06/02/2024
شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظم
Episode # 14
امام موسی کاظم اور باغ فدک کا حدود اربعہ:
علامہ یوسف بغدادی سبط ابن جوزی حنفی تحریر فرماتے ہیں کہ: ایک دن ہارون الرشید نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے کہا کہ آپ فدک لینا چاہیں تو میں دیدوں ، آپ نے فرمایا کہ میں جب اس کے حدود بتاؤں گا تو، تو اسے دینے پر راضی نہ ہو گا اور میں اسی وقت لے سکتا ہوں جب اس کے پورے حدود دئیے جائیں، اس نے پوچھا اس کے حدود کیا ہیں فرمایا پہلی حد، عدن ہے دوسری سمرقند ہے، تیسری حد افریقہ ہے، چوتھی حد سیف البحر ہے، جو خزر اور آرمینیہ کے قریب ہے۔ یہ سن کر ہارون رشید آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر ہمارے لیے کیا باقی رہا ؟ حضرت نے فرمایا کہ اسی لیے تو میں نے لینے سے انکار کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ہی سے ہارون رشید نے حضرت کے قتل کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔
خواص الامة، سبط ابن جوزی س 416
اسیر بغداد کی شہادت:
سب سے آخر میں امام موسی کاظم علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے، یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا۔ آخر اسی قید میں حضرت کو انگور میں زہر دیا گیا۔ 25رجب 183 ہجری میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شہادت ہوئی۔ شہادت کے بعد آپ کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا۔ مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لیے کچھ اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ تشیع کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جو اب کاظمین کے نام سے مشھور ہے، دفن کیا۔
امام کاظم علیہ السلام کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعد ہارون رشید ملعون نے والی بصرہ عیسی بن جعفر کو لکھا کہ موسی بن جعفر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قتل کر کے مجھ کو ان کے وجود سے سکون دے ۔ اس نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کرنے کے بعد ہارون رشید ملعون کو لکھا : میں نے امام موسی کاظم علیہ السلام میں اس ایک سال کے اندر کوئی برائی نہیں دیکھی۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام روز و شب نماز اور روزہ میں مصروف و مشغول رہتے ہیں اور عوام و حکومت کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور ملک کی فلاح و بہبودی کے خواہشمند ہیں۔ کس طرح ایسے شخص کو قتل کر دوں۔ میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اور اپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہا ہوں، لہٰذا تو مجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کر بلکہ تو مجھے حکم دے کہ میں ان کو اس قید با مشقت سے آزاد کر دوں۔ اس خط کو پانے کے بعد ہارون رشید ملعون نے اس کام کو سندی بن شاہک کے حوالے کیا اور اسی ملعون کے ذریعہ امام علیہ السلام کو زہر دلوا کر شہید کر دیا۔
ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ: ہارون رشید نے آپ کو بغداد میں قید کر دیا ” فلم یخرج من حبسہ الا میتا مقیدا“ اور تاحیات قید رکھا، آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کے ہاتھوں اور پیروں سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کاٹی گئیں۔ آپ کی شہادت ہارون رشید کے زہر سے ہوئی جو اس نے سندی ابن شاہک کے ذریعہ دلوایا تھا۔
صواعق محرقہ،ص 132
امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت 25 رجب المرجب بروز جمعہ 183 ہجری میں واقع ہوئی۔ اس وقت آپ کی عمر 55 سال کی تھی ۔ آپ نے 14 سال ہارون رشید کے قید خانے میں گزارے ۔ شہادت کے بعد آپ کے جنازہ کو قید خانے سے ہتھکڑی اور بیڑی سمیت نکال کر بغداد کے پل پر ڈال دیا گیا تھا اور نہایت ہی توہین آمیز الفاظ میں آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو یاد کیا گیا۔ سلیمان بن جعفر ابن ابی جعفر اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ہمت کر کے نعش مبارک کو دشمنوں سے چھین کر لے گئے اور غسل و کفن دے کر بڑی شان سے جنازہ کو لے کر چلے ۔ ان لوگوں کے گریبان امام مظلوم کے غم میں چاک تھے، انتہائی غم و اندوہ کے عالم میں جنازے کو لے کر مقبرہ قریش میں پہنچے۔ امام علی رضا علیہ السلام کفن و دفن اور نماز کے لیے مدینہ منورہ سے با اعجاز پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے والد ماجد کو سپرد خاک فرمایا۔
تدفین کے بعد امام رضا علیہ السلام مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ جب مدینہ والوں کو آپ کی شہادت کی خبر ملی تو کہرام برپا ہو گیا۔ نوحہ و ماتم اور تعزیت کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔
امام کاظم (ع) کے تلخ ترین مصائب:
امام کے یہ فضائل و کرامات اور سرگرمیاں ہارون کے غیظ و غضب اور کینے میں اضافے کا باعث بنتا تھا ، یہی وجہ ہے کہ امام کی ایک طویل مدت ( تقریباً سولہ سال) زندانوں میں گزاری اور وہیں اپنے رب سے جا ملے ۔
آپ نے دوران قید تلخ ترین مصائب اور سخت ترین تکالیف کا سامنا کیا ، یہاں تک کہ آپ زندان سے تنگ آ گئے اور مدت کی طوالت سے ملول ہوئے ، حکومت آپ کو مختلف زندانوں میں منتقل کرتی رہی ، اس خوف سے کہ کہیں آپ کا رابطہ کسی شیعہ کے ساتھ برقرار نہ ہو جائے، سرکاری پولیس اور جاسوس سختی سے آپ کی نگرانی کیا کرتے رہتے تھے۔
امام طویل مدت تک ہارون کی قید میں رہے ، طویل قید نے آپ کی صحت پر برا اثر ڈالا اور آپ کے بدن مبارک کو گھلا کر رکھ دیا تھا ، یہاں تک کہ جب آپ سجدہ کرتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا زمین پر کوئی کپڑا پڑا ہوا ہو ، ایک مرتبہ خلیفہ کے ایک نمائندے نے آپ سے عرض کیا ' 'خلیفہ آپ سے معذرت خواہ ہے اور اس نے آپ کی آزادی کا حکم دیا ہے ، بشرطیکہ آپ اس سے ملاقات فرما کر معذرت حاصل کریں یا اس کی خوشنودی حاصل کریں ' '
امام نے نہایت بے نیازی کے ساتھ صریح الفاظ میں نفی میں جواب دیا ، یوں آپ نے زہر قاتل کا تلخ جام پینا گوارا فرمایا ، آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کو اپنا ہمنوا بنانے کے سلسلے میں گمراہ حکمرانوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے اور ان کی گمراہی آشکار ہو۔
دائرة المعارف الاسلامیہ ،مقالہ دور الآئمہ از شہید صدر :ص 96
امام نے زندان سے ہارون کے نام ایک خط لکھا جس میں آپ نے ہارون پر اپنے شدید غصے کا اظہار فرمایا : ' 'بتحقیق جتنے میرے مشقت و آلام کے دن گزریں گے اتنے ہی دن تیرے راحت و آرام کے بھی گزر جائیں گے ، پھر ایک دن ایسا آئے گا جب ہم سب کا خاتمہ ہو گا ، اور کبھی ختم نہ ہونے والا دن آ پہنچے گا ، اس دن بدکار لوگ خسارے میں ہوں گے۔
البدایة و النہایة :ج 10، ص 183 اور تاریخ بغداد
ہارون کے زندان میں امام قسم قسم کی اذیتوں کو برداشت کرتے رہے ، کیونکہ ایک طرف سے آپ کو بیڑیوں سے پا بہ زنجیر کیا گیا تھا اور دوسری طرف سے آپ پر زبردست سختیاں اور اذیتیں روا رکھی گئیں ، ہارون رشید نے ہر قسم کے مصائب ڈہانے کے بعد آخر کار آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ، یوں آپ شہادت و سعادت کی منزل پر فائز ہوئے اور اپنے خالق سے جا ملے ، آپ کی شہادت 25، رجب 183 ہجری کو واقع ہوئی۔
ابن خلکان :ج2، ص 173 اور تاریخ بغداد،
25رجب سن 183 ہجری کو فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) کو زندان میں زہر دے کر عالم غربت میں شہید کر دیا گیا ۔
امام کاظم (ع) سن 128 ہجری قمری میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بیس سال تک کی عمر اپنے والد ماجد حضرت امام صادق (ع) کی ذات مقدس کے ساتھ گزاری اور امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد 35 سال تک مسلمانوں کی امامت و ہدایت کی ذمہ داری انجام دی ۔ اس راہ میں آپ نے بہت سی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ (ع) کے علم سے فیضیاب ہونے والے بہت سے فقیہ اور دانشور شاگردوں نے اسلامی علوم و تعلیمات کو پوری دنیا میں رائج کیا۔ امام کاظم (ع) نے اسلامی علوم اور تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ عباسی حکومت کے خلاف جدوجہد بھی جاری رکھی۔ سر انجام عباسی خلیفہ ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم (ع) کو گرفتار کر لیا اور ایک سازش کے تحت زہر دے کر شہید کر دیا۔
آپ کے دو مشہور لقب کاظم اور باب الحوائج تھے۔ جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرائض امامت سنبھالے اس وقت عباسی خلیفہ منصور دوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمار سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یا قید کر کے رکھے گئے تھے۔
امام موسي کاظم عليہ السلام نے مختلف حکام کے دور ميں زندگی بسر کی۔ آپ کا دور، حالات کے اعتبار سے نہايت مصائب اور شديد مشکلات اور گھٹن سے بھرا ہوا دور تھا۔ ہر آنے والے بادشاہ کی امام پر سخت نظر تھی ليکن يہ آپ کا کمال امامت تھا کہ آپ شدید مصائب مشکلات کے دور ميں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم و ہدايت عطا فرماتے رہے۔ اتنے نامناسب حالات ميں آپ نے اس یونیورسٹی کی جو آپ کے پدر بزرگوار کی قائم کردہ تھی، پاسداری اور حفاظت فرمائی آپ کا مقصد امت کی ہدايت اور نشر علوم آل محمد تھا، جس کی آپ نے قدم قدم پر ترويج کی اور حکومت وقت تو بہرحال امامت کی محتاج ہے۔
علامہ مقریزی لکھتے ہیں کہ منصور کے زمانے میں بے انتہا سادات شہید کیے گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ وطن چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں انہیں تارکین وطن میں ہاشم بن ابراہیم بن اسماعیل الدیباج بن ابراہیم عمر بن الحسن المثنی ابن امام حسن بھی تھے جنہوں نے ملتان کو علاقوں میں سے مقام خان میں سکونت اختیار کر لی تھی.
النزاع والتخاصم ص 47 طبع مصر
158 ہجری کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا، اور اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھا، شروع میں تو اس نے بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کی عزت و احترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں کیا مگر چند سال بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور 164 ہجری میں جب وہ حج کے نام سے حجاز کی طرف گیا تو امام موسی کاظم علیہ السلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور قید کر دیا ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کا موقع دیا گیا۔
مہدی کے بعد اس کا بھائی ہادی 169 ہجری میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک ماہ تک اس نے سلطنت کی ، اس کے بعد ہارون الرشید کا زمانہ آیا جس میں امام موسی کاظم علیہ السلام کو آزادی کی سانس لینا نصیب نہیں ہوئی۔
سوانح امام موسی کاظم ص 5
اعلام الوری ص 171
امام موسی کاظم (ع) کو جس آخری قید خانے میں قید کیا گيا تھا، اس کا زندان باں انتہائی سنگدل تھا جس کا نام سندی بن شاہک تھا۔ اس زندان میں امام پر بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھایا گيا اور بالآخر ہارون رشید کے حکم پر ایک سازش کے ذریعہ امام کو زہر دے دیا گیا اور تین دن تک سخت رنج و تعب برداشت کرنے کے بعد 55 سال کی عمر میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
خدا کا درود و سلام ہو اس پر کہ جس کے صبر و استقامت نے دشمنوں کو گھنٹے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
السلام على المعذب في قعر السجون وظلم المطامير
السلام على ذي الساق المرضوض بحلق القيود
السلام على الجسد النحيف
السلام على القلب الوجيف
السلام على الكاظم الصابر
السلام على من حارت فيه البصائر
السلام عليك يا باب الحوائج
عليك مني سلام الله مابقيت وبقي الليل والنهار
مرزا دبیر کہتے ہیں:
مولا پہ انتہائے اسیری گزر گئی ۔
زندان میں جوانی و پیری گزر گئی
یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ، أَیُّھَا الْکاظِمُ، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَ مَوْلانَا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَ اسْتَشْفَعْنا وَ تَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَ قَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ.....
التماس دعا