02/10/2026
سبحان اللہ
اپنے اہل وعیال پر خرچ بھی صدقہ ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ خرچ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5351؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1002۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی جب کوئی مسلمان اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب حاصل کرنے کی نیت ہوتی ہے تو اس کا یہ خرچ بھی صدقہ شمار ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی بچوں اور گھر والوں کی خوراک، لباس، رہائش اور دوسری جائز ضروریات پوری کرنا صرف ایک دنیاوی ذمہ داری نہیں بلکہ اچھی نیت کے ساتھ یہ عمل عبادت اور اجر کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنی حلال کمائی سے اپنے بچوں کے کھانے، تعلیم یا لباس پر خرچ کرے اور یہ نیت رکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے تو اس خرچ پر بھی اسے صدقے کا ثواب مل سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کو اپنے اہل و عیال کی ضروریات خوش دلی اور ذمہ داری کے ساتھ پوری کرنی چاہیے اور اپنے ہر جائز خرچ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اجر کی نیت رکھنی چاہیے، کیونکہ اچھی نیت ایک عام روزمرہ کے کام کو بھی عبادت اور صدقے میں تبدیل کر سکتی ہے۔