21/05/2026
عنوان: (دنیاوی عزت کی حقیقت)
لوگوں کی عزت اور شہرت محض ایک فریب ہے! 🥺👇
ایک رات مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنے مرشد حضرت شمس تبریزیؒ کو اپنے گھر دعوت دی۔ کھانے کے بعد مرشد نے رومیؒ سے ایک ایسی فرمائش کر دی جس نے ان کے ہوش اڑا دیے۔ شمس تبریزیؒ نے فرمایا: "کیا تم میرے پینے کے لیے شراب لا سکتے ہو؟" ‼️
رومیؒ حیران رہ گئے، لیکن مرشد کا حکم ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ انہوں نے عذر پیش کیا کہ نوکروں کے سامنے عزت جائے گی اور پورا شہر انہیں جانتا ہے، وہ رات گئے شراب کیسے خریدیں؟ شمس تبریزیؒ نے فرمایا: "اگر تم واقعی میرے شاگرد ہو، تو خود جا کر لاؤ، ورنہ آج نہ میں کچھ کھاؤں گا، نہ بات کروں گا۔"
استاد کی محبت اور اطاعت میں رومیؒ نے چادر اوڑھی، بوتل چھپائی اور عیسائیوں کے محلے کی طرف چل دیے۔
اور پھر تماشہ شروع ہوا... 🏃♂️🚶♂️
جیسے ہی وہ بوتل لے کر نکلے، لوگوں کو شک ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم بڑھتا گیا اور بات مسجد کے دروازے تک پہنچ گئی۔ ایک شخص نے شور مچا دیا: "اے لوگو! دیکھو، تمہارا امام عیسائی محلے سے شراب خرید کر آ رہا ہے!" اس نے چادر کھینچی تو بوتل سب کے سامنے تھی۔
پھر کیا تھا؟ برسوں کی عقیدت ایک پل میں ختم ہو گئی۔ غصے سے پاگل ہجوم نے رومیؒ کے منہ پر تھوکا، انہیں مارا، پگڑی سر سے گر گئی، یہاں تک کہ کچھ لوگ تو جان لینے پر تل گئے۔ رومیؒ خاموش رہے، کوئی صفائی پیش نہیں کی۔ ⚔️
حقیقت کا کھلنا اور شرمندگی: 🍶
اسی وقت شمس تبریزیؒ آگے بڑھے اور فرمایا: "اے بے شرم لوگو! تم نے ایک عالم پر جھوٹا الزام لگا دیا۔ اس بوتل میں شراب نہیں، سرکہ ہے۔" جب بوتل کھول کر قطرے لوگوں کے ہاتھوں پر ڈالے گئے تو سب دنگ رہ گئے—وہ واقعی سرکہ تھا! (شمس تبریزیؒ نے پہلے ہی دکاندار کو کہہ کر شراب کی جگہ سرکہ رکھوا دیا تھا)۔
اب لوگ شرمندگی سے اپنے سر پیٹنے لگے، رومیؒ کے قدموں میں گر کر معافیاں مانگنے لگے اور آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔
مرشد کا وہ سبق جو ہم سب کے لیے ہے: 😭❤️
جب رومیؒ نے پوچھا کہ میری عزت اس طرح خاک میں ملانے کا کیا مطلب تھا؟ تو حضرت شمس تبریزیؒ نے وہ تاریخی جملہ فرمایا جو آج ہم سب کو اپنے دل پر لکھ لینا چاہیے:
"تاکہ تم سمجھ لو کہ لوگوں کی عزت اور شہرت محض ایک فریب ہے۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ ان لوگوں کا احترام ہمیشہ قائم رہتا ہے؟ تم نے خود دیکھا، محض ایک بوتل کے شک پر وہ تمہارے دشمن بن گئے، تم پر تھوکا اور قریب تھا کہ جان لے لیتے۔ یہی وہ عزت ہے جس پر تم نازاں تھے، جو ایک پل میں ختم ہو گئی۔"
آج کا سبق: 💯
آج کے اس دور میں جہاں ہم لوگوں کی 'واہ واہ' اور سوشل میڈیا کی جھوٹی تعریفوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، یہ واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ لوگوں کے رویے موسموں کی طرح بدلتے ہیں۔
اصل عزت صرف اللہ کے پاس ہے جو وقت کے ساتھ نہ بدلتی ہے اور نہ مٹتی ہے۔ اپنی نظر صرف اپنے رب پر رکھیں، لوگوں پر نہیں! ✨
🌹 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا وَ مَولَانَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہِ وَ صَحْبِہِ وَ بَارِکْ وَ سَلِّم
#تصوف #ایمان