ماتمی سنگت بقاء عزاداری مظلوم کربلا امام حسینؑ

  • Home
  • Pakistan
  • Bharth
  • ماتمی سنگت بقاء عزاداری مظلوم کربلا امام حسینؑ

ماتمی سنگت بقاء عزاداری مظلوم کربلا امام حسینؑ ماتمی سنگت بقاےعزاداری مظلوم کربلا امام حسینؑ
سالار سید بدر عباس بخاری

02/09/2026
بیشمار لعنت
02/09/2026

بیشمار لعنت

01/09/2026

شیعہ حضرات یاعلی علیہ السلام کیوں کہتے نص قرآنی احادیث سنی شیعہ کتب میں سے ثابت ہے
📖 نصِ قرآنی

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

> وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا ۝٨٠

سورۃ الإسراء/بنی اسرائیل، 17:80

اردو ترجمہ

"اور کہیے: اے میرے رب! مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما، اور مجھے سچائی کے ساتھ نکال، اور اپنی طرف سے میرے لیے ایسا مددگار اقتدار عطا فرما۔"

اہلِ سنت کی تفاسیر میں بھی اس آیت کے تحت «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» کے معنی مددگار قوت امام طبری نے حسن بصریؒ اور قتادہؒ سے ایسے اقتدار کا ذکر کیا ہے جس کے ذریعے دین، حدود اور فرائضِ الٰہی قائم ہوں، جبکہ مجاہدؒ نے اسے حجتِ واضحہ بھی کہا ہے۔

---

🟢 اہلِ سنت کے ماخذ سے حضرت علیؑ کی تعیین

یہاں اصل اہم حوالہ حافظ حاکم حسکانی کی کتاب:

📚 شواہد التنزیل لقواعد التفضیل

ہے۔

حاکم حسکانی نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے اس آیت کی تفسیر نقل کی ہے۔

اصل عربی روایت

> عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:

﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ لِنَبِيِّنَا دُعَاءَهُ، فَأَعْطَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ سُلْطَانًا يَنْصُرُهُ عَلَى أَعْدَائِهِ.

اردو ترجمہ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان:

"اور اپنی طرف سے میرے لیے مددگار اقتدار عطا فرما"

کے بارے میں فرمایا:

"اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کی دعا قبول فرمائی اور انہیں علی بن ابی طالب عطا کیے، جو ایسا سلطان تھے جو آپ ﷺ کے دشمنوں کے مقابلے میں آپ کی مدد کرتے تھے۔"

یہ روایت شواہد التنزیل، جلد 1، صفحہ 348، حدیث 479 کے طور پر نقل ہوئی ہے۔ روایت کا مکمل سندی متن بھی دستیاب ہے۔

---

🔵 شیعہ ماخذ: تفسیر البرہان

علامہ ہاشم بحرانی کی معروف شیعہ تفسیر البرہان فی تفسیر القرآن میں بھی یہی روایت نقل ہوئی ہے۔

اصل عربی

> قَالَ ابْنُ شَهْرَ آشُوبٍ: مِنْ كِتَابِ أَبِي بَكْرٍ الشِّيرَازِيِّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:

«وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا»

قَالَ: لَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ دُعَاءَهُ، فَأَعْطَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ سُلْطَانًا يَنْصُرُهُ عَلَى أَعْدَائِهِ.

اردو ترجمہ

ابن عباسؓ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی دعا قبول فرمائی اور انہیں علی بن ابی طالب علیہ السلام عطا فرمائے، جو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرنے والے سلطان تھے۔"

یہ روایت البرہان میں نقل ہوئی ہے اور اس کے ساتھ مناقب، جلد 2، صفحہ 67 اور شواہد التنزیل، جلد 1، صفحہ 348، حدیث 479 کے حوالے بھی درج ہیں۔

---

📚 ایک اہم شیعہ روایت: «سلطاناً نصیراً» یعنی مددگار

تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں اس آیت کے بارے میں مختصر تفسیر آئی ہے:

> قَوْلُهُ: سُلْطَانًا نَصِيرًا أَيْ مُعِينًا

یعنی:

"سُلْطَانًا نَّصِيرًا سے مراد مددگار ہے۔"

اور البرہان میں اسی مقام پر ابن عباسؓ کی حضرت علیؑ والی روایت بھی ساتھ نقل ہوئی ہے۔

---

🟠 اہلِ سنت کی دوسری تفسیری توضیح

یہاں ایک علمی نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں آیت 80 کے تحت ابن عباسؓ سے ہجرت کا پس منظر نقل ہوا ہے، جبکہ حسن بصریؒ اور قتادہؒ سے «سُلْطَانًا نَصِيرًا» کے لیے مددگار اقتدار، دین کے قیام کی قوت اور حجت جیسے معانی نقل کیے گئے ہیں۔

یعنی اہلِ سنت کی عمومی تفسیری روایت میں آیت کا مفہوم مددگار قوت و اقتدار ہے، جبکہ حاکم حسکانی کی شواہد التنزیل میں اسی قرآنی تعبیر کی ایک مخصوص روایتی تطبیق حضرت علی ابن ابی طالبؑ پر کی گئی ہے۔

---

🌹 قرآن کا اشارہ اور رسول اللہ ﷺ کی توضیح

یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے:

قرآن مجید ہر مقام پر تمام تفصیلات ناموں کے ساتھ بیان نہیں کرتا۔ قرآن بعض مقامات پر اصل اصول اور اشارہ بیان کرتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ اس کی توضیح و تشریح فرماتے ہیں۔

اسی لیے اس آیت میں قرآن کا لفظ ہے:

> «سُلْطَانًا نَّصِيرًا»

اور روایت میں حضرت ابن عباسؓ اس کی تعیین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

> «فَأَعْطَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ سُلْطَانًا يَنْصُرُهُ عَلَى أَعْدَائِهِ»

یعنی قرآن میں وصف آیا اور روایت میں اس وصف کی تعیین حضرت علیؑ کے ذریعے بیان ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کے کسی مقام پر کسی شخصیت کا نام صراحتاً نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس شخصیت سے متعلق کوئی قرآنی تطبیق یا نبوی/روائی تفسیر موجود نہیں۔

---

⭐ نتیجہ

لہٰذا اس آیت کے بارے میں ایک جامع اور محتاط علمی بیان یوں ہے:

سورۂ اسراء کی آیت 80 میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» یعنی مددگار سلطان/قوت عطا کیے جانے کی دعا سکھائی گئی۔ اہلِ سنت کے حافظ حاکم حسکانی کی کتاب شواہد التنزیل میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی دعا قبول فرمائی اور انہیں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام عطا فرمائے، جو آپ ﷺ کے دشمنوں کے مقابلے میں مددگار سلطان تھے۔ یہی روایت شیعہ تفسیر البرہان میں بھی نقل ہوئی ہے۔

پس روایتی تفسیر اور تطبیق کے اعتبار سے «سُلْطَانًا نَّصِيرًا» کا مصداق مولا علی علیہ السلام بیان ہوا ہے۔

اور اس استدلال کی خاص اہمیت یہ ہے کہ یہ روایت صرف ایک شیعہ کتاب میں نہیں بلکہ حاکم حسکانی کی شواہد التنزیل جیسے اہلِ سنت کے ماخذ میں بھی موجود ہے۔

حوالہ جات:

1. قرآن مجید، سورۃ الإسراء، آیت 80۔

2. حاکم حسکانی، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، ج 1، ص 348، ح 479۔

3. ہاشم بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ذیل آیت 80۔

4. علی بن ابراہیم قمی، تفسیر القمی، ج 2، ص 26، جیسا کہ البرہان میں حوالہ دیا گیا ہے۔

5. طبری، جامع البیان، تفسیر سورۃ الإسراء 17:80۔

6. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر سورۃ الإسراء 17:80۔

حدیث نبوی ص
01/09/2026

حدیث نبوی ص

01/09/2026

شہید علامہ ناصر عباس ملتان

Address

محلہ سادات گلی امام بارگاہ
Bharth

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ماتمی سنگت بقاء عزاداری مظلوم کربلا امام حسینؑ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share