SpreadIslam

SpreadIslam This Page Is only For Islamic Information and Research.

31/08/2026

ڈاکٹر ہدایت الرحمن (عرف ترہ )
پراؤڈ ایلومنس – ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر

(*تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی*)

دیر اپر کی بلند و بالا پہاڑیوں میں جہاں بادلوں کے سائے پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتے ہیں، جہاں سبز وادیوں کی خاموشی فطرت کا راز کھولتی ہے اور ندیوں کی موسیقی روح کو تازگی بخشتی ہے، وہاں ریحان کوٹ پائیں سے ایک ایسا نام ابھرا جو آج صحت کے مقدس پیشے میں خدمت کا چراغ جلا رہا ہے۔ ہدایت الرحمن—وہ بیٹا جو ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر کی دیواریں دیکھ کر بڑا ہوا، استادوں کی دعاؤں اور محبت بھری نگاہوں سے سیراب ہوا، اور آج خود دیر کی مٹی کے بیٹوں اور بیٹیوں کی صحت کا نگہبان بن چکا ہے۔ ان کا سفر اس حقیقت کی زندہ اور منفرد دلیل ہے کہ اگر نیت صاف ہو، محنت سچی ہو اور جڑیں اپنی مٹی سے گہری ہوں تو گاؤں کی خاک بھی شفا کے منادر تک پہنچا دیتی ہے، اور ایک عام بیٹا قوم کی خدمت کا امین بن جاتا ہے۔

جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر سے میٹرک پاس کیا تو شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہی سکول کی پرانی بنچیں، وہی استادوں کی نصیحتیں اور وہی ساتھیوں کی دوستی ایک دن انہیں طب کے میدان میں آگے بڑھنے کا روشن راستہ دکھا دیں گی۔ دو ہزار پانچ میں سی ایم ٹی پی آئی ایم ایس اسلام آباد سے ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے علم کی پیاس کو مزید بجھانے کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے انسٹی ٹیوٹ آف پیرا میڈیکل سائنسز (آئی پی ایم ایس) سے ڈینٹل ٹیکنالوجی میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرنگال دیر اپر سے فارمیسی بی کی تعلیم مکمل کر کے فارمیسی کونسل پشاور سے رجسٹریشن حاصل کی۔ علم کی ان منزلوں نے ان کے اندر درد کی تسکین، صحت کی حفاظت، انسانیت کی خدمت اور کمیونٹی کی بہبود کا جذبہ بیدار کر دیا۔ جنگلات اور پہاڑوں کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے صحت کے شعبے کو اپنا مشن بنا لیا۔

پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز حکومت کے تحت بی ایچ یو دوبندو درہ دیر اپر کے انچارج کے طور پر ہوا۔ وہاں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے ثابت کیا کہ خدمت صرف بڑے ہسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ گاؤں گاؤں اور درہ درہ تک پہنچنی چاہیے۔ آج وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر اپر میں ڈینٹل یونٹ کے انچارج کے طور پر ڈینٹل ٹیکنالوجسٹ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ درد کو دور کرنا، مسکراہٹیں لوٹانا، دانتوں کی صحت کا خیال رکھنا اور مریضوں کو سکون دینا—یہ ان کی روزمرہ کی عبادت بن چکا ہے۔ گاؤں کی مٹی سے اٹھ کر ضلعی ہسپتال کے ایوانوں تک پہنچنے والا یہ سفر واقعی منفرد، قابلِ رشک اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

کامیابی کی ان بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود ہدایت الرحمن آج بھی اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ سکول کے دنوں، استادوں کی تربیت، ساتھیوں کی دوستی، گاؤں کی سادگی، ریحان کوٹ پائیں کی ہوا اور دیر کی مٹی کو فخر سے یاد کرتے ہیں۔ خدمتِ خلق، دیانت داری، نظم و ضبط، مسلسل ترقی کا جذبہ اور اپنی مٹی سے وابستگی ان کی شخصیت کے سب سے نمایاں پہلو ہیں۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر نے جو بنیاد رکھی تھی، اسی پر انہوں نے صحت کی عمارت کھڑی کی۔ ان کا سفر یہ بتاتا ہے کہ اگر تربیت خالص ہو، ارادہ سچا ہو اور علم کو خدمت کا ذریعہ بنایا جائے تو گاؤں کا ایک عام بیٹا بھی قوم کی صحت کا امین بن سکتا ہے اور دیر جیسے پہاڑی علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ ہدایت الرحمن نے ثابت کر دیا کہ ایک سادہ گھرانے سے نکلا ہوا بیٹا بھی علم کی روشنی سے لے کر صحت کی خدمت تک قوم کے لیے روشن مثال بن سکتا ہے۔ ان کا سفر سکول کی بنچوں سے لے کر ڈینٹل ٹیکنالوجی اور فارمیسی کی تعلیم، بنیادی صحت کے مراکز اور پھر ضلعی ہسپتال کے ایوانوں تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک منفرد مشعل ہے۔ جو لوگ ابھی تک ان کی خوبیوں، ان کے جذبے اور ان کی خدمت سے واقف نہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دیر کی وادیوں سے اٹھا یہ بیٹا آج ہزاروں مسکراہٹوں کا محافظ بن چکا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہدایت الرحمن صاحب کو مزید ترقی، صحت، عزت، کامیابیوں اور خدمت کے مواقع سے نوازے، اور ان کے علم و خدمت کو دیر، خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین

تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر

31/08/2026

District council public school alumni association.
Quote of the day
Courtesy Tariq Babar

30/08/2026

مشتاق احمد خان
ولدِ شاہ ولی خان صاحب
پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر

(تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی)

بعض نام زمین سے اٹھتے ہیں اور عمارت بن جاتے ہیں۔ بعض چہرے سکول کی دھول میں چمکتے ہیں اور کل قوم کی پہچان بن جاتے ہیں۔ مشتاق احمد خان انہی ناموں میں سے ہیں جن کی کہانی دیر کی مٹی سے شروع ہوئی، بنچوں کی کھڑکھڑاہٹ سے پروان چڑھی، اور آج تعمیر کے افق پر ایک روشن دستخط بن کر کھڑی ہے۔ ان کا سفر صرف کامیابی کا سفر نہیں، جڑوں سے وفا کا سفر بھی ہے—وہ وفا جو سکول کی گھنٹی، استاد کی نظر، ساتھیوں کی ہنسی اور میدانِ کھیل کی دھول کو کبھی بھولنے نہیں دیتی۔

سن انیس سو چوراسی میں جب یہ بیٹا شاہ ولی خان صاحب کے گھر آیا تو شاید کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ بچہ ایک دن نہ صرف قانون اور نظم کی زبان سیکھے گا بلکہ اینٹ اینٹ جوڑ کر خیبر پختونخوا کی تعمیر میں اپنا نام کندہ کر دے گا۔ انیس سو ننانوے میں جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر سے میٹرک پاس کیا، تو وہاں صرف کتابیں نہیں پڑھیں تھیں—وہاں دوستی پڑھی تھی، حوصلہ پڑھا تھا، اور وہ سادہ سی خوشی پڑھی تھی جو صرف سکول کے دنوں میں ملتی ہے۔ صبح کی اسمبلی، کلاس کی خاموش محنت، بریک کے لمحات، کرکٹ کی دوڑ اور بیڈمنٹن کی چمکتی شٹل—یہ سب ان کی یادوں کا وہ خزانہ ہے جسے دولت نے بھی دھندلا نہیں کیا۔

سکول کے بعد دو ہزار دو میں ڈگری کالج سے ایف ایس سی مکمل کی۔ دو ہزار چار میں اسلامک سینٹر سے بی ایس آنرز کا سفر طے کیا۔ پھر پشاور یونیورسٹی سے دو ہزار چھ میں ایم پی اے کیا اور دو ہزار آٹھ میں اسلامی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ علم کی یہ سیڑھیاں انہیں صرف ڈگریاں نہیں دے رہی تھیں، سوچ کی وسعت، معاشرے کی سمجھ اور خدمت کا شعور دے رہی تھیں۔ قانون نے انہیں انصاف کی زبان سکھائی، انتظامیہ نے نظم کی اہمیت بتائی، اور ابتدائی تربیت نے دل کو انسانوں سے جوڑے رکھا۔

پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز این سی ایچ ڈی میں سوشل آرگنائزر کے طور پر ہوا۔ دو برس وہ میدان میں رہے جہاں فائلیں نہیں، چہرے ہوتے ہیں؛ جہاں رپورٹ نہیں، زندگی کے مسائل ہوتے ہیں۔ پھر یو این ڈی پی میں پروگرام مینیجر کے طور پر دو سال خدمات انجام دیں۔ یہ وہ دور تھا جب انہوں نے ترقی کو دفتر کی دیواروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ کمیونٹی تک پہنچایا۔ آج وہی جذبہ تعمیر کے روپ میں نظر آتا ہے۔ نیو خان بلڈرز کے نام سے قائم ہونے والا ادارہ خیبر پختونخوا کی صفِ اول کی کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے، صوبے کی بہترین کمپنیوں میں جگہ رکھتا ہے، اور احمد خان بلڈرز کے نام سے ایک اور ادارہ بھی انہی کا حصہ ہے۔ تعمیر ان کے لیے صرف سیمنٹ اور لوہے کا کام نہیں، اعتبار کا کام ہے—اور اسی اعتبار پر انہیں تعمیراتی میدان میں متعدد اعزازات ملے۔

تاہم مشتاق احمد خان کی کہانی صرف کمپنیوں کی کہانی نہیں۔ وہ کرکٹ کے بہترین کھلاڑی رہے، بیڈمنٹن کے میدان میں ضلعی سطح پر دو بار فاتح ٹھہرے۔—محنت، برداشت، ٹیم کی روح اور ہار جیت کو وقار سے قبول کرنے کی عادت۔ آج بھی سفر کرنا اور دوستوں کی محفل ان کے محبوب مشاغل ہیں۔ شاید اسی لیے کامیابی نے انہیں اکیلے پن کی دیوار میں نہیں ڈھکیلا؛ وہ آج بھی اجتماع کو قیمت سمجھتے ہیں، اور کمیونٹی میں سماجی کارکن کی حیثیت سے لوگوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔

سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ عروج نے ان کی یادوں کو مغرور نہیں کیا۔ وہ اب بھی اس سکول کو سلام کرتے ہیں جس نے انہیں حرف سکھائے، استادوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے صرف سبق نہیں، کردار بھی پڑھایا، اور ان ساتھیوں کو نہیں بھولتے جن کے ساتھ دیر کی مٹی پر دوستی کے نقش ثبت ہوئے تھے۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر نے جو بنیاد رکھی تھی، اسی بنیاد پر انہوں نے علم، خدمت، کھیل اور تعمیر کی عمارت کھڑی کی۔ ان کا سفر بتاتا ہے کہ اگر ہمت سچی ہو اور جڑیں صاف ہوں تو ایک عام گھر کا بیٹا بھی قانون کی سند، ترقی کے منصوبوں، کھیل کے میدان اور تعمیر کی بلندیوں تک ایک ساتھ پہنچ سکتا ہے۔

ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ مشتاق احمد خان نے ثابت کر دیا کہ سکول کی بنچ صرف امتحان کے لیے نہیں ہوتی، وہ زندگی کی پہلی اینٹ ہوتی ہے۔ آج جب وہ صوبے کی معروف تعمیراتی کمپنیوں کے مالک ہیں، کھیلوں کے اعزازات اپنے نام رکھتے ہیں، اور معاشرتی خدمت میں بھی حصہ لیتے ہیں، تو ان کی کہانی آنے والی نسلوں کے لیے صرف تعارف نہیں، ایک روشن مشعل ہے۔

اللہ تعالیٰ مشتاق احمد خان کو صحت، عزت، مزید ترقی اور قبولِ عام سے نوازے، ان کے کاروبار میں برکت دے، ان کی دوستیوں کو قائم رکھے، اور ان کے علم و عمل کو دیر، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین

تحریر: شاہ خالد خان
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
Mushtaqا

27/08/2026

District council public school alumni association.
Courtesy Tariq Babar

27/08/2026

شہزادہ احتشام الملک
پراؤد ایلومنس – ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر

(*تحریر : شاہ خالد خان ہمدانی* )

دیر کی سرسبز وادیوں میں جہاں پہاڑوں کی چوٹیاں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور قدیم ریاستی روایات کی خوشبو ہواؤں میں گھلتی ہے، وہاں سے ایک ایسا نام اٹھا جو آج صوبے کے تعلیمی نظام کی شفافیت اور وقار کا محافظ بن چکا ہے۔ شہزادہ احتشام الملک—وہ بیٹا جو ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر کی سادہ سی بنچوں پر بیٹھا، استادوں کی نگاہوں میں پروان چڑھا، سکول کے کھیل کے میدانوں میں دوڑا، اور آج خود خیبر پختونخوا بورڈ آف ٹیکنیکل اینڈ کامرس ایجوکیشن کے ایوانوں میں قوم کی خدمت کر رہا ہے۔ ان کا وجود اس بات کی روشن دلیل ہے کہ خالص تربیت، پکی محنت اور سچے ارادے کس طرح ایک عام لڑکے کو قوم کے لیے نادر سرمایہ بنا دیتے ہیں۔

انیس سو نینانوے میں جب انہوں نے اسی سکول سے میٹرک پاس کیا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ بنچیں جو روزانہ ان کے جسم کو سہارا دیتی تھیں، ایک دن صوبے کے امتحانی نظام کی بنیادیں مضبوط کرنے والے ہاتھوں کو تربیت دے رہی ہیں۔ سکول کے وہ صبح کے اسمبلی کے لمحے، استادوں کی وہ نصیحتیں جو کتابوں سے آگے بڑھ کر کردار کی تعمیر کرتی تھیں، اور ساتھیوں کے ساتھ وہ دوستی جو دیر کی مٹی کی خوشبو لیے ہوئے تھی—آج بھی ان کے دل میں تازہ ہیں۔ وہی کھیل کے میدان بعد میں ان کی زندگی کا ایک خاص رنگ بن گئے، جہاں وہ آج بھی فعال بیڈمنٹن کھلاڑی کے طور پر جسمانی صحت اور ذہنی توازن کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔

اس کے بعد اسلامیہ کالج پیشاور سے دو ہزار ایک میں ایف اے مکمل کیا۔ پھر شیخ زاید اسلامک سنٹر، پشاور یونیورسٹی سے دو ہزار چار-پانچ میں بی اے آنرز حاصل کیا اور دو ہزار سات میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی کی ڈگری لے کر علم کی بلندیوں کو چھو لیا۔ دیر کی پرسکون وادیوں نے ان کے ذہن کو وسعت دی، پہاڑوں نے ان کے حوصلے بلند کیے، اور تاریخ کی گہرائیوں نے ان کے اندر ایک محقق پیدا کر دیا۔ وہ صرف افسر نہیں، ماہرِ انسانیات بھی ہیں—سابق ریاستِ دیر، چترال اور سوات کی تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ پشاور، افغانستان اور دہلی کے آرشیوز میں گھنٹوں بیٹھ کر تاریخی ریکارڈز کا مطالعہ کرنا ان کا شوق ہے، جو انہیں ثقافتی ورثے اور کمیونٹی ویلفیئر کا امین بنا دیتا ہے۔

دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار چھبیس تک اٹھارہ سال سے زائد کی مسلسل خدمت—یہ محض نوکری نہیں، ایک مشن ہے۔ خیبر پختونخوا بورڈ آف ٹیکنیکل اینڈ کامرس ایجوکیشن میں اسسٹنٹ کنٹرولر سے لے کر ڈپٹی کنٹرولر (بی ایس-۱۸) تک کا سفر انہوں نے امتحانی انتظامات، رازداری، الحاق، رجسٹریشن، سرٹیفیکیشن، انتظامیہ اور قانونی امور کی گہری مہارت سے طے کیا۔ بی ایف اے آر ای اور آئی یو سی این پروجیکٹس میں بھی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے اپنا لوہا منوایا۔ آج وہ امتحانی نظام کی شفافیت، اداروں کے باہمی رابطے، قیادت اور مسائل کے حل میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے: معیاری تعلیم، شفاف امتحانی نظام اور مؤثر عوامی انتظامیہ کے ذریعے قوم کی خدمت۔

کامیابی کی ان بلندیوں پر پہنچ کر بھی وہ اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ دیر کی مٹی، سکول کے استاد، ساتھیوں کی دوستی اور سادگی کا وہ سبق جو انہیں وراثت میں ملا، آج بھی ان کی شخصیت کا سب سے حسین پہلو ہے۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر نے جو بنیاد رکھی تھی، اسی پر انہوں نے اپنی عمارت کھڑی کی۔ ان کا سفر یہ بتاتا ہے کہ اگر تربیت خالص ہو، محنت پکی ہو اور ارادہ سچا ہو تو کوئی منزل دور نہیں رہتی۔

ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ شہزادہ احتشام الملک نے ثابت کر دیا کہ دیر سے نکلا ہوا بیٹا بھی تعلیم کے میدان میں قوم کے لیے روشن مثال بن سکتا ہے۔ ان کا سفر سکول کی بنچوں سے لے کر اسلامیہ کالج، پشاور یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی اور پھر بورڈ کے ایوانوں تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مشعل ہے۔

اللہ تعالیٰ انہیں مزید ترقی، صحت، عزت اور کامیابیوں سے نوازے، اور ان کے علم و خدمت کو دیر، خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین
تحریر : شاہ خالد خان ہمدانی
سابق طالب علم ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
Shahzada Ihtisham Ul Mulk

25/08/2026

ندیم احمد
پراؤڈ ایلومنس – ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر

(*تحریر : شاہ خالد خان ہمدانی* )

وہ نام جو دیر کی سرسبز وادیوں سے اٹھا، مگر جس کی روشنی آج عدلیہ کے ایوانوں میں چمک رہی ہے۔ وہ بیٹا جو ایک عظیم استاد کی گود میں پلا بڑھا، اور آج خود ایک ادارے کا معتبر ستون بن کر کھڑا ہے۔ ندیم احمد، ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر کے قابلِ فخر سابق طالب علم، آج اس بات کی زندہ دلیل ہیں کہ ایک استاد کی تربیت اور ایک سکول کی بنیادیں کس طرح نسلوں کو روشن کرتی ہیں۔

یکم مارچ ۱۹۸۳ء کو پیدا ہونے والے ندیم احمد کا تعلق اس گھرانے سے ہے جہاں علم، دیانت اور خدمت کا چراغ نسل در نسل روشن رہا۔ ان کے والدِ محترم، استاد بزرگ احمد مرحوم، چترال کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے وہ درخشاں ستارہ تھے جنہوں نے ۱۹۹۲ء سے ۲۰۱۵ء تک ڈسٹرکٹ کونسل پبلک سکول دیر میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے تئیس سال مسلسل خدمت انجام دی۔ سادگی، نظم و ضبط، وقار اور طلبہ کے ساتھ شفقت ان کی شخصیت کے جوہر تھے۔ انہوں نے نہ صرف زبان سکھائی بلکہ کردار سازی بھی کی۔ اسی عظیم استاد کی اولاد ہونے کا فخر ندیم احمد کے سر پر تاج کی طرح سجتا ہے۔

ابتدائی تعلیم سے لے کر میٹرک تک کا سفر انہوں نے اسی سکول سے مکمل کیا جہاں ان کے والدِ محترم پڑھاتے تھے۔ ۲۰۰۱ء میں ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر سے ایس ایس سی پاس کیا۔ یہی وہ کلاس رومز تھے جہاں والد کی نگاہیں نگرانی کرتی تھیں اور استاد کی محبت علم کی پیاس بڑھاتی تھی۔ اس کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج دیر سے ۲۰۰۳ء میں ایف ایس سی مکمل کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے پرائیویٹ طور پر بی اے (سوشیالوجی اینڈ لاء) اور ماسٹرز اسلامیات کی ڈگریاں حاصل کیں۔ یہ سفر عزم، لگن اور مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ۲۰۰۴-۲۰۰۵ء میں قائداعظم ماڈل سکول دیر اپر میں تدریس سے ہوا۔ پھر ۲۰۰۶-۲۰۰۷ء میں لوئر دیر تیمراگراہ میں موبلینک فرنچائز کے کسٹمر سروس آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ۲۰۰۸ء میں این سی ایچ ڈی پراجیکٹ میں ڈسٹرکٹ جنرل مینیجر کے پی اے کے طور پر کام کیا۔ ۲۰۰۹-۲۰۱۰ء میں دوبارہ موبلینک فرنچائز میں فنانس مینیجر کے عہدے پر فائز رہے۔ اور اکتوبر ۲۰۱۰ء سے آج تک عدلیہ کے شعبے میں خدمت کر رہے ہیں۔ اس وقت وہ ضلع اور سیشن جج اپر دیر کے فوکل پرسن کے اہم عہدے پر فائز ہیں، جہاں ان کی ذمہ داری، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت ہر ایک کے لیے مثال ہے۔

کامیابی کی ان بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود ندیم احمد آج بھی اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ سکول کے دنوں، والدِ مرحوم کی تربیت، استادوں کی محبت اور دیر کی مٹی کو فخر سے یاد کرتے ہیں۔ سادگی، ایمانداری، مسلسل سیکھنے کا جذبہ اور خدمتِ خلق ان کی شخصیت کے سب سے خوبصورت پہلو ہیں۔ والد کی طرح وہ بھی نظم و ضبط، وقار اور انسانیت کے احترام کو اپنی زندگی کا اصول بنائے ہوئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول اپر دیر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ ندیم احمد نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر تربیت خالص ہو، محنت پکی ہو اور ارادہ سچا ہو تو کوئی منزل دور نہیں رہتی۔ ان کا سفر سکول کی بنچوں سے لے کر عدلیہ کے ایوانوں تک، آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مشعل ہے۔

اللہ تعالیٰ ندیم احمد کو مزید ترقی، صحت، عزت اور کامیابیوں سے نوازے، اور ان کے والدِ محترم استاد بزرگ احمد مرحوم کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، تاکہ یہ سلسلۂ نور دیر اور پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین

تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
Nadeem Ahmad

25/08/2026

District council public school alumni association.
Naveed Salar, Asad Iqbal, Asaf Iqbal, Inayat and M***i Nisar....
Finder Tariq Babar

25/08/2026

District council public school alumni association.
Ilyas session 1995 Currently working in Judiciary Dir Upper.
Badar Munir Session 1995. Currently working in Atomic Energy.
Courtesy Tariq Babar

Address

Dir Proper
Dir

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SpreadIslam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to SpreadIslam:

Shortcuts

Share