Voice of SHIA

Voice of SHIA Voice of SHIA is a forum where we can try to deliver the lesson of truth

28/02/2024

🥀3 شعبان الله تعاليٰ نے تیں حکم دیی...❤️

شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظمEpisode  # 14امام موسی کاظم اور باغ فدک کا حدود اربعہ:علامہ یوسف بغدادی س...
06/02/2024

شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظم
Episode # 14
امام موسی کاظم اور باغ فدک کا حدود اربعہ:

علامہ یوسف بغدادی سبط ابن جوزی حنفی تحریر فرماتے ہیں کہ: ایک دن ہارون الرشید نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے کہا کہ آپ فدک لینا چاہیں تو میں دیدوں ، آپ نے فرمایا کہ میں جب اس کے حدود بتاؤں گا تو، تو اسے دینے پر راضی نہ ہو گا اور میں اسی وقت لے سکتا ہوں جب اس کے پورے حدود دئیے جائیں، اس نے پوچھا اس کے حدود کیا ہیں فرمایا پہلی حد، عدن ہے دوسری سمرقند ہے، تیسری حد افریقہ ہے، چوتھی حد سیف البحر ہے، جو خزر اور آرمینیہ کے قریب ہے۔ یہ سن کر ہارون رشید آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر ہمارے لیے کیا باقی رہا ؟ حضرت نے فرمایا کہ اسی لیے تو میں نے لینے سے انکار کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ہی سے ہارون رشید نے حضرت کے قتل کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔

خواص الامة، سبط ابن جوزی س 416



اسیر بغداد کی شہادت:



سب سے آخر میں امام موسی کاظم علیہ السّلام سندی بن شاہک کے قید خانے میں رکھے گئے، یہ شخص بہت ہی بے رحم اور سخت دل تھا۔ آخر اسی قید میں حضرت کو انگور میں زہر دیا گیا۔ 25رجب 183 ہجری میں 55 سال کی عمر میں حضرت کی شہادت ہوئی۔ شہادت کے بعد آپ کے جسد مبارک کے ساتھ بھی کوئی اعزاز کی صورت اختیار نہیں کی گئی بلکہ حیرتناک طریقے پر توہین آمیز الفاظ کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے آپ کی لاش کو قبرستان کی طرف روانہ کیا گیا۔ مگر اب ذرا عوام میں احساس پیدا ہو گیا تھا اس لیے کچھ اشخاص نے امام کے جنازے کو لے لیا اور پھر عزت و احترام کے ساتھ تشیع کر کے بغداد سے باہر اس مقام پر جو اب کاظمین کے نام سے مشھور ہے، دفن کیا۔

امام کاظم علیہ السلام کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعد ہارون رشید ملعون نے والی بصرہ عیسی بن جعفر کو لکھا کہ موسی بن جعفر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو قتل کر کے مجھ کو ان کے وجود سے سکون دے ۔ اس نے اپنے ہمدردوں سے مشورہ کرنے کے بعد ہارون رشید ملعون کو لکھا : میں نے امام موسی کاظم علیہ السلام میں اس ایک سال کے اندر کوئی برائی نہیں دیکھی۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام روز و شب نماز اور روزہ میں مصروف و مشغول رہتے ہیں اور عوام و حکومت کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور ملک کی فلاح و بہبودی کے خواہشمند ہیں۔ کس طرح ایسے شخص کو قتل کر دوں۔ میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اور اپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہا ہوں، لہٰذا تو مجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کر بلکہ تو مجھے حکم دے کہ میں ان کو اس قید با مشقت سے آزاد کر دوں۔ اس خط کو پانے کے بعد ہارون رشید ملعون نے اس کام کو سندی بن شاہک کے حوالے کیا اور اسی ملعون کے ذریعہ امام علیہ السلام کو زہر دلوا کر شہید کر دیا۔

ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ: ہارون رشید نے آپ کو بغداد میں قید کر دیا ” فلم یخرج من حبسہ الا میتا مقیدا“ اور تاحیات قید رکھا، آپ (ع) کی شہادت کے بعد آپ کے ہاتھوں اور پیروں سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کاٹی گئیں۔ آپ کی شہادت ہارون رشید کے زہر سے ہوئی جو اس نے سندی ابن شاہک کے ذریعہ دلوایا تھا۔

صواعق محرقہ،ص 132

امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت 25 رجب المرجب بروز جمعہ 183 ہجری میں واقع ہوئی۔ اس وقت آپ کی عمر 55 سال کی تھی ۔ آپ نے 14 سال ہارون رشید کے قید خانے میں گزارے ۔ شہادت کے بعد آپ کے جنازہ کو قید خانے سے ہتھکڑی اور بیڑی سمیت نکال کر بغداد کے پل پر ڈال دیا گیا تھا اور نہایت ہی توہین آمیز الفاظ میں آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو یاد کیا گیا۔ سلیمان بن جعفر ابن ابی جعفر اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ہمت کر کے نعش مبارک کو دشمنوں سے چھین کر لے گئے اور غسل و کفن دے کر بڑی شان سے جنازہ کو لے کر چلے ۔ ان لوگوں کے گریبان امام مظلوم کے غم میں چاک تھے، انتہائی غم و اندوہ کے عالم میں جنازے کو لے کر مقبرہ قریش میں پہنچے۔ امام علی رضا علیہ السلام کفن و دفن اور نماز کے لیے مدینہ منورہ سے با اعجاز پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے والد ماجد کو سپرد خاک فرمایا۔



تدفین کے بعد امام رضا علیہ السلام مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ جب مدینہ والوں کو آپ کی شہادت کی خبر ملی تو کہرام برپا ہو گیا۔ نوحہ و ماتم اور تعزیت کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔



امام کاظم (ع) کے تلخ ترین مصائب:

امام کے یہ فضائل و کرامات اور سرگرمیاں ہارون کے غیظ و غضب اور کینے میں اضافے کا باعث بنتا تھا ، یہی وجہ ہے کہ امام کی ایک طویل مدت ( تقریباً سولہ سال) زندانوں میں گزاری اور وہیں اپنے رب سے جا ملے ۔

آپ نے دوران قید تلخ ترین مصائب اور سخت ترین تکالیف کا سامنا کیا ، یہاں تک کہ آپ زندان سے تنگ آ گئے اور مدت کی طوالت سے ملول ہوئے ، حکومت آپ کو مختلف زندانوں میں منتقل کرتی رہی ، اس خوف سے کہ کہیں آپ کا رابطہ کسی شیعہ کے ساتھ برقرار نہ ہو جائے، سرکاری پولیس اور جاسوس سختی سے آپ کی نگرانی کیا کرتے رہتے تھے۔

امام طویل مدت تک ہارون کی قید میں رہے ، طویل قید نے آپ کی صحت پر برا اثر ڈالا اور آپ کے بدن مبارک کو گھلا کر رکھ دیا تھا ، یہاں تک کہ جب آپ سجدہ کرتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا زمین پر کوئی کپڑا پڑا ہوا ہو ، ایک مرتبہ خلیفہ کے ایک نمائندے نے آپ سے عرض کیا ' 'خلیفہ آپ سے معذرت خواہ ہے اور اس نے آپ کی آزادی کا حکم دیا ہے ، بشرطیکہ آپ اس سے ملاقات فرما کر معذرت حاصل کریں یا اس کی خوشنودی حاصل کریں ' '

امام نے نہایت بے نیازی کے ساتھ صریح الفاظ میں نفی میں جواب دیا ، یوں آپ نے زہر قاتل کا تلخ جام پینا گوارا فرمایا ، آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کو اپنا ہمنوا بنانے کے سلسلے میں گمراہ حکمرانوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے اور ان کی گمراہی آشکار ہو۔

دائرة المعارف الاسلامیہ ،مقالہ دور الآئمہ از شہید صدر :ص 96

امام نے زندان سے ہارون کے نام ایک خط لکھا جس میں آپ نے ہارون پر اپنے شدید غصے کا اظہار فرمایا : ' 'بتحقیق جتنے میرے مشقت و آلام کے دن گزریں گے اتنے ہی دن تیرے راحت و آرام کے بھی گزر جائیں گے ، پھر ایک دن ایسا آئے گا جب ہم سب کا خاتمہ ہو گا ، اور کبھی ختم نہ ہونے والا دن آ پہنچے گا ، اس دن بدکار لوگ خسارے میں ہوں گے۔

البدایة و النہایة :ج 10، ص 183 اور تاریخ بغداد



ہارون کے زندان میں امام قسم قسم کی اذیتوں کو برداشت کرتے رہے ، کیونکہ ایک طرف سے آپ کو بیڑیوں سے پا بہ زنجیر کیا گیا تھا اور دوسری طرف سے آپ پر زبردست سختیاں اور اذیتیں روا رکھی گئیں ، ہارون رشید نے ہر قسم کے مصائب ڈہانے کے بعد آخر کار آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ، یوں آپ شہادت و سعادت کی منزل پر فائز ہوئے اور اپنے خالق سے جا ملے ، آپ کی شہادت 25، رجب 183 ہجری کو واقع ہوئی۔

ابن خلکان :ج2، ص 173 اور تاریخ بغداد،

25رجب سن 183 ہجری کو فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) کو زندان میں زہر دے کر عالم غربت میں شہید کر دیا گیا ۔

امام کاظم (ع) سن 128 ہجری قمری میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بیس سال تک کی عمر اپنے والد ماجد حضرت امام صادق (ع) کی ذات مقدس کے ساتھ گزاری اور امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد 35 سال تک مسلمانوں کی امامت و ہدایت کی ذمہ داری انجام دی ۔ اس راہ میں آپ نے بہت سی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ (ع) کے علم سے فیضیاب ہونے والے بہت سے فقیہ اور دانشور شاگردوں نے اسلامی علوم و تعلیمات کو پوری دنیا میں رائج کیا۔ امام کاظم (ع) نے اسلامی علوم اور تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ عباسی حکومت کے خلاف جدوجہد بھی جاری رکھی۔ سر انجام عباسی خلیفہ ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم (ع) کو گرفتار کر لیا اور ایک سازش کے تحت زہر دے کر شہید کر دیا۔

آپ کے دو مشہور لقب کاظم اور باب الحوائج تھے۔ جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرائض امامت سنبھالے اس وقت عباسی خلیفہ منصور دوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمار سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یا قید کر کے رکھے گئے تھے۔

امام موسي کاظم عليہ السلام نے مختلف حکام کے دور ميں زندگی بسر کی۔ آپ کا دور، حالات کے اعتبار سے نہايت مصائب اور شديد مشکلات اور گھٹن سے بھرا ہوا دور تھا۔ ہر آنے والے بادشاہ کی امام پر سخت نظر تھی ليکن يہ آپ کا کمال امامت تھا کہ آپ شدید مصائب مشکلات کے دور ميں قدم قدم پر لوگوں کو درس علم و ہدايت عطا فرماتے رہے۔ اتنے نامناسب حالات ميں آپ نے اس یونیورسٹی کی جو آپ کے پدر بزرگوار کی قائم کردہ تھی، پاسداری اور حفاظت فرمائی آپ کا مقصد امت کی ہدايت اور نشر علوم آل محمد تھا، جس کی آپ نے قدم قدم پر ترويج کی اور حکومت وقت تو بہرحال امامت کی محتاج ہے۔

علامہ مقریزی لکھتے ہیں کہ منصور کے زمانے میں بے انتہا سادات شہید کیے گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ وطن چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں انہیں تارکین وطن میں ہاشم بن ابراہیم بن اسماعیل الدیباج بن ابراہیم عمر بن الحسن المثنی ابن امام حسن بھی تھے جنہوں نے ملتان کو علاقوں میں سے مقام خان میں سکونت اختیار کر لی تھی.

النزاع والتخاصم ص 47 طبع مصر

158 ہجری کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت ہوا، اور اس کا بیٹا مہدی تخت سلطنت پر بیٹھا، شروع میں تو اس نے بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کی عزت و احترام کے خلاف کوئی برتاؤ نہیں کیا مگر چند سال بعد پھر وہی بنی فاطمہ کی مخالفت کا جذبہ ابھرا اور 164 ہجری میں جب وہ حج کے نام سے حجاز کی طرف گیا تو امام موسی کاظم علیہ السلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغداد لے گیا اور قید کر دیا ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رہے پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کا موقع دیا گیا۔

مہدی کے بعد اس کا بھائی ہادی 169 ہجری میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک ماہ تک اس نے سلطنت کی ، اس کے بعد ہارون الرشید کا زمانہ آیا جس میں امام موسی کاظم علیہ السلام کو آزادی کی سانس لینا نصیب نہیں ہوئی۔

سوانح امام موسی کاظم ص 5

اعلام الوری ص 171

امام موسی کاظم (ع) کو جس آخری قید خانے میں قید کیا گيا تھا، اس کا زندان باں انتہائی سنگدل تھا جس کا نام سندی بن شاہک تھا۔ اس زندان میں امام پر بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھایا گيا اور بالآخر ہارون رشید کے حکم پر ایک سازش کے ذریعہ امام کو زہر دے دیا گیا اور تین دن تک سخت رنج و تعب برداشت کرنے کے بعد 55 سال کی عمر میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔

خدا کا درود و سلام ہو اس پر کہ جس کے صبر و استقامت نے دشمنوں کو گھنٹے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

السلام على المعذب في قعر السجون وظلم المطامير
السلام على ذي الساق المرضوض بحلق القيود
السلام على الجسد النحيف
السلام على القلب الوجيف
السلام على الكاظم الصابر
السلام على من حارت فيه البصائر
السلام عليك يا باب الحوائج
عليك مني سلام الله مابقيت وبقي الليل والنهار

مرزا دبیر کہتے ہیں:

مولا پہ انتہائے اسیری گزر گئی ۔



زندان میں جوانی و پیری گزر گئی

یَا أَبَا الْحَسَنِ یَا مُوسَی بْنَ جَعْفَرٍ، أَیُّھَا الْکاظِمُ، یَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ، یَا حُجَّةَ اللهِ عَلی خَلْقِہِ، یَا سَیِّدَنا وَ مَوْلانَا إِنَّا تَوَجَّھْنا وَ اسْتَشْفَعْنا وَ تَوَسَّلْنا بِکَ إِلَی اللهِ وَ قَدَّمْناکَ بَیْنَ یَدَیْ حَاجَاتِنا، یَا وَجِیہاً عِنْدَ اللهِ اشْفَعْ لَنا عِنْدَ اللهِ.....



التماس دعا

علی ابن یقطین کو الٹا وضو کرنے کا حکم:علامہ طبرسی اور علامہ ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ علی بن یقطین نے امام موسی کاظم علی...
06/02/2024

علی ابن یقطین کو الٹا وضو کرنے کا حکم:

علامہ طبرسی اور علامہ ابن شہر آشوب لکھتے ہیں کہ علی بن یقطین نے امام موسی کاظم علیہ السلام کو ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ ہمارے درمیان اس امر میں بحث ہو رہی ہے کہ آیا مسح کعب سے اصابع (انگلیوں) تک ہونا چاہیے یا انگلیوں سے کعب تک حضور اس کی وضاحت فرمائیں، حضرت نے اس خط کا ایک عجیب و غریب جواب تحریر فرمایا آپ نے لکھا کہ میرا خط پاتے ہی تم اس طرح وضو شروع کرو کہ تین مرتبہ کلی کرو، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالو، تین مرتبہ منہ دھوؤ، اپنی داڑھی کو اچھی طرح بھگوؤ، سارے سر کا مسح کرو، اندر باہر کانوں کا مسح کرو، تین مرتبہ پاؤں دھوؤ اور دیکھو میرے اس حکم کے خلاف ہرگز ہرگز عمل نہ کرنا۔

علی بن یقطین نے جب اس خط کو پڑھا، تو حیران رہ گیا لیکن یہ سمجھتے ہوئے کہ مولائی اعلم بما قال، آپ نے جو کچھ حکم دیا ہے اس کی گہرائی کا اچھی طرح آپ کو علم ہو گا اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔

راوی کا بیان ہے کہ علی بن یقطین کی مخالفت ہمیشہ دربار میں ہوا کرتی تھی اور لوگ بادشاہ سے کہا کرتے تھے کہ یہ شیعہ ہے اور تمہارے مخالف ہے۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے بعض مشیروں سے کہا کہ علی بن یقطین کی شکایات بہت ہو چکی ہیں، اب میں خود چھپ کر دیکھوں گا اور یہ معلوم کروں گا کہ وضو کیسے کرتا ہے اور نماز کیسے پڑھتا ہے ، چنانچہ اس نے چھپ کر آپ کے حجرہ میں نظر ڈالی تو دیکھا کہ وہ اہل سنت کے اصول اور طریقے پر وضو کر رہے ہیں یہ دیکھ کر وہ ان سے مطمئن ہو گیا اور اس کے بعد سے پھر کسی کے کہنے پر یقین نہیں کرتا تھا۔

اس واقعہ کے فورا بعد امام موسی کاظم علیہ السلام کا خط علی بن یقطین کے پاس پہنچا جس میں مرقوم تھا کہ خدشہ دور ہو گیا ”توضاء کما امرک اللہ“ اب تم اسی طرح وضو کرو، جس طرح خداوند نے حکم دیا ہے یعنی اب الٹا وضو نہ کرنا، بلکہ سیدھا اور صحیح وضو کرنا اور تمہارے سوال کا جواب یہ ہے کہ انگلیوں کے سرے سے کعبین تک پاؤں کا مسح ہونا چاہیے۔

اعلام الوری ص 170

مناقب ج 5 ص 58



امام موسی کاظم (ع) کا علی ابن یقطین کو اسکی غلطی کا احساس دلانا:

علامہ حسین بن عبد الوہاب تحریر فرماتے ہیں کہ محمد بن علی صوفی کا بیان ہے کہ ابراہیم جمّال (جو امام موسی کاظم کے صحابی تھے) نے ایک دن ابو الحسن علی بن یقطین سے ملاقات کے لیے وقت چاہا انہوں نے وقت نہ دیا، اسی سال وہ حج کے لیے گئے اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بھی تشریف لے گئے ابن یقطین حضرت سے ملنے کے لیے گئے انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا، ابن یقطین کو بڑا تعجب ہوا، راستے میں ملاقات ہوئی تو حضرت نے فرمایا کہ تم نے ابراہیم سے ملاقات کرنے سے انکار کیا تھا اس لیے میں بھی تم سے نہیں ملا اور اس وقت تک نہ ملوں گا جب تک تم اس سے معافی نہ مانگو گے اور انہیں راضی نہ کرو گے ، ابن یقطین نے عرض کی مولا میں مدینہ میں ہوں اور وہ کوفہ میں ہیں، فوری ملاقات کیسے ہو سکتی ہے، فرمایا تم تنہا بقیع میں جاؤ، ایک اونٹ تیار ملے گا اور اونٹ پر سوار ہو کر کوفہ کے لیے روانہ ہو چشم زدن میں وہاں پہنچ جاؤ گے چنانچہ وہ گئے اور اونٹ پر سوار ہو کر کوفہ پہنچے ، ابراہیم کے دروازہ پر دق الباب کیا آواز آئی کون ہے؟ کہا میں ابن یقطین ہوں ، انہوں نے کہا، تمہارا میرے دروازہ پر کیا کام ہے؟



ابن یقطین نے جواب دیا، سخت مصیبت میں مبتلا ہوں، خدا کے لیے ملنے کا وقت دو، چنانچہ انہوں نے اجازت دی، ابن یقطین نے قدموں پر سر رکھ کر معافی مانگی اور سارا واقعہ سنایا ابراہیم نے معافی دی پھر اسی اونٹ پر سوار ہو کر چشم زدن میں مدینہ پہنچے اور امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام نے بھی معاف کر دیا اور ملاقات کا وقت دے کر گفتگو فرمائی۔

عیون المعجزات ص 123

شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظمEpisode  # 12امام  کاظم (ع)کے انمول فرامین:•۔ صالح افراد کے ساتھ اٹھنا بی...
06/02/2024

شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظم
Episode # 12
امام کاظم (ع)کے انمول فرامین:

•۔ صالح افراد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود کی طرف دعوت دیتا ہے۔ علماء کا ادب کرنا عقل میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

•۔ جو شخص اپنے غیظ و غضب کو لوگوں سے روکے تو قیامت میں خدا اس کو اپنے غضب سے محفوظ رکھے گا۔

•۔ معرفت الٰہی کے بعد جو چیزیں انسان کو سب سے زیادہ خداوند سے نزدیک کرتی ہیں وہ نماز ،والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ، حسد نہ کرنا، خود پسندی سے پرہیز کرنا، فخر و مباہات سے اجتناب کرنا ہے۔

•۔ مخلوقات کا نصب العین اطاعت پروردگار ہے۔ اطاعت کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ اطاعت علم کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ علم عقل کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ علم تو بس عالم ربانی کے پاس ہے۔ عالم کی معرفت اس کی عقل کے ذریعہ سے ہے۔

•۔ تمھارے نفس کی قیمت تو بس جنت ہے۔ بس اپنے کو جنت کے علاوہ کسی اور سے نہ فروخت کرو۔

•۔ نعمت اس شخص کے پاس رہتی ہے جو میانہ روی اور قناعت کو اپناتا ہے، اور جو شخص بے جا مصرف اور اسراف کرتا ہے، تو اس سے نعمت دور ہو جاتی ہے۔

•۔ امانت داری اور سچائی رزق مہیا کرتے ہیں۔ خیانت اور جھوٹ فقر اور نفاق پیدا کرتے ہیں۔

•۔ عاقل وہ ہے جسے رزق حلال شکر سے باز نہیں رکھتا اور نہ کبھی حرام اس کے صبر پر غالب آتا ہے۔

•۔ علی بن یقطین سے فرماتے ہیں کہ : ظالم بادشاہ کی نوکری کرنے کا کفارہ یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان کرو۔

•۔ جو شخص حمد و ثنائے پروردگار اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے بغیر دعا مانگتا ہے وہ بالکل اس شخص کے مانند ہے جو بغیر ہدف کے تیر چلائے۔

•۔ غور و فکر کرنا نصف راحت ہے اور لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے کیوںکہ لوگ تمھیں تمھارے عیوب سے آگاہ کریں گے، اور یہی لوگ تمھارے حقیقی مخلص ہیں۔

•۔ وہ شخص ہم سے نہیں ہے ( ہمارا دوست نہیں ہے ) جو اپنی دنیا کو دین کے لیے ترک کر دے یا اپنے دین کو دنیا کے خاطر ترک کر دے۔

•۔ وہ برتر چیزیں جو خدا سے بندہ کی قربت کا سبب بنتی ہیں وہ خدا کی معرفت کے بعد نماز ، والدین سے نیکی ، ترک حسد ، و خود پسندی و عُجُب ہے۔

•۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ: خوش اخلاق اور سخی انسان ہمیشہ خدا کی پناہ میں ہے۔ یہاں تک کہ خدا اسے ایک دن بہشت میں داخل کرے گا۔ دینداروں کے ساتھ ہمنشینی شرف دنیا و آخرت کا باعث ہے اور خیر خواہ عقلمند سے مشورت باعث سعادت و فلاح اور موجب برکت و توفیق الہی ہے۔

تحف العقول

چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا، مدینہ آیا اور امام موسی کاظم سے مسٔلہ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص میں خیال کرتا تھا کہ معاذ اللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینۃ العلم ہیں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کی قران سے دلیل دیجیے امام نے فرمایا: خداوند سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب ! کہہ دو کہ میرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفی و اثم و ستم ناحق حرام قرار دیا ہے اور یہاں اثم سے مراد شراب ہے، امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوئے، بلکہ فرماتے ہیں کہ خداوند نیز سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے اے میرے حبیب ! لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں بہت عظیم گناہ ہیں، اسی وجہ سے شراب قرآن میں صریحاً حرام قرار دی گئی ہے۔ مہدی امام کے اس عالمانہ جواب سے بہت متأثر ہوا اور بے اختیار کہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا یہی سبب تھا کہ لوگوں کے قلوب پر امام کی حکومت تھی اگرچہ لوگوں کے جسموں پر حکمران حاکم تھے۔ ہارون کے حالات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ قبرِ رسول اللہ پر کھڑ ے ہو کر کہتا ہے کہ:

اے خدا کے رسول آپ پر سلام اے پسرِ عمّو آپ پر سلام، وہ یہ چاہتا تھا کہ میرے اس عمل سے لوگ یہ پہچان لیں کہ خلیفہ سرور کائنات کا چچازاد بھائی ہے۔ اسی وقت امام کاظم قبر پیغمبر کے نزدیک آئے اور فرمایا اے ﷲ کے رسول! آپ پر سلام، اے پدر بزرگوار! آپ پر سلام، ہارون امام کے اس عمل سے بہت غضبناک ہوا۔ فورا امام کی طرف رخ کر کے کہتا ہے، آپ فرزند رسول ہونے کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں؟ جب کہ آپ علی مرتضی کے فرزند ہیں۔ امام نے فرمایا تو نے قرآن کریم میں سورۂ انعام کی آیت نہیں پڑھی جس میں خدا فرماتا ہے قبیلۂ ابراہیم سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسی، ہارون، زکریا، یحیی، عیسی، اور الیاس یہ سب کے سب ہمارے نیک اور صالح بندے تھے ہم نے ان کی ہدایت کی اس آیت میں خداوند نے حضرت عیسی کو گزشتہ انبیاء کا فرزند قرار دیا ہے ۔حالانکہ عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت مریم کی طرف سے پیامبران سابق کی طرف نسبت دی ہے اس آیۂ کریمہ کی رو سے بیٹی کا بیٹا فرزند شمار ہوتا ہے ۔ اس دلیل کے تحت میں اپنی ماں فاطمہ کے واسطہ سے فرزند نبی ہوں۔ اس کے بعد امام فرماتے ہیں کہ اے ہارون! یہ بتا کہ اگر اسی وقت پیغمبر دنیا میں آ جائیں اور اپنے لیے تیری بیٹی کا سوال فرمائیں تو کیا تو اپنی بیٹی پیغمبر کی زوجیت میں دے گا یا نہیں ؟ ہارون برجستہ جواب دیتا ہے نہ صرف یہ کہ میں اپنی بیٹی کو پیغمبر کی زوجیت میں دونگا بلکہ اس کارنامے پر تمام عرب و عجم پر افتخار کرونگا۔ امام فرماتے ہیں کہ تو اس رشتے پر تو سارے عرب و عجم پر فخر کریگا لیکن پیامبر ہماری بیٹی کے بارے میں یہ سوال نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہماری بیٹیاں پیغمبر کی بیٹیاں ہیں اور باپ پر بیٹی حرام ہے۔ امام کے اس استدلال سے حاکم وقت نہایت پشیمان ہوا۔ امام موسی کاظم نے علم امامت کی بنیاد پر بڑے بڑے مغرور اور متکبر بادشاہوں سے اپنا علمی سکّہ منوا لیا تھا۔ امام قدم قدم پر لوگوں کی ہدایت کے اسباب فراہم کرتے رہے۔ چنانچہ جب ہارون نے علی بن یقطین کو اپنا وزیر بنانا چاہا اور علی بن یقطین نے امام موسی کاظم سے مشورہ کیا تو آپ نے اجازت دیدی، امام کا ہدف یہ تھا کہ اس طریقہ سے جان و مال و حقوق شیعیان محفوظ رہیں۔ امام نے علی بن یقطین سے فرمایا تو ہمارے شیعوں کی جان و مال کو ہارون کے شر سے بچانا ہم تیری تین چیزوں کی ضمانت لیتے ہیں کہ اگر تو نے اس عہد کو پورا کیا تو ہم ضامن ہیں۔ تم تلوار سے ہرگز قتل نہیں کیے جاؤ گے۔ ہرگز مفلس نہ ہو گے۔ تمہیں کبھی قید نہیں کیے جاؤ گے۔ علی بن یقطین نے ہمیشہ امام کے شیعوں کو حکومت کے شر سے بچایا اور امام کا وعدہ بھی پورا ہوا۔ نہ ہارون پسر یقطین کو قتل کر سکا۔ نہ وہ تنگدست ہوا۔ نہ قید ہوا۔ لوگوں نے بہت چاہا کہ فرزند یقطین کو قتل کرا دیا جائے لیکن ضمانتِ امامت، علی بن یقطین کے سر پر سایہ فگن تھی ۔ چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ ہارون نے علی بن یقطین کو ایک قیمتی شاہی لباس دیا، علی بن یقطین نے اس لباس کو امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں پیش کر دیا مولا یہ آپ کی شایانِ شان ہے۔ امام نے اس لباس کو واپس کر دیا اے علی ابن یقطین اس لباس کو محفوظ رکھو یہ برے وقت میں تمہارے کام آئے گا، ادھر دشمنوں نے بادشاہ سے شکایت کی کہ علی ابن یقطین امام کاظم کی امامت کا معتقد ہے یہ ان کو خمس کی رقم روانہ کرتا ہے یہاں تک کہ جو لباس فاخرہ تو نے علی ابن یقطین کو عنایت کیا تھا وہ بھی اس نے امام کاظم کو دے دیا ہے۔ بادشاہ سخت غضب ناک ہوا اور علی ابن یقطین کے قتل پر آمادہ ہو گیا فورا علی ابن یقطین کو طلب کیا اور کہا وہ لباس کہاں ہے جو میں نے تمہیں عنایت کیا تھا؟ علی ابن یقطین نے غلام کو بھیج کر لباس، ہارون کے سامنے پیش کر دیا ہارون بہت شرمندہ ہوا، یہ ہے تدبیر امامت اور علم امامت۔

مطالب السول ص 279

نورالابصارص 135

شواہدالنبوت ص 193

صواعق محرقہ ص 121

ارجح المطالب ص 452



حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی بعض کرامات:

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ عیسی مدائنی حج کے لیے گئے اور ایک سال مکہ میں رہنے کے بعد وہ مدینہ چلے گئے ان کا خیال تھا کہ وہاں بھی ایک سال گزاریں گے، مدینہ پہنچ کر انہوں نے جناب ابوذر کے مکان کے قریب ایک مکام میں قیام کیا۔

مدینہ میں ٹہرنے کے بعد انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کے ہاں آنا جانا شروع کیا، مدائنی کا بیان ہے کہ ایک شب بارش ہو رہی تھی اور میں اس وقت امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا، تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایا کہ اے عیسی تم فورا اپنے مکان چلے جاؤ کیونکہ ”انہدم البیت علی متاعک“ تمہارا مکان تمہارے گھر کے سامان پر گر گیا ہے اور لوگ سامان نکال رہے ہیں یہ سن کر میں فورا مکان کی طرف گیا، دیکھا کہ گھر گر چکا ہے اور لوگ سامان نکال رہے ہیں، دوسرے دن جب حاضر ہوا تو امام علیہ السلام نے پوچھا کہ کوئی چیز چوری تو نہیں ہوئی ، میں نے عرض کی صرف ایک طشت نہیں ملتا جس میں وضو کیا کرتا تھا، آپ نے فرمایا وہ چوری نہیں ہوا، بلکہ انہدام مکان سے پہلے تم اسے بیت الخلاء میں رکھ کر بھول گئے ہو، تم جاؤ اور مالک کی لڑکی سے کہو، وہ لا دے گی، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور طشت مل گیا۔

نور الابصار ص 135

علامہ جامی تحریر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک صحابی کے ہمراہ سو دینارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں بطور نذر ارسال کیے وہ اسے لے کر مدینہ پہنچا، یہاں پہنچ کر اس نے سوچا کہ امام کے ہاتھوں میں اسے جانا ہے لہذا پاک کر لینا چاہیے وہ کہتا ہے کہ میں نے ان دیناروں کو جو امانت تھے شمار کیا تو وہ نناوے تھے میں نے ان میں اپنی طرف سے ایک دینار شامل کر کے سو پورا کر دیا، جب میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا سب دینار زمین پر ڈال دو، میں نے تھیلی کھول کر سب زمین پر نکال دئیے ، آپ نے میرے بتائے بغیر اس میں سے میرا وہی دینار جو میں نے ملایا تھا مجھے دیدیا اور فرمایا بھیجنے والے نے عدد کا لحاظ نہیں کیا بلکہ وزن کا لحاظ کیا ہے جو 99 میں پورا ہوتا ہے۔

ایک شخص کا کہنا ہے کہ مجھے علی بن یقطین نے ایک خط دے کر امام علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا، میں نے حضرت کی خدمت میں پہنچ کر ان کا خط دیا، انہوں نے اسے پڑھے بغیر آستین سے ایک خط نکال کر مجھے دیا اور کہا کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا یہ جواب ہے۔

شواہد النبوت ص 195

ابو بصیر کا بیان ہے کہ امام موسی کاظم علیہ السلام دل کی باتیں جانتے تھے اور ہر سوال کا جواب رکھتے تھے ہر جاندار کی زبان سے واقف تھے۔

روائح المصطفی ص 162

ابوحمزہ بطائنی کا کہنا ہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت کے ساتھ حج کو جا رہا تھا کہ راستے میں ایک شیر برآمد ہوا، اس نے آپ کے کان میں کچھ کہا آپ نے اس کو اسی کی زبان میں جواب دیا اور وہ چلا گیا ہمارے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس نے اپنی شیرنی کی ایک تکلیف کے لیے دعا کی خواہش کی، میں نے دعا کر دی ہے اور اب وہ واپس چلا گیا ہے۔

تذکرة المعصومین ص 193

جب بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے چغہ دیکھ لیا،تواس کاغصہ ٹھنڈاہوا، اورخوش ہوکرکہنے لگا، کہ اب میں تمہارے بارے میں کسی کی کوئی بات نہ مانوں گا۔

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ پھر اس کے بعد رشید نے اور بہت سے عطیے دے کر انہیں عزت و احترام کے ساتھ واپس کر دیا اور حکم دیا کہ چغلی کرنے والے کو ایک ہزار کوڑے لگائے جائیں چنانچہ جلادوں نے مارنا شروع کیا اور وہ پانچ سو کوڑے کھا کر مر گیا۔

بحار الانوار ص 130

شواہد النبوت ص 194

شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظمEpisode  # 11علی بن یقطین کا ماجرا:ہارون عباسی کے دربار میں امام موسی کاظ...
06/02/2024

شہادت عبد صالح، باب الحوائج حضرت امام موسی کاظم
Episode # 11
علی بن یقطین کا ماجرا:

ہارون عباسی کے دربار میں امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوسرے صحابی "علی بن یقطین" تھے۔ وہ کئی بار امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تا کہ عباسی بادشاہ کے دربار سے اپنا تعلق منقطع کریں، لیکن امام علیہ السلام انہیں اجازت نہیں دے رہے تھے، کیونکہ امام علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حقیقی حبدار ہيں۔ ایک بار وہ اسی نیت سے امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہارون کے دربار سے استعفاء دینے کی اجازت مانگی تو امام علیہ السلام نے شفقت کے ساتھ فرمایا: ایسا مت کرو۔ ہم آپ کو پسند کرتے ہيں اور آپ کو دوست رکھتے ہیں، ہارون کے دربار میں تمہاری ملازمت تمہارے بھائیوں کی مشکلات حل کرنے کا سبب ہے، امید ہے کہ خداوند متعال تمہاری وجہ سے پریشانیاں برطرف فرمائے گا اور ان کی دشمنیوں اور سازشوں کی آگ کو ٹھنڈا کرے گا۔

علی بن یقطین جو امام علیہ السلام کا کلام قطع نہيں کرنا چاہتے گویا سراپا توجہ بن کر سن رہے تھے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اے علی بن یقطین! جان لو کہ ظالموں کے دربار میں ملازمت کا کفارہ محرمین کا حق لینا ہے۔ تم مجھے ایک چیز کی ضمانت دو میں تمہیں تین چیزوں کی ضمانت دوں گا، تم وعدہ کرو کہ جب بھی کوئی مؤمن تم سے رجوع کرے گا، تم اس کی ہر حاجت اور ہر ضرورت پوری کرو گے، اس کا حق اس کو دلاؤ گے اور اس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آؤ گے۔ میں بھی ضمانت دیتا ہوں کہ تم کبھی بھی گرفتار نہ ہو گے، ہرگز دشمن کی تلوار سے قتل نہ کیے جاؤ گے اور کبھی بھی تنگدستی اور غربت کا سے شکار نہ ہو گے۔

جان لو کہ جو بھی مظلوم کا حق اس کو دلائے اور اس کے دل کو خوش کرے، سب سے پہلے خداوند متعال اور پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور پھر آئمہ علیہم السلام اس سے راضی اور خوشنود ہوں گے۔



علم و دانش کا خورشید جہانتاب:

امام موسی کاظم علیہ السلام دوسرے آئمہ معصومین (ع) کی طرح آسمان دانش پر خورشید عالمتاب کی مانند پرتو افگن تھے۔ تمام علمی مسائل کا احاطہ اور کامل و شامل جواب، آپ (ع) کے علمی مقام و منزلت کے ہزاروں نکتوں میں سے ایک تھا۔

"بریہہ" نامی عیسائی عالم اس زمانے کے عیسائیوں کے لیے فخر و اعزاز کا سرمایہ سمجھا جاتا تھا، وہ کچھ عرصے سے اپنے عقائد میں تردد کا شکار ہو چکا تھا اور حقیقت کی تلاش میں مصروف تھا، اور اس سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا کرتا تھا۔

کبھی کبھی مسلمانوں کے ساتھ اپنے ذہنی سوالات کے بارے میں بحث بھی کرنے لگتا تھا، لیکن پھر بھی محسوس کرتا تھا کہ گویا اسے اس کے سوالات کا جواب نہيں مل سکا ہے اور جو کچھ وہ چاہتا ہے، اس کو کہیں اور تلاش کرنا چاہیے۔

ایک دن بریہہ کچھ شیعہ افراد سے ملا تو انھوں نے انہیں امام صادق علیہ السلام کے شاگر ہشام بن حَکَم کا پتہ دیا جو علم عقائد کے زبردست استاد تھے۔ ہشام کی کوفہ میں دکان تھی اور بریہہ بعض عیسائی دوستوں کے ہمراہ ان کی دکان پر پہنچے، جہاں ہشام چند افراد کو قرآن سکھا رہے تھے۔ دکان میں داخل ہوئے اور آنے کا مقصد بیان کیا۔

بریہہ نے کہا: میں نے بہت سے مسلمان دانشوروں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کیے ہیں لیکن کسی نتیجے پر نہيں پہنچ سکا ہوں! اب میں آیا ہوں کہ آپ کے ساتھ اعتقادی مسائل کے بارے میں بات چیت کروں۔

ہشام نے گشادہ روئی کے ساتھ کہا: اگر آپ مجھ سے حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کی توقع رکھتے ہیں تو میرے پاس وہ طاقت نہیں ہے۔

ہشام نے مزاحیہ انداز میں بات کا آغاز کیا تو اس کا اثر مثبت ثابت ہوا اور بریہہ نے ابتداء میں اسلام کی حقانیت کے بارے میں بعض سوالات پوچھے اور ہشام نے اپنی قوت اور علم و دانش کی حد تک صبر اور حوصلے کے ساتھ جواب دیا اور اس کے بعد ہشام کی باری آئی تو انھوں نے بھی چند سوالات اٹھائے لیکن بریہہ بے بس ہو گیا اور اطمینان بخش جواب نہ دے سکا۔

بریہہ کو گویا وہ آدمی مل چکا تھا، جس کی اسے ضرورت تھی چنانچہ دوسرے دن بھی ہشام کی دکان پر گیا، لیکن اس بار وہ تنہا تھا اور ہشام سے پوچھا: اتنی قابلیت اور دانائی کے باوجود بھی کیا آپ کے استاد ہیں ؟

ہشام نے کہا: بے شک میرے استاد ہيں۔

بریہہ نے کہا: وہ کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں اور ان کا پیشہ کیا ہے ؟

ہشام نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے برابر میں بٹھایا اور امام صادق علیہ السلام کی منفرد اخلاقی خصوصیات اس کے لیے بیان کیں۔ انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے نسب، بخشش، علم و دانش، شجاعت اور عصمت کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور پھر بریہہ کے قریب ہو کر کہا: "اے بریہہ! خدا نے اپنی جو بھی حجت گذشتہ لوگوں کے لیے آشکار فرمائی ہے، ان لوگوں کے لیے بھی آشکار فرماتا ہے جو ان کے بعد آنے والے ہیں اور خدا کی زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہيں ہوتی۔ ہشام نے انہیں بتایا کہ ان کے استاد حضرت امام صادق علیہ السلام مدینہ منورہ میں سکونت پذیر ہیں۔

بریہہ اس روز سراپا سماعت تھا اور ہمہ تن گوش، ان کو آج تک اتنی دلچسپ باتیں سننے کو نہيں ملی تھیں چنانچہ سن رہا تھا اور ذہن نشین کر رہا تھا۔ بریہہ گھر لوٹا تو بہت خوش تھا اور نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی بیوی کو آواز دی کہ جلدی سے مدینہ کے سفر کے لیے تیار ہو جاؤ، ہشام بن حکم نے بھی اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔ سفر بہت دشوار اور مشکل تھا لیکن امام کے دیدار کی امید سختیوں کو آسان کر رہی تھی۔ آخر کار سب مل کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور فوری طور پر امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

امام علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے سے قبل، انہیں امام موسی کاظم علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوئی۔ ہشام نے بریہہ کے ساتھ اپنی شناسائی کا ماجرا کہہ سنایا تو امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا: تم اپنے دین کی کتاب (انجیل) سے کس قدر واقف ہو ؟

بریہہ نے کہا: انجیل سے آگاہ ہوں۔

امام کاظم (ع) نے فرمایا: آپ کس قدر مطمئن ہیں کہ تم نے اس کے معانی کو صحیح طرح سے سمجھ لیا ہے ؟

بریہہ نے کہا: میں بہت زيادہ مطمئن ہوں کہ میں نے اس کے معانی کو درست سمجھ لیا ہے۔

امام کاظم علیہ السلام نے انجیل کے بعض کلمات بریہہ کے لیے بیان کیے۔ بریہہ یہ دیکھ کر کلام امام (ع) کا شیدائی ہو گیا اور زمان و مکان کو بھول گیا اور یہ بھی بھول گیا کہ اس نے اتنا لمبا راستہ طے کیا ہے۔ امام علیہ السلام کے کلام مبارک سے اس قدر متأثر ہوا اور اسلام کی عظمت اور حقانیت اس قدر اس کے لیے آشکار ہوئی کہ بحث کو جاری رکھنے اور مزید سوالات پوچھنے اور جوابات میں بہانے تراشی کرنے کی بجائے اپنے باطل عقائد کو ترک کر کے مسلمان ہو گیا۔ بریہہ کے اسلام لانے کی خاص بات یہ تھی کہ ابھی اس زمانے کے امام حضرت جعفر بن محمد صادق علیہ السلام کی خدمت میں نہيں پہنچا تھا کہ آپ ( ع) کے نوجوان فرزند امام ہفتم حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے ہاتھوں دلیل و برہان کے ساتھ مسلمان ہو گیا تھا۔

بریہہ نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کے بعد کہا: میں پچاس برسوں سے آپ کی طرح کے آگاہ فرد، حقیقی عالم اور دانشمند استاد کی تلاش میں ہوں۔

فرزند رسول حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تقریبا" 35 سال مسند امامت پر فائز رہے مگر اس میں سے بیشتر حصہ قید و بند میں گزارا یا پھر جلا وطن رہے۔ یہ حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے زمانے میں اہل بیت علیہم السلام کے سلسلے میں عباسی حکمرانوں کی سختیاں اور دشمنی کس قدر شدت اختیار کر گئی تھی جس چیز نے فرزند رسول حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو اپنے دور کے حالات کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کیا۔ وہ مسلمانوں پر حکمفرما فاسد سیاسی اور سماجی نظام تھا۔ عباسی حکمرانوں نے حکومت کو موروثی اور آمرانہ نظام میں تبدیل کر دیا تھا۔ ان کے محل بھی حکمرانوں کے لہو و لعب اور عیش و نوش و شراب و کباب کا مرکز بن گئے تھے اور ان بے پناہ دولت و ثروت کا خزانہ تھے جو انہوں نے لوٹ رکھے تھے۔ جبکہ مفلس و نادار طبقہ غربت ، فاقہ کشی اور امتیازی سلوک کی سختیاں جھیل رہا تھا۔ اس صورتحال میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام لوگوں کی سیاسی اور سماجی آگاہی و بصیرت میں اضافہ فرماتے اور بنی عباس کے حکمرانوں کی روش کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے، دوسری طرف ہارون الرشید اس بات کی اجازت نہيں دیتا تھا کہ لوگ امام کے علم و فضل کے بحر بیکران سے فیضیاب ہوں اور وہ اس سلسلے میں لوگوں پر سختیاں کرتا تھا، لیکن ہارون الرشید کی ان سختیوں کے جواب میں امام کا ردعمل قابل غور تھا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہر مناسب وقت سے فائدہ اٹھا کر خداوند عالم کے حضور نماز و نیایش اور تقرب الہی میں مصروف ہو جاتے۔ آپ پر جتنا بھی ظلم و ستم ہوتا وہ صبر اور نماز سے سہارا لیتے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہر حال میں صبر و شکر ادا کرتے بصرہ کا زندانباں عیسی بن جعفر کہتا ہے کہ:

میں نے بہت کوشش کی کہ امام پر ہر لحاظ سے نظر رکھوں یہاں تک کہ چھپ چھپ کر ان کی دعاؤں اور نیایش کو سنتا تھا مگر وہ فقط درگاہ خداوند سے طلب رحمت و مغفرت کرتے اور وہ اس دعا کی بہت زيادہ تکرار فرماتے تھے:

خدایا تو جانتا ہے کہ میں تیری عبادت کے لیے ایک تنہائی کی جگہ چاہتا تھا اور اب جبکہ تو نے ایک ایسی جگہ میرے لیے مہیا کر دی ہے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔

فرزند رسول امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے ایک مقام پر فرماتے ہیں کہ: عرش الہی پر ایک سایہ ہے جہاں ایسے لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے اپنے بھائیوں کے حق میں نیکی اور بھلائی کی ہو گی، یا مشکلات میں ان کی مدد کی ہو گی۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کا روز مرہ کا ایک معمول محتاجوں اور ناداروں کی خبر گیری کرنا تھا۔

اہل بیت علیہم السلام کی نگاہ میں مال و دولت اور مادی وسائل ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے رضائے پروردگار حاصل کی جا سکتی ہے۔

شیخ مفید علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ: امام موسی کاظم علیہ السلام رات کی تاریکیوں میں نکل کر شہر مدینہ کے غریبوں ، محتاجوں اور ناداروں کی دلجوئی فرماتے اور ان کے گھروں کو جا کر انہیں اشیاء ، خوراک اور نقد رقوم فراہم کرتے کیا کرتے تھے۔

امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار حضرت امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد اپنے دور کے سب سے زیادہ بافضل اور عالم شخصیت تھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی کے جواب میں اپنے فرزند امام موسی کاظم کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

میرا بیٹا موسی کاظم (ع) علم و فضل کے اس درجہ کمال پر فائز ہے کہ اگر قرآن کے تمام مطالب و مفاہیم اس سے پوچھو تو وہ اپنے علم و دانش کے ذریعے انتہائی محکم اور مدلّل جواب دے گا۔ وہ حکمت و فہم و معرفت کا خزانہ ہے۔

تاريخ میں منقول ہے کہ: تقریبا" 300 افراد نے امام موسی کاظم (ع) سے حدیث نقل کی ہے جن میں سے بعض راویوں کا نام اعلی درجے کے علماء میں لیا جاتا ہے۔

Address

Dhok Bhakkar

Telephone

+923336845853

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of SHIA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Voice of SHIA:

Share