01/10/2026
نقیب احمد
ولدِ نظیر محمد صاحب
محلہ کلشو، دیر
پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
(تحریر : شاہ خالد خان ہمدانی)
بعض زندگیاں شور سے نہیں، سلیقے سے پہچانی جاتی ہیں۔ نقیب احمد کی کہانی بھی اسی سلیقے کی کہانی ہے: دیر کے محلہ کلشو کی مٹی سے اٹھی، سکول کی صبحوں میں سنوری، اور پھر ان جگہوں تک پہنچی جہاں انسان کی سانس مشینوں کے بھروسے پر ہوتی ہے، اور عام آدمی کا حق قانون کی نگرانی کا محتاج رہتا ہے۔ یہ سفر نمائش کا سفر نہیں، فرض کا سفر ہے—اور فرض جب سچے دل سے نبھایا جائے تو کامیابی خود پیچھے چل کر آتی ہے۔
پہلی فروری انیس سو اٹھاسی کو نظیر محمد صاحب کے گھر جو بیٹا آیا، اسے اس دن کوئی بڑا خطاب نہ ملا؛ ملا تو ایک گاؤں، ایک گلی، اور وہ سادہ ماحول جو انسان کو پہلے انسان بناتا ہے، بعد میں صاحبِ عہدہ۔ دو ہزار پانچ میں جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر سے میٹرک پاس کیا، تو صرف کاغذات سیاہ نہیں کیے گئے تھے، عادتیں بھی بنیں تھیں۔ وہاں سبق کے ساتھ وقت کی پابندی سیکھی گئی، استاد کی نظر سے حیا پیدا ہوئی، اور ساتھیوں کی دوستی نے یہ بات سمجھا دی کہ زندگی اکیلے نہیں گزاری جاتی۔ سکول کی گھنٹی اب بھی ان یادوں میں گونجتی ہے جہاں محنت کو شور کی ضرورت نہیں ہوتی۔
پھر راستہ ٹیکنالوجی کی طرف مڑا۔ دو ہزار آٹھ میں گورنمنٹ پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ تیمرگرہ سے ڈی اے ای مکمل ہوا—یہ وہ مرحلہ تھا جہاں تصور ہاتھ کی مہارت سے جا ملا۔ دو ہزار بارہ میں سرحد یونیورسٹی پشاور سے بی ٹیک کی سند نے اس مہارت کو وسعت دی۔ ڈگریاں کاغذ پر لکھی جاتی ہیں، مگر اصل تعلیم یہ ہے کہ آدمی جان لے آلات کس لیے ہوتے ہیں: زیبائش کے لیے نہیں، انسان کی آسانی کے لیے۔
دو ہزار چودہ سے دو ہزار پچیس تک ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر بالا میں بائیو میڈیکل انجینئر کی حیثیت سے نقیب احمد گیارہ برس اس دنیا میں رہے جو اکثر نظر نہیں آتی، مگر سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ ہسپتال کا چہرہ ڈاکٹر اور نرس سے پہچانا جاتا ہے، لیکن کمرے کے پیچھے جو مشین مریض کی نبض پڑھتی ہے، جو آلہ تشخیص کو ممکن بناتا ہے، اسے چلانے، سنبھالنے اور درست رکھنے والا بھی اسی زنجیر کا کڑا ہوتا ہے۔ یہ کام تعریف کا طالب نہیں؛ یہ اعتماد کا کام ہے۔ گیارہ سال انہوں نے یہ اعتماد نبھایا۔
آج یہی دل اور یہی دیانت نئے میدان میں کام کر رہے ہیں: سوات میں کنزیومر انسپکٹر کی حیثیت سے۔ جہاں پہلے مشین کا معیار دیکھا جاتا تھا، وہاں اب بازار کا معیار، صارف کا حق اور احتساب کی ذمہ داری دیکھی جا رہی ہے۔ خدمت کا روپ بدل سکتا ہے؛ نیت اگر صاف ہو تو سمت نہیں بدلتی۔
کھیل نے ان کی شخصیت کو نرمی نہیں، توازن دیا۔ بیڈمنٹن صرف شٹل کی اڑان نہیں؛ نظر کی تیزی، قدم کی چوکسی اور فیصلے کی بے باکی بھی ہیں۔ جو میدان میں ہار جیت کو وقار سے قبول کرنا سیکھ لے، دفتر میں بھی گھبراہٹ اسے کم توڑتی ہے۔ اسی کے ساتھ سماجی کام ان کی شناخت کا حصہ رہا ہے۔ عہدہ انسان کو لوگوں سے دور بھی کر سکتا ہے؛ نقیب احمد نے اسے قریب رہنے کا ذریعہ بنایا۔
خوبصورت بات یہ ہے کہ منزل نے آغاز کو حقیر نہیں سمجھا۔ وہ اب بھی اس سکول کے قرض دار ہیں جس نے پہلا حرف سکھایا، ان استادوں کے احسان مند ہیں جنہوں نے صرف سبق نہیں، اندازِ زیست بھی دیا، اور ان ساتھیوں کو نہیں بھولے جن کے ساتھ دیر کی دھول میں ہنسی سانجھی ہوئی تھی۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر نے بنیاد رکھی؛ باقی عمارت انہوں نے علم، صحت کی خدمت، عوامی احتساب، کھیل اور سماجی کام سے اٹھائی۔
یہ کہانی بتاتی ہے کہ محلہ کلشو کا بیٹا بھی ہسپتال کی خاموش ڈیوٹی سے گزر کر عوام کے حقوق کی نگہبانی تک پہنچ سکتا ہے، بشرطیکہ محنت کو نمائش سے زیادہ عزیز رکھا جائے۔ سکول کی بنچ صرف امتحان کی میز نہیں ہوتی؛ وہ کردار کی پہلی نشست ہوتی ہے۔ آج نقیب احمد اسی نشست کی تصدیق ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، نیت کی صفائی اور کام کی برکت عطا فرمائے؛ ان کے والدین کا سایہ قائم رکھے؛ دوستیوں میں وفا باقی رکھے؛ اور علم و عمل کو دیر، سوات، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لیے نفع بخش بنائے۔
آمین
تحریر: شاہ خالد خان
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر