Noor e Hidayat TV

Noor e Hidayat TV لَا إِلٰهَ إِلَّا ٱلله مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱلله��

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جس کی زندگی میں ساٹھ سال آئے اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر کا عذر ختم کر دیا”حوالہ: صحیح بخاری ، حدیث ...
08/05/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس کی زندگی میں ساٹھ سال آئے اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر کا عذر ختم کر دیا”

حوالہ: صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 6419

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے انسان کی عمر اور اس کی ذمہ داری کو بیان فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت پوری ہو جاتی ہے، یعنی اب اس کے پاس غفلت اور کوتاہی کا کوئی عذر باقی نہیں رہتا، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں آخرت کی تیاری کرنی چاہیے اور خاص طور پر بڑھاپے میں نیکیوں کی طرف زیادہ متوجہ ہونا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص طویل عمر پاتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، توبہ کرے اور نیکیوں میں اضافہ کرے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ زندگی ایک امتحان ہے اور ہر عمر کا اپنا حساب ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“دو قسم کے لوگوں پر رشک کرنا جائز ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہِ حق م...
08/05/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دو قسم کے لوگوں پر رشک کرنا جائز ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہِ حق میں اسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے حکمت عطا کی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اسے (دوسروں کو) سکھاتا ہے۔”

صحیح بخاری: 1409

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے دو ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن پر نیک معنی میں رشک کرنا جائز ہے، یعنی ایسی خواہش کرنا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی نعمت عطا فرمائے، پہلا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس مال کو اللہ کی رضا، خیرات، صدقہ اور دین کے کاموں میں خرچ کرتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق انصاف کے ساتھ فیصلے کرتا ہے اور دوسروں کو بھی دین و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے، اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ اصل کامیابی مال یا علم حاصل کرنے میں نہیں بلکہ انہیں اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنے میں ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنی دولت سے غریبوں کی مدد کرے، مسجد یا دینی کاموں میں حصہ لے یا کوئی عالم اپنے علم کے ذریعے لوگوں کی اصلاح اور رہنمائی کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت عظیم عمل ہے، یہ حدیث ہمیں نیک اعمال، سخاوت، علمِ دین حاصل کرنے اور دوسروں تک بھلائی پہنچانے کی ترغیب دیتی ہے تاکہ ہم بھی اللہ کی پسندیدہ نعمتوں والے بندوں میں شامل ہو سکیں۔

📖 حدیث مبارکہ  ہم کو عبدان نے حدیث بیان کی، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، ان کو یونس نے، انہوں نے زہری سے یہ حدیث سن...
06/05/2026

📖 حدیث مبارکہ

ہم کو عبدان نے حدیث بیان کی، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، ان کو یونس نے، انہوں نے زہری سے یہ حدیث سنی۔ (دوسری سند یہ ہے کہ) ہم سے بشر بن محمد نے یہ حدیث بیان کی۔ ان سے عبداللہ بن مبارک نے، ان سے یونس اور معمر دونوں نے، ان دونوں نے زہری سے روایت کی پہلی سند کے مطابق زہری سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ:

رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان المبارک میں جب جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے ملاقات کرتے تو آپ ﷺ کی سخاوت اور بھی بڑھ جاتی۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ ﷺ سے ملتے اور قرآن مجید کا دور کرتے۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔

📚 صحیح بخاری: 6

🌙 مختصر تفسیر:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک نیکی، سخاوت، قرآن اور بھلائی کا مہینہ ہے۔ نبی کریم ﷺ اس مہینے میں زیادہ صدقہ و خیرات فرماتے اور لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ ہمیں بھی رمضان میں دل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور قرآن سے تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔









#صدقہ

صحیح بخاری: 5حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ جلدی جلدی الفاظ دہراتے ت...
06/05/2026

صحیح بخاری: 5

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ جلدی جلدی الفاظ دہراتے تاکہ قرآن یاد ہو جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

«لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ»

یعنی: “اے نبی ﷺ! قرآن جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلائیں، اسے جمع کرنا اور آپ کو پڑھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔”

تفسیر:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قرآنِ مجید کی کتنی فکر اور محبت تھی۔ آپ ﷺ چاہتے تھے کہ وحی کا ایک لفظ بھی نہ بھولیں، اسی لیے جلدی جلدی دہراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ قرآن کو آپ کے دل میں محفوظ کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔

اس حدیث میں قرآن کی حفاظت کا وعدہ بھی ہے اور یہ سبق بھی کہ قرآن کو توجہ اور ادب سے سننا چاہیے۔ جیسے جبرائیل علیہ السلام پڑھتے، ویسے ہی نبی کریم ﷺ بعد میں پڑھ لیا کرتے تھے۔




















� مختصر تفسیریہ حدیث نبی کریم ﷺ پر وحی کے دوبارہ آغاز کا واقعہ بیان کرتی ہے۔جب حضرت جبرائیلؑ دوبارہ ظاہر ہوئے تو یہ منظر...
06/05/2026

� مختصر تفسیر

یہ حدیث نبی کریم ﷺ پر وحی کے دوبارہ آغاز کا واقعہ بیان کرتی ہے۔
جب حضرت جبرائیلؑ دوبارہ ظاہر ہوئے تو یہ منظر بہت عظیم تھا، جسے دیکھ کر آپ ﷺ گھبرا گئے۔ یہ خوف اللہ کی عظمت اور وحی کی ہیبت کی وجہ سے تھا۔

اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسلی دی اور حکم فرمایا کہ اب لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں، انہیں برائی اور عذابِ الٰہی سے ڈرائیں، اپنے رب کی بڑائی بیان کریں اور ظاہری و باطنی پاکیزگی اختیار کریں۔

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کا کام ہمت، صبر اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ کرنا چاہیے۔
جب اللہ کسی بندے کو کسی بڑے کام کے لیے منتخب کرتا ہے تو اس کی رہنمائی اور مدد بھی فرماتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ پر وحی کا ابتدائی دورنبی کریم ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے اور واضح خوابوں سے ہوئی، جو صبح کی روشنی کی طرح بالکل در...
05/05/2026

رسول اللہ ﷺ پر وحی کا ابتدائی دور

نبی کریم ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے اور واضح خوابوں سے ہوئی، جو صبح کی روشنی کی طرح بالکل درست ثابت ہوتے تھے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو تنہائی پسند ہو گئی اور آپ ﷺ غارِ حرا میں جا کر اللہ کی عبادت، ذکر اور غور و فکر میں مشغول رہتے تھے۔ پھر ایک دن جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا: “پڑھو!” آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اس پر فرشتے نے آپ ﷺ کو زور سے تھاما اور پھر فرمایا: “اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”۔ یہ پہلی وحی تھی جو نازل ہوئی۔ اس واقعے کے بعد آپ ﷺ گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے، تو انہوں نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور حوصلہ بڑھایا۔ بعد میں ورقہ بن نوفل نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آتا تھا۔

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 3

تشریح:
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ وحی کا آغاز نہایت حکمت اور تدریج کے ساتھ ہوا۔ نبی ﷺ کو پہلے خوابوں کے ذریعے تیار کیا گیا، پھر غارِ حرا میں عبادت کے ذریعے دل کو مضبوط کیا گیا، اور آخرکار پہلی وحی نازل ہوئی۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بڑے کام کے لیے آہستہ آہستہ تیار کرتا ہے، اور مشکل حالات میں صبر اور اللہ پر یقین سب سے بڑی طاقت ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“کبھی مجھ پر وحی گھنٹی جیسی آواز کے ساتھ نازل ہوتی ہے،اور یہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے،پھر جب ی...
05/05/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کبھی مجھ پر وحی گھنٹی جیسی آواز کے ساتھ نازل ہوتی ہے،
اور یہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے،
پھر جب یہ ختم ہوتی ہے تو میں
جو کچھ نازل ہوا ہوتا ہے اسے یاد کر لیتا ہوں۔

اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں آتا ہے
اور مجھ سے کلام کرتا ہے،
تو میں اسے بھی یاد کر لیتا ہوں۔”

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2

تشریح:
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہونے کے مختلف انداز بیان کیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا نزول ایک عظیم اور بوجھل عمل تھا، جسے آپ ﷺ انتہائی صبر اور مضبوطی کے ساتھ برداشت فرماتے تھے۔

حضرت عائشہؓ کے بیان سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سخت سردی میں بھی وحی کے بعد آپ ﷺ کی پیشانی پسینے سے تر ہو جاتی تھی، جو اس عمل کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قرآن اور وحی کتنی عظیم نعمت ہے، اور ہمیں اس کی قدر کرتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔

رسول ﷺ نے فرمایاتمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے،اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔جس کی ہجرت دنیا یا کسی عو...
05/05/2026

رسول ﷺ نے فرمایا

تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے،
اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔
جس کی ہجرت دنیا یا کسی عورت کے لیے ہو،
اسے وہی حاصل ہوگا جس کی اس نے نیت کی۔

مختصر تفسر:-

نیت انسان کے ہر عمل کی بنیاد ہے۔

ظاہری طور پر ایک ہی کام دو لوگ کریں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر ان کی نیت کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر عبادت، محنت، خدمت یا ہجرت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ عظیم اجر کا سبب بنتی ہے، لیکن اگر وہی کام دنیاوی فائدے، شہرت یا کسی ذاتی غرض کے لیے ہو تو اس کا ثواب ختم ہو جاتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک عمل کی خوبصورتی اس کے ظاہر میں نہیں بلکہ دل کے اخلاص میں ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نماز پڑھتا ہے تاکہ لوگ اسے نیک سمجھیں اور دوسرا صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے نماز پڑھتا ہے، تو دونوں کا عمل ایک جیسا نظر آنے کے باوجود اللہ کے ہاں برابر نہیں۔

اس لیے مومن کو ہر کام سے پہلے اپنے دل کو دیکھنا چاہیے کہ وہ یہ عمل کس کے لیے کر رہا ہے۔ جب نیت خالص ہو جاتی ہے تو چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑا بن جاتا ہے۔

30/04/2026

Address

Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor e Hidayat TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share