11/09/2026
سوال سے جواب تک کا سفر!
کبھی کبھی کسی نئی تحریک یا تنظیم کو دیکھ کر ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟ سمت کیا ہے؟ اور منزل کہاں ہے؟
علماء کونسل بالاکوٹ Ulama Council Balakot بھی جب عرصہ قبل حضرت مولانا قاضی خلیل احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں قائم ہوئی تو ایک عرصے تک میرے ذہن میں بھی یہی سوال موجود رہا۔ نوجوان علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا یقیناً خوش آئند تھا، مگر اس کے عملی خدوخال اور مستقبل کی سمت اس وقت پوری طرح واضح نہ تھی۔ اس لیے خاموشی سے حسنِ ظن قائم رکھا کہ نوجوان علماء ہیں، نیت خیر کی ہوگی تو راستہ بھی خیر ہی کا نکلے گا۔
وقت گزرتا گیا۔ کونسل کی سرگرمیاں زیادہ تر فیس بک اور واٹس ایپ کے حلقوں تک دکھائی دیتی رہیں۔ ممکن ہے پسِ پردہ بہت کچھ ہوتا رہا ہو، مگر میری نظر وہاں تک نہ پہنچ سکی۔
پھر حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ گزشتہ برس سوشل میڈیا پر بعض اختلافی امور سامنے آئے اور اسی دوران میری توجہ کونسل سے وابستہ بعض جید، مخلص اور فعال علماء کی طرف گئی۔ انہی میں حضرت مولانا طیب قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ بھی ہیں، جن سے بالاکوٹ میں ایک مختصر نشست کا موقع ملا۔ مختصر ملاقات، مگر حسنِ اخلاق، متانت، خلوص اور شائستگی نے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔
اسی طرح حضرت مولانا ڈاکٹر قاری میاں عتیق الرحمن صاحب، خطیب ایڈن پیلس ولاز، رائیونڈ روڈ لاہور سے میری شناسائی پہلے سے تھی۔ ایک نشست میں میں نے اپنے ذہن کے سوالات ان کے سامنے رکھ دیے۔ ڈاکٹر صاحب نے انتہائی اطمینان اور وسعتِ قلبی کے ساتھ کونسل کے مقصد، بنیاد، پس منظر، طریقۂ کار اور موجودہ صورتحال پر گفتگو فرمائی۔ یوں بہت سے سوالات کے جواب ملے اور ایک سابقہ تاثر اعتماد میں بدلنے لگا۔
اس قافلے میں شامل دیگر اہلِ علم بھی اپنی اپنی جگہ قابلِ تحسین کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا میاں عطاء الرحمن صاحب، مفتی فدا سیال صاحب، حضرت مولانا میاں عبدالرحمن صاحب، خطیب کوثر مسجد اعوان ٹاؤن لاہور اور دیگر رفقاء کی کاوشیں اس سفر کو تقویت دے رہی ہیں۔ بالخصوص سوشل میڈیا کے محاذ پر کونسل کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے اور اسے متحرک رکھنے میں مولانا قاری عبد الوحید صاحب کا کردار بھی قابلِ قدر ہے۔
بہرحال، اصل فیصلہ ہمیشہ عمل ہی کرتا ہے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران بالاکوٹ تحصیل کی سطح پر علماء کونسل بالاکوٹ کی جو عملی سرگرمیاں سامنے آئیں، ان میں سالانہ کنونشن خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اس کے اثرات صرف علماء تک محدود نہیں رہے بلکہ عوام، خواص اور مختلف طبقات تک اس کی مثبت بازگشت پہنچی۔
اس سے بھی بڑھ کر ایک ایسا اقدام سامنے آیا جس نے مجھے ذاتی طور پر بہت متاثر کیا: سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انعامی مقابلہ۔
یہ صرف ایک مقابلہ نہیں تھا؛ مدارس کے طلبہ کے ساتھ اسکول اور کالج کے طلبہ کو بھی سیرتِ طیبہ سے جوڑنے کی ایک خوبصورت اور دور رس کوشش تھی۔ یہی وہ طرزِ دعوت ہے جس کی آج کے دور میں ضرورت ہے؛ دین کو صرف اپنے مخصوص حلقے تک محدود رکھنے کے بجائے نئی نسل کے دل و دماغ تک پہنچانا۔
اور اب جب 13 ستمبر 2026ء کو تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کے انعقاد کی خبر سامنے آئی تو دل نے بے اختیار کہا:
الحمدللہ! ہمارے نوجوانوں نے اپنے اکابر کی میراث کو صرف یاد نہیں رکھا، بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کی سنجیدہ کوشش بھی شروع کر دی ہے۔
میرا بالاکوٹ کی عوام سے طالب علمی کے زمانے سے تعلق رہا ہے۔ 2005ء کے زلزلے کے دوران جمعیت طلبہ اسلام اور جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کے مواقع بھی ملے۔ اس طویل تعلق کی بنیاد پر عوام کے مزاج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میری نظر میں آج کی عوام نعروں سے زیادہ عمل، اخلاص، حسنِ اخلاق اور مثبت دینی رہنمائی چاہتی ہے۔
خوشی کی بات ہے کہ علماء کونسل کی قیادت اسی سمت قدم بڑھاتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس لیے یہ چند سطریں محض تعریف نہیں بلکہ ایک خیرخواہ کی طرف سے خراجِ تحسین اور حوصلہ افزائی ہیں۔ اختلافِ رائے ہر زندہ معاشرے کا حسن ہے، مگر جہاں خیر کا کام نظر آئے وہاں اسے سراہنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
بالخصوص تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کے حوالے سے اہلِ بالاکوٹ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اسے محض ایک تنظیم کا پروگرام نہ سمجھا جائے۔ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس لیے علماء، طلبہ، نوجوان، عمائدین اور عوام سب اپنی شرکت یقینی بنائیں، اپنے دوست احباب اور نوجوانوں کو ساتھ لائیں اور اس اجتماع کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کریں۔
ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہمارے ایمان کی جان ہے،
اور ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہماری ایمانی ذمہ داری ہے۔
سیدنا صدیقِ اکبر سے لے کر سیدنا فاروقِ اعظم، سیدناعثمانِ غنی، سیدنا علی المرتضی اور جملہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس عقیدے اور محبت کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کیا، ان کے نام لیواؤں کے اس مشن کے امین آج بھی موجود ہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک موجود رہیں گے۔
علماء کونسل بالاکوٹ! اگر یہی سفر اخلاص، حکمت، اتحاد اور عمل کے ساتھ جاری رہا تو یہ محض ایک تنظیم نہیں رہے گی؛ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک دینی، فکری اور تربیتی راستہ بن سکتی ہے۔
اور شاید اس پورے سفر کا حاصل یہی ہے:
**سوال اٹھنا کوئی عیب نہیں،
مگر جب کردار جواب بن جائے تو اعتماد خود پیدا ہو جاتا ہے۔**
اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے، اخلاص عطا فرمائے، باہمی محبت و اتحاد قائم رکھے اور اسے دین و ملت کے لیے نافع بنائے۔ آمین۔
از قلم: میاں صلاح الدین، بالاکوٹ
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
#بالاکوٹ