Free-living Evangelism Ministries Of Pakistan

Free-living Evangelism Ministries Of Pakistan Free Evangelism Team "The Soldier Of Jesus" The goal of our team is to serve the humanity in the light of the way the Jesus learnt us.

We hold meetings, crusades, conventions, and seminar and get together events to celebrate and to deliver the right thing to the people. You can call us or contact us to arrange any event described above. Our team is consist of males & females assembled with the ability for Security and Catering the event and very enthusiastic to serve in the name of Jesus.

26/05/2021
09/04/2021
25/07/2020

میں جب توریت شریف کو پڑھتاہوں تو اُس میں صاف حضرت اضحاق کا نام آتاہے جب خداوند تعالیٰ حضرت ابراہیم کو اپنے پیارے بیٹے کوقربان کرنے کے لئے فرماتے ہیں۔ جہاں تک قرآن پر میں غور کرتا ہوں مجھ کو معلوم ہوتا ہے قرآن میں حضرت ابراہیم کو بیٹے کی قربانی کا جو تذکرہ سورہ صافات رکوع 3 میں ملتا ہےاُس میں حضرت اسماعیل کا نام تک نہیں۔ اور ہم مسلمان پچھلے 1400 برس سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ حضرت اسماعیل کی قربانی کی گئی۔ کہیں ایسا تو نہیں ہم نے غلط نتیجہ اخذ کیا ہو اور حقیقت کچھ اور ہو۔

کیا ہم قربانی کا گوشت کھا سکتے ہیں ؟

۔

اس سوال کا جواب پڑھنے سے پہلے مجھے اور آپ کو یہ جاننا انتہائی ضروری ہے ہے کہ اسلام جو ہے وہ مسیحیت سے تقریبا چھ سو سال بعد میں آیا اور یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے ہے کہ بائبل مقدس میں براہ راست مسلمانوں کی قربانی کے بارے میں کوئی آیت موجود نہیں ہے تو بھی مختلف غیر آقوام کی قربانیوں میں شریک ہونے کے بارے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔

کچھ بھائیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورا سال ہمیں یاد نہیں ہوتا اور اس موقع پر ہم بکرا عید کے گوشت کھانے یا نہ۔کھانے کی بات کرتے ہیں تو ان سے میرا سوال یہ ہے کہ جناب محترم آپ کا کیا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت سے متعلق سوال ہمیں مسلمانوں کی۔میٹھی عید پر یا پھر کرسمس پر کرنا چاہیے ؟ کیا یہ بہتر وقت نہیں ہے کہ جب بکراعید ہو اسی سے متعلق سوال کیا جائے اور اسی سے متعلق قوم کو مسیحیوں کو اور کلیسیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

کچھ بھائیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے سوال جو ہیں وہ نفرت کو پیدا کرتے ہیں تو ان بھائیوں کو وضاحت کے طور پر میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا مقصد ہرگز بھی نفرت کو فروخ دے دینا نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد صرف اور صرف اس سوال و جواب کے سیشن سے یہ ہے کہ مسیحی قوم، کلیسیا اور نوجوانوں کو بائبل کی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ اور مجھے ایسے لوگوں سے ڈر لگتا ہے کہی عالمی بھائی چارہ کی بنیاد پر مسیحیوں کو غیر۔آقوام میں شادیاں بھی جائز نہ قرار دے دیں۔



یہ ہے کہ جب مسلمانوں سے پوچھا جائے کہ یہ قربانی آپ کیوں کرتے ہیں تو ان کا جواب یہ ہے کہ یہ ہم سنت ابراہیمی ادا کرتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں تاریخ کو دیکھنا ہوگا کہ کیا بزرگ ابراہیم کی نسل جو کہ اہل یہود ہیں جو کہ اسرائیلی ہیں کیا وہ بھی اس قسم کی کوئی سنت یا اس قسم کی کوئی قربانی گزرانتے ہیں یا کہ نہیں نہیں ؟ کیونکہ سب سے پہلے یہ قربانی تو بزرگ ابراہام کی۔نسل پر ہی واجب ہوتی ہے۔ شریعت میں پانچ طرح کی قربانیوں کا ذکر ہے لیکن سنت ابراہیمی کے نام سے کوئی بھی قربانی آج تک نہ تو گزرانی گئی اور نہ ہی کوئی ایسی قربانی کا۔ذکر ملتا ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ یہ سنت ابراہیمی نہیں بلکہ مسلمانوں کی کوئی خود ساختہ قربانی ہے جسے سنت ابراہیمی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

جب ہم مسلمانوں سے یہ پوچھتے ہیں تو وہ اس قربانی کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ بزرگ ابراہیم نبی جو ہے وہ اسماعیل کو لے کر گئے قربان گاہ پر جب کہ ہم کلام مقدس کو پڑھتے ہیں تو وہاں پر واضح طور پر بیان ملتا ہے
پیدائش 22 کی 2 ایت
تب خداوند۔نے بزرگ ابراہام سے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے، جسے تو پیار کرتا ہے، ساتھ لیکر موریا کہ ملک۔میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک جو میں تجھے بتاونگا سوختی قربانی کے طور پر۔قربان کر۔

لیکن مسلم نظریے کے مطابق وہ اسماعیل کی قربانی مان کر گزار رہے ہیں اور اگر ہم اس قربانی میں شریک ہوتے ہیں تو پھر ہم بائبل کے اس نکتہ کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں جہاں پر بزرگ اضحاق کا نام ہے کیونکہ قرآن مجید کے مطابق یا اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ اسماعیل کی قربانی تھی۔

مندرجہ بالا حوالہ کہ مطابق یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس قربانی کا۔حکم بزرگ ابراہام کو دیا گیا وہ سوختی قربانی تھی جسے انگلش۔میں BURN SACRIFICEکہا۔جاتا ہے جسے آگ پر جلایا گیا نہ کہ کھایا گیا۔

جب ہم مسلمانوں کو قربانی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ قربانی کے جانور کے اوپر اپنا ہاتھ رکھتے ہیں جو کہ اس چیز کی نمائیندگی کرتا ہے کہ وہ اپنے سارے گناہ جو ہیں وہ اس جانور کے اوپر ٹرانسفر کر رہے ہیں اور ان کے عقیدے کے مطابق ان کے گناہ اس کے اوپر ٹرانسفر ہو چکے ہیں اور اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس جانور کے اوپر گناہ ڈالے جا چکے ہیں تو کیا ہم اس قربانی کا گوشت کھانے کے باعث ان کے گناہوں میں شریک نہیں ہو رہے کیونکہ اس جانور کو جس کا ہم گوشت کھا رہے ہیں اس پر قربانی گزرانے والے شخص کے گناہ لا دے گئے ہیں۔

چلیں دیکھیں مسلم عقائد کے مطابق یہ گوشت کن لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا۔

فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ

ترجمہ: پس اس سے کھاو ٔاور کو بھی کھلاؤ سورۃالحج ۲۸

اس حوالہ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ اسلام میں دی جانے والی ’’قربانی‘‘ میں حصہ ایسے غریب اور مُستحق افراد کا ہے جو گوشت خریدنے کی حثیثت نہیں رکھتے ہیں یا پھر ایسے مشرکین ہیں جو اسلامی تعلیمات کو قبول کرچکے ہیں ، جیسے کہ بطور ذبیحہ جناب اسمائیل بن ابرہام کو پیش کیا گیا۔ اب اگر تو اہلِ کلیسیا میں کوئی ایسا فرد یا گھرانہ موجود ہے جو ایک وقت کا گوشت خرید کر اپنے گھرانے کو نہیں کھلاسکتا ہے (مجموی طور پر ۵۰۰ روپے کا گوشت) تو وہ اہلِ اسلام کے مطابق قربانی کے گوشت کا مُستحق ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ شخص اگر اسلامی تعلیمات کو قبول کرتا ہے تو بھی ایسا شخص قربانی کے گوشت کا استعمال کرسکتا ہے ۔

یہ ہے کہ ہم مسیحی ہوتے ہوئے بائبل مقدس پرانے عہد نامہ میں لکھی ہوئی پانچ قربانیوں کو بھی اس نقطہ نظر سے نہیں مانتے اور نہ ہی ان قربانیوں کو۔گزرانتے ہیں اور نہ ان میں شریک ہوتے ہیں کیونکہ تمام مسیحی ایمانداروں کے لئے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے مسیحی عقیدے کے مطابق ایک بے عیب برہ یعنی خداوند یسوع مسیح قربان ہو چکا ہے اور ایک عالمگیر قربانی۔گزرانی جا۔چکی ہے، جس کے باعث ہمیں مزید کسی اور قربانی کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ہم آج بھی غیر اقوام کی قربانیوں میں شریک ہوتے ہیں تو ہم خداوند یسوع مسیح کی اس صلیبی قربانی عالمگیر قربانی کی نفی کرتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں۔

جیسا کہ آپ۔جانتے ہیں کہ مسلمان قربانی پر۔اونٹ بھی قربان کرتے ہیں اور اگر اپ جانتے ہیں تو مسلم لوگ خرگوش بھی کھاتے ہیں، جو کہ احبار 11 باب کے مطابق ناپاک اور حرام جانور بتائے گئے ہیں۔


ان تمام مندرجہ بالا۔نکات کے۔مطابق یہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کو نہیں کھانا چائیے، اور کلام خدا میں بھی لکھا ہے رومیوں 14 کی 23 ایت میں۔

کیونکہ جو کوئی کسی۔چیزمیں شبہ رکھتا ہے اگر اس کو کھائے تو مجرم ٹھہرتا ہے، اس واسطے کہ وہ اعتقاد سے نہیں کھاتا اور جو کچھ اعتقاد سے نہیں وہ گناہ ہے۔

، تا کہ ہم اس سلسلے کواور بہتر طور پر۔آگے بڑھا سکیں اور مسیحی قوم اور کلیسیا کہ تعمیری اور اصلاحی طور پر راہنمائی کر سکیں۔

پَس بُتوں کی قُربانِیوں کے گوشت کھانے کی نِسبت ہم جانتے ہیں کہ بُت دُنیا میں کوئی چِیز نہِیں اور سِوا ایک کے اَور کوئی خُدا نہِیں۔
So then, about eating food sacrificed to idols: We know that “An idol is nothing at all in the world” and that “There is no God but one.”
اگرچہ آسمان اور زمِین میں بہُت سے خُدا کہلاتے ہیں (چُنانچہ بہُتیرے خُدا اور بہُتیرے خُداوند ہیں)۔
For even if there are so-called gods, whether in heaven or on earth (as indeed there are many “gods” and many “lords”),
لیکِن ہمارے نزدِیک تو ایک ہی خُدا ہے یعنی باپ جِس کی طرف سے سب چِیزیں ہیں اور ہم اُسی کے لِئے ہیں اور ایک ہی خُداوند ہے یعنی یِسُوع مسِیح جِس کے وسِیلہ سے سب چِیزیں مَوجُود ہُوئیں اور ہم بھی اُسی کے وسِیلہ سے ہیں۔
yet for us there is but one God, the Father, from whom all things came and for whom we live; and there is but one Lord, Jesus Christ, through whom all things came and through whom we live.(1Corinthians 84,6)
خداوند میں خوش رہیں، پھر کہتا ہو خوش رہیں۔
آمین ثم امین

Evangelist Arif Raza Gill
FEMP Great Commission
Copy Paste.....

 It was really Wonderful Blessed Time at Kamoki Gujranwala. Thank you Jesus for using us "FEMP" in every Corner of Pakis...
10/07/2018



It was really Wonderful Blessed Time at Kamoki Gujranwala. Thank you Jesus for using us "FEMP" in every Corner of Pakistan and used us in all the world through Media Ministry.

 FEMP MASIHI KHANDAN TEAM AT   CITY FOR  . WE APPRECIATED TO YOUR STRONG PRAYERS AND LOVE FOR US. MAY GOD BLESSED YOU AL...
28/06/2018



FEMP MASIHI KHANDAN TEAM AT CITY FOR . WE APPRECIATED TO YOUR STRONG PRAYERS AND LOVE FOR US. MAY GOD BLESSED YOU ALL.

All Churches are called to verbally share the Gospel, to reach out beyond their congregation, and to serve those in need. The method may vary, but the message in unchanging:
Jesus Christ died for sinners, He rose again, and He lives today and forever.

Regards,
EVNG. Arif Raza Gill
FEMP MASIHI KHANDAN.ORG
FEMP MINISTRIES

18/05/2018

MISSIONARY | PASTOR
FEMP MISSION OUTREACH PAKISTAN

Address

Rao Khan Wala Teh & District Kasur
District Kasur
55050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Free-living Evangelism Ministries Of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Free-living Evangelism Ministries Of Pakistan:

Share