Rah e Haq

Rah e Haq Islamic information
The way to change your life

03/10/2026

صدقہ ،خیرات کے فائدے

03/10/2026

اپنی منشاء کو مخفی رکھیں

اللہ پاک ھمیں ان بری خصلتوں سے بچائیں اور کسی میں ہو بھی تو کوشش کریں کہ ان عادات کو ترک کرلیں
03/10/2026

اللہ پاک ھمیں ان بری خصلتوں سے بچائیں اور کسی میں ہو بھی تو کوشش کریں کہ ان عادات کو ترک کرلیں

02/10/2026

سبحان اللہ
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر جس نے ہمیں امت محمدیہ میں پیدا کیئے
درود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جسکو اپنی امت سے جنون کی حد تک محبت تھی

02/10/2026

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص اللہ کے لیے چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھے اور تکبیرِ اولیٰ پاتا رہے، اس کے لیے دو براءتیں لکھ دی جاتی ہیں: ایک جہنم کی آگ سے براءت اور دوسری نفاق سے براءت۔‘‘

حوالہ: جامع الترمذی، حدیث نمبر: 241۔

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے اور تکبیرِ اولیٰ کی پابندی کرنے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسلسل چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے اور ابتدا ہی سے امام کے ساتھ نماز میں شریک ہو کر تکبیرِ اولیٰ پاتا رہے تو اس کے لیے دو عظیم بشارتیں بیان کی گئی ہیں، ایک جہنم کی آگ سے براءت اور دوسری نفاق سے براءت، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز باجماعت کی پابندی اور نماز کے لیے وقت پر حاضر ہونا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت فضیلت والا عمل ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنی روزمرہ مصروفیات کو اس طرح ترتیب دے کہ اذان کے بعد وقت پر مسجد پہنچے اور امام کی پہلی تکبیر کے ساتھ نماز میں شامل ہونے کی کوشش کرے تو وہ نماز کی پابندی کے ساتھ اپنے اندر نظم و ضبط اور عبادت کا شوق بھی پیدا کرتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کو جماعت کے ساتھ نماز اور تکبیرِ اولیٰ کی حتی الامکان حفاظت کرنی چاہیے اور اسے اپنی زندگی کا مستقل معمول بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ نماز کی پابندی انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور اس حدیث میں ایسے شخص کے لیے جہنم کی آگ اور نفاق سے براءت کی عظیم بشارت بیان کی گئی ہے۔

سبحان اللہاپنے اہل وعیال پر خرچ بھی صدقہ ہے
02/10/2026

سبحان اللہ
اپنے اہل وعیال پر خرچ بھی صدقہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ خرچ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔‘‘

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5351؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1002۔

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی جب کوئی مسلمان اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب حاصل کرنے کی نیت ہوتی ہے تو اس کا یہ خرچ بھی صدقہ شمار ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی بچوں اور گھر والوں کی خوراک، لباس، رہائش اور دوسری جائز ضروریات پوری کرنا صرف ایک دنیاوی ذمہ داری نہیں بلکہ اچھی نیت کے ساتھ یہ عمل عبادت اور اجر کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنی حلال کمائی سے اپنے بچوں کے کھانے، تعلیم یا لباس پر خرچ کرے اور یہ نیت رکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے تو اس خرچ پر بھی اسے صدقے کا ثواب مل سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کو اپنے اہل و عیال کی ضروریات خوش دلی اور ذمہ داری کے ساتھ پوری کرنی چاہیے اور اپنے ہر جائز خرچ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اجر کی نیت رکھنی چاہیے، کیونکہ اچھی نیت ایک عام روزمرہ کے کام کو بھی عبادت اور صدقے میں تبدیل کر سکتی ہے۔

02/10/2026
02/10/2026

قربان جاؤں اللہ جل جلالہ کی کرم و شفقت سے

Address

Landhi Jallandher
Bannu
28100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rah e Haq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share