تحفظ ختم نبوت حلقہ ثمرباغ

تحفظ ختم نبوت حلقہ ثمرباغ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from تحفظ ختم نبوت حلقہ ثمرباغ, Religious organisation, Dir.

14/10/2025
16/09/2025

تاجدار ختم نبوت . زندہ اباد

29/08/2024

*وہ نوجوان جس سے چینگیز خان بھی ڈرتا تھا۔۔۔۔۔!* 🏇🏿

*◼: چنگیز خان کو زندگی میں دو بڑی جنگوں اور سات چھوٹی جھڑپوں میں شکست ہوئی ، ہر بار مدِ مقابل ایک ہی تھا : سلطان جلال الدین خوارزم شاہ۔ چنگیز خان نے صرف ایک ہی دشمن کو بہادری پر خراج تحسین پیش کیا تھا وہ جلال الدین تھا۔ نور الدین کورلاخ نے درست کہا تھا سلطان جلال الدین مسلم دنیا کا فدیہ تھا۔ یہ نہ ہوتا تو چنگیز خان کے ہاتھوں مسلم دنیا کی تباہی کی داستان زیادہ طویل اور دلفگار ہوتی۔ اُس کا باپ چنگیز سے مقابلے کے لیے اس کا مشورہ مان لیتا تو شاید دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ اُس کے اپنے ہی بھائی سازشیں کر کے تخت پر قابض نہ ہوتے تو شاید پھر بھی تاریخ کی کروٹ کچھ اور ہوتی۔ کیسا انسان تھا ، تخت بھائیوں کے پاس چھوڑ کر جنگل کو نکل گیا کہ سلطنت کسی اور آمائش میں نہ پڑ جائے۔*

*شکست کی راکھ سے اس نے عزیمت کا پرچم اٹھایا ۔ کبھی ہزار کبھی پانچ ہزار ، جتنے جنگجو ملتے وہ ان کے ساتھ چنگیز خان کے لیے چیلنج بنا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب اس کے پاس ایک لشکر جرار تھا۔ اس نے چنگیز خان کو لکھا : تم میرے لیے جنگل جنگل خاک چھان رہے ہو، میں اس وقت یہاں بیٹھا ہوں ۔ تم آؤ گے یا میں آؤں‘‘۔*

*میجر ریوٹی نے لکھا ہے چنگیز خان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا اسے کسی نے یوں چیلنج کیا ہو اور چنگیز خان چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ اسے معلوم تھا اگر جلال الدین یوں للکار رہا ہے تو شیر کے منہ میں سر دینا حکمت نہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ میرے الفاظ نہیں ، چنگیز خان کے اس تذبذب کی یہ کہانی امیر عطّا نے صدیوں پہلی لکھ دی تھی ۔ وہ لکھتے ہیں شیرِ خوارزم کے اس چیلنج نے چنگیز کو پاگل کر دیا تھا۔ وہ صبح سے شام لشکر کی تیاریوں پر صرف کرنے لگ گیا۔ لیکن پھر بھی اسے تسلی نہیں ہو رہی تھی کہ کیا وہ جلال الدین کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے یا ابھی کچھ کمی رہ گئی ہے۔ اسے معلوم تھا للکارنے والا کون ہے۔ یہاں تک کہ پھر ایک گھوڑے پر سلطان کے لشکر کے سالاروں میں جھگڑا ہو گیا اور پُھوٹ پڑ گئی۔ افغان سالار ناراض ہو کر لشکر لے کر چلا گیا۔ امیر عطا لکھتے ہیں جلال الدین کو خبر ہوئی تو بھاگ کر خیمے سے باہر آیا ، ان کی منتیں کیں ، رویا کہ ایسا نہ کرو ، مسلمانوں کے مستقبل کا خیال کرو لیکن قدرت کو شاید یہی منظور تھا۔لشکر آدھا رہ گیا۔ چنگیز خان تو گویا اسی موقع کے انتظار میں تھا۔ باقی تاریخ ہے۔*

*آخری بڑی لڑائی دریائے سندھ کے کنارے ہوئی جب سازشوں اور داخلی جھگڑوں سے نڈھال سلطان جلال الدین تیس ہزار پناہ گزینوں ، تین ہزار گھڑ سواروں اور پانچ سو کے قریب محافظوں کے ساتھ ہندوستان جا رہا تھا کہ چنگیز خان دو لاکھ کے لشکر کے ساتھ آن پہنچا۔ تین ہزار گھڑ سواروں کا مقابلہ پچاس ہزار گھڑ سواروں سے تھا۔ گلوبل کرونالوجی آف کانفلیکٹ کے مصنف نے لکھا کہ جلال الدین یوں لڑا کہ چنگیز خان حیران رہ گیا۔ اس نے چنگیز کے لشکر کو ادھیڑا اور اس کے مرکز تک جا پہنچا۔ پھر ستر ہزار کی مزید کمک چنگیز کو آن پہنچی۔ زخموں سے نڈھال سلطان گھیرے میں آگیا تو چنگیز نے حکم دیا اسے زندہ گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ سلطان کے سامنے چنگیز تھا اور پیچھے دریائے سندھ ۔ اُس نے گرفتاری دینے کی بجائے پہاڑ سے گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ یہ نسیم حجازی کی نہیں میجر ریوٹی کی روایت ہے کہ چنگیز خان کو اس کے تعاقب میں گھوڑا دریا میں ڈالنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ وہ حیران کھڑا زخمی سلطان کو دیکھتا رہا ، اسے یقین نہیں آ رہا تھا کوئی یوں بھی کر سکتا ہے۔ پھر اس نے اپنی فوج کے سالاروں کو بلا کر کہا : اس شخص کو دیکھو، اس کی ماں کو اس پر فخر ہونا چاہیے ، کیسا بہادر پیدا کیا۔ لیکن یہی وہ وقت تھا جب سلطان کی ماں وہی پاس دریائے سندھ میں ڈوب رہی تھی۔*

*یہ واقعہ ازبک ، فارسی اور ترک لوک داستانوں کا حصہ ہے اور اس کی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔ یہ مقام پاکستان میں ہے اور ’’ گھوڑا ترپ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں اور یقین نہیں کرتے کہ کوئی یہاں پہاڑ سے سیدھا نیچے دریا میں گھوڑا کیسے ڈال سکتا ہے۔*
یہ وہ مسلمان ہے جو اللہ پہ ایمان رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔

*[صدقہ جاریہ کے لیے یہ تحریر شئیر ضرور کریں]*

17/07/2024

*رزق کون دیتا ہے؟* ✍️

ملازم بڑا ہی تابع دار تھا- مالک نے خوش ہو کے اُس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی-
تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا-
مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا. اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی-
ملازم کی تابعدادی اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی-
مالک نے اُسے بلوا بھیجا اور کہا٬" بڑے عجیب انسان ہو٬ میں نے تمہاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی٬ پھر کم کردی- تم جوں کے توں رہے- یہ سب کیا ؟"
ملازم بولا٬" اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ہزار بڑھا دی- میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اُسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے٬ سو اس کا شکریہ ادا کیا ہے- پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کردی اُسی دن میری والدہ وفات پاگئیں٬ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں- سو تب بھی الله تعالٰی کا شکر ادا کرکے مطمئن رہا-"
پھر بولا٬" صاحب٬ یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں- ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیے جاتے ہیں-

*[صدقہ جاریہ کے لیے یہ تحریر شئیر ضرور کریں]*

Address

Dir

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تحفظ ختم نبوت حلقہ ثمرباغ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share