21/02/2024
"قوسَین" چوں نہ گویم، ابروئے مصطفٰیؐ را
"ما زاغ" گُفتہ ایزد، آں چشمِ حق نما را
(میں ابروئے مصطفٰیؐ کو "قاب قوسین" کیوں نہ کہوں
جب خدا خود ان حق دکھانے والی آنکھوں کو "ما زاغ" کہہ کر پکار رہا ہے)
از طاعتِ الٰہی، دیدم جمالِ احمدؐ
از حُبّ ِمصطفائی، دریافتم خدا را
(اللہ کی اطاعت سے میں نے جمالِ احمدؐ دیکھ لیا
اور مصطفٰیؐ کی محبت کے ذریعے میں نے خدا کو پا لیا )
اے مجمعِ کرامت! از فیض ِتو چہ دور است
شاہا! اگر نوازی درویش بے نوا را
(آپ تمام کرامات کا مجموعہ ہیں، تو آپ کہ کرم سے کیا بعید ہےکہ آپ مجھ بے نوا درویش کو بھی نواز دیں)
اے خسرو ِحسیناں، اے شاہ ِِ نازنیناں
روشن کُن از تجلّٰی، کاشانہ ِگدا را
(اے حسینوں کے بادشاہ اور نازنینوں کے شہنشاہ
مجھ فقیر کا گھر تو آپ کی تجلّیات کے نور سے روشن ہے)
اے تاجِ کج کُلاھاں سلطانِ دیں پناہاں
بر حال ِزارِ عثمان، نظر ِکرم خدا را
(اے تاج کو خوبصورت انداز سے ٹیڑھا پہننے والے بادشاہ، اے ہمارے دین و ایمان کی پناہ گاہ
خدارا عثمان کےحال ِزار بھی نظر ِکرم فرمایئے )
کلام: نواب عثمان احمد رح
(نظام حیدر آباد/ دکن)
اَللَّهُمَّ صًّلِ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ النَّبِي الأُمِّي الحَبِيبِ العَالِي القَدرِ العَظِيمِ الجاه وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلِّمْ تسليما كثيراً