09/03/2026
رمضان المبارک کا آخری عشرہ (اخیر کے 10 دن) اپنی فضیلت اور اہمیت کے لحاظ سے پورے سال کا حاصل ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اس عشرے کی فضیلت کے چند نمایاں
پہلو درج ذیل ہیں:
1. نبی کریم ﷺ کا معمول اور کثرتِ عبادت
صحیح بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو
نبی کریم ﷺ:
* اپنے کمر بستہ ہو جاتے (یعنی عبادت کے لیے پوری طرح کمر کس لیتے)۔
* اپنی راتوں کو زندہ رکھتے (عبادت میں گزارتے)۔
* اپنے گھر والوں کو بھی (عبادت کے لیے) بیدار کرتے۔
2. شبِ قدر کی تلاش
آخری عشرے کی سب سے بڑی فضیلت لیلتہ القدر ہے،
جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21، 23، 25، 27، 29) میں تلاش کرو۔" (صحیح بخاری)
>
3. اعتکاف کی سنت
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:
> "نبی کریم ﷺ وفات تک رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے رہے۔" (صحیح بخاری)
> اعتکاف کا مقصد دنیا سے کٹ کر اللہ کی بندگی میں مگن ہونا اور شبِ قدر کو پانا ہے۔
>
4. جہنم سے آزادی
ایک روایت کے مطابق رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔ اس عشرے میں اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کو جہنم سے خلاصی عطا فرماتا ہے۔
5. گناہوں کی بخشش
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے لیلتہ القدر میں قیام کرے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
آخری عشرے کی خاص دعا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب آپ ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر مل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ تو آپ ﷺ نے یہ دعا سکھائی:
"اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ"
(اے اللہ! بیشک تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے،