فداک امی وابی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

فداک امی وابی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئیے ہم ساتھ مل کر "عشقِ رسول" کے سفر پر نکلیں، اور اپنے دلوں کو ان کی محبت سے روشن کریں۔"

حضرت امیر خسرو رحمته الله علیه نے ایک بار بہت خوبصورت نعتیه رباعیلکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمته الله علیه کی خدمت...
22/02/2025

حضرت امیر خسرو رحمته الله علیه نے ایک بار بہت خوبصورت نعتیه رباعی
لکھی اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمته الله علیه کی خدمت میں پیش
کی .
حضرت نے رباعی سن کر فرمایا " خسرو ! رباعی خوب هے لیکن
سعدی رحمة الله عليه کی جو رباعی هے بلغ العلے بکماله ، اسکا جواب نہیں "
اگلے دن حضرت امیر خسرو رحمة الله عليه نے پہلے سے زیادہ محنت سے مزید اچھی
رباعی لکھی اور پیرو مرشد کو سنائی تو انھوں نے سن کر پھر فرمایا که
خسرو رباعی خوب هے لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں . حضرت
امیر خسرو رحمة الله عليه نے کئی بار محنت کی لیکن پیرو مرشد هر بار یہی فرماتے
که خسرو ! رباعی خوب هے لیکن سعدی رحمة الله عليه کی رباعی کا جواب نہیں . آخر
ایک دن حضرت امیر خسرو رحمة الله عليه نے عرض کی " سیدی ! سعدی رحمة الله عليه نے بھی نعتیه رباعی لکھی اور میں بھی کئی دن سے نعت لکھ کر پیش کر رها
هوں لیکن آپ هر بار یہی فرماتے هیں که سعدی رحمة الله عليه کی رباعی کا جواب
نہیں ، ایسا کیوں هے ؟

پیرو مرشد نے فرمایا ،

اچھا ، جاننا چاهتے هو تو آج آدھی رات کے وقت آنا .

چنانچہ امیر خسرو رحمة الله عليه آدھی رات کے وقت حاضر خدمت هوئے تو مرشد کو
وظائف میں مشغول پایا . فرمایا ، " خسرو ! ادھر آؤ ، میرے پاس بیٹھو اور
دیکھو"
مرشد کی توجه هوئی اور حضرت امیر خسرو رحمة الله عليه نے دیکھا که دربار رسالت
صلی الله علیه وآله وسلم آراستہ هے صحابه کرام اور هزاروں اولیاء کرام
موجود هیں . شیخ سعدی رحمة الله عليه دربار میں موجود هیں اور پڑھ رهے هیں ،

بلغ العلے بکماله ،
کشف الدجا بجماله
حسنت جمیع خصاله
صلو علیه وآله ... صلو علیه وآله

اور نبی کریم صلی الله علیه وآله وسلم فرما رهے هیں ،
سعدی ! پھر پڑھو ،
سعدی رحمة الله عليه کہتے هیں لبیک یا سیدی ! اور پھر رباعی پڑهنے لگتے هیں ،
رباعی ختم هوتی هے اور نبی اکرم صلی الله علیه وآله وسلم فرماتے
هیں ، سعدی ! پھر پڑھو اور سعدی پھر پڑھنے لگتے هیں .
یه دیکھ کر امیر خسرو رحمة الله عليه نے عرض کیا ، پیرو مرشد ! لکھتا تو میں بھی خوب هوں لیکن سعدی کی رباعی کا جواب نہیں.

اور واقعی اس رباعی کا جواب نہیں . کہتے هیں جب حضرت سعدی نے
یه رباعی لکھی تو تین مصرعے لکھ لئے ،

بلغ العلے بکماله
کشف الدجا بجماله
حسنت جمیع خصاله

لیکن چوتھا مصرع موزوں نہیں هو رها تها اسی پریشانی میں سو گئے تو
خواب میں نبی کریم صلی الله علی

میں آپ کے پاس بیٹھنا چاہتا ہوں گھنٹوں !!دیکھنے کے لیے آپ کس قدر قیمتی احساس ہیں ۔۔۔، احساسات کی بھاری سِل کو اپنے نازک د...
12/12/2024

میں آپ کے پاس بیٹھنا چاہتا ہوں گھنٹوں !!
دیکھنے کے لیے آپ کس قدر قیمتی احساس ہیں ۔۔۔، احساسات کی بھاری سِل کو اپنے نازک دل پر سہتے ہوئے ، بنا کوئی شکایت کیے ، آنکھوں میں نمی لیے ، چپ چاپ خاموش !! آپ ہر غم ہر تکلیف سہہ جاتے ہونگے ۔۔
میں بس خاموش بیٹھنا چاہتا ہوں آپ کے ساتھ آپ کے قدموں میں ، کوئی بھی بات کیےبنا ۔۔ سر جھکائے ۔۔آنکھیں جھکائے۔۔
مدینہ کی کسی سڑک کنارے بے مقصد پہاڑیوں کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔
کسی ویران ریلوئے اسٹیشن پر پٹڑیوں پر اُگی گھاس کو دیکھتے ہوئے ۔۔یا پھر کسی نہر کنارے پانی کی لہروں کومحسوس کرتے ہوئے ۔۔۔
آپ وہ ہستی ہیں جن کے قدموں میں بیٹھنے سے ۔۔۔ہاں فقط بیٹھنے سے ہمارے دلوں میں سکون اترنا شروع ہو جاتا ہے ۔۔جیسے دہکتے ہوئے کوئلوں کی نِگھ ہوتی ہے ویسے خوشبو نکلتی ہے آپ کی ذات سے جو ہمیں چاروں طرف سے اپنے حصار میں کھینچ لیتا ہے ۔۔۔
آپ خود خوشبو تھے ۔۔۔
میں آپ کے حصار میں قید ہو کر بھولنا چاہتا ہوں سب کچھ ،
جدائی کے امڈتے غم ،
اپنوں کے بچھڑنے کا خوف ، زندگی کی سختیاں ، جذبات کا طلاطم ، سنہری لوگ ، وقت کا بیگانہ پن ، وقتی خوشیاں ، بچھڑ جانے والوں کا غم ، اور وہ سارا وقت جو میری زنگی میں بیتا اور میرے دل کے قریب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں وہ سب بھولنا چاہتا ہوں !!
میں چپ چاپ آپ کے قدموں میں بیٹھ کر زندگی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں ، دیر تلک ، بنا کسی سوچ کے ، کوئی بھی فکر لیے بنا اور وقت کی قید سے آزاد ہو کر !!
پھر شاید اس ازل کی گمشدہ دنیا میں آپ کا ساتھ آپکے مبارک قدموں کو میں کھو دوں۔
لیکن اس سے زرا پہلے چند گھڑیاں میں آپکا ساتھ چاہتا ہوں
بنا کچھ کہے ، بنا کچھ سوچے ۔۔
چپ چاپ خاموش !

| | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | |❤️ 🌹 💕 😍 ❤️

📝 قدرت اللہ شہاب رحمتہ اللہ علیہ "شہاب نامہ" میں لکھتے ہیں۔ آپ لوگوں سے درخواست ہے اس واقعہ کو لازمی پڑھنا کیونکہ جب سید...
11/12/2024

📝 قدرت اللہ شہاب رحمتہ اللہ علیہ "شہاب نامہ" میں لکھتے ہیں۔
آپ لوگوں سے درخواست ہے اس واقعہ کو لازمی پڑھنا کیونکہ جب سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کے توسل سے صحابہ درخواستیں پیش کرکے اپنی منزل پر تعینات ہوتے تھے تو آج کے دور کے ملاؤں نے بھلا دیا ہے کہ یہ ماہ مبارک سیّدنا صدیق اکبر کہ ساتھ سیدہ دوجہان پاک فاطمہ الزہرہ سلام الله علیہا کا بھی ہے ۔

ایک بار میں کسی دور دراز علاقے میں گیا ہوا تھا۔ وہاں پر ایک چھوٹے سےگاؤں میں ایک بوسیدہ سی مسجد تھی۔ میں جمعہ کی نماز پڑھنے اس مسجد میں گیا تو ایک نیم خواندہ سے مولوی صاحب اردو میں بے حد طویل خطبہ دے رہے تھے۔ ان کا خطبہ گزرے ہوئے زمانوں کی عجیب وغریب داستانوں سے اٹا اٹ بھرا ہوا تھا۔ کسی کہانی پر ہنسنے کو جی چاہتا تھا، کسی پر حیرت ہوتی تھی۔ لیکن ایک داستان کچھ ایسے انداز سے سنائی کہ تھوڑی سی رقت طاری کر کے سیدھی میرے دل میں اتر گئی۔ یہ قصہ ایک باپ اور بیٹی کی باہمی محبت واحترام کا تھا۔ باپ حضرت محمد ﷺ تھے اور بیٹی حضرت بی بی فاطمہؓ سلام اللہ علیہا تھیں۔ مولوی صاحب بتا رہے تھے کہ حضور رسولِ کریم ﷺ جب اپنے صحابہ کرام ؓ کی کوئی درخواست یا فرمائش منظور نہ فرماتے تھے تو بڑے بڑے برگزیدہ صحابہ کرام ؓ بی بی فاطمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی منّت کرتے تھے کہ وہ ان کی درخواست حضور ﷺ کی خدمت میں لے جائیں اور اسے منظور کروا لائیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کے دِل میں بیٹی کا اتنا پیار اور احترام تھا کہ اکثر اوقات جب بی بی فاطمہ ؓ ایسی کوئی درخواست یا فرمائش لے کر حاضر خدمت ہوتی تھیں تو حضور ﷺ خوش دلی سے منظور فرما لیتے تھے۔ اس کہانی کو قبول کرنے کے لیے میرا دل بے اختیار آمادہ ہو گیا۔

جمعہ کی نماز کے بعد میں اسی بوسیدہ سی مسجد میں بیٹھ کر نوافل پڑھتا رہا۔ کچھ نوافل میں نے حضرت بی بی فاطمہ ؓ کی روح مبارک کو ایصالِ ثواب کی نیّت سے پڑھے۔پھر میں نے پوری یکسوئی سے گڑگڑا کر یہ دعا مانگی،
”یا اللہ میں نہیں جانتا کہ یہ داستان صحیح ہے یا غلط لیکن میرا دل گواہی دیتاہے کہ تیرے آخری رسول کے دل میں اپنی بیٹی خاتون جنت کے لیے اس سے بھی زیادہ محبت اور عزت کاجذبہ موجزن ہو گا۔ اس لیے میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حضرت بی بی فاطمہ ؓ کی روح کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی ﷺ کے حضور میں پیش کرکے منظور کروا لیں۔
درخواست یہ ہے کہ میں اللہ کی راہ کا متلاشی ہوں۔ سیدھے سادھے مروّجہ راستوں پر چلنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اگر سلسلہ اویسیہ واقعی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے تو اللہ کی اجازت سے مجھے اس سلسلہ سے استفادہ کرنے کی ترکیب اور توفیق عطا فرمائی جائے۔ "
(اویسی سلسلہ اس کو کہتے ہیں کہ اگر آپ کو کسی ایسی ہستی سے براہ راست فیض ملے جو اس زمانے کی نہ ہو، کسی پہلے کے زمانے کی ہو)۔

اس بات کا میں نے اپنے گھرمیں یا باہر کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ چھ سات ہفتے گزر گئے اور میں اس واقعہ کو بھول بھال گیا۔ پھر اچانک سات سمندر پار کی میری ایک جرمن بھابھی کا ایک عجیب خط موصول ہوا۔ جو مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں اور نہایت اعلیٰ درجہ کی پابندِ صوم و صلوٰة خاتون تھیں۔ انہوں نے لکھا تھا:
" رات میں نے خوش قسمتی سے فاطمہ ؓ بنتِ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا انہوں نے میرے ساتھ نہایت تواضع اور شفقت سے باتیں کیں اور فرمایا کہ اپنے دیور قدرت اللہ شہاب کو بتا دو کہ میں نے اس کی درخواست اپنے برگزیدہ والد گرامی ﷺ کی خدمت میں پیش کر دی تھی۔ انہوں نے ازراہ نوازش منظور فرما لیا ہے"۔

یہ خط پڑھتے ہی میرے ہوش وحواس پر خوشی اور حیرت کی دیوانگی سی طاری ہوگئی۔ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میرے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے بلکہ ہوا میں چل رہے ہیں۔ یہ تصور کہ اس برگزیدہ محفل میں ان باپ بیٹی کے درمیان میرا ذکر ہوا۔ میرے روئے روئے پر ایک تیز وتند نشے کی طرح چھاجاتا تھا۔ کیسا عظیم باپ ﷺ ! اور کیسی عظیم بیٹی! دو تین دن میں اپنے کمرے میں بند ہو کر دیوانوں کی طرح اس مصرعہ کی مجسّم صورت بنا بیٹھا رہا۔
ع۔ مجھ سے بہتر ذکر میرا ہے کہ اس محفل میں ہے !

اس کے بعد کچھ عرصہ تک مجھے خواب میں مختلف بزرگ صورت ہستیاں نظر آتی رہیں جن کو نہ تو میں جانتا تھا نہ ان کی باتیں سمجھ میں آتی تھیں اور نہ ان کے ساتھ میرا دل بھیگتا تھا۔ پھر ایک خواب میں مجھے ایک نہایت دلنواز اور صاحب جمال بزرگ نظر آئے جو احرام پہنے ایک عجیب سرور اورمستی کے عالم میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ میرا دل بے اختیار ان کے قدموں میں بچھ گیا۔ وہ بھی مسکراتے ہوئے میری جانب آئے اور مطاف سے باہر حطیم کی جانب ایک جگہ مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور بولے:
”میرا نام قطب الدّین بختیار کاکی ہے۔ تم اس راہ کے آدمی تو نہیں ہو لیکن جس دربار سے تمہیں منظوری حاصل ہوئی ہے اس کے سامنے ہم سب کا سر تسلیم خم ہے۔“

پھر بزرگ نے شہاب صاحب رح کو کچھ امتحان اور آزمائشیں دیں اور کچھ عرصہ بعد قدرت اللہ شہاب رح کو روحانی تربیت پر مبنی خطوط ملنا شروع ہو گئے "نائنٹی" کے نام سے، اور یوں قدرت اللہ شہاب رح کی اویسی سلسلہ میں شمولیت ہوئی۔!!!!

دعاگو:- صاحبزادہ میاں محمد یونس سجادہ نشین حضرت داتا گنج بخش رح و اولاد حضرت شیخ ہندی رح

Swipe for rest.آج ایسے ہی دل میں ایک خیال آیا کہ کتنا اچھا ہوتا کہ اگر زندگی میں بس ایک ہی محبت نصیب میں ہوتی۔۔۔ وہ لوگ ...
05/12/2024

Swipe for rest.آج ایسے ہی دل میں ایک خیال آیا کہ کتنا اچھا ہوتا کہ اگر زندگی میں بس ایک ہی محبت نصیب میں ہوتی۔۔۔ وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جو دل میں محبت کی پہلی کرن کے ابھرے پر محبت کے پہلے بول بولنے والے کے ساتھ ہی عمر گزار دیں۔۔۔ محبت کے پہلے کلمے سے آخری کلمے تک کا سفر، کسی ایک ہی ہمسفر کے ساتھ گزارنے والے بھی مومن ٹھہرتے ہیں۔۔۔
آخر پہلی محبت کا جذبہ اتنا معتبر کیوں؟
بہت سوچا اور پھر ایک پرسکون خیال کے جھونکے نے شبہات کے تیل پر جلتے سارے دیے بجھا دئیے۔۔۔
پہلی محبت، محبوب کے باعث مقدس نہیں ہے۔۔ بلکہ اسکے ارفع ہونے کی وجہ تعارف ہے۔۔ غم سے پہلا تعارف۔۔۔ محبت سے پہلے کے غم بھی ان خالی کندھوں جیسے ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی کوئی جنازہ نہیں اٹھایا ہوتا۔۔۔ اور جس کندھے میں اپنوں کا بھی جنازہ اٹھانے کی سکت آ جائے، وہ سگِ حُسین ٹھہرے۔۔ غم بھی کیا شے ہے جو دنیا میں جسے سب سے بڑھ کر نصیب ہو ، اسے بدلے میں جنت کی سرداری بخش دے۔۔
غم سے پہلا تعارف کیوں مستحسن ہے؟ کیونکہ وہ غم گسار کی چوکھٹ پہ کیا جانے والا سلام ہے۔۔۔ اور بھلا وہ غم گسار کون ہے؟ وہی جسے پہلی محبت میں دل ٹوٹنے پر کمرے کی لائٹیں بند کرکے پرانی پوشش والے صوفے پر اوندھے منہ لیٹے، بہتی ناک اور کالے حلقے سموئے بھیگی آنکھوں کیساتھ دل ہی دل میں حالِ دل سناتے ہیں۔۔۔ پھر اسکے بعد محبتیں بھی بدلتی رہتی ہیں، غم بھی بدلتے رہتے ہیں، مگر وہ غم گسار وہیں اسی صوفے پر ہمارے دکھ سننے اور ہماری دلجوئی کرنے کا منتظر رہتا ہے۔۔۔ محبتوں کے دکھ کی جگہ پہلے روزگار کا غم لیتا ہے اور پھر اولاد کی آزمائش پہلے آنے والے سارے درد بھلا دیتی ہے، مگر تب کوئی دکھ محسوس نہیں ہوتا۔۔۔ لوگ اسے maturity کا نام دیتے ہیں، میرے نزدیک یہ اس صوفے والے سے علیک سلیک کا نتیجہ ہے۔۔۔ خدا اس صوفے والے کو آباد رکھے۔۔۔ اور اسکے شہرِمدینہ کو بھی آباد رکھے۔۔۔۔۔!
| | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | |❤️ 🌹 💕 😍 ❤️

جو لوگ آقا کریم علیہ السلام کی رحمت کی آڑ لے کراور اسلام کو ہر حال میں  امن پسند مزہب قرار دے کر  جہا۔د کو ترک کئیے ہوئے...
05/12/2024

جو لوگ آقا کریم علیہ السلام کی رحمت کی آڑ لے کراور اسلام کو ہر حال میں امن پسند مزہب قرار دے کر جہا۔د کو ترک کئیے ہوئے ہیں وہ غزوہ احد کی تیاری میں آقاکریم علیہ السلام کی جنگی حکمت عملی کا ایک منظر ملاحظہ فرمائیں!❣️
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو جمع کر کے مشورہ کیا، خاص بات طے کرنے کی یہ تھی کہ دشمنوں کا مقابلہ مدینہ کے اندر رہ کر کیا جائے یا مدینہ سے باہر نکل کر، تجربہ کار لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مدینہ کے اندررہ کرہی مقابلہ کیا جائے، ابن ہشام کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بزرگ صحابہ کے خیال سے متفق تھے، لیکن پرجوش اور شہادت پسند صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے جو بدر میں شرکت سے رہ گئی تھی، بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشورہ دیا کہ میدان میں تشریف لے چلیں اور انہوں نے اپنی اس رائے پر سخت اصرار کیا، حتیٰ کہ بعض صحابہ نے کہا: ''اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم تو اس دن کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ سے اس کی دعائیں مانگا کرتے تھے، اب اللہ نے یہ موقع فراہم کردیا ہے اور میدان میں نکلنے کا وقت آگیا ہے تو پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کے مد مقابل ہی تشریف لے چلیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ڈر گئے ہیں۔"

ان گرم جوش حضرات میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سر فہرست تھے جو معرکہ بدر میں اپنی تلوار کا جوہر دکھلا چکے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی! میں کوئی غذا نہ چکھوں گا یہاں تک کہ مدینہ سے باہر اپنی تلوار کے ذریعے ان سے دو دو ہاتھ کر لوں۔ (سیرۃ حلبیہ ۲/۱۴)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے اصرار کے سامنے اپنی رائے ترک کردی اور آخری فیصلہ یہی ہوا کہ مدینے سے باہر نکل کر کھلے میدان میں معرکہ آرائی کی جائے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو وعظ ونصیحت کی، جد وجہد کی ترغیب دی اور حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں۔

اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو اس وقت تک لوگ جمع ہوچکے تھے، عَوَالی کے باشندے بھی آچکے تھے، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لے گئے، ساتھ میں ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر عَمامَہ باندھا اور لباس پہنایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیچے اوپر دو زِرہیں پہنیں، تلوار حمائل کی اور ہتھیار سے آراستہ ہوکر لوگوں کے سامنے تشریف لائے۔

لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے منتظرتو تھے ہی، لیکن اس دوران حضرت سعد بن معاذ اور اُسَیْد بن حُضیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میدان میں نکلنے پر زبردستی آمادہ کیا ہے، لہٰذا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے حوالے کر دیجیے۔

یہ سن کر سب لوگوں نے ندامت محسوس کی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمیں آپ کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو پسند ہو وہی کیجیے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پسند ہے کہ مدینے میں رہیں تو آپ ایسا ہی کیجیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "کوئی نبی جب اپنا ہتھیار پہن لے تو مناسب نہیں کہ اسے اتارے تا آنکہ اللہ اس کے درمیان اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ فرمادے۔" (مسند احمد ، نسائی ،حاکم۔ ابن اسحاق اور بخاری نے الاعتصام ، باب نمبر ۲۸ کے ترجمۃ الباب میں ذکر کیا ہے)

اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا، مہاجرین کا دستہ: اس کا پرچم حضرت مُصْعب بن عُمیر عبدری رضی اللہ عنہ کو عطا کیا، قبیلہ اوس(انصار) کا دستہ: اس کا علم حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا، قبیلہ خزرج (انصار) کا دستہ: اس کا عَلَم حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔

پورا لشکر ایک ہزار مردانِ جنگی پر مشتمل تھا، جن میں ایک سو زِرہ پوش اور پچاس شہسوار تھے، یہ بات ابن قیم نے زاد المعاد ۲/۹۲ میں بیان کی ہے، حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ فاش غلطی ہے، موسیٰ بن عقبہ نے جزم کے ساتھ کہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ اُحد میں سرے سے کوئی گھوڑا تھا ہی نہیں، واقدی کا بیان ہے کہ صرف دو گھوڑے تھے، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اور ایک ابو بُردہ رضی اللہ عنہ کے پاس۔ (فتح الباری ۷/۳۵۰)

حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اس کام پر مقرر فرمایا کہ وہ مدینے کے اندر رہ جانے والے لوگوں کو نماز پڑھائیں گے، اس کے بعد کوچ کا اعلان فرمایا اور لشکر نے شمال کا رُخ کیا، حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما زرہ پہنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چل رہے تھے۔

==================>
الرحیق المختوم

میری بی بی جانؑ نے مجھے کل اپنا ایک واقعہ سنایا ہےپوچھا حضورؐ نے فاطمہؑ سے کہ رمضان کا چاند دیکھا ہےفرمایا بی بی جانؑ ن...
01/12/2024

میری بی بی جانؑ نے مجھے کل اپنا ایک واقعہ سنایا ہے

پوچھا حضورؐ نے فاطمہؑ سے کہ رمضان کا چاند دیکھا ہے

فرمایا بی بی جانؑ نے حضورؐ سے ۔۔۔۔۔ کہ نہیں دیکھا

حضورؐ نے اپنی بیٹی سے مسکرا کر پوچھا کہ کیوں نہیں دیکھا

بی بی جانؑ نے یہ عرض کی
کہ پیارے بابا جانؐ
میری جان آپؐ پر قربان
رمضان کے چاند کو سب غیر محرم دیکھ رہے تھے
میری نگاہوں نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ
غیر محرم لوگوں کی نظروں کے ساتھ میری نظر بھی چاند پر جا کر جم جائے
پیارے آقا کریمؐ نے اپنی بیٹی کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا
کہ بے شک آپؑ نے رمضان کی رمض کو
بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے

پھر مَیں نے بی بی جانؑ سے کہا
چاند تو صرف میری بی بی جانؑ نے دیکھا ہے
یہ سُن کر بی بی جانؑ مسکرا دئیے
اور پھر انہوں نے مجھے اپنے قرب کی نعمتوں سے نوازا

میرا چاند کہتی ہیں وہ پیار سے مجھے
گلاب کا پھول بھی کہتی ہیں مجھے

پردے کی تعلیم پر بہت زور دیتی ہیں

اور فرماتی ہیں کہ ہمارا پیار سب کے لیے ہے 💞

لوگ جب تک اپنا قبلہ درست نہیں کریں گے
نجات کی کشتی میں سوار نہیں ہو سکیں گے

یا فاطمۂ الزہرا أغثنی
یا فتاحُ یا عزیز

In Islām, we don’t say— “Goodbye.” We say “Fi-Amānillāh.”  It’s basically asking 𝗔𝗹𝗹𝗮𝗵 (ﷻ) to protect the person you are...
01/12/2024

In Islām, we don’t say— “Goodbye.”
We say “Fi-Amānillāh.” It’s basically asking 𝗔𝗹𝗹𝗮𝗵 (ﷻ) to protect the person you are departing with and that couldn’t be any more sweeter.

Fi-Amānillāh!❤️‍🩹

یہ جو فرمان ہے "انا بشر مثلکم" تو وہ ہیں تو "مثلکم" لیکن اس طرح "مثلکم" نے نہیں ہیں ۔ اتنی بھی آسان بات نہیں ہے کہ وہ ہم...
30/11/2024

یہ جو فرمان ہے "انا بشر مثلکم" تو وہ ہیں تو "مثلکم" لیکن اس طرح "مثلکم" نے نہیں ہیں ۔ اتنی بھی آسان بات نہیں ہے کہ وہ ہمارے جیسے انسان ہیں ۔ آپ خود دیکھو کہ ان ﷺ کا نام ہے اور آپ لوگوں کا کلمہ ہے ۔ یعنی ان ﷺ کا نام ہے اور آپ کا دین ہے ، تو وہ ہمارے جیسے کیسے ہو گئے؟ یہ جو انہوں نے کہا کہ مَیں تمہارے جیسا ہوں تو وہ اور بات ہے ۔ آپ کبھی یہ نہ کہنا کہ وہ ہمارے جیسے ہیں ۔ یہ بھی نہ کہنا کہ پیغمبر ہمارے جیسے ہیں ۔ یہ دراصل انہوں نے تب کہا جب لوگوں نے کہا کہ پھر آپ ﷺ ہی اللہ ہو ۔ پھر انہوں ﷺ نے فرمایا کہ "انا بشر مثلکم" یعنی میں تمہارے جیسا انسان ہوں ۔ یہ اللہ نے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح کا انسان ہوں ورنہ یہ آپ ﷺ کو اللہ ہی کہنے لگ جائیں گے ۔ اگر تم کہو گے کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں تو تم گمراہ ہو جاوء گے ۔
یہ بڑا باریک نقطہ ہے اور خیال کرنے والا مقام ہے ۔ اگر ہمارا باپ کہہ دے کہ مَیں تمہاری طرح کا انسان ہوں تو یہ بات ہم مان لیتے ہیں ۔ لیکن ہمارا تو باپ ہے اور اس کا ایک مقام ہے اور ادب ہے ۔ تو اطاعت گزاروں کے لئے وہ مقام اور ہے ۔ تو آپ یہ واضح طور پر سوچ لو کہ ان کے کہنے کا مفہوم کیا تھا ۔ اور آج آپ کے کہنے کا مفہوم کیا ہے ۔

(گفتگو والیم 5 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 156)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

" آقا ﷺ میں نے آپکے پاس رہنا ہے۔ میں نے کہیں نہیں جانا۔ آقا ﷺ, مُجھے دُور نہ کیجئے گا۔ میرے والدین بہت اچھے ہیں, مجھے ما...
28/11/2024

" آقا ﷺ میں نے آپکے پاس رہنا ہے۔
میں نے کہیں نہیں جانا۔
آقا ﷺ, مُجھے دُور نہ کیجئے گا۔
میرے والدین بہت اچھے ہیں, مجھے ماں باپ سے بہت پیار ہے۔ مگر آقا ﷺ آپ سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔ دُنیا کے سب لوگوں سے زیادہ پیار آقاﷺ۔ میں نے آپ کے پاس رہنا ہے۔۔"
I cannot get over these words. Never read this incident in such beautiful way before.

: آپ ﷺ کے ماننے والوں کے ساتھ جھگڑا نہ کرنا بھی _______ درود کی کیفیت ہے ۔  ________: جب تک آپ کو یہ نہ پتہ چلے کہ: اس آ...
27/11/2024

: آپ ﷺ کے ماننے والوں کے ساتھ جھگڑا نہ کرنا بھی _______ درود کی کیفیت ہے ۔ ________
: جب تک آپ کو یہ نہ پتہ چلے
کہ
: اس آدمی پر حضور پاک ﷺ ”ناراض“ ہیں تب تک اس آدمی سے آپ ”قطع تعلق نہ کرنا ۔ “
یہ بہت ” ضروری شرط ہے ۔ “

“ کیا شرط ہے؟
: ایک آدمی جو آپ ﷺ کی محفل میں ہو یا آپ ﷺ کا چاہنے والا ہو ،،،،، اور تم اس کو ”” نہ چاہنے والے ہوئے تو درود منظور نہیں ہو گا ۔ ““

: تو آپ اپنی پسند کو حضور پاک ﷺ کی پسند بنائیں ،
_____ اُن کی پسند کے تابع بنائیں ۔ _____

:: یہ نہ ہو کہ وہ کسی کو چاہتے ہوں اور آپ اس کے ساتھ جھگڑا کر رہے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔_____ تو پھر آپ کا درود قبول نہیں ہو گا ۔ _____

درود کا مطلب کیا ہے؟
کہ آپ ﷺ کے چاہے ہوئے کو چاہنا
اور آپ ﷺ کے ناپسندیدہ کو ناپسند کرنا ،

:: آپ ﷺ کی پسند اور ناپسند میں اپنے آپ کو ڈھالنا ۔
______ تو یہ ہیں درود کے آداب ۔ _______

: دعا کرو کہ اللہ تعالٰی رحم فرمائے ۔ “
: بس درود سنو اور درود پڑھو ، “
: ہمیشہ ہی آپ ﷺ کی بارگاہ میں سلام پیش کرو ۔ “

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
(گفتگو والیم 18 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ نمبر 193 ، 194)

| | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | |❤️ 🌹 💕 😍 ❤️

شانِ حضرت فاطمتہ الزہراء رضی اللّٰہ عنہا ❤️حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وا...
27/11/2024

شانِ حضرت فاطمتہ الزہراء رضی اللّٰہ عنہا ❤️
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا:
" میری بیٹی فاطمہ ( رضی اللّہ عنہا ) قیامت کے دن اس طرح اُٹھے گی کہ اُس پر عزت کا جوڑا ہو گا جسے آبِ حیات سے دھویا گیا ہے۔ساری مخلوق اُسے دیکھ کر دنگ رہ جائے گی۔پِھر اُسے جنّت کا لباس پہنایا جائے گا۔جس کا ہر حُلّہ ہزار حُلّوں پر مشتمل ہو گا۔ہر ایک پر سبز خط سے لکھا ہو گا کہ محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی بیٹی کو احسن صورت،اکمل ہیبت،تمام تر کرامت اور وافر تر عزت کے ساتھ جنت میں لے جاؤ ، پس آپ کو دُلہن کی طرح سجا کر ستّر ہزار حُوروں کے جُھرمٹ میں جنت کی طرف لایا جائے گا۔ ''

( محبّ طبری،ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوِی القربیٰ : 95 )
امی وابی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
| | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | |❤️ 🌹 💕 😍 ❤️

ٹائم سپیس اور زمانے کی قید بھی کتنی عجیب پابندی ہے ۔۔آپ کسی خیال میں ڈوبے ہوئے ہو اور ایک دم سے کہیں پہنچنے کے لیے عجلت ...
26/11/2024

ٹائم سپیس اور زمانے کی قید بھی کتنی عجیب پابندی ہے ۔۔آپ کسی خیال میں ڈوبے ہوئے ہو اور ایک دم سے کہیں پہنچنے کے لیے عجلت سے اٹھیں ۔چند قدم آگے بڑھائیں اور ایک دم سے ادراک کی اس منزل پر پہنچ جائیں جہاں آپ کو معلوم ہو کہ آپ جہاں جانا چاہ رہے ہیں وہ زمانہ تو صدیوں پہلے بیت چکا ہے ۔۔۔
ایک گہری خاموش اداسی آپ کے روئیں روئیں میں اتر جاتی ہے ۔۔اک ایسی اداسی جسے کہا نہیں جا سکتا ۔۔۔جسے بتایا نہیں جا سکتا ۔۔

آپ کسی خیال میں اس قدر غرق ہیں کہ آپکو لگے کے آپ اس زمانے میں ہیں ۔۔آپ ملاقات کر سکتے ہیں۔۔وہ یہیں تو ہیں ۔۔۔وہ یہیں کہیں تو ہیں ۔۔۔ مانو جیسے محسوس ہو کہ آپ ان کا پتہ جانتے ہو لا شعور آپ کو بتائے کہ ہاں ۔۔۔۔بس اٹھو باہر چلو ۔۔۔قدم خود بخود ان تک پہنچ جائیں گے ۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔جیسے ہی آپ وارفتگی سے وہاں جانے کے لیے اٹھیں تو آپ لاشعور سے شعور میں جاگ جائیں ۔۔۔

آپ چاہے کسی با رونق شہر میں ہیں۔۔چاہے کسی قصبے یا گاؤں میں ہیں آپ چاہے دنیا کے کسی کونے میں ہیں۔۔۔یہ خیال آپ کے گردونواح کو صحرا کر دینے کے لیے کافی ہو گا کہ وہ زمانہ بیت چکا ہے ۔۔قدم جس سمت بھی اٹھے وہ کسی سمت جا نہیں پائیں گے ۔۔ایک عمیق اداسی ہے جو دل و جان کو اپنی گرفت میں لے گی ۔۔

شاید ایسی اداسی کے خمیر سے جو کہیں نا پہنچنے والی ہو ایک ایسا تصور جنم لیتا ہے جو ہجر میں لپٹا تو ضرور ہوتا ہے لیکن جس کے ہونے سے آپکے احساس میں ہر دم ایک رسائی رہتی ہے ۔۔
پھر ٹائم سپیس ،کون و مکاں سے ہٹ کر زمانوں کے فاصلے سمیت ہر شے سمٹ جاتی ہے

ایک خیال جو دل کی گہرائیوں میں جنم لیتا ہے
اس نا رسائی کو رسائی میں بدل دیتا ہے
کبھی کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہیں کہیں ہیں
اتنے قریب کے میں آگے بڑھوں گا اور انہیں دیکھ لوں گا ۔۔
لیکن وہ زمانہ بیتے صدیاں گزر گئی ہیں
اور ہم اکیسویں صدی کے اداس مسافر ان کے خیال تلے انہیں سوچتے ہیں۔۔مسکراتے ہیں اور نمناک آنکھوں سے خیال کرتے ہیں کہ کاش ہم اس زمانے میں ہوتے ۔۔جس زمانے کا ہجر ہم اس زمانے میں کاٹ رہے ہیں ۔۔

| | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | | |❤️ 🌹 💕 😍 ❤️

Address

Chakwalian

Telephone

+923029852786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فداک امی وابی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to فداک امی وابی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:

Share