مدرسہ باب العلوم ودارلافتاء ڈھیرکئ ضلع باجوڑ

مدرسہ باب العلوم ودارلافتاء ڈھیرکئ ضلع باجوڑ ہمارا مقصد دین اسلام کی کما حقہ ترویج و اشاعت ہے.

16/07/2022

گھر کے کام کاج (کھانا پکانا اور صفائی وغیرہ) بیوی کے ذمہ ہے یا نہیں؟
سوال
کیا شوہر کے ذمہ کمانا اور گھر کے سارے کام کاج جیسا کہ کھانا پکانا اور صفائی وغیرہ ہے، اور عورت چوں کہ بچے پیدا کرتی ہے اور شوہر اس کے جسم سے فائدہ اٹھا تا ہے تو وہ ان گھریلو ذمےداریوں سے آزاد ہے۔ کچھ واضح طور پر بتادیجیے!

جواب
واضح رہے کہ ازدواجی زندگی پرسکون اور خوش گوار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، نبی کریم ﷺ نے شوہرکو اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنی گھر والی کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔ دوسری جانب بیوی کو بھی اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا ، ارشادِ نبوی ہے: (بالفرض) اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔

لہذا بیوی کا اخلاقی فریضہ ہے اور اس پر دیانۃً واجب ہے کہ وہ شوہر کے لیے کھانا پکائے اور اس کے کپڑے دھوئے، جس طرح بیوی کا علاج معالجہ کرنا مرد پر قضاءً واجب نہیں، عدالت اس سلسلے میں اس پر جبر نہیں کرسکتی، لیکن زندگی کی گاڑی سکون اور خوش حالی کے ساتھ تب ہی آگے بڑھے گی جب شوہر قضائی فرائض کے علاوہ اخلاقی فرائض کو بھی انجام دے، بالکل اسی طرح عورت کو بھی ازدواجی زندگی پرامن اور پرسکون بنانے کے لیے اخلاقی فرائض کا اہتمام کرنا ہوگا, خلاصہ یہ ہے کہ گھر کے کام کاج (کھانا پکانا اور صفائی وغیرہ) دیانۃً اور اخلاقاً بیوی کے ذمہ ہے ، اس لیے بیوی کو بغیر کسی عذر کے گھر کے کاموں سے یہ کہہ کر انکار نہیں کرنا چاہیے کہ یہ کام کاج میرے ذمہ نہیں ہیں، اسی طرح شوہر کو بھی چاہیے کہ اگر استطاعت ہو تو گھر کے کاموں میں مدد کرنے کے لیے کسی خادمہ یا نوکرانی وغیرہ کا انتظام کردے یا حتی الامکان خود بھی گھر کے کاموں میں بیوی کا ہاتھ بٹائے، بیوی پر نوکرانی کی طرح اتنا بوجھ بھی نہ ڈالے کہ اسے عبادت، بچوں کی پرورش اور تربیت وغیرہ کے لیے یا اپنے ذاتی کاموں کے لیے بھی وقت نہ مل سکے، جناب رسول اللہ ﷺ خود بنفس نفیس اپنے گھر کے کام سر انجام دے دیتے تھے۔

الفتاوى الهندية - (11 / 378):

"وإن قالت : لاأطبخ ، ولاأخبز قال في الكتاب : لاتجبر على الطبخ والخبز، وعلى الزوج أن يأتيها بطعام مهيإ أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز، قال الفقيه أبو الليث -رحمه الله تعالى- إن امتنعت المرأة عن الطبخ والخبز إنما يجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ إذا كانت من بنات الأشراف لا تخدم بنفسها في أهلها ، وإن لم تكن من بنات الأشراف لكن بها علة تمنعها من الطبخ والخبز أما إذا لم تكن كذلك فلايجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ كذا في الظهيرية قالوا : إن هذه الأعمال واجبة عليها ديانة ، وإن كان لا يجبرها القاضي، كذا في البحر الرائق". فقط واللہ اعلم

09/07/2022

انشاءاللہ کل بروز اتوار بمورخہ 10 جولائی مدرسہ باب العلوم و دارالافتاء مشہور بہ ڈھیرکئی مدرسہ میں عید الاضحٰی کی نماز 30=6پر ادا کی جائیگی
خطبہ عید الاضحٰی
مفتی محمد نعیم فیضانی صاحب پڑھائیں گے

اسکا اہتمام کیا جائے
07/07/2022

اسکا اہتمام کیا جائے

02/07/2022

دارالافتاء


حضرت عائشہؓ کی شادی کے وقت عمر
سوال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت عمر کتنی تھی؟

جواب
صحیح احادیث کے مطابق ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چھ سال کی عمر میں ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کردیا تھا، اور نو سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی۔

صحيح البخاري (5 / 55):
"حدثني فروة بن أبي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن أبيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: «تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم وأنا بنت ست سنين، فقدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن خزرج، فوعكت فتمرق شعري، فوفى جميمة فأتتني أمي أم رومان، وإني لفي أرجوحة، ومعي صواحب لي، فصرخت بي فأتيتها، لاأدري ما تريد بي فأخذت بيدي حتى أوقفتني على باب الدار، وإني لأنهج حتى سكن بعض نفسي، ثم أخذت شيئاً من ماء فمسحت به وجهي ورأسي، ثم أدخلتني الدار، فإذا نسوة من الأنصار في البيت، فقلن على الخير والبركة، وعلى خير طائر، فأسلمتني إليهن، فأصلحن من شأني، فلم يرعني إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى، فأسلمتني إليه، وأنا يومئذ بنت تسع سنين»".
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میری عمر چھ سال کی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ہوا, پھر ہم (ہجرت کرکے) مدینہ آئے تو بنی حارث بن خزرج (کے مکان) میں اترے, پھر مجھے (اتنا شدید) بخار آیا کہ میرے سر کے بال گرنے لگے اور وہ کانوں تک رہ گئے, پھر (ایک دن) میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولے میں بیٹھی تھی کہ میری والدہ ام رومان میرے پاس آئیں اور مجھے زور سے آواز دی, میں ان کے پاس چلی گئی اس حال میں کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ انہوں نے کیوں بلایا ہے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر ایک مکان کے دروازہ پر کھڑا کردیا میرا سانس پھول رہا تھا حتیٰ کہ ذرا دم میں دم آیا، پھر انہوں نے تھوڑا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر ہاتھ پھیر دیا، پھر مجھے مکان کے اندر داخل کردیا تو میں نے کمرہ میں چند انصاری عورتوں کو دیکھا، انہوں نے کہا خیر و برکت اور نیک فال کے ساتھ آؤ ۔میری والدہ نے مجھے ان کے حوالہ کردیا، پھر انہوں نے مجھے سنوارا (تیار کیا)، پھر چاشت کے وقت آں حضرت تشریف لائے تو انہوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کردیا اس وقت میری عمر نو سال کی تھی۔ فقط واللہ اعلم

01/07/2022

دعوت تبلیغ میں علماء کا کردار

01/07/2022

Den keep mehnat

01/07/2022

اجراء النحو مفتی محمد نعیم الفیضانی صاحب

Address

Bajauri Koruna

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مدرسہ باب العلوم ودارلافتاء ڈھیرکئ ضلع باجوڑ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share