میں ڈاکٹر عافیہ پر انسانیت سوز مظالم کے خلاف حق اور سچ کی آواز بلند کی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے۔
‎
‎ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ملک و بیرون ملک کے تمام اہم و نمائندہ افراد اور جماعتوں نے بار بار آواز بلند کی ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے فالورز آج بھی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی جدوجہد میں شریک ہیں۔ آج اگر ڈاکٹر اسرار احمد حیات ہوتے تو یقیناً آج کے حکمرانوں کو قرآن و حدیث اور اقبال کی شاعری کی روشنی میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی میں تاخیر کے انجام سے بار بار خبردار کرتے اور طاقتور حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیتے۔
‎
‎ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنی تقاریر و بیانات اور درسوں میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف زبردست موقف اپنا کر جدوجہد کی ترغیب دی۔ علماء کرام کو مصلحت کا راستہ ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن افسوس کہ وہ دبنگ آواز خاموش ہو گئی۔
‎
‎ڈاکٹر اسرار احمد پر ذیل کا مضمون پڑھیں
‎وہ شمع جو بجھ گئی !!!
‎ڈاکٹر اسرار احمد کی زندگی اور خدمات
‎برصغیر کی اسلامی فکر کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو صرف نام نہیں رہتے، بلکہ ایک تحریک، ایک فکر اور ایک زندہ روایت بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ انہی نادر شخصیات میں سے ایک تھے جن کی آواز آج بھی لاکھوں دلوں میں گونجتی ہے۔
‎
‎ابتدائی زندگی اور تعلیم
‎26 اپریل 1932ء کو ہریانہ، برطانوی ہند میں پیدا ہونے والے اسرار احمد نے قیامِ پاکستان کے بعد لاہور کو اپنا وطن بنایا۔ 1954ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور طب کی مشق شروع کی، مگر ان کا دل ہمیشہ قرآن اور اسلام کی خدمت میں لگا رہا۔ 1965ء میں جامعہ کراچی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہ دو علوم - طب اور دین - ان کی شخصیت کی دو بنیادیں تھیں: ایک جسم کا علاج، دوسرا روح کا۔
‎
‎وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ رہے۔ ڈاکٹر صاحب ابتداً جماعتِ اسلامی سے وابستہ رہے، مگر 1956ء میں انہوں نے یہ سوچ کر کہ انتخابی سیاست میں الجھنے کے بجائے اصل ہدف، یعنی دین کا احیاء محض ووٹ اور سیاست سے نہیں، بلکہ قرآنی تعلیم کے عام فروغ اور روحانی انقلاب سے ہو گا، علیحدگی اختیار کر لی۔ یہی وہ فکری موڑ تھا جس نے انہیں ایک منفرد راستے پر ڈال دیا۔
‎
‎تنظیمِ اسلامی اور خلافت کا خواب
‎1975ء میں انہوں نے تنظیمِ اسلامی قائم کی جس کا بنیادی ہدف پاکستان میں نظامِ خلافت کا قیام تھا۔ یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل فکری، تربیتی اور تنظیمی پروگرام تھا۔ انہوں نے انجمنِ خدام القرآن بھی قائم کی اور تحریکِ خلافت کے ذریعے امتِ مسلمہ کو متحد کرنے کی کوشش کی۔
‎
‎قرآنِ کریم سے عشق - چالیس سال کا درس
‎ڈاکٹر اسرار احمد کی سب سے بڑی خدمت درسِ قرآن تھی۔ انہوں نے لاہور میں چالیس سے زائد سال تک مسلسل قرآن کریم کا درس دیا۔ ان کے سینکڑوں آڈیو و ویڈیو لیکچر آج بھی یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر کروڑوں لوگ سنتے ہیں۔ انہوں نے قرآن کو عام آدمی کی زبان میں سمجھانے کا جو کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
‎
‎ان کا یہ قول مشہور ہے: "قرآن کو سمجھ کر پڑھو، یہ اللہ کا خط ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔"
‎
‎علمی و قلمی خدمات
‎ڈاکٹر صاحب نے اسلام، قرآن، سیرتِ نبوی اور پاکستانی سیاست پر سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ ان میں سے 29 کتابوں کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں "منہجِ انقلابِ نبوی"، "اسلام اور پاکستان" اور "بیانِ القرآن" شامل ہیں۔
‎
‎یومِ وفات
‎14 اپریل 2010ء کی شب، اپنی 78ویں سالگرہ سے صرف بارہ روز قبل، یہ عظیم داعی و مفکر اپنے رب سے جا ملے۔ وہ عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انہیں گارڈن ٹاؤن، لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔ پسماندگان میں بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔
‎
‎آج بھی زندہ ہے وہ آواز
‎آج ان کی وفات کو سولہ برس بیت گئے، مگر ان کی آواز یوٹیوب پر، ان کی کتابیں کتب خانوں میں، اور ان کا پیغام نئی نسل کے دلوں میں اتنا ہی تازہ ہے۔ یہی ایک داعی کی اصل زندگی ہے - وہ مرتا نہیں، بس منتقل ہو جاتا ہے۔
‎اللہ تعالیٰ ڈاکٹر اسرار احمد کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کی خدمات کو صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
‎تفصیلات بشکریہ: ابنِ چغتائی
‎
‎
‎
‎
‎

She remains alone, waiting in silence, holding on to hope for justice that still hasn’t come. How long can someone endur...
13/05/2026

She remains alone, waiting in silence, holding on to hope for justice that still hasn’t come. How long can someone endure this kind of isolation? It raises a hard question for all of us, who will step forward and finally bring her long wait to an end?














عافیہ بہن... آپ کا درد پوری امت کا درد ہے۔ آپ کا ہر آنسو اللہ گواہ ہے۔ ہم آپ کو نہیں بھولے اور نہ ہی بھول سکتے ہیں۔‎یا ا...
13/05/2026

عافیہ بہن... آپ کا درد پوری امت کا درد ہے۔ آپ کا ہر آنسو اللہ گواہ ہے۔ ہم آپ کو نہیں بھولے اور نہ ہی بھول سکتے ہیں۔
‎یا اللہ! عافیہ صدیقی کو جلد آزادی عطا فرما، اس کے بچوں کو ماں کی گود میں واپس لا اور ان سب پر اپنا عذاب نازل فرما جو اس کے ساتھ یہ ظلم کر رہے ہیں۔ 🤲
‎ #فریعافیہصدیقی
‎ #عافیہصدیقی
‎
‎

عافیہ  صدیقی اب بھی انصاف کی منتظر ہے۔ مت بھولنا. خاموش نہ رہو۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی صرف ایک نام نہیں بلکہ صبر، ہمت اور مظلو...
13/05/2026

عافیہ صدیقی اب بھی انصاف کی منتظر ہے۔ مت بھولنا. خاموش نہ رہو۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی صرف ایک نام نہیں بلکہ صبر، ہمت اور مظلومیت کی ایک زندہ داستان ہیں۔ برسوں سے وہ قید کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہیں، مگر ان کی باوقار خاموشی آج بھی لاکھوں دلوں کو جھنجھوڑتی ہے۔ انصاف، انسانی ہمدردی اور عزتِ نفس کا تقاضا ہے کہ ان کی رہائی کے لیے آواز بلند کی جائے۔
اللّٰه تعالیٰ ہر بے گناہ قیدی کو آزادی نصیب فرمائے اور ڈاکٹر عافیہ کو بھی جلد اپنے پیاروں کے درمیان لوٹائے۔ آمین۔

22برس کا ستم ،قید اور بے بسی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عافیہ کی داستان ایسی اذیت ہے جسے یاد سے مٹانا ممکن نہیں۔ شاید آنے والی صدیاں بھ...
13/05/2026

22برس کا ستم ،قید اور بے بسی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عافیہ کی داستان ایسی اذیت ہے جسے یاد سے مٹانا ممکن نہیں۔ شاید آنے والی صدیاں بھی اس درد کی شدت کم نہ کرسکیں۔ …

امریکہ کی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اس حالت میں پیش کیا گیاکہ ان کے پاؤں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں
13/05/2026

امریکہ کی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اس حالت میں پیش کیا گیاکہ ان کے پاؤں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں

22برس کا ستم ،قید اور بے بسی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عافیہ کی داستان ایسی اذیت ہے جسے یاد سے مٹانا ممکن نہیں۔ شاید آنے والی صدیاں بھ...
13/05/2026

22برس کا ستم ،قید اور بے بسی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عافیہ کی داستان ایسی اذیت ہے جسے یاد سے مٹانا ممکن نہیں۔ شاید آنے والی صدیاں بھی اس درد کی شدت کم نہ کرسکیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے خط کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتے ہیں
13/05/2026

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے خط کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتے ہیں

Address

Faislabad Gulistan Colony
Faisalabad
38860

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inquilab ka qadam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share