The Grand Jamia Mosque Ali Baig, Azad Kashmir

The Grand Jamia Mosque Ali Baig, Azad Kashmir Imam of Masjid Qari Rafiq A Qureshi

14/11/2025

جمعۃالمبارک
جامع مسجد میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی بیگ آرائیاں بھمبر

05/09/2025

محفلِ میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم
جامع مسجد میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی بیگ آرائیاں بھمبر آزاد کشمیر بیان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد فیاض تونسوی صاحب۔ The prophet (peace and blessings of allaah be upon him) said:
Allama maulana m***i muhammad fayyaz Tunisia

05/09/2025

جمعۃالمبارک
جامع مسجد میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی بیگ آرائیاں بھمبر آزاد کشمیر

اہلیانِ علی بیگ و قرب جوار کے تمام دوست اس محفلِ پاک لازمی تشریف لائیں
04/09/2025

اہلیانِ علی بیگ و قرب جوار کے تمام دوست اس محفلِ پاک لازمی تشریف لائیں

29/08/2025

جمعۃالمبارک
جامع مسجد میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم
علی بیگ آرائیاں بھمبر آزاد کشمیر
The comprehensive mosque of the prophet (peace and blessings of allaah be upon him)
Ali baig ariyan bhimber azad Kashmir

24/08/2025

جامع مسجد میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم
علی بیگ آرائیاں بھمبر آزاد کشمیر
The comprehensive mosque of the prophet (peace and blessings of allaah be upon him)
Ali baig ariyan bhimber azad Kashmir

08/08/2025

جمعۃالمبارک
جامع مسجد میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم
علی بیگ آرائیاں بھمبر آزاد کشمیر

02/08/2025

ہفتہ وار بزمِ ادب جامع مسجد میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی بیگ آرائیاں بھمبر آزاد کشمیر
Weekly bismillah literature comprehensive mosque milad-e-nabi

٭باپ کو چاہئے کہ کھانے پینے کے معاملے میں بھی بچے کی تربیت کرے کہ بلاوجہ ہر وقت کھاتے  پیتے رہنا  اور طبیعت و موسم کے خل...
30/07/2025

٭باپ کو چاہئے کہ کھانے پینے کے معاملے میں بھی بچے کی تربیت کرے کہ بلاوجہ ہر وقت کھاتے پیتے رہنا اور طبیعت و موسم کے خلاف چیز کھانا نقصان دہ ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ باپ خود بھی بچے کے سامنے وقت بےوقت نہ کھاتا رہے۔ امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوَالیفرماتے ہیں: بُری صِفات میں سے جو چیز سب سے پہلے غالب آتی ہے وہ کھانے کی حرص ہے لہٰذا مناسب ہے کہ سب سے پہلے بچے کو کھانے کے آداب سکھائے جائیں۔(احیاءالعلوم،ج3ص89)([1]) ٭بعض لوگ اپنی اولاد کے ساتھ یکساں سُلُوک نہیں کرتے۔ ذہین (Intelligent) بچے کو شفقتوں اور عِنایتوں کا مرکز بنا دینا اور کُنْدذہن(Dull) کو ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور نالائق ہونے کے طعنے دیتے رہنا قطعاً مناسب نہیں۔ یاد رہے کہ جس بچے کے ساتھ زیادہ شفقت اور پیار کا رویّہ رکھا جائے گا اور دوسروں کی حق تلفی کرکے اسے اہمیت دی جائے گی وہ ضِدّی اور خودسَر بن سکتا ہے جبکہ بقیہ بچے اِحساسِ کمتری کاشکار ہوسکتے ہیں۔ ٭بعض لوگ اس قدر غیر ذِمّہ داری کا مُظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کا چھوٹا بچہ اگر بڑوں کے ساتھ بدتمیزی، اونچی آواز اور بداخلاقی سے پیش آئے یا(مَعَاذَ اللہ)گانا گائے، ناچ کر دکھائے، اپنی توتلی زبان میں گالی دے تو وہ بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دَرحقیقت بہت بڑی غلطی ہے۔ بارہا دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی ایسی حرکتوں پر خوش ہونے والے ان کیجوانی میں ان کی انہی حرکتوں پر نالاں ہوتے ہیں۔ ٭فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا یعنی وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہیں کرتا۔ (ترمذی،ج3ص369، حدیث:1927) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض لوگ اپنے بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں، ان کو معمولی بات پر بھی سخت سزا یا شدید ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اور نتیجۃً ناقابلِ تلافی نقصان کا منہ دیکھتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں چھپنے والی ایک ایسے ہی سخت گیر باپ کی خبر پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے، چنانچہ ایک شخص نے نئی کار خریدی، اس کے سب سے چھوٹے بچے نے جس کی عمر بمشکل چار سال تھی، گاڑی کی سیٹ کو چُھری سے پھاڑ ڈالا۔ باپ یہ دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا اور بچے کوبہت مارا یہاں تک کہ بچے کے بازو رسی سے باندھ کر چھت والے پنکھے کے ساتھ لٹکا دیا اور کئی گھنٹوں تک بچے کو اسی حالت میں رکھا۔ ماں بے چاری مِنّت سمَاجت کرتی رہی مگر اس نے ایک نہ سنی۔ جب بچے کو اتارا گیا تو اس کے دونوں بازو کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ بچے کو اسپتال لایاگیا۔ ڈاکٹر نے کہا: بچے کے دونوں ہاتھ شَلّ(سُوکھ کر بے حرکت ) ہوچکے ہیں اور انہیں کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ عین اس وقت جب آپریشن تھیٹر میں بچے کا آپریشن ہورہا تھا باپ نے اسی پنکھے کے ساتھ رسی باندھ کر خودکشی کرلی اور یوں ہنستا بستا گھر برباد ہوگیا۔ ٭باپ کو چاہئے کہ کبھی بھی بچے کو لَعْن طَعْن اور گالی گلوچ نہ کرےکہ کل جوان ہونے کے بعد بچہ بھی یہی رویہ اپنائے گا۔ گھر میں گالی گلوچ اور ماردھاڑ دیکھنے والے بچے باہر بھی گرم طبیعت کا مظاہرہ کرتے ہیں، نتیجۃً اپنے ساتھ ساتھ ماں باپ کو بھی پریشانیوں میں مبتلا کرتے ہیں۔٭بچوں کے ملبوسات (Dressing) وغیرہ کا بھی ان کی تربیت میں بڑا کردار ہے، خود کو ترقی یافتہ(Moderate) ظاہر کرنے والے اکثر لوگ مغربی طرزِ زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بچوں کو بھی یہی کچھ سکھاتے ہیں، یادرکھئے!بچپن میں بچے کو جیسا پہناوا دیں گے اسے بعد میں بھی ویسا ہی پہننے کی عادت ہوگی، اس لئے ایک باپ کی ذمّہ داری ہے کہ بچے کو اپنے مُعاشَرَتی انداز اور اسلامی ثقافت کے مطابق ہی لباس وغیرہ پہنائے۔ لڑکیوں کو لڑکوں والے لباس ہرگز ہرگز نہ پہننے دے۔ عُمْر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچے اور بچیوں کو بے حیائی سے بچانے کی طرف توجہ دے۔لڑکوں کو گھٹنے سے اوپر لباس نہ پہننے دے اور لڑکیوں کو سر وغیرہ ڈھانکنے کی تاکید کرے تاکہ بالغ ہونے کے بعد سِتْر اورحجاب کے احکامات پر عمل کرنے میں انہیں کسی مشکل یا تنگی کا سامنا نہ ہو۔ ٭باپ کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو ترغیب دینے کے لئےان کے سامنے قراٰن پاک کی تلاوت کرے ، قراٰن پاک اور دیگر کتابوں کا ادب کرے،بچہ سات سال کا ہوجائے تو نماز کا حکم دے اور جب دس سال کا ہوجائے تو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سختی سے نماز پڑھائے، فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں مار کر نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر الگ کر دو۔ ( ابوداؤد،ج1ص208، حدیث: 495بچوں کو نمازی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حتّی الاِمْکان گھر پر نفل نماز کا اہتمام کرے کہ بچوں کو نماز کی عادت پڑے گی جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جُبَیر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : میں اپنےاس بچے کی وجہ سے کثرت سے(نفلی)نماز پڑھتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدُنا ہِشام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہحضرت سعید کی گھر میں نماز پڑھنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ اُمید کرتے ہوئے کہ بچے میں نماز کی رغبت پیدا ہو۔ (حلیۃ الاولیاء ،ج4ص309،رقم: 5659) ٭مدنی منّے جب تھوڑے سمجھدار ہوجائیں تو انہیں باجماعت نماز پڑھنے کے لئے اپنے ساتھ مسجد لے جایا کرے نیز جہاں تک ممکن ہو بچے کو اپنے ساتھ اجتماعاتِ ذکرونعت اور بزرگوں کی بارگاہ میں لے کر جائے اور ان میں ادب کا خاص خیال رکھے تاکہ بچہ بچپن ہی سے ان محافل کا عادی ہونے کے ساتھ ساتھ باادب بھی بن جائے۔ یادرہے کہ بچہ اپنے باپ سے مُعاشَرے میں اٹھنے بیٹھے کے طور طریقے سیکھتا ہے۔ یہ تعلق بچے کی آنے والی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ٭بچے کو اسکول یا مَدْرَسہ میں داخلہ دلوا دیا اور روزانہ وقت پر بھیج دیا، صرف اتنا کرنے سے باپ کی ذمّہ داری ختم نہیں ہوجاتی، بچہ ادارے میں کیا سیکھ رہا ہے؟ کن بچوں سے دوستی رکھتاہے؟ ادارے میں اس کا رویہ(Attitude) کیسا ہے؟ یہ سب دیکھنا بھی ضروری ہے۔ وقت پر ان چیزوں کو نہ دیکھنے والے والدین بعض اوقات بعد میں بڑے نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔بچے کی صُحْبت (Company) پر غور کرنا ایک باپ کی بہت اہم و بڑی ذمّہ داری ہے کیونکہ صحبت رنگ لاتی ہے، لہٰذا باپ کو چاہئے کہ بچے کو ہمیشہ اچھی صحبت دے، بُرے دوستوں سے دور رکھے، گلیوں میں بیٹھنے، بلاوجہ بازاروں میں گھومنے سے منع کرے۔ ٭ایک ذمّہ دار باپ ہمیشہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے کہ وہ کیسی کتابیں اور رسائل وغیرہ پڑھ رہے ہیں؟ کون سی چیزیں اپنے استعمال میں رکھتے ہیں؟ کن آلات اور کن چیزوں سے کھیلتے ہیں؟ اوران کی سوچ کے دھارے کس سَمْت بہہ رہے ہیں؟ یادرہے بچوں پر نظررکھنے کا انداز ایسا ہو کہ وہ خود کو قیدی محسوس نہ کریں۔ ٭بچے کی تربیت کی ذمّہ داری تعلیمی ادارے سے زیادہ ماں باپ کی ہے، کیونکہ بچہ تعلیمی ادارے میں کم اور گھر میں زیادہ رہتاہے، لہٰذا باپ کو چاہئے کہ گھر میں مدنی ماحول بنائے تاکہ دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ بچے کی بھی قراٰن و سنّت کی تعلیمات کی روشنی میں تربیت ہو۔

اسلام میں بچوں کے حقوقبچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ کسی بھی قوم کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت اِس اَمر میں مضمر ہے کہ...
29/07/2025

اسلام میں بچوں کے حقوق
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ کسی بھی قوم کے مستقبل کے تحفظ کی ضمانت اِس اَمر میں مضمر ہے کہ اس کے بچوں کی تعمیرِ شخصیت اور تشکیلِ کردار پر پوری توجہ دی جائے۔ یہ اَمر اُس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک بچوں کے حقوق کا واضح تصور اور ان حقوق کے اِحترام کا باقاعدہ نظام موجود نہ ہو۔ اِسلام نے دیگر اَفرادِ معاشرہ کی طرح بچوں کے حقوق کو بھی پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ان حقوق کی تفصیل بیان کی جاتی ہے :

1۔ قبل اَز پیدائش حقوق
قبل اَز پیدائش بچہ حالتِ جنین میں ہوتا ہے۔ اِسلام نے بچے کو حقوق عطا کرنے کا آغاز حالتِ جنین سے کیا ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے :

(1) زندگی کا حق
بچے کی زندگی کا آغاز مرحلہ جنین سے ہوتا ہے۔ اسلام نے اس مرحلے سے بچے کے لیے زندگی کے حق کو قانونی حیثیت عطا کی ہے۔ چونکہ اِستقرارِ حمل کے چار ماہ بعد رحم مادر میں موجود بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے، اِس وقت حمل ضائع کرنا رحمِ مادر میں بچہ کو قتل کرنا ہے جو کہ قتلِ انسانی کے مترادف ہے اور گناہِ کبیرہ ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر حاملہ چاہے تو 120 دن گزرنے سے پہلے اِسقاطِ حمل کر سکتی ہے :اِسقاطِ حمل، جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے، پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے اور تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔‘‘

1. حصکفي، در المختار، 1 : 76
2. ابن همام، فتح القدير، 3 : 274

’فتاویٰ عالمگیری (1 : 335)‘ میں ہے :

المرءة يسعها أن تعالج لإسقاط الحمل ما لم يستبن شئ من خلقه، و ذلک ما لم يتم له مائة و عشرون يوما.

’’عورت حمل گرا سکتی ہے جب تک اس کے اعضاء واضح نہ ہو جائیں اور یہ بات 120 دن (چار ماہ) گزرنے سے پہلے ہوتی ہے۔‘‘

علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں :

’’ذخیرہ میں ہے کہ اگر عورت رحم میں نطفہ پہنچنے کے بعد اس کے اخراج کا ارادہ کرے تو فقہاء نے کہا ہے کہ اگر اتنی مدت گزر گئی ہے جس میں روح پھونک دی جاتی ہے تو جائز نہیں۔ اس مدت سے پہلے اخراج کرانے میں مشائخ کا اختلاف ہے اور حدیث کے مطابق یہ مدت چار ماہ ہے۔‘‘اولاد کے حقوق بہت اہم ہیں اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا خیال رکھیں۔ بچوں کے حقوق میں زندگی کا حق، اچھی تربیت، حلال رزق، شفقت اور انصاف شامل ہیں۔ انہیں تعلیم، پرورش اور عزت دینے کی ضرورت ہے۔
بچوں کے حقوق کی تفصیل:
زندگی کا حق:
ہر بچے کو پیدا ہونے کا حق ہے اور اس کی حفاظت کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔
اچھی تربیت:
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی اچھی تربیت کریں، انہیں اسلامی آداب سکھائیں اور انہیں نیک اور ذمہ دار شہری بنائیں۔
حلال رزق:
بچوں کو حلال کمائی سے حاصل کردہ خوراک اور ضروریات فراہم کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔
شفقت اور رحمت:
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ شفقت اور محبت کا سلوک کریں اور ان کی نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کا خیال رکھیں۔
عدل و انصاف:
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ عدل و انصاف کا سلوک کریں اور کسی بھی بچے کے ساتھ تعصب یا ناانصافی نہ کریں۔
تعلیم کا حق:
بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور والدین کو چاہیے کہ وہ انہیں اچھی تعلیم فراہم کریں۔
وراثت کا حق:
بچوں کو اپنے والدین کی وراثت میں حصہ ملنے کا حق ہے۔
نسب کا حق:
بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ نسب کا حق حاصل ہے، یعنی ان کی شناخت اور شناخت کا حق۔
رضاعت کا حق:
بچوں کو دودھ پلانے کا حق ہے، اور یہ حق ماں کی جانب سے حاصل ہوتا ہے۔
نام رکھنے کا حق:
بچوں کو اچھا نام رکھنے کا حق ہے۔
یتیم بچوں کے حقوق:
یتیم بچوں کو خصوصی دیکھ بھال اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کی صحیح پرورش اور تربیت کریں۔

دین اسلام نے جہاں ہمیں نماز،روزہ،حج،اور دیگر عبادات کا درس دیا ہے وہیں حقوق العباد کی ادائیگی کا خیال رکھنے کی بھی تاکید...
28/07/2025

دین اسلام نے جہاں ہمیں نماز،روزہ،حج،اور دیگر عبادات کا درس دیا ہے وہیں حقوق العباد کی ادائیگی کا خیال رکھنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ بے شک جس طرح شریعت مطہرہ نے بیوی پر مرد کے حقوق لازم کیے ہیں اسی طرح شوہر پر بھی بیوی کے حقوق لاگو فرمائے ہیں مثلاً اس کے نان نفقہ کی خبر گیری، مہر کی ادائیگی، حسن معاشرت وغیرہ یہ تمام باتیں مرد پر عورت کا حق ہیں۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪- (پ 2، البقرۃ:228) ترجمہ: اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق۔اس کی تفسیر صراط الجنان میں ہے: اور عورتوں کیلئے بھی شریعت کے مطابق مردوں پر ایسے ہی حق ہے جیسا عورتوں پر ہے۔ یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق کی ادائیگی واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حقوق پورے کرنا لازم ہے۔آیت کی مناسبت سے یہاں ہم شوہر اور بیوی کے چند حقوق بیان کرتے ہیں۔

شوہر پر بیوی کے حقوق: شوہر پر بیوی کے چند حقوق یہ ہیں: (1) خرچہ دینا، (2) رہائش مہیا کرنا، (3) اچھے طریقے سے گزارا کرنا، (4) نیک باتوں، حیاء اور پردے کی تعلیم دیتے رہنا، (5) ان کی خلاف ورزی کرنے پر سختی سے منع کرنا، (6) جب تک شریعت منع نہ کرے ہر جائز بات میں اس کی دلجوئی کرنا، (7) اس کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنا اگرچہ یہ عورت کا حق نہیں۔

بیوی کے حقوق کے متعلق 5 فرامین مصطفیٰ:

1۔نان و نفقہ: ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا: بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب وہ خود کھائے تو اسے بھی کھلائے جب خود پہنے تو اسے بھی پہنائے، چہرے پر نہ مارے، گالی نہ دے (کبھی الگ کرنے کی ضرورت پڑے تو) اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسری جگہ الگ نہ کرے۔ (ابن ماجہ، 2/409، حدیث: 1850)

2۔عورت کے حقوق ادا نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے: حضور ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میں دو ضعیفوں کا حق(مارنا) حرام کرتا ہوں یتیم کا اور عورت کا۔3۔گھر کے کام کاج میں بیوی کا ہاتھ بٹانا: حضرت اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: رسول کریم ﷺ گھر میں کیا کرتے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ گھر کے کام کاج میں مصروف رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔

4۔ بیوی کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینا: حضور ﷺ نے فرمایا:اپنی استطاعت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو اور انہیں تعلیم دینے کے لیے چھڑی سے بے نیاز نہ ہو اور انہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید کرتے رہو۔

5۔بہترین شوہر: حضور ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو(اپنی) عورتوں کے لیے اچھا ہے۔ (ترمذی، 2/387، حدیث: 1165)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ شوہر پر بیوی کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: مرد پر عورت کا حق نان ونفقہ دینا، رہنے کو مکان دینا،مہر وقت پر ادا کرنا،اس کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ رکھنا، اسے خلاف شرع باتوں سے بچانا۔ (فتاوی رضویہ،24/ 380)

ان کے علاوہ اسلام میں عورت کے حقوق اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ان احادیث پر عمل کریں تاکہ خوب خوب ثواب کما کر اپنی آخرت سوار سکیں۔

اللہ کریم ہمیں عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور میٹھا میٹھا مدینہ دکھائے۔ آمین

جب مرد و عورت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کی جانب سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ ...
27/07/2025

جب مرد و عورت شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو شریعت اسلامیہ کی جانب سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ شادی شدہ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ شوہر کے حقوق میں کمی نہ آنے دیں کیونکہ شوہر کی رضا و ناراضی میں رب کی رضا و نافرمانی پوشیدہ ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس حدیثِ نبوی سے لگائیے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عورتو! اللہ پاک سے ڈرو اور اپنے شوہروں کی رضا کو لازم پکڑ لو اگر عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا ہے تو وہ صبح و شام کا کھانا لیکر کھڑی رہے۔ (کنز العمال، جز 16، 2/145، حدیث: 44809)

آئیے! عورت پر شوہر کے چند حقوق ملاحظہ کریں۔

1۔ شوہر کو خوش رکھنا: عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم،لباس اور گھر کی صفائی کا خیال رکھے اور شوہر کیلیے بناؤ سنگھار کرے تاکہ شوہر کا دل خوش رہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے نیک بیوی کی ایک خوبی یہ بیان فرمائی: کہ اگر اسکا شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے۔ (ابن ماجہ، 2/414، حدیث:2857)

2۔ شوہر کی شکر گزاری: عورت ہرگز اپنے شوہر کی ناشکری نہ کرے کیونکہ شوہر اس کا مضبوط سہارا ہے۔ آج کل خواتین اپنے شوہروں کی ناشکری کرتے ہوئے زیادہ نظر آتی ہیں۔ انہیں اس حدیث پاک سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ چنانچہ جب آپ ﷺ سے جہنم میں عورتوں کی کثرت کی وجہ کے متعلق استفسار کیا گیا تو فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان سے مکر جاتی ہیں۔(بخاری،3/463، حدیث:5197)3۔ شوہر کی رضا: شادی کے بعد عورت کو شوہر کو راضی رکھنا چاہیے۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے جنتی عورتیں کی پہچان کے حوالے سے ارشاد فرمایا: ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت، جب وہ شوہر کو ناراض کر دے یا اسے تکلیف دی جائے یا اسکا شوہر اس پر غصہ کرے تو وہ (عورت) کہے کہ میرا یہ ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک سوؤں گی نہیں جب تک آپ راضی نہ ہو جائیں۔ (معجم صغیر، 1/64، حديث: 118)

4۔ حکم کی فرمانبرداری: نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو حکم فرمایا: اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے پہاڑ کو کالے رنگ کا بنا دے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنا دے تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا چاہیے۔ (ابن ماجہ، 2/411، حدیث: 1852)

5۔ امانت کی حفاظت: شوہر کا مکان اور مال و سامان یہ سب شوہر کی امانتیں ہیں اور بیوی ان کی امین ہے۔ اگر عورت نے جان بوجھ کر نقصان کر دیا تو عورت پر خیانت کا گناہ لازم آئے گا اور خدا کا عذاب ہو گا۔ (جنتی زیور، ص51)

پیاری پیاری اسلامی بہنو! ان احادیث سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ شوہر کا حق بہت بڑا ہے اور عورت پر انکی ادائیگی فرض ہے۔ اللّہ ہمیں صحیح معنوں میں ان حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Address

Village Ali Baig
Bhimber
10250

Telephone

+923435821044

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Grand Jamia Mosque Ali Baig, Azad Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to The Grand Jamia Mosque Ali Baig, Azad Kashmir:

Share

Category