31/08/2026
ڈاکٹر ہدایت الرحمن (عرف ترہ )
پراؤڈ ایلومنس – ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر
(*تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی*)
دیر اپر کی بلند و بالا پہاڑیوں میں جہاں بادلوں کے سائے پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتے ہیں، جہاں سبز وادیوں کی خاموشی فطرت کا راز کھولتی ہے اور ندیوں کی موسیقی روح کو تازگی بخشتی ہے، وہاں ریحان کوٹ پائیں سے ایک ایسا نام ابھرا جو آج صحت کے مقدس پیشے میں خدمت کا چراغ جلا رہا ہے۔ ہدایت الرحمن—وہ بیٹا جو ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر کی دیواریں دیکھ کر بڑا ہوا، استادوں کی دعاؤں اور محبت بھری نگاہوں سے سیراب ہوا، اور آج خود دیر کی مٹی کے بیٹوں اور بیٹیوں کی صحت کا نگہبان بن چکا ہے۔ ان کا سفر اس حقیقت کی زندہ اور منفرد دلیل ہے کہ اگر نیت صاف ہو، محنت سچی ہو اور جڑیں اپنی مٹی سے گہری ہوں تو گاؤں کی خاک بھی شفا کے منادر تک پہنچا دیتی ہے، اور ایک عام بیٹا قوم کی خدمت کا امین بن جاتا ہے۔
جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر سے میٹرک پاس کیا تو شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہی سکول کی پرانی بنچیں، وہی استادوں کی نصیحتیں اور وہی ساتھیوں کی دوستی ایک دن انہیں طب کے میدان میں آگے بڑھنے کا روشن راستہ دکھا دیں گی۔ دو ہزار پانچ میں سی ایم ٹی پی آئی ایم ایس اسلام آباد سے ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے علم کی پیاس کو مزید بجھانے کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے انسٹی ٹیوٹ آف پیرا میڈیکل سائنسز (آئی پی ایم ایس) سے ڈینٹل ٹیکنالوجی میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرنگال دیر اپر سے فارمیسی بی کی تعلیم مکمل کر کے فارمیسی کونسل پشاور سے رجسٹریشن حاصل کی۔ علم کی ان منزلوں نے ان کے اندر درد کی تسکین، صحت کی حفاظت، انسانیت کی خدمت اور کمیونٹی کی بہبود کا جذبہ بیدار کر دیا۔ جنگلات اور پہاڑوں کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے صحت کے شعبے کو اپنا مشن بنا لیا۔
پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز حکومت کے تحت بی ایچ یو دوبندو درہ دیر اپر کے انچارج کے طور پر ہوا۔ وہاں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے ثابت کیا کہ خدمت صرف بڑے ہسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ گاؤں گاؤں اور درہ درہ تک پہنچنی چاہیے۔ آج وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر اپر میں ڈینٹل یونٹ کے انچارج کے طور پر ڈینٹل ٹیکنالوجسٹ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ درد کو دور کرنا، مسکراہٹیں لوٹانا، دانتوں کی صحت کا خیال رکھنا اور مریضوں کو سکون دینا—یہ ان کی روزمرہ کی عبادت بن چکا ہے۔ گاؤں کی مٹی سے اٹھ کر ضلعی ہسپتال کے ایوانوں تک پہنچنے والا یہ سفر واقعی منفرد، قابلِ رشک اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
کامیابی کی ان بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود ہدایت الرحمن آج بھی اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ سکول کے دنوں، استادوں کی تربیت، ساتھیوں کی دوستی، گاؤں کی سادگی، ریحان کوٹ پائیں کی ہوا اور دیر کی مٹی کو فخر سے یاد کرتے ہیں۔ خدمتِ خلق، دیانت داری، نظم و ضبط، مسلسل ترقی کا جذبہ اور اپنی مٹی سے وابستگی ان کی شخصیت کے سب سے نمایاں پہلو ہیں۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر نے جو بنیاد رکھی تھی، اسی پر انہوں نے صحت کی عمارت کھڑی کی۔ ان کا سفر یہ بتاتا ہے کہ اگر تربیت خالص ہو، ارادہ سچا ہو اور علم کو خدمت کا ذریعہ بنایا جائے تو گاؤں کا ایک عام بیٹا بھی قوم کی صحت کا امین بن سکتا ہے اور دیر جیسے پہاڑی علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ ہدایت الرحمن نے ثابت کر دیا کہ ایک سادہ گھرانے سے نکلا ہوا بیٹا بھی علم کی روشنی سے لے کر صحت کی خدمت تک قوم کے لیے روشن مثال بن سکتا ہے۔ ان کا سفر سکول کی بنچوں سے لے کر ڈینٹل ٹیکنالوجی اور فارمیسی کی تعلیم، بنیادی صحت کے مراکز اور پھر ضلعی ہسپتال کے ایوانوں تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک منفرد مشعل ہے۔ جو لوگ ابھی تک ان کی خوبیوں، ان کے جذبے اور ان کی خدمت سے واقف نہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دیر کی وادیوں سے اٹھا یہ بیٹا آج ہزاروں مسکراہٹوں کا محافظ بن چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہدایت الرحمن صاحب کو مزید ترقی، صحت، عزت، کامیابیوں اور خدمت کے مواقع سے نوازے، اور ان کے علم و خدمت کو دیر، خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین
تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر