Informative Videos

Informative Videos Friends we are going to literate MUSLIMS by the teachings of QURAN and HADEES.

so please like this page and spread the link of this page to among all your groups.

06/01/2023

اگر نکاح کے قیمت 12 لاکھ
اور زنا کا قیمت 1 ہزار ہو تو لوگ نکاح نہیں زنا کرینگے
(کڑواہ سچ)

05/07/2021

👈 *حجاج بن یوسف کی دردناک موت* 👉
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوئی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ، طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قرآن پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اس نے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا..ایک طرف موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود الله کے بندوں،اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گئی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ۔ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت سعید بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاؤں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ہوئی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ہل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سب کو محفوظ رکھے..!! آمین"؛
_سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں_
_ایک بار درودشریف پڑھنے سے_
_ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتے ہیں
*┅┄┈•※ ͜✤۝✤͜※┅┄┈•۔*
*┊ ┊ ┊ ┊ ۔*
*┊ ┊ ┊ ☽۔*
*┊ ┊ ☆۔*
*☆ ☆۔*

11/06/2021

تمام لڑکوں سے معذرت کے ساتھ، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے
۔
شادی سے پہلے کسی لڑکی سے محبت تھی کیونکہ وہ بہت اچھی اور نیک لڑکی تھی.. شادی سے پہلے بیوی کو کوئی پسند کرتا تھا تو بیوی بد کردار..؟
طوائف بدکردار لیکن اس کے پاس روز جانے والا عزت دار..؟
*کوئی لڑکی کسی لڑکے کی باتوں میں آکر گھر چھوڑ دے تو لڑکا یہ کہہ کر اسے چھوڑ دیتا ہے کہ جب ماں باپ کی نہ ہوئی تو میری کیا ہوگی.. جب مرد اپنی بیوی کی باتوں میں آ کر ماں کی بے عزتی کرتا ہے اور اسکو گھر سے نکال دیتا ہے تو وہ اچھا شوہر کہلاتا ہے..؟
کوئی لڑکی کسی لڑکے سے فون پر باتیں کرتی ہے اور وہ ریکارڈ کر کے دوستوں کو سناتا ہے تو لڑکی بری اور وہ سب عزت دار.. ؟
کوئی کافر کسی مسلمان عورت پر ظلم کرے تو وہ شیطان.. خود ہزاروں مسلمان لڑکیوں سے فلرٹ کریں زنا کر کے تیزاب سے جلا کر قتل کردیں تو وہ لڑکیاں بدکار..؟
خود کسی لڑکی کی تصویر پر آیٹم، ظالم، قیامت کے کمنٹس دیں گے.. بازار میں نظر آجائے تو بھوکی نظروں سے دیکھیں گے.. کل کو وہی کسی اور کی حوس کا نشانہ بن جائے تو ہر جگہ اس آدمی کو کوستے پھریں گے.. ؟
ہم تو مسلمان ہیں. اسلام تو زنا کی سزا دونوں کو دیتا ہے پھر کیوں ہمارے
اسلامی معاشرے میں سزا ایک کو ملتی ہے اور دوسرا باعزت بری ہوجاتا ھے؟
میں مردوں کے خلاف نہیں ہوں. مجھے ناانصافی اور منافقت سے نفرت ہے....
تم میں سے کوئی اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے....
دنیا کی ساری دلیلیں جواز، وکالتیں تو ہم اپنی ذات کے لئے رکھتے ہیں. مگر ساری سزائیں دوسروں کے لئے منتخب کرتے ہیں...
ہم ایسے تو نہ تھے. تو پھر اب کیوں ہوگئے؟
مجھے معلوم ہے بہت کم لوگ اس پر مثبت انداز میں سوچیں گے....
خیر کوئی تو سوچے گا.
کوئی تو منافقت چھوڑے گا.
کوئی ایک تو کوشش کرے گا اپنے آپ سے سچ بولنے کی....
کوئی ایک تو دونوں کو سزا دینے یا انصاف کرنے کا سوچے گا.

رسول محتشمﷺ نے کیوں فرمایا کہ ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالا کرو، وجہ جان کر لاکھوں غیر مسلم مسلمان ہو گئے ، سبحان اللہ میرے آق...
11/06/2021

رسول محتشمﷺ نے کیوں فرمایا کہ ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالا کرو، وجہ جان کر لاکھوں غیر مسلم مسلمان ہو گئے ، سبحان اللہ میرے آقا ﷺ

میں نے برسوں پہلے انگریزی کی کسی طبی کتاب میں بہترین زندگی کے چالیس بہترین اصول پڑھے تھے‘ میں نے وہ صفحات کاپی کر کے اپنے پاس رکھ لئے‘ میں گاہے بگاہے یہ صفحات نکال کر پڑھتا رہتا تھا‘ میں ان اصولوں پر عمل کی کوشش بھی کرتا تھا‘ میں نے دس سال قبل تفاسیر اور احادیث کا مطالعہ شروع کی

ا تو پتہ چلا یہ چالیس اصول دنیا کے کسی طبی ادارے یا یورپ اور امریکا کے کسی سیلف ہیلپ انسٹی ٹیوٹ نے ڈویلپ نہیں کئے‘ یہ تمام اصول ہمارے پیارے رسولؐ کی حیات طیبہ کا نچوڑہیں‘ یہ سیرت البنیؐ سے اخذ کئے گئے ہیں‘ ہمارے رسولؐ نے پوری زندگی اپنے اصحابؓ کو ان اصولوں کی ٹریننگ دی‘ آپؓ کے صحابہ کرامؓ بہترین زندگی کے ان چالیس بہترین اصولوں کی چلتی پھرتی تصویر تھے‘ میں نے اس دن سے ان اصولوں پر عبادت کی طرح عمل شروع کر دیا‘ گو میں ابھی تک ان پر مکمل عملدرآمد نہیں کر سکا لیکن مجھے یقین ہے اللہ تعالیٰ میری توفیق میں ضرور اضافہ کرے گا اورمیں کسی نہ کسی دن آپؐ کے وضع کردہ ان اصولوں پر عمل میں کامیاب ہو جاؤں گا‘ یہ چالیس اصول کیا ہیں‘ آپ وہ اصول اور ان اصولوں کی جدید سائنسی توجہیات ملاحظہ کیجئے‘ مجھ سے اگر تشریح میں کوئی غلطی ہو جائے تو مجھے معاف کر دیجئے گا‘ میرے لئے دعا بھی فرمائیے گا۔آپؐ نے فرمایا فجر اور اشراق‘ عصر اور مغرب اور مغرب اور عشاء کے دوران سونے سے باز رہا کرو۔ اس فرمان میں بے شمار طبی حکمتیں پوشدہ ہیں‘ مثلاً آج میڈیکل سائنس نے ڈسکور کیا کرہ ارض پر فجر اور اشراق کے دوران آکسیجن کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے‘ ہم اگر اس وقت سو جائیں تو ہم اس آکسیجن سے محروم ہو جاتے ہیں اور یوں ہماری طبیعت میں بوجھل پن آ جاتا ہے‘ ہم آہستہ آہستہ چڑچڑے اور بیزار ہو جاتے ہیں‘ عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء کے درمیان بھی آکسیجن کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے‘ ہم اگراس وقت بھی سو جائیں تو ہمارا جسم آکسیجن کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور ہم دس مہلک بیمایوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں‘ دمہ بھی ان دس بیماریوں میں شامل ہے چنانچہ آپ یہ اوقات جاگ کر گزاریں‘آپ پوری زندگی صحت مند رہیں گے‘ میرا تجربہ ہے ہم اگر ان تین اوقات میں واک کریں تو ہماری طبیعت میں بشاشیت آ جاتی ہے۔

آپؐ نے فرمایا‘بدبودار اور گندے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔یہ حکم بھی حکمت سے لبالب ہے‘ بدبو انسان کو ڈپریس کرتی ہے جبکہ خوشبو ہماری توانائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے‘ انسان اگر روزانہ دس منٹ بدبو دار اور گندے لوگوں میں بیٹھنا شروع کر دے تو یہ بیس دنوں میں ڈپریشن کا شکار ہو جائے گا‘ ہمارے رسولؐ نے ہمیں شاید اسی لئے بدبودار لوگوں سے پرہیز کا حکم دیا‘آپ بھی یہ کر کے دیکھیں آپ کا مزاج بدل جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا ان لوگوں کے درمیان نہ سوئیں جو سونے سے قبل بری باتیں کرتے ہیں۔ یہ فرمان بھی حکمت کے عین مطابق ہے‘ آج سائنس نے ڈسکور کیا نیند سے قبل ہماری آخری گفتگو ہمارے خوابوں کا موضوع ہوتی ہے اور یہ خواب ہمارے اگلے دن کا موڈ طے کرتے ہیں‘ ہم اگر برا سن کر سوئیں گے تو ہم برے خواب دیکھیں گے اور ہمارے برے خواب ہمارے آنے والے دن کا موڈ بن جائیں گے‘ ہم خوابوں کے طے کردہ موڈ کے مطابق دن گزارتے ہیں چنانچہ نیند سے قبل ہماری آخری محفل اچھی ہونی چاہیے‘ہمارا اگلا دن اچھا گزرے گا۔ فرمایا تم بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔یہ فرمان بھی عین سائنسی ہے‘
ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں‘ دایاں اور بایاں‘ دایاں حصہ مثبت اور بایاں منفی ہوتا ہے‘ ہم جب اپنے جسم کو دائیں ہاتھ سے ”فیڈ“ کرتے ہیں تو ہماری مثبت سوچ مضبوط ہوتی ہے اور ہم جب اپنے بدن کو بائیں ہاتھ سے کھلاتے ہیں تو ہماری منفی سوچ طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے‘ آپ مشاہدہ کر لیں آپ کو بائیں ہاتھ سے کھانے والے اکثر لوگ منفی ملیں گے‘ یہ آپ کو ہمیشہ شکوہ شکایت‘ غیبت اور دوسروں کو نقصان پہنچاتے نظر آئیں گے۔ فرمایا منہ سے کھانا نکال کر نہ کھاؤ۔یہ فرمان بھی سائنس سے درست ثابت ہوتا ہے‘

ہمارے منہ میں دس کروڑ سے ایک ارب تک بیکٹیریا ہوتے ہیں‘ یہ بیکٹیریا مہلک جراثیم بن جاتے ہیں‘یہ جراثیم ہمارے کھانے میں مل جاتے ہیں‘ یہ کھانا معدے میں جاتا ہے تو معدے کے غدود ان جراثیم کو مار دیتے ہیں یوں یہ ختم ہو جاتے ہیں لیکن جب ہم جراثیم ملے کھانے کو منہ سے نکال لیتے ہیں تو ان جراثیم کو آکسیجن مل جاتی ہے‘ یہ آکسیجن سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ان جراثیم کی تعداد کھربوں تک پہنچا دیتی ہے‘ یہ جراثیم معدے کے غدودوں سے بھی طاقتور ہوتے ہیں‘ ہم جب منہ سے نکلے لقمے کو دوبارہ منہ میں رکھتے ہیں تو یہ لقمہ معدے میں پہنچ کر زہر بن جاتا ہے اور یہ زہر ہمارے پورے نظام ہضم کو تباہ کر دیتا ہے‘ آپ کو زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص صحت مند نہیں ملے گا جسے منہ سے لقمہ نکال کر کھانے کی عادت ہو جبکہ آپ کو ہونٹ بھینچ کر اور آواز پیدا کئے بغیر کھانے والے لوگ ہمیشہ صحت مند ملیں گے۔ہمارے رسول ؐ نے فرمایا ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالا کرو۔ سائنس کا کہنا ہے ہم میں سے جو لوگ انگلیوں کے کڑاکے نکالتے رہتے ہیں ان کے جوڑ کھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ جلد آرتھریٹس کا شکار ہو جاتے ہیں‘ یہ جوڑوں کے درد کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ فرمایا جوتا پہننے سے قبل اسے جھاڑ لیا کرو۔ہماری زندگی کے عام واقعات میں کیڑے مکوڑے‘ بچھو‘ چھپکلیاں‘ چھوٹے سانپ اور بھڑیں ہمارے جوتوں میں پناہ لے لیتی ہیں‘ ہمارے بچے بھی جوتوں میں کیل‘ کانٹے اور بلیڈ پھینک دیتے ہیں چنانچہ ہم جب جوتا پہنتے ہیں تو ہمارے پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں یا پھر ہمیں کیڑے مکوڑے کاٹ لیتے ہیں لہٰذا جوتا پہننے سے قبل اسے جھاڑ لینا ہمیشہ فائدہ مند رہتا ہے۔ فرمایا نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو‘یہ فرمان بھی درست ہے‘

آسمان میں ایک وسعت ہے‘ یہ وسعت ہمیشہ ہماری توجہ کھینچ لیتی ہے‘ ہم جب بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ہماری توجہ بٹ جاتی ہے‘ہمیں توجہ واپس لانے میں ٹھیک ٹھاک وقت لگتا ہے‘ نماز کیلئے یکسوئی درکار ہوتی ہے‘ ہم جب نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہم سجدے اور رکوع بھول جاتے ہیں چنانچہ حکم دیا گیا نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو‘ یہ فارمولہ تخلیقی کاموں کیلئے بھی اہم ہے‘ اگر لکھاری لکھتے‘ مصور تصویر بناتے اور موسیقار دھن بناتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ لے تو اس کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے‘
یہ اپنا کام مکمل نہیں کر پاتا شاید یہی وجہ ہے دنیا کا زیادہ تر تخلیقی کام بند کمروں میں مکمل ہوا‘ یہ کھلی فضا میں پروان نہیں چڑھا‘ بیتھون کی سمفنیاں ہوں‘ ڈاونچی کا لاسٹ سپر ہو یا پھر ٹالسٹائی کا وار اینڈ پیس دنیا کا ہر ماسٹر پیس بند کمرے میں تخلیق ہوا‘ آپ تخلیق کا آئیڈیا لینا چاہتے ہیں تو آپ کھلے آسمان کے نیچے کھلی فضا میں واک کریں‘ آپ آئیڈیاز سے مالا ہول ہو جائیں گے لیکن آپ اگر ان آئیڈیاز پر کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کمرے میں بند ہو جائیں‘ آپ کمال کر دیں گے‘ آپ کو انبیاء‘ اولیاء اور بزرگان دین بھی بند غاروں میں مراقبے کرتے ملیں گے‘ یہاں تک کہ مہاتما بودھ کو نروان بھی ایک ایسے درخت کے نیچے ملا تھا جس سے آسمان دکھائی نہیں دیتا تھا‘ وہ درخت اتنا گھنا تھا کہ وہ بارش تک روک لیتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا رفع حاجت کی جگہ (ٹوائلٹ) مت تھوکو۔ یہ حکم اپنے اندر دو حکمتیں رکھتا ہے‘ ٹوائلٹ میں تھوکنے سے بعد میں آنے والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور دوسرا ٹوائلٹس میں لاکھوں قسم کے جراثیم بھی ہوتے ہیں‘

ہم جب تھوکنے کیلئے منہ کھولتے ہیں تو یہ جراثیم ہمارے منہ میں پہنچ جاتے ہیں‘ یہ ہمارے لعاب دہن میں پرورش پاتے ہیں‘یہ معدے اور پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں اورپھر یہ ہمیں بیمار کر دیتے ہیں‘ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی ہماری ناک جراثیم کو پھیپھڑوں تک نہیں جانے دیتی‘ ہماری ناک سے صرف کیمیکلز جسم میں داخل ہوتے ہیں‘ جراثیم زیادہ تر منہ سے بدن میں اترتے ہیں اور ان کا بڑا سورس ٹوائلٹس ہوتے ہیں چنانچہ آپ ٹوائلٹ میں لمبی لمبی سانس لینے‘ تھوکنے‘ گانا گانے‘ آوازیں دینے اورموبائل فون پر بات کرنے سے پرہیز کریں‘ آپ کی صحت اچھی رہے گی۔ آپؐ نے فرمایا لکڑی کے کوئلے سے دانت صاف نہ کرو۔ ہم میں سے بے شمار لوگ کوئلے سے دانت صاف کرتے ہیں‘ کوئلے سے ہمارے دانت وقتی طور پر چمک جاتے ہیں لیکن یہ بعد ازاں مسوڑے بھی زخمی کر دیتاہے‘ دانتوں کی جڑیں بھی ہلا دیتا ہے اور یہ منہ میں بو بھی پیدا کرتا ہے‘ لکڑی کا کوئلہ سیدھا سیدھا کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتا ہے‘ یہ ”ہائی جینک“ بھی نہیں ہوتا چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پرہیز کا حکم دیا۔ آپؐ نے فرمایا ہمیشہ بیٹھ کر کپڑے تبدیل کیا کرو۔ ہم میں سے اکثر لوگ شلوار‘ پتلون یا پائجامہ پہنتے وقت اپنی ٹانگ پھنسا بیٹھتے ہیں اور گر پڑتے ہیں‘ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں کبھی نہ کبھی اس صورتحال کا شکار ضرور ہوتا ہے بالخصوص ہم بڑھاپے میں شلوار یا پتلون بدلتے وقت ضرور گرتے ہیں‘ آپؐ نے شاید اس قسم کے حادثوں سے بچنے کیلئے یہ حکم جاری فرمایاتھا اور آپؐ نے فرمایا اپنے دانتوں سے سخت چیز مت توڑا کرو۔ ہم لوگ اکثر بادام‘ اخروٹ یا نیم پکا گوشت توڑنے کی کوشش میں اپنے دانت تڑوا بیٹھتے ہیں‘ دانت ایکٹو زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہوتے ہیں‘ آپؐ نے شاید اسی لئے دانتوں کو سخت چیزوں سے بچانے کا حکم دیا۔

01/05/2021

اَلْفَلَق:113 , آیت ﴿1-‐5﴾

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ(۱)مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ(۲)وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ(۳)وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ(۴)وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵)

ترجمہ

تم فرماؤ: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں ۔ اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔ اورسخت اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھاجائے۔ اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں ۔ اور حسد والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

تفسیر

{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ: تم فرماؤ: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں ۔} پناہ مانگنے میں اللّٰہ تعالیٰ کا اس وصف’’ صبح کے رب‘‘ کے ساتھ ذکر اس لئے ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ صبح پیدا کرکے رات کی تاریکی دور فرماتا ہے تو وہ ا س پر بھی قادر ہے کہ پناہ چاہنے والے سے وہ حالات دور فرما دے جن سے اسے خوف ہو، نیز جس طرح تاریک رات میں آدمی صبح طلوع ہونے کا انتظار کرتا ہے اسی طرح خوف زدہ آدمی امن اور راحت کا منتظر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ صبح مجبور ولاچار لوگوں کی دعاؤں کا اور ان کے قبول ہونے کا وقت ہے تواس آیت سے مراد یہ ہوئی کہ جس وقت کَرب اور غم والوں کو آسانیاں دی جاتی ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں ،میں اُس وقت کو پیدا کرنے والے کی پناہ چاہتا ہوں ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ’’ فَلق‘‘ جہنم میں ایک وادی ہے۔ (خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۲۹-۴۳۰)

{مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ: اس کی تمام مخلوق کے شر سے۔} اس آیت میں ہر مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے ،خواہ جاندار ہو یا بے جان، مُکَلّف ہو یا غیر مُکَلّف اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مخلوق سے مراد خاص ابلیس ہے جس سے بدتر مخلوق میں کوئی نہیں۔( خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۲، ۴ / ۴۳۰)

{وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ: اورسخت اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھاجائے۔} اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے چاند کی طرف نظر کرکے ان سے فرمایا ، اے عائشہ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ،اس کے شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ، یہ جب ڈوب جائے تواندھیراہو جاتاہے ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المعوّذتین، ۵ / ۲۴۰، الحدیث: ۳۳۷۷) اس سے مراد مہینے کی آخری راتیں ہیں جب چاند چھپ جاتا ہے تو جادو کے وہ عمل جو بیمار کرنے کے لئے ہیں اسی وقت میں کئے جاتے ہیں ۔( خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۳، ۴ / ۴۳۰۔)

{وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ: اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں ۔} یعنی جادوگر عورتوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو ڈوروں میں گرہ لگا لگا کر ان میں جادو کے منتر پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہیں ، جیسا کہ لبید کی لڑکیوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر جادو کرنے کیلئے کیا تھا۔( بغوی، الفلق، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۵۱۷)

تعویذات سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ:

یاد رہے کہ ناجائز کاموں کیلئے تعویذ گنڈے ناجائز و حرام ہیں جبکہ جائز مقصد کیلئے گنڈے بنانا اور ان پر گرہ لگانا،قرآن مجید کی آیات یااللّٰہ تعالیٰ کے اَسماء پڑھ کر دم کرنا، جائز ہے ۔جمہور صحابہ ٔکرام اور تابعین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اسی پر ہیں ۔( خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۲۹ملتقطاً) اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے عملِ مبارک اور ارشاد سے بھی یہ چیز ثابت ہے ،چنانچہ

حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے ،آپ فرماتی ہیں کہ جب حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ مُعَوَّذات(یعنی سورہِ فَلق اور سورہِ ناس) پڑھ کر اس پر دم فرماتے۔( مسلم، کتاب السلام، باب رقیۃ المریض بالمعوّذات والنّفث، ص۱۲۰۵، الحدیث: ۵۰(۲۱۹۲))

اورحضرت عبید بن رفاعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت اَسماء بنت ِعمیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، حضرت جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹوں کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے ،کیا میں کچھ پڑھ کے ان پر دم کر دیاکروں ؟ارشاد فرمایا’’ہاں ،کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی تو نظر ضرور اس سے سبقت لے جاتی۔( ترمذی، کتاب الطّب، باب ماجاء فی الرّقیۃ من العین، ۴ / ۱۳، الحدیث: ۲۰۶۶)

{وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ: اور حسد والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔} حسد والا وہ ہے جو دوسرے کی نعمت چھن جانے کی تمنا کرے ۔یہاں حاسد سے بطورِ خاص یہودی مراد ہیں جو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے حسد کرتے تھے یا خاص لبید بن اعصم یہودی ہے۔ (خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۴۳۰) اور عمومی طور پر ہر حاسد سے پناہ کیلئے یہ آیت ِمبارکہ کافی ہے۔ حسد بدترین صفت ہے اور یہی سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں ابلیس سے سرزد ہوا اور زمین میں قابیل سے۔ حسد کے مقابلے میں رَشک ہوتا ہے اور وہ یہ ہے جس میں اپنے لئے بھی اسی نعمت کی تمنا ہوتی ہے جو دوسرے کے پاس ہے لیکن دوسرے سے چھن جانے کی تمنا اس میں نہیں ہوتی۔اس سورتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جادو اور حسد بد ترین جرائم ہیں کہ عام شروں کے بعد ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا گیا۔

Must watch it and subscribe the channel if you like it
01/09/2018

Must watch it and subscribe the channel if you like it

Civil Defense Pakistan just got 3 days training and perform like Elite Force Pakistan

Must watch this video and also share it.
15/08/2018

Must watch this video and also share it.

Share it as much as you can
25/06/2018

Share it as much as you can

Eid Mubarak to all our followers
16/06/2018

Eid Mubarak to all our followers

28/03/2018

Share it as my much as you can

Address

Chani Goth

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Informative Videos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share