Jamia Mazharia Imdadia Bandial Sharif

Jamia Mazharia Imdadia Bandial Sharif Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Mazharia Imdadia Bandial Sharif, Religious organisation, Bandial Janubi, Tehsil Quaidabad, District Khushab, Punjab, Bandial.

مرکز اہل سنت دارالعلوم جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف(قائم شدہ:١٩١٠ء)
مؤسِّس:غوّاصِ بحرِ معرفت،نیَّرِ بُرجِ طریقت اُستاذ الکل فی الکل اُستاذ المناطقہ والفلاسفہ فقیہ العصر پیر طریقت حضرت علامہ حافظ یار محمد بندیالوی چشتی صابری رحمه الله(١٨٦٨ءتا١٩٤٧ء) استاذ الکل جامع المعقول والمنقول قدوۃ الاولیاء آفتاب ولایت نیر برج طریقت،وارث علومِ خیرآبادیات فقیہ العصر خلیفہ شہیدِ عشق الہ آبادی رحمہ اللہ، پیر ط

ریقت حضرت علامہ یار محمد بندیالوی چشتی صابری رحمہ اللہ(1868ء تا 1947ء)غزالی و رازی کے علوم کے جامع تھے۔معرفت و حقیقت کے منبع البحرین تھے۔ نے 30 سال پاک و ہند کی مستند درس گاہوں میں ماہر اساتذہ سے علوم دینیہ پڑھنے اور 10 سال ہندوستان میں تدریس کرنے کے بعد خواب میں خاص اشارے پر اپنے گاؤں بندیال شریف واپس تشریف لائے اور 1910ء میں مرکز اہل سنت جامعہ مظہریہ امدادیہ کی بنیاد رکھی۔37 سال جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف میں تدریس فرمائی۔اس دور میں اس جامعہ کی شہرت پاکستان اور پاکستان سے باہر کاشغر(چین)تک پھیل چکی تھی۔
آپ کے دور میں متعدد نابغہ عصر شخصیات فارغ التحصیل ہوئیں جن میں چند معروف نام درج ذیل ہیں:
٭استاذ العلما جامع المعقول والمنقول حضرت شاہ محمد سلیمان اشرف بہاری رحمہ اللہ(صدر شعبہ اسلامک سٹڈیز،مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ،انڈیا)
٭استاذ العرب والعجم،ملک المدرسین،جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ عطامحمد بندیالوی گولڑوی رحمہ اللہ(دھمن،خوشاب)
٭شیخ القرآن،ابوالحقائق،استاذ العلما پیر طریقت حضرت علامہ عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ (وزیرآباد)
٭استاذ العلما پیر طریقت حضرت علامہ محمد عبدالحق صاحب رحمہ اللہ (پیرزئی،اٹک)
٭استاذ العلما حضرت علامہ عبدالمنان صاحب رحمہ اللہ(خطیب اعظم راولپنڈی)
٭استاذ العلما حضرت علامہ محمد سعید صاحب (واں بھچراں،ٹمن ملتان)
٭استاذ العلما حضرت علامہ فتح محمد صاحب رحمہ اللہ(گولڑہ شریف،استاذ حضور پیر سید نصیر الدین نصیر علیہ الرحمہ)
٭استاذ العلما حضرت علامہ محمد سعید صاحب رحمہ اللہ(خطیب ماڑی انڈس)
٭استاذ العلما حضرت علامہ قادر بخش صاحب رحمہ اللہ (مدرس جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)
٭استاذ العلما حضرت علامہ پیر سید وارث شاہ صاحب رحمہ اللہ (بھور شریف،عیسیٰ خیل)
٭استاذ العلما حضرت علامہ عبدالرحیم صاحب رحمہ اللہ (کاشغر،چین)
٭استاذ العلما حضرت علامہ عبدالخالق صاحب رحمہ اللہ(سوات)
٭استاذ العلما حضرت علامہ پیر سید عبدالحق شاہ صاحب قادری رحمہ اللہ(تاندلیاں والا،فیصل آباد)
٭استاذ العلماء حضرت علامہ سید عبیداللہ شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ (موچھ ،میاں والی)
٭حضرت علامہ اللہ وسایا صاحب رحمہ اللہ (مہرو،خوشاب)
دیوبند مکتبہ فکر میں سے
٭حضرت علامہ محمد شفیع صاحب (سرگودھا)
٭حضرت علامہ سید احمد شاہ صاحب(چوکیرہ)
٭حضرت علامہ غلام یٰسین صاحب(واں بھچراں)

سن 1947 میں حضور استاذ العلما فقیہ العصر بندیالوی رحمہ اللہ کے وصال شریف کے بعد 2000ء تک اس ادارے کا انتظام وانصرام حضور استاذ العلما تاج الفقہا،جامع المعقول والمنقول پیر طریقت خلیفہ بابوجی گولڑوی علیہ الرحمہ حضرت علامہ صاحب زادہ محمد عبدالحق صاحب بندیالوی زید شرفہ(سجادہ نشین آستانہ عالیہ بندیال شریف)نے سنبھالا۔
قبلہ تاج الفقہاء بندیالوی زید شرفہ صحیح معنوں میں عبدِ حق ہیں۔آپ اپنے قابلِ فخر اور عظیم والد کے خلَفِ رشید واقع ہوئے۔قبلہ استاذ العلما فقیہ العصر بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے وقت قبلہ تاج الفقہاء بندیالوی زید شرفہ کی عمر مبارک 20 سال سے کم تھی۔آپ پر ذمہ داریوں کا تانتا بندھ گیا،لیکن آپ ہمت و استقلال کا ایسا کوہ گراں ثابت ہوئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔والد ذی وقار رحمہ اللہ کے لگائے ہوئے گلشن کا نظم و نسق احسن انداز میں چلانا شروع کیا۔ادارہ کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے استاذ العلما جامع المعقول والمنقول استاذ العرب والعجم رئیس المدرسین حضرت علامہ عطامحمد بندیالوی گولڑوی رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیت کو مسند تدریس پر بٹھایا۔اس کے علاوہ استاذ العلما حضرت علامہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ(حفیظ بانڈی والے)اور استاذ العلما حضرت علامہ محمد دین صاحب رحمہ اللہ(بدھو والے) جیسی نابغہ عصر شخصیات کو ادارہ میں لائے۔ان شخصیات کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرکے اپنی تعلیم مکمل کی پھر استاذ العرب والعجم رحمہ اللہ کی موجودگی میں خود بھی مسند تدریس پر بیٹھ گئے۔کم و بیش 50 سال قال اللہ وقال الرسول ﷺ کا درس دیا۔آپ کے دور میں بھی بے شمار نابغہ عصر شخصیات فارغ التحصیل ہوئیں۔جن میں سے چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
٭استاذ العلما شیخ الحدیث پیر محمد چشتی صاحب رحمہ اللہ(پشاور)
٭استاذ العلماء شارح بخاری و مسلم حضرت علامہ غلام رسول سعیدی صاحب رحمہ اللہ
٭استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ اشرف سیالوی صاحب (جھنگ)
٭استاذ العلما،شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری صاحب رحمہ اللہ(لاہور،آپ حضور تاج الفقہا بندیالوی زید شرفہ کے خلیفہ بھی ہیں)
٭استاذ العلما،شیخ الحدیث حضرت علامہ فضل سبحان قادری صاحب زید شرفہ(مردان)
٭استاذ العلما،مناظر اسلام شیخ الحدیث حضرت علامہ سرفراز صاحب قادری زید شرفہ(شیخ الحدیث جامعہ بندیال شریف،ڈیرہ اسماعیل خان)
٭حضرت علامہ صاحب زادہ محمد مظہر الحق صاحب بندیالوی(ولی عہد آستانہ عالیہ بندیال شریف)
٭مفکر اسلام حضرت علامہ صاحب زادہ محمد ظفرالحق صاحب بندیالوی(پرنسپل جامعہ بندیال شریف)
٭حضرت علامہ صاحب زادہ قاری حافظ محمد اسرار الحق صاحب بندیالوی(مدرس جامعہ بندیال شریف)
٭مفتی اہل سنت امام الصرف والنحو حضرت علامہ حسین علی بندیالوی(ڈیرہ اسماعیل خان) وغیرہ شامل ہیں۔
حضور استاذ العلما،تاج الفقہا نے دیگر ذمہ داریوں کو بھی بڑے احسن طریقے سے نبھایا۔مثلا عوام الناس کے فیصلے کرنا،شرعی فتوے دینا،خاندان میں بڑے ہونے کی حیثیت سے تمام عائلی مسائل کو حل کرنا،بدعقیدہ لوگوں سے مناظرے کرنا،ملک و قوم،مذہب و ملت کی بہتری کی بہتری کی خاطر چلنے والی تمام تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا،تعویذات دینا،بیعت کرنا،شہر اور علاقے کی خوشی غمی میں شریک ہونا،مختلف مواقع پر اندرون و بیرونِ شہر تقاریر کرنا الغرض دینی و دنیاوی بیسیوں امور اس،مردِ درویش اور مردِ باصفا نے تنِ تنہا ایسے بہتر اور زبردست انداز میں انجام دئیےکہ جس پر پورا علاقہ نہ صرف گواہ ہے بل کہ ان کی موجودگی اور ان سے نسبت کو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا ہے۔آپ علالت طبع کے باعث تدریس اور آمد و رفت ترک فرمچکے ہیں لیکن اس پُرفتن دور میں اہل علاقہ کو آپ کی زیارت اور بیعت کا شرف بہرحا میسر ہے۔اللہ رب العزت انہیں صحت کاملہ اور عمرِ دراز عطا فرمائے،آمین۔

آپ کے حکم پر گذشتہ بائیس سال سے اس علمی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے اس ادارے کا انتظام حضور تاج الفقہاء بندیالوی زید شرفہ کے بیٹے مفکر اسلام حضرت علامہ پروفیسر صاحب زادہ محمد ظفرالحق صاحب بندیالوی دام اقبالہ سنبھال رہے ہیں۔مختصر عرصے میں آپ نے بھی ادارے کو ملک کے چوٹی کے مدارس میں لاکھڑا کیا۔آپ کے اس بائیس سالہ دور میں بھی متعدد جید علمائے کرام فارغ التحصیل ہوئے،جن میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:
٭استاذ العلما حضرت علامہ شاہد بندیالوی صاحب زید مجدہ آف لودھراں(مدرس فی المعقولات والفقہ،دارالعلوم میمن،بولٹن مارکیٹ،کراچی)
٭استاذ العلما سائیں محمد رفیق بندیالوی صاحب زید مجدہ(مدرس جامعہ بدرالاسلام،اقبال آباد،رحیم یارخان)
٭استاذ العلماء حضرت علامہ محمد عظیم بندیالوی صاحب دام اقبالہ آف مہرو(صدر مدرس جامعہ نور الھدی،فیصل آباد)
٭علامہ صاحب زادہ محمد شاہد ظفر بندیالوی زید شرفہ(متخصص فی الفقہ،پی ایچ ڈی اسکالر،جی سی یو فیصل آباد)
٭علامہ صاحب زادہ محمد سعد نصر بندیالوی صاحب طال عمرہ(ڈائریکٹر دی لرنر اسکول سسٹم بندیال)
٭علامہ محمد جمیل بندیالوی صاحب طال عمرہ آف ایبٹ آباد(مدرس جامعہ بندیال شریف)
٭علامہ محمد رمضان بندیالوی صاحب طال عمرہ آف واں بھچراں(مدرس جامعہ بندیال شریف)
٭علامہ محمد اکرام اللہ بندیالوی صاحب دام اقبالہ آف ڈیرہ اسماعیل خان(مدرس جامعہ بندیال شریف)
٭علامہ حفیظ الرحمٰن بندیالوی صاحب دام اقبالہ(مدرس جامعہ مدینہ اشرف العلوم سرگودھا)
٭علامہ غلام دستگیر بندیالوی صاحب طال عمرہ(مدرس جامعہ محمدیہ ضیاء العلوم،بارہ کہو،اسلام آباد)
٭علامہ محمد حسیب بندیالوی صاحب طال عمرہ(پرنسپل نور مصطفیٰ سینٹر،بہل،بھکر)
٭علامہ سعید انور بندیالوی صاحب دام اقبالہ(مدرس جامعہ مظہر الاسلام،قائدآباد ذیلی شاخ جامعہ بندیال شریف)
٭علامہ ثقلین بندیالوی صاحب طال عمرہ (مدرس جامعہ مظہر الاسلام ذیلی شاخ جامعہ بندیال شریف)۔
آج بحمدہ تعالیٰ یہ ادارہ ترقی کے اَوجِ ثریا پر ہے۔
وغیرہ شامل ہیں۔

شعبہ جات اور تعدادِاساتذہ و طلباء
شعبہ حفظ میں 5 جید قراء تدریس کررہے ہیں اور167 سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں ۔شعبہ درس نظامی میں7 قابل اور ماہر ین فن اساتذہ تدریس فرما رہے ہیں جن میں مناظر اسلام،شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی محمد سرفراز صاحب قادری زید مجدہ،(جو قبلہ تاج الفقہاء بندیالوی زید شرفہ کے بعد حضور استاذ العرب والعجم بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے اعظم تلامذہ میں سے ہیں،تدریس میں 50 سالہ تجربہ رکھتے ہیں) اور مفتی اہل سنت امام الصرف والنحو استاذی مکرم حضرت علامہ حسین علی چشتی بندیالوی صاحب زید مجدہ،(یہ بھی استاذ العرب والعجم بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے ہیں،30 سالہ تدریسی تجربہ رکھتے ہیں) حضرت علامہ رحمت اللہ صاحب، حضرت علامہ اکرام اللہ بندیالوی صاحب،علامہ جمیل بندیالوی صاحب، علامہ محمد رمضان بندیالوی صاحب،علامہ عثمان بندیالوی صاحب شامل ہیں اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ان اساتذہ کے علاوہ تین صاحب زادگان،استاذ العلما حضرت علامہ صاحب زادہ محمد مظہر الحق بندیالوی صاحب،قبلہ مفکر اسلام حضرت علامہ پروفیسر صاحب زادہ محمد ظفر الحق بندیالوی صاحب اور حضرت علامہ صاحب زادہ قاری حافظ محمد اسرار الحق بندیالوی صاحب تینوں برادران خود بھی تدریس فرمارہے ہیں۔ درس نظامی میں بھی 144 طلباء زیر تعلیم ہیں اور یہ بندیال شریف میں طلباء کی ریکارڈ تعداد ہے۔اب ہمارے پاس جگہ کی تنگی ہے۔مزید طلباء بھی یہاں آکر پڑھنے کے متمنی ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء میں 98 فیصد قابل مدرس ہوتے ہیں۔
جامعہ کی تعلیمی انفرادیت
قابل مدرس کیوں نہ ہوں کیونکہ
1۔ ادارہ میں تنظیم المدارس کے سلیبس کے علاوہ دیگر ضروری کتب بھی پڑھائی جاتی ہیں اور
2۔ آج تک وہی قدیم بندیالوی طریقہ تدریس چلا آ رہا ہے،طالب علم کو عبارت پر ٹوکا جاتا ہے،50 منٹ کا پیریڈ ہوتا ہے جس
میں 40 منٹ استاذ پچھلا سبق سنتا ہے،نئے سبق کی عبارت سنتا ہے اور نئے سبق کی تقریر کرتا ہے،10 منٹ لڑکے استاذ کے
سامنے بیٹھ کر نئے سبق کا تکرار کرتے ہیں۔(عبارت پہ ٹوکا جاتا ہے تو طالب علم رات کو تکرار کرتا ہے)
3۔شام کے بعد پہلے تین سال کے لڑکوں کو صیغوں کی مشق کرائی جاتی ہے،چوتھے سال کے لڑکوں کو ادب کی مشق کرائی جاتی ہے،پانچویں سال کے طلباء کو نحو کی مشق کرائی جاتی ہے۔میں تحدیث نعمت کے طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ادارہ میں صیغوں کا یہ طریقہ کار،یعنی الگ پیریڈز کا ہونا صرف اس جامعہ بندیال کا ہی خاصہ اور انفرادیت ہے۔
4۔مطالعہ پہ سختی کی جاتی ہے۔مطالعہ کے اوقات میں دو مدرس طلباء کی نگرانی کرتے ہیں اور سارا وقت مطالعہ میں بیٹھتے ہیں۔
5۔پرائمری سے بی اے تک اسکول کی تعلیم دی جاتی ہے۔ایم فل اور پی ایچ ڈی کی طرف توجہ دی جاتی ہے جامعہ کے متعدد طلباء تخصص فی الفقہ اور ایم فل کرچکے ہیں۔
6۔ ہفتہ وار بزم فقیہ العصر ﷫ درس نظامی کے طلباء تقاریر کرتے ہیں جس میں مفکر اسلام بندیالوی زید مجدہ خود تقاریر سنتے ہیں اور طلباء کی اصلاح فرماتے ہیں۔
7۔ہفتہ میں3 پیریڈ میں عقائد اہل سنت پر نوٹس لکھوائے جاتے ہیں۔
8۔پاکستان کے کسی بھی مدرسہ کے مقابلے میں چھٹیاں کم سے کم ہیں۔
جامعہ بندیال شریف میں میسر سہولیات
پڑھائی بہترین اورڈسپلن زبردست اور سہولیات بھی کافی زیادہ ہیں ،علاقہ میں کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری ادارے میں اس جیسی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔مثلا ً
1۔لوڈ شیڈنگ فری ماحول ہے، جنریٹر کی سہولت موجود ہے۔گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے اس لیے 24 لاکھ لگا کر سولر سسٹم لگایا گیا
ہے،مزید بھی لگانے کا ارادہ ہے۔
2۔یہاں کا کھانا چیک کرلیں ہوٹل اور گھر سے زیادہ معیاری کھانا دیا جاتا ہے۔
3۔پینے کا ٹھنڈا پانی ہر وقت دستیاب ہے،یہاں کا پانی مناسب نہیں تھا ،چند کلومیٹر دور نہر سے ایک ماہ میں21000خرچ کرکے پانی کی سات ٹینکیاں منگوائی جاتی ہیں۔اور وہ پانی قدرتی طور پر منرل واٹر کے برابر ہے۔
4۔ سردیوں میں گیزر کی سہولت موجود ہے۔گرمیوں کے موسم کے مطابق مسجد میں کولنگ پیڈ سسٹم موجود ہے۔ اور سردیوں میں ہیوی ہیٹر چلتے ہیں جوطلبا کو موسمی شدت سے محفوظ رکھتے ہیں۔
5۔ادارہ کی طرف سے کوئی ماہ وار یا سالانہ فیس نہیں لی جاتی،ادارہ کا ماہانہ خرچ 11 لاکھ سے زائد ہے۔

جامعہ بندیال شریف کی شاخیں
اس ادارہ کی ذیلی شاخوں کی بات کی جائے تو
1۔بندیال شریف میں تقریبا 15 سال قبل"جامعہ مظہریہ امدادیہ للبنات"کے نام سے ذیلی ادارہ قائم ہے جس میں اس وقت شعبہ حفظ و ناظرہ میں 90 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں، دو ماہر قاریہ تدریس کررہی ہے، بفضلہ تعالیٰ ۔ درس نظامی کا شعبہ شروع ہوچکا ہے جس میں 18بچیاں درس نظامی پڑھ رہی ہیں،ایک ماہر عالمہ تدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔
2۔اس کے علاوہ قائدآباد میں"جامعہ حقانیہ رضویہ" بھی اس ادارہ کی ذیلی شاخ ہے جس میں مفتی محمد امیر مظہری صاحب زید شرفہ کے علاوہ 3 جید علماء تدریس فرمارہے ہیں،وہاں 60لڑکے درس نظامی پڑھ رہے ہیں۔
3۔قائدآباد میں اس ادارہ کی دوسری شاخ "جامعہ مظہر الاسلام" کے نام سے قائم ہے اس میں 4 جید قراءشعبہ حفظ میں 125 لڑکوں کو پڑھا رہے ہیں اور شعبہ درس نظامی میں 3قابل مدرس ہیں جو 30 طلباء کو درس نظامی پڑھا رہے ہیں۔
4۔اسی طرح راولپنڈی میں"جامعہ قادریہ علویہ" بھی اسی ادارے کی ذیلی شاخ ہے جس میں قاری محمد صفدر اعوان بندیالوی صاحب کی زیر نگرانی 20 بچے حفظ و ناظرہ میں پڑھ رہے ہیں۔
5۔ کھوڑہ وادی سون میں"جامعہ محمدیہ غوثیہ"کے نام سے ذیلی شاخ قائم ہے جس میں 3جید قاری 70 طلباء کو قرآن پاک پڑھا رہے ہیں۔
فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کا روشن مستقبل
آپ سوچیں گے کہ اتنا پڑھنے کے بعد ان کا مستقبل کیا ہوگا،لوگ کہتے ہیں کہ مولوی نہ بناؤ تمہارے بچے بھوک سے مرجائیں گے۔ تو اس حوالے سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ادارہ میں سرگودھا یونیورسٹی سے بی اے کروایا جاتا ہے،تنظیم المدارس کی سند کو حکومت نے ایم اے عربی و اسلامیات کے مساوی تسلیم کیا ہوا ہے۔اس لیے
1۔ کالجز میں لیکچرر بھرتی ہوتے ہیں۔
2۔ہائی اسکولز میں 15ویں اسکیل میں عربی ٹیچر بھرتی ہوتے ہیں۔
3۔آرمی میں نائب خطیب(رینک نائب صوبے دار کے برابر)بھرتی ہوتے ہیں۔
4۔مدارس میں مدرس مفتی اور شیخ الحدیث کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اور
5۔مساجد میں خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

جامعہ کے آئندہ کے اہداف
جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ جگہ کی تنگی ہے۔کمرے اور ہال سب فِل ہوچکے ہیں۔ہم نے پہلے اسی جگہ کے لیے ابتدائی نقشہ بنوانا شروع کیا ۔ہمارا خیال تھا کہ 7 سے 8 منزلوں پر مشتمل ہوگا ،کم از کم ہزار طلباء کی رہائش ،تعلیم وغیرہ کے لیے جگہ ہونی چاہیئے۔جگہ تنگ تھی،انجینئر نے مشورہ دیا کہ وسیع جگہ لیں۔تو اب یہاں بھی بلڈنگ تعمیر ہوگی اور مین روڈ کے ساتھ جگہ لینے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔بات چیت چل رہی ہے ،ہمیں امید ہے ان شاء اللہ مین روڈ کے قریب ڈیڑھ ایکڑ یا کم از کم ایک ایکڑ زمین خرید لی جائے گی اور اس پر نقشہ بننا شروع ہوجائے گا۔ہماری خواہش ہے کہ جلد نئی بلڈنگ بنے اور طلباء کو
اس پریشانی سے چھٹکارا ملے۔

ساری گزارشات کا خلاصہ اور پیغام
آپ سوچیں گے کہ اتنی باتیں سنادی ہیں ان باتوں کے کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ان ساری گزارشات کا مقصد یہ ہے اور آپ سب حاضرین سے گزارش یہ ہے کہ:
1۔اپنے بچوں کو علم دین پڑھائیں۔دوبچے ہیں تو ایک بچے کو قرآن کا حافظ،قاری قرآن بنائیں اور اس پر اکتفاء نہ کریں بل کہ عالم دین ،مفتی اور فقیہ بنا کر اپنی اولاد کی دین دنیا بھی سنواریں اور اپنی آخرت کا سامان بھی کریں۔پردادا حضور نے اپنے بیٹوں کو علم دین پڑھایا،دادا جان نے اپنے بیٹوں کو علم دین پڑھایا،میرے والد ذی وقار نے مجھے علم دین پڑھایا ۔اللہ کے فضل و کرم سے میں نے اسی ادارے میں 9 سال علما کی جوتیاں سیدھی کی ہیں۔
2۔اپنے اس ادارے کو جو تمام اہل سنت کا بالعموم اور علاقہ والوں کا بالخصوص محسن ادارہ ہے۔اس کی ہر لحاظ سے مدد کرنے کی بھی کوشش کیا کریں۔اپنے بچوں کو بھیجیں،اور ساتھ ساتھ زکوٰۃ ،عشر اور دیگر صدقات دے کر ادارے کی مالی معاونت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔عام فقیر کو دینے میں ایک ثواب ہے اور طالب علم پر خرچ کرنے میں 4ثواب ہیں،غریب کی کفالت بھی ہوجاتی ہے،مسافر کی داد رسی بھی ہوجاتی ہے اور علم دین کی اشاعت میں مدد اور صدقہ جاریہ بھی ہوجاتا ہے اس لیے ادارے کی مالی معاونت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
٭حضور تاج الفقہا بندیالوی زید شرفہ کی دعا اور قبلہ مفکر اسلام حفظہ اللہ کی محنت شاقہ سے ادارہ دن بدن ترقی کی منازل طے کرتا جارہا ہے۔الہ العالمین سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس ادارے کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے اور قبلہ تاج الفقہا بندیالوی زیدشرفہ،قبلہ مفکر اسلام پروفیسر صاحبزادہ محمد ظفر الحق صاحب بندیالوی زید مجدہ اور اس ادارہ کے تمام مدرسین، متعلقین اور معاونین کو صحت کاملہ عاجلہ اور عمر دراز عطا فرمائے۔

آپ کا اپنا ادارہ دارالعلوم جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف
18/05/2026

آپ کا اپنا ادارہ دارالعلوم جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف

18/05/2026
12/05/2026

07/05/2026

پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا اجر

Address

Bandial Janubi, Tehsil Quaidabad, District Khushab, Punjab
Bandial
41310

Telephone

+923055977738

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Mazharia Imdadia Bandial Sharif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Jamia Mazharia Imdadia Bandial Sharif:

Share