Deen or Dunya

Deen or Dunya islamic content

23/07/2025

آپ عشاء کی سترہ رکعتیں پڑھتے تھے پھر علم حاصل کیا تو نو رکعتیں پڑھنے لگ گئے، آپ سادہ سے بندے تھے، سالوں سے عصر کی آٹھ رکعیتں پڑھتے تھے۔۔ کچھ پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگ گئے تو انہوں نے بتایا کہ عصر کی چار رکعتیں تو سنت ہیں چار فرض ہیں۔ آپ کو پتہ چلا کہ سنت ہیں آپ نے پڑھنا چھوڑ دیں۔. جب آپ کو پتہ چلا کہ سنت ہیں آپ نے چھوڑ دیا تو بتائیں سنت کو اہمیت دی یا بے اہم سمجھا؟۔۔
آپ زندگی بھر رمضان کی قدر کرتے تھے، دن روزوں سے گزارتے اور آپ کی راتیں تراویح سے مزین ہوتی تھیں، پھر کسی دن کسی عالم سے سن لیا کہ تراویح تو ایک زائد عبادت ہے۔ تیس سال پڑہنے کے بعد غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ بیٹھے تو یاد رکھئے یہ نفع بخش علم نہیں نقصان دہ علم ہے۔ یہ خدا کی بندگی نہیں بندگی سے فرار ہے جس کو آپ علم سمجھتے ہیں۔
آج کل کا مسئلہ جہالت نہیں بلکہ بڑا مسئلہ علم ہے۔ آج کی جہالت پتہ نہ ہونے سے نہیں بلکہ دور جدید کی جہالت پتہ ہونا ہے۔ لوگ اس وجہ سے گمراہ نہیں ہورہے کہ انہیں پتہ نہیں بلکہ اس وجہ سے گمراہ ہورہے ہیں کہ انہیں پتہ ہے۔ اور ایسا علم جو خدا کو بندے سے دور کردے تو وہ مفید علم نہیں بلکہ مضر ہے۔ خدائے تعالیٰ ایسے علم سے بچائے جو خود خدا سے دور کردے۔۔ آمین یارب العالمین

21/07/2025

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افضل جہاد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور خواہشات کے خلاف جہاد کرے.
(صحیح الجامع #1099)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا ، جو ان کی مخالفت کرے گا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا.
(السلسلہ الصحیحہ #3620)
درجہ، صحیح

19/07/2025

حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ
’’ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا‘‘۔ پھر غش کھا جاتے-
ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟
آپؒ نے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑے دھو کر تہہ لگا کر کے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے،
ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا،
کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے،
جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا،
محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہو گئے،
وہ شہزادی کے کپڑ ے الگ کرتا انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،
انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کر کے رکھتا،
سلسلہ چلتا رہا آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا،
یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے،
والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی، ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا، محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا،
مگر جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔
ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
دھوبن نے جواب دیا کہ شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں،
شہزادی نے کہا پہلے کون دھوتا تھا؟
دھوبن نے کہا کہ میں ہی دھوتی تھی،
شہزادی نے اسے کہا کہ یہ کپڑا تہہ کرو،
اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا،
شہزادی نے اسے ڈانٹا کہ تم جھوٹ بولتی ہو،
سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی،
دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا،
وہ زار و قطار رونے لگ گئی،
اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا،
شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔
پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے، زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر اس کی قبر پر پھول چڑ ھانے ضرور آتی۔
یہ بات سنانے کے بعد حضرت کہتے،
اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے تو بھلا اللہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟
ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے اور وہ اپنی پوری صلاحیت اور محبت اس کے کپڑ ے دھونے میں بروئےکار لا سکتا ہے تو کیا ہم لوگ اللہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑھنے میں اسی طرح دل وجان سے نہیں استعمال کر سکتے؟
مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر شہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے تو کیا رب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے؟
حضرت نظام الدین اولیاءؒ پھر فرماتے وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا جبکہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں قبول ہوگی یا منہ پر ماردی جائے گی،
اللہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے،
یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے!
مگر ہم غافل ہیں ۔
پھر فرماتے اللہ کی قسم اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں تو اللہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے جس طرح دھوبی کے بچے کا دل پھٹ گیا تھا،
یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑھی جاتی کوئی جذبہ کھڑا رکھتا ہے،
فرماتے یہ نسخہ
اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کے دل کی حالت دیکھ کر بتایا تھا کہ آپ نماز پڑھا کیجئے اور رات بھر ہماری باتیں دہراتے رھا کیجئے آرام ملتا رہے گا، اسی وجہ سے نماز کے وقت آپ فرماتے تھے
’’أرحنا بها يابلال۔ اے بلال ہمارے سینے میں ٹھنڈک ڈال دے .

17/07/2025

کوئی مانے یا نہ مانے‘ اس ملک میں سب سے بڑا جھوٹا‘ سب سے بڑا چور‘ عام آدمی بے یہ جو عام آدمی ہے ، جس کی جمع عوام بے ، یہ عام آدمی سیاست میں بے نہ اسٹیبلشمنٹ میں! یہ نہ بیورو کریٹ بے ‘ نہ جرنیل! مگر یہ سب سے بڑا فرعون بے یہ اپنے جیسے دوسرے عام لوگوں کا سب سے بڑا دشمن بے!

یہ پھل بیچتا بے تو جان بوجھ کر گندے پھل تھیلے میں ڈال دیتا بے یہ موٹر سائیکل چلاتا بے تو پیدل چلنے والوں اور گاڑیاں چلانے والوں کے لیے خدا کا عذاب بنتا ہے ۔ یہ ویگن اور بس چلاتا بے تو ہلاکت کی علامت بن کر چلاتا بے اس سے لوگ دور بھاگتے ہیں! یہ ٹریکٹر ٹرالی اور ڈمپر چلاتا ہے تو موت کا فرشتہ بن جاتا بے ۔ ٹریکٹر ٹرالیاں اور ڈمپر‘ بلامبالغہ سینکڑوں گاڑیوں اور ہزاروں انسانوں کو کچل چکے ہیں۔

یہ سرکاری دفتر میں کلرک بن کر بیٹھتا بے تو سانپ کی طرح پھنکارتا بے اور بِچّھو کی طرح ڈستا بے یہ دفتر سے نماز کے لیے جاتا بے تو واپس نہیں آتا۔ سائل انتظار کر کر کے نامراد ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ کہیں چلے جائیں‘ بورڈ لگا ہوگا ''ڈیڑھ بجے نماز کا وقفہ ہے ‘‘۔ یہ وقفہ کب ختم ہو گا؟ کچھ معلوم نہیں!

یہ عام آدمی دکاندار بے تو گاہکوں کو اپنا غلام اور خود کو ہامان سمجھتا بے ، صبح جوتے خرید کر شام کو واپس کرنے جائیے، نہیں لے گا۔ واپس کرنا تو دور کی بات بے تبدیل تک نہیں کرے گا! اس کا گاہک بھی عام آدمی بے ، وہ دکاندار سے بھی زیادہ فریبی بے چیز اچھی خاصی استعمال کرکے واپس یا تبدیل کرنے آئے گا۔

ہر شخص جانتا بے کہ امریکہ وغیرہ میں یہ عام آدمی‘ جو ہم نے یہاں سے برآمد کیا ہے دھوکہ دیتا بے ، مہمان آئیں تو وال مارٹ (وہاں کے سپر سٹور) سے نئے گدے (میٹریس) خریدتا بے ، مہمان چلے جائیں تو جا کر واپس کر آتا بے (یہ شہادت ثقہ افراد نے دی بے )۔ یہ عام آدمی انگلستان میں‘ گھر سے باہر نکلے تو وِیل چیئر پر ہوتا بے گھر کے اندر ہو تو چھلانگیں لگاتا بے (اس کی بھی مضبوط شہادت بے )۔

یہ عام آدمی گھر کا کوڑا گلی میں پھینکتا بے یہ دو کروڑ مکان کی تعمیر پر لگا دیتا بے مگر پانچ ہزار کی بجری‘ گھر کے سامنے ٹوٹی ہوئی سڑک پر نہیں ڈلوا سکتا۔ یہ عام آدمی گھر بناتا بے تو گلی کا کچھ حصہ گھر میں شامل کر لیتا بے ، دکان ڈالتا ھے تو نہ صرف فٹ پاتھ بلکہ آدھی سڑک پر اپنا سامان رکھتا بے یہ عام آدمی ناجائز تجاوزات کی شکل میں جو فائدہ اٹھا رہا بے اس کا حساب لگائیے تو شریفوں اور زرداریوں کی مبینہ چوری سے ہزار گنا بڑی چوری ثابت ہو گی!

یہ عام آدمی گیس کے محکمے میں ملازم لگتا بے تو رشوت لے کر ناجائز‘ چوری چھپے‘ گیس کنکشن دیتا بے بجلی کے محکمے میں جائے تو گھر بیٹھ کر میٹر ریڈنگ کرتا بے ٹیلی فون آپریٹر لگے تو فون ہی نہیں اٹھاتا۔ آزما لیجیے۔ آپ کے گردے فیل ہو جائیں گے مگر آپریٹر آپ کی کال نہیں اٹھائے گا۔

یہ عام آدمی ہی بے جس نے سیاست دانوں کی عادتیں بگاڑی ہیں۔ یہ خوشی سے ان سیاست دانوں کی‘ ان کے بچوں کی‘ ان کے خاندانوں کی غلامی کرتا بے ۔ یہ ساری زندگی ان کے جلسوں میں دریاں بچھاتا بے ۔ نعرے لگاتا بے ۔ ان کی گاڑیوں کے ساتھ دوڑتا بے ان کی حمایت میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے جھگڑتا بے یہاں تک کہ تعلقات توڑ دیتا بے مگر اپنی اور اپنے کنبے کی حالتِ زار پر رحم کرتا بے نہ سیاست دانوں سے اپنے حقوق مانگتا بے ،

غربت نسل در نسل اس کے خاندان میں راج کرے گی مگر یہ فخر سے کہتا رہے گا کہ ہم اتنی نسلوں سے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ یا تحریک انصاف کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہی عام آدمی بے جو سیاست دانوں کے کبیرہ گناہوں کا جواز تراشتا بے اور ان کی غلطیوں پر غضبناک ہونے کے بجائے ان کا دفاع کرتا بے ۔

یہ عام آدمی اپنے جیسے عام آدمیوں کو اذیت پہنچاتا بے ۔ بیٹے کی شادی کرے تو لڑکی والوں سے جہیز مانگتا بے ۔ بیٹی کی شادی کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا بے کہ نندوں اور ساس کو چلتا کرے یا ان کے اختیارات چھین لے۔

مسجد میں نماز پڑھنا شروع کرتا بے تو مولوی صاحب کو اپنا ملازم سمجھتا بے ۔ تجارت کرتا بے تو کم تولتا بے ۔کسی کے گھرمیں ملازم ہو تو مالک کے ساتھ مخلص نہیں۔ کسی کو اپنا ملازم رکھے تو اس کے کھانے پینے اور لباس کا خیال نہیں رکھتا۔ پیروں‘ فقیروں کے پیچھے بھاگ کر خوار و زبوں ہوتا ہے مگر گھر میں بیٹھے ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا۔

یہ بے وہ عام آدمی جو چاہتا بے کہ عمران خان‘ نواز شریف‘ زرداری اور چودھری‘ سب کے سب راتوں رات عمر بن عبد العزیزؒ بن جائیں۔رات دن ان پر تنقید کرتا بے ۔ اسے پورا یقین بے کہ اس ملک میں اگر کوئی راہِ راست پر بے تو صرف وہی بے اور باقی سب کو اصلاح کی ضرورت بے ۔ اسے یہ بھی یقین بے کہ سیاست پر‘ مذہب پر‘ ملکی نظام پر‘ امریکہ پر اس کا کہا حرفِ آخر بے وہی بلند ترین اتھارٹی بے وہ بہت خلوص سے کہتا اور سمجھتا بے کہ اگر ملک کو اس کی تجاویز کے مطابق چلایا جائے تو دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی!

جس دن یہ عام آدمی‘ آدمی سے انسان بن گیا تو مُعاشرے سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک‘ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ مگر اس کے انسان بننے کی امید نہ ہونے کے برابر ہے.

15/07/2025

بہت سے دوست اور رشتہ داروں سے آپ کنارہ کشی کرتے ہیں اور وہ بھی اس امید پر کہ کسی دن انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا....

مگر افسوس!

شاید ہزار میں سے کوئی ایک ایسا واقعہ گزرا ہو کہ بھولا واپس لوٹ آئے...

ورنہ انسان ہمیشہ اپنی انا کی تسکین ہی چاہتا ہے

اور بہت سے لوگ اس ڈر سے نہیں پلٹتے کہ شاید دوسرا بندہ اور ذلیل کرے گا

یقین کیجییے ٹک ٹاک کے اس دور میں کسی کو آپکی خاموشی سے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا

اس لئیے سب سے پہلے تو خود کو خاص سمجھنا چھوڑیں

آپ کی ذات کی رتی برابر اوقات نہیں ہے.... نہ تو دوستوں میں، نہ ماں باپ کے سامنے اور نہ ہی دفتر میں

ہاں جن کی عزت ہے تو وہ صرف انکے مال اور عہدے کی

زمین سے دو منزل اوپر ایک اپارٹمینٹ میں مَیں بھی اکیلا ہی رہتا ہوں

سوشل چینلز پر کل ملا کر دو لاکھ فالؤور ہیں مگر کیا آج میں غائب ہو جاؤں تو کسی کو فرق پڑے گا؟

جواب ہے نہیں

تو زندگی میں غصّہ دکھا کر کبھی غائب نہ ہوں کہ آپکی قدر بڑھ جائے گی

قبرستان ان لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو سمجھتے تھے کہ انکے بغیر دنیا نہیں چلے گی

محبت بانٹیں اور سب کو دل سے معاف کر کے آگے بڑھ جائیں
زندگی نفرتوں کے لئیے بہت چھوٹی ہے

26/05/2024

بعض لوگ کیوں نماز نہیں پڑهتے؟
ایک دوست نے اپنے نماز پڑهنے کی یہ وجہ بیان کی:
بہت آسانی سے میں نمازی بن گیا-
ایک دن میں کلاس میں بیٹها ہوا تها اور میری کلاس کا مضمون علوم دينی تها- جب استاد کلاس میں تشریف لائے تو انہوں نے شاگردوں سے سؤال کیا:
آپ کی نظر میں کون لوگ نماز نہیں پڑهتے؟

ایک شاگرد نے بڑی معصومیت سے کہا: جو لوگ مرگئے ہیں وہ نماز نہیں پڑهتے۔
دوسرے شاگرد نے شرمندگی سے جواب دیا:
جن لوگوں کو نماز پڑهنا نہیں آتی۔تیسرا بچہ اپنی جگہ سے کهڑا ہوا اور نہایت معقول جواب دیا:
جو لوگ مسلمان نہیں ہیں وہ نماز نہیں پڑهتے۔
اسی طرح ایک اور بچہ نے جواب دیا: جو لوگ کافر ہیں وہ نماز نہیں پڑهتے۔
اسی ترتيب سے پانچویں بچہ نے جواب میں کہا:
جو لوگ خدا سے نہیں ڈرتے وہ لوگ نماز نہیں پڑهتے۔
تمام شاگردوں نے اپنے نظريات بیان کر دئیے- لیکن
میں سوچوں میں ڈوب گیا کہ میں ان میں سے کونسا ہوں؟
آیا میں مرگیا ہوں؟ نہیں تو! کیا مجهے نماز پڑهنا نہیں آتی؟
آتی ہے. آیا میں مسلمان نہیں ہوں؟ الحمداللّٰه كہ ہوں۔
کیا میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتا؟ ڈرتا ہوں
آیا مگر میں کافر ہوں؟ نعوذباللّٰه
پهر میں کیوں نماز نہیں پڑهتا؟میں اپنے آپ سے کہنے لگا:
اگر قبر کی پہلی رات مجه سے سوال کیا گیا كہ:تم زنده تهے.نماز بهی آتی تهی.
مسلمان بهی تهے.اللہ سے ڈرتے بهی تهے.
پهر بهی تم نے نماز کیوں نہیں پڑهی۔۔۔
میرے پاس کیا جواب ہے... کیا کہونگا میں آخر؟ جهرجهری آ گئی مجهے, اور اسی دن مصمم ارادہ کرلیا کہ اب کبهی نماز ترک نہیں کرونگا. صرف ایک مصصم و سنجیدہ ارادہ کی ضرورت ہے آپ بهی اس بارے میں ضرور سوچئےگا-
نماز دین کا ستون ہے۔

10/05/2024

* #جنت کی ٹیکنولوجی*
چند مہینے پہلے ٹی وی کے ایک مشہور اسلامک چینل کا ایک کلپ دیکھا جس میں ایک بچہ سوال کرتا ہے کہ کیا جنت میں انٹرنیٹ ہوگا؟ تو ٹی وی اینکر ہکا بکا رہ گیا اور بچے کو ایسے دیکھنے لگا جیسے اس نے بڑا بے تکا سوال کردیا؛ بھئی جنت کا انٹرنیٹ یا اس طرح کی کسی ٹیکنولوجی سے کیا لینا دینا؟ یہ تو دنیا کے بکھیڑے ہیں!
یہ کلپ دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی اور اپنی ماں یاد آگئی۔ بچپن میں میری مرحومہ ماں نیکی کی باتیں، انکی جزا اور برائی کی سزا سے متعلق بتایا کرتی تھیں۔ ان باتوں میں ایک یہ بھی تھی کہ جنت میں آپ جو خواہش کروگے وہ پوری ہوگی۔ آپ جو سوچو گے وہ آپ کے سامنے آجائے گا۔ بچپن میں کھانا پینا ہی سب سے بڑا اثاثہ ہوتا ہے، سو سمجھانے کیلئے کہتیں اگر تم کچھ کھانا چاہو گے تو وہ تمہارے پاس آجائے گا جیسے کوئی پھل فروٹ یا کوئی بھی چیز۔ یعنی آپ کو اسکے لئے کوئی مشقت یا دوڑ دھوپ نہیں کرنی پڑے گی، بس ادھر خواہش کی ادھر پوری ہوگئی۔
اس وقت تو ایسے ماحول کا فقط تصور ہی کیا جا سکتا تھا، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ یقین سا ہوتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا پر کیسے ہوگا اسکا کوئی آئیڈیا نہیں تھا۔ لیکن اب ٹیکنولوجی میں ترقی کے ساتھ یہ باتیں پریکٹیکل لگتی ہیں۔ سب سے پہلے تو ٹی وی رموٹ کنٹرول کی آمد اور دور سے اسکے بٹن دبانے سے ٹی وی کھلتا یا بند ہوتا تھا یا اسکے دوسرے بٹن کام کرتے تھے۔ پھر کئی اورچیزوں میں اسکا عمل دخل آگیا جیسے کھلونے گاڑیاں، پھر کھلونے جہاز اور چند سال سے بڑے بڑے ڈرون رموٹ کنٹرول ٹیکنولوجی سے چلائے جانے لگے۔ اسی طرح موبائل فون کی آمد کے بعد تو جیسے انقلاب آگیا، بس نمبر ملائیں اور سات سمندر پار بیٹھے لوگوں سے بغیر تار کے بات کرلیں۔ پھر سمارٹ فون نے تو جیسے دنیا ہی بدل کر رکھ دی۔ ساتھ ہی آواز (وائس کمانڈ) اور حرکت (موشن) سینسر سے چیزوں کو چلانے والی ٹیکنولوجی آگئی جس نے رموٹ کنٹرول کو جیسے چھٹی دیدی۔ اب ادھر آپ نے زبان سے حکم نکالا وہاں حکم کی تعمیل ہونے لگی۔ آج کل آپ اپنے بہت سے ڈیوائسز وائس کمانڈ سے چلاتے ہیں جن میں بلب، پنکھے، دروازے اور بہت ساری دوسری اشیا آپ کے زبان سے نکلے حکم پر چلتی اور بند ہوتی ہیں۔ موبائل فون آپ کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے سرچ کرنے اور کال ملانے سے لیکر ایپس کھولنے، بند کرنے کے علاوہ بہت سارے کام انجام دیتا ہے جن میں دور بیٹھے آپ گھر، دکان یا آفس کی نگرانی اور وہاں کوئی کل پرزے چلا اور بند کرسکتے ہیں۔
ٹیکنولوجی کی ترقی اور اسکی قبولیت ہمارے دور کی بڑی کامیابی ہے۔ اس وقت دنیا کو گلوبل ولیج کہا جا تا ہے۔ اگر دنیا میں کہیں بھی کوئی اہم واقعہ یا کوئی دریافت ہوتی ہے تو عموما چند منٹوں میں دنیا کے ہر کونے میں اس کی آگاہی مل جاتی ہے اور پھر لوگوں کو یقین بھی ہو جاتا ہے کہ یہ ممکن ہے۔
آجکل معذور لوگوں کو مصنوعی اعضا لگائے جارہے ہیں، جو اعصابی نظام سے جوڑ دئے جاتے ہیں۔ اس طرح انسان اپنی سوچ کے ذریعے اصل اعضا کی طرح انہیں حرکت دیتا ہے۔ اس ٹیکنولوجی کو نیورالنک کہا جا رہا ہے اور اس کے عام ہونے کے بعد شاید ہر انسان اپنی سوچ کی مدد سے وہی کچھ عام زندگی میں کر سکے گا جو وہ آجکل وائس کمانڈ سے کر رہا ہے جیسے بلب، پنکھا، ٹی وی وغیرہ کھولنے اور بند کرنے یا کوئی بھی کام کرنے کیلئے آپ فقط سوچیں گے اور وہ ہوجائے گا۔ یہ تو انسانی سوچ اور کھوج ہے جو اتنی شاندار ٹیکنولوجی بنا کر انسانی زندگی کو سہل بنا رہی ہے لیکن اللہ، جس نے اس کائنات اور انسان کو تخلیق کیا، اسکی ٹیکنولوجی یقیناً بہت ایڈوانس ہوگی بلکہ اگر کہا جائے کہ وہ ٹیکنولوجی کی انتہا ہوگی جسکے ذریعے جنت میں انسان جو خواہش کرے گا وہ فوراً پوری ہوجائے گی۔
ایسی ٹیکنولوجی کی مثالیں ۱۴۰۰ سال پہلے سے ہمارے سامنے ہیں لیکن ہم اپنے ذہن و خیال کی پستی کی وجہ سے ان کی بلندی اور روح تک نہیں پہنچ پاتے۔ چند ایک درج ذیل ہیں۔
1۔ واقعہ معراج: واقعہ معراج بجائے خود ٹیکنولوجی کا شاہکار تھا۔ جس میں حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم کو ٹائم اور اسپیس کی حدود سے نکل کر کائنات کی انتہا تک کا سفر رات کے چند لمحوں میں کرایا گیا۔
• آجکل ایسی ہی ایک ٹیکنولوجی پر سائنسدان کام کر رہے ہیں جسے "ورم ہول" کہا جارہا ہے اور اس کا تھیم یہی ہے کہ اگر انسان اس میں کامیاب ہوگیا تو دنیا کے چند گھنٹوں کے اندر کسی گیلیکسی کی سیر ممکن ہوجائے گی، لیکن اسے عمل میں لانے میں شاید ابھی کئی صدیاں یا ہزاروں سال لگ جائیں۔
• فلم "انٹر اسٹیلر" میں ورم ہول دکھایا گیا ہے اور اس فلم میں ایک کردار خلا میں 2 سال کے قریب وقت گذارتا ہے اور جوان رہتا ہے، جب کہ زمین پر اس دوران 80 سال گذر جاتے ہیں۔
2۔ معراج سے واپسی پر مکہ مکرمہ میں حضرت محمد ﷺ سے جب بیت المقدس کی تفاصیل پوچھیں گئیں تو مسجد القدس آپ ﷺ کے سامنے لاکر رکھ دی گئی، اور آپ ﷺ نے دیکھ دیکھ کر اسکی ساری تفصیل بیان کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پھر مسجد کو (میرے سامنے) لایا گیا، میں دیکھ رہا تھا حتی کہ عقال یا عقیل کے دروازے کے پاس رکھ دی گئی، میں اس کا وصف بیان کرنے لگا اور میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا (حدیث السلسلتہ صحیحہ 2192)"۔
• شاید یہ بیت المقدس کا کوئی ہائی ٹیک ملٹی ڈائمینشنل ہولوگرام تھا جو آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا جسے دیکھ دیکھ کر آپ نے القدس کی تفصیلات بتائی ہونگی۔
• ہولوگرام کسی چیز کا ورچوئل تھری ڈی ماڈل ہے جسے آپ کسی اسکرین کے مقابلے سامنے کے بجائے چاروں طرف سے دیکھ سکتے ہیں۔ ہولوگرام پر کامیابی سے تجربات جاری ہیں۔ ہولوگرام کو آپ "اسٹار وار" مووی میں دیکھ کر اندازا لگا سکتے ہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے۔
3۔ واقعہ معراج ہی کے دوران آسمان کی بلندیوں سے حضرت محمد ﷺ کو چار نہریں نظر آئیں؛ جن میں سے دو کے متعلق انہیں بتایا گیا کہ یہ دریائے نیل و فرات ہیں (صحيح بخاري، 3887)۔
• انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن سے نظر آنے والے زمینی اجسام میں دریائے نیل و فرات بھی شامل ہیں۔ جبکہ یہی بات حضرت محمد ﷺ ۱۴۰۰ سال پہلے بتا گئے۔ کیا اس وقت کوئی تصور کر سکتا تھا کہ صدیوں بعد خلاء سے کبھی انہی چیزوں کو اسی طرح دیکھا جائے گا۔ کیا اب بھی واقعہ معراج اور اس کے ٹیکنولوجیکل کمال میں کوئی شک رہ جاتا ہے؟
4۔ قیامت کے دن جہاں اگلے پچھلے اربوں، کھربوں انسان ایک ہی میدان میں جمع ہونگے وہاں کیلئے کہا گیا ہے کہ جہنم کو گنہگاروں کے سامنے لایا جائے گا "اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے؛ (القرآن، سورة الكهف ۱۰۰)"۔ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ جبکہ حدیث کے مطابق اسکی تپش 500 سال دور سے محسوس کی جا سکے گی یعنی جہنم شاید سورج سے کہیں زیادہ گرم اور بڑی ہوگی جبھی اسکی تپش اتنا دور سے محسوس کی جاسکے گی۔ شاید قیا مت کے دن بھی کوئی ملٹی ڈائمینشنل ہولوگرام ہوگا یا ملین گیگا بائیٹ اسپید کے ساتھ کوئی بہت بڑی اسکرین جس پر جہنمیوں کو جہنم میں جانے سے پہلے میدان حشر میں ہی جہنم دکھادی جائے گی۔ میدان حشر میں جنتی بھی ہونگے اور اسی طرح جنت انکے سامنے لائی جائے گی "اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی ، کچھ بھی دور نہ ہوگی؛ سورة ق، ۳۱)"۔ یا شاید اگلے جہان میں ٹائم اور اسپیس کے ڈائمینشن ہماری دنیا سے مختلف ہونگے اور جسطرح آجکل دنیا گلوبل ولیج ہے اسی طرح آخرت میں دوریوں کے باوجود فاصلے سکڑ جائیں گے۔
• اسکا صحیح تصور کرنا تو شاید ممکن نہ ہو لیکن جادوئی فلموں جیسے کہ "ہیری پوٹر" وغیرہ کو دیکھنے سے ایسی باتوں کا تصور کیا جاسکتا ہے جسمیں اداکار ایک پردے کے اس پار جاتے ہیں تو دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔
5۔ روز محشر نامہ اعمال ہاتھ میں تھما دیا جائے گا جس میں زندگی بھر کی گئی ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر ہر برائی درج ہوگی (سورة الزلزلة)۔ دنیا میں لوگوں کی بایوگرافی کی کتب جن میں ان لوگوں کی زندگی کے فقط خاص خاص احوال درج ہوتے ہیں کئی سو صفحات پر مشتمل ہوتی ہیں، جبکہ نامہ اعمال میں انسان کی زندگی کے لمحے لمحے کی داستان ہوگی۔ تو آپ اندازہ کیجئے کہ کتنی ضخیم کتاب ہوگی۔ کیا یہ کوئی کاغذ والی کتاب ہوگی؟ نہیں بلکہ شاید یہ کوئی موبائل یا آئی پید ٹائپ کی بہت ہی ایڈوانس ڈوائس ہوگی جو کسی بھی انسان کی پوری زندگی کی ہولوگرافک پریزینٹیسن پر مشتمل ہوگی اور وہ انسانی ذہن سے کنٹرول ہونے والی ہوگی جس سے انسان اپنی زندگی کے کسی لمحے کے فعل کو اس میں موجود اور زندہ پائے گا اور اپنی سوچ کے ساتھ آسانی کے ساتھ اسکی ورق گردانی کر سکے گا۔
6۔ جب جنت اور جہنم آباد ہوجائیں گی، تب ان کے باسی ایک دوسرے سے مکالمہ بھی کریں گے (سورة اعراف آیت ۴۴ سے ۵۰)۔ حدیث میں ہے کہ "جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجے کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے (جامع ترمذی ۲۵۳۱ و دیگر)" اور "بہت سی جنتیں ہیں (صحیح بخاری ۳۹۸۲)"۔ اس سے لگتا ہے کہ جنت شاید سینکڑوں سیاروں پر مشتمل ہوگی اور ایک پوری کائنات ہوگی؛ قدرتی طور پہ جہنم ان سے کہیں دور واقع ہونی چاہئے تو جنت و جہنم کے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر کس طرح آمنے سامنے کی طرح باتیں کر سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ رابطہ بھی کسی بہت بڑی اور طاقتور لیکن دوطرفہ اسکرین کے ذریعے ہوگا جو انتہائی ہائی ٹیک انٹرنیٹ سے منسلق ہوگی اور دونوں طرف کے لوگ بلکل آمنے سامنے کی طرح ایک دوسرے سے باتیں کرسکیں گے۔
7۔ جنتیوں کو محلات اور سلطنتیں یا جاگیرین عطا ہونگی۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ جنتی اپنے خیمے (یا محل) کے سب حصوں کو دیکھ سکے گا جبکہ دیگر لوگ نہ دیکھ پائیں گے۔شاید جنتی اپنی اپنی سلطنتوں کو ہائی ٹیک سی سی ٹی وی کی مدد سے مانیٹر کر سکیں گے۔ کیونکہ جنت زمین کی طرح محدود نہ ہوگی بلکہ اسکی وسعت "آسمانوں اور زمین" جتنی ہوگی۔ بلکہ وہ وقت ٹیکنولوجی کا شہکار ہوگا اور اس وقت کی کائنات جنتیوں کی سیر گاہ ہوگی۔
اسلئے آجکل کے نوجوانوں سے میری گذارش ہے کہ انٹرنیٹ پر گیم کھیل کر اور دیگر فضول چیزوں پر اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے جنت کی تیاری کریں جہاں کی انٹرنیٹ لامحدود اور کائنات کی وسعتوں کو چھوتی ہوگی۔ "دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔ جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لیئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (سورة الحدید ۲۱)"
وَاللّٰہ اَعلَم بِالصَّواب۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔
#منقول

21/04/2024

سوال
کیا ” یارسولؐ“ کہنے میں ” یا “ کا لفظ اضافی ہے؟

جواب:-

یہ لفظ ہی اور ہے ۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ
بحث جو ہے یہ اضافی بحث ہے کہ ایک ”یا“ کیوں کہتا ہے اور دوسرا ”یا“ کیوں نہیں کہتا ۔ میرا خیال ہے کہ کسی شخص کی حضور پاک ؐ کی شان میں بد نیتی نہیں ہے ۔ کوئی شخص بد نیت نہیں ہے ، نہ کوئی دیوبندی اور نہ کوئی بریلوی ۔ تم لوگ بحث کر کے لوگوں میں فتنہ پھیلا رہے ہو

ایک درویش تھا جو صرف لا الٰہ الا اللہ کہتا تھا ۔ اُسے بادشاہ نے پکڑ لیا اور پوچھا کہ کلمہ پورا کیوں نہیں پڑھتے ۔ اُس نے کہا اس کے آگے ہے ہی کچھ نہیں ۔ بادشاہ نے کہا اس طرح تو تُو کافر ہو گیا کہ صرف لا الٰہ اللہ کہتا ہے اور پورا کلمہ نہیں پڑھتا ۔ اُس نے پھر کہا کہ اس کے آگے کچھ ہے ہی نہیں ۔ بادشاہ نے کہا قتل کر دو ۔ قتل کیا تو اُس کے خون سے آواز آئی محمدؐ رسول اللہ ۔ بات پتہ چلی کہ اُس نے کہا کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اتنا پاک نام زبان سے لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ ادب کی باتیں ہیں ، بحث کی باتیں نہیں ہیں ۔ مسلمانوں میں کسی کو کافر مت کہو ۔ کافر وہ ہے جس کو حضور پاکؐ کافر کہیں ۔ لوگوں کو دوزخ دینے کا اور دوزخ میں بھیجنے کا کوئی پروگرام نہ بنایا کرو ۔ یہ نہ کہا کرو کہ وہ کافر ہے ، یہ کافر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آدھوں کو اِس نے کافر کر دیا اور آدھوں کو اُس نے کافر کر دیا ۔ خدا کے بندو ، یہ کیا کر رہے ہو ۔ یہ سب سیاست کے ڈرامے ہیں ، اور کوئی بات نہیں ہے ۔ یہ نہ کہنا کہ اہلِ قرآن کافر ہیں ، اہلِ حدیث کافر ہیں ، دیوبندی کافر ہیں اور بریلوی کافر ہیں

دیوبند اور بریلوی ہندوستان کے دو شہر ہیں ۔ یہ کل کی بات ہے ۔ ایک طرف سے کہا گیا کہ جو شخص غلام غوث لکھتا ہے اس کا ایمان خارج ۔ ایک بزرگ تھے ، انہوں نے کہا میرا نام عبدا المصطفیٰ ہے ، میں بندہ ہی مصطفیٰؐ کا ہوں ۔ انہوں نے کہا یہ بھی ایمان سے خارج ہے ، اس کا ایمان ضائع ہو گیا ۔ اُدھر سے کہا گیا کہ اے منکرین رسالتؐ ”تم“ ”یارسول اللہ“ نہیں کہتے ، تمہارا ایمان برباد ہو گیا ، تمہاری عبادتیں ضائع ہو گئیں یہ لڑ پڑے اور انگریزوں کا کام بن گیا

اب مرزا قادیان کو دیکھو ، وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نبی ہوں کیونکہ وہ شعبہ بند ہو گیا ہے ۔ ہمارے ہاں جو ولی ہیں وہ بڑی طاقت والے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ ہم یہ ہیں ، ہم وہ ہیں ، ہمارے پاس طاقت ہے ، ہر موسم ہمارے پاس آ کے جاتا ہے ، ہم اس کی نگرانی کرتے ہیں ، ہم جیسے چاہیں وہ ہوتا ہے لیکن کسی نے لفظ ”نبی“ استعمال نہیں کیا کیونکہ یہ لفظ استعمال نہیں ہو سکتا ۔ آپ بات سمجھ رہے ہیں؟ مرزا قادیان کو کسی بندے نے گمراہ کر دیا کہ تم سارا کام نبوت والا کر رہے ہو ، لہٰذا تم نبی کہلاوء ۔ تو نبوت والا شعبہ بند ہے ، یہ ٹائیٹل بند ہے ۔ آپ ؐ نے فرما دیا ہے کہ میرے بعد نبی نہیں آئے گا ۔ بس یہاں سے گمراہی پیدا ہوتی ہے

وہ ایک زمانہ تھا مناظرے کا ، مناظرے ہوتے تھے ، آدھے بندے دوسروں کو کافر کہتے تھے ۔ یہ ساری باتیں بند ہونی چاہئیں ۔ وہ اسلام جو اس وقت تھا ، اس کلمہ طیبہ کی وحدت کے گرد بندھ جاوء ۔ جو فرقے حضور پاکؐ کے زمانے میں تھے ، وہی کافی ہیں ۔ اس وقت کتنے فرقے تھے؟ صرف ایک تھا ۔ تو ایک ہی کافی ہے ۔ اب واپس وہیں سے چلو ، شروع سے ، جہاں سے کہانی شروع ہوئی تھی ۔ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے ، ایک جگہ ساری رات قوالی ہوئی ، صبح ہوئی ، ساری محفل برخاست ہوئی ، ساتھ والی مسجد میں اذان ہوئی ، وہاں جو پیر صاحب تھے وہ بڑے جلالی تھے ، کہنے لگے دیکھو اب یہ مُلؔاں آ گیا ، ساری رات تو اللہ ہماری محفل میں تھا ، اِدھر ہی سارا پروگرام ہو رہا تھا اور اب یہ اس کو بُلا رہا ہے اب یہ بات نہیں کہنی چاہیے

نماز کا ایک نظام ہے ، اس کی عزت کرو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنی نماز اور نظام کی حفاظت کرتا ہوں ۔ داتا صاحبؒ نے بڑا نکتہ بتایا ہے ”کشف المحجوب“ پڑھو ۔ وہ اپنے مرید کو سمجھاتے ہیں جس کے لیے انہوں نے کتاب لکھی ہے کہ مان لیا کہ تم اللہ کے دوست ہو ، تمہیں اللہ سے بڑا پیار ہے ، اور جو لوگ شریعت کا نظام قائم کرتے ہیں ، مان لو کہ انہیں اللہ سے پیار نہیں ہے ، اب اللہ کہتا ہے کہ میں اپنے دین کی حفاظت کرتا ہوں ، تو اللہ ان کے ذریعے اپنے دین کی حفاظت کرا رہا ہے تُو اس کی عزت کر۔ تو اللہ نے کہا ہے کہ وانا لہ لحافظون ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں

مجذوب فقیروں کی بات اور ہے ۔ مثلاً جیسے ایک تھے ولی، سائیں کانواں والی سرکارؒ ۔ وہ لنگوٹہ پہن کے گجرات شریف میں بیٹھا کرتے تھے ، یعنی سائیں کرم الٰہی صاحبؒ ۔ جتنے بڑے ولی اللہ ہیں انہوں نے پہلے مسجد بنائی، پہلے تم مسجد میں جاوء ، پھر اِدھر اُدھر آٶ ۔ تو ہر خانقاه پر مسجد پہلے ہے ۔ داتا دربار پر مسجد پہلے ہے ، بابا صاحب گنج شکرؒ کے ہاں مسجد پہلے ہے ، میاں میر صاحبؒ تو ساری مسجد ہی ہے ، اور کیا ہے ۔ وہ مکمل مسجد ہے ۔ ایسا کوئی قابلِ ذکر ولی اللہ نہیں ہو گا جس کے پاس مسجد نہ ہو ۔ علم والا جو ہے وہ شرکِ خفیف سے ڈرتا ہے اور شوق والے کے لیے ہر جگہ اللہ ہے ۔ اب یہ بات وہ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ

جب نیاز و ناز کی حد سے گزر جاتا ہوں میں
اپنے سجدے کا حرم کو حُکم فرماتا ہوں میں

اب ظاہری طور پر یہ بڑے شرک کی بات ہے ، بڑا ظالمانہ شرک ہے ، مگر یہ بیدم وارثیؒ ہیں جو انہوں نے کہا وہ ٹھیک ہی کہا ہو گا ۔۔ کہتے ہیں کہ

بٹھا کے دل میں انہیں ان کی ہی نماز پڑھی

کہ میں نے پہلے ان کو دل میں بٹھایا اور پھر ان کی نماز پڑھی ، اس طرح اپنے گھر کو کعبہ بنا لیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو دل میں ہے اس کو سجدہ کیسے کروں ، اگر وہ باہر ہو تو میں سجدہ کروں اور اگر اندر ہے تو سجدہ کیسے کروں ۔ یہ ہیں ولیوں کی باتیں ۔ جب تک یہ کیفیت نہ آئے ، یہ بات نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر وہ کیفیت ہے تو پھر ٹھیک ہے ۔ ورنہ تو یہ راز ، راز ہی رہنا چاہیے

فقر میں ہوتا کیا ہے؟ کہ یہ راز ، راز ہی رہنا چاہیے ۔ آپ شریعت قائم رکھیں ، نماز قائم رکھیں ۔ باطن کی بھی نماز ہوتی ہے لیکن ظاہری نماز فرض ہے ۔ تو کیا ہے ؟ ظاہری نماز فرض ہے ۔ آپ کو باطنی نماز مبارک ہو اور ظاہری نماز کو قائم رکھو ، اس کے بارے میں کچھ نہ کہنا ، اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے ۔ باطن والے ٹھیک کہتے ہیں ، ” یا “ کہنے والے پار ہو جائیں گے ۔ آپ کے لیے کافی ہے کہ آپ مسلمان ہو جائیں
ایک بات اچھی طرح سمجھ لو ، شرک جو ہے یہ مسلمان سے ہو ہی نہیں سکتا ، شرک تو ہے ہی نہیں ، یہ ممکن نہیں کہ کوئی دوسرا اللہ آپ بنا لیں ۔ آپ کو تو پہلا اللہ ہی سمجھ نہیں آیا ، دوسرا کیا بنائیں گے آپ لوگ ۔ اس لیے شرک ممکن نہیں ہے ۔ یعنی ایک اور اللہ ہو جس کو آپ سجدہ کریں اور جسے آپ جانتے ہوں ، لیکن پہلے کا آپ کو پتہ نہیں چلا ۔ یہ بات آپ کو سمجھ آئی؟ تو شرک کا مسلمان کے پاس امکان نہیں ہے ۔ اللہ وہی ہے جو اللہ موجود ہے ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ میری راہ ان لوگوں کی راہ ہے جن پر انعام ہوا یعنی انعمت علیھم والے ۔ تو اللہ کی راہ کیا ہے؟ ۔ یعنی بندوں کی راہ ۔ اور آپ اللہ کی تلاش کرتے کرتے کسی بندے تک ہی پہنچیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یہی بات پسند ہے ۔ اس نے فرمایا ہے کہ میں چھپا ہوا خزانہ تھا ، میں نے چاہا کہ پہچانا جاوءں ، پس میں نے بندہ بنا دیا ۔ اللہ کے مَن کی اِچھا بندہ ہے ۔ بس بندے کے من کی اِچھا اللہ ہونا چاہیے ، آپ کے دل کی آرزو اللہ ہونا چاہیے ۔ اس کا طریقہ کیا ہے؟ شریعت کا ، جو حضور پاک ؐ نے فرمایا ہے ۔ یہی طریقہ اللہ نے بتایا ہے ، انسان سجدے میں ہو ۔ اب اس میں بحث نہیں ہونی چاہیے ، پہلے ہی سارا واقعہ غلط ہوا پڑا ہے ، کمزور ہوا پڑا ہے

اور سوال ہو تو پوچھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں تو دعا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بولو

سوال:-

حضور پاک ؐ کے گستاخ کو اگر اللہ معاف کر دے تو۔۔۔۔۔۔

جواب:-

*دراصل یہ نیت ہے ۔ کافروں میں سے جن لوگوں نے اسلام کے خلاف باتیں لکھیں ، انہوں نے حضور پاک ؐ کی شان کو Disgrace نہیں کیا ۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے اور ہم ذہنی اور قلبی طور پر اس کے قائل ہی نہیں ہیں کہ حضور پاکؐ کی شان میں گستاخی کرنے والا کوئی مسلمان ہو سکتا ہے ۔ باقی یہ جو سوال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو تو یہی بات پسند ہے اور اللہ تعالیٰ اس معاملے میں جذباتی ہے ، اور وہ فرماتا ہے کہ اگر تم نے نبی ؐ کی آواز سے اپنی آواز اونچی کر دی تو ہمارے اعمال ضائع ہو جائیں گے ، اور تمہیں معلوم بھی نہیں ہو گا ۔ تو آواز اونچی نہیں کرنی ۔ اور ان سے ایسے بات نہیں کرنی جس طرح انسانوں سے بات کرتے ہو ۔ کمال کی بات تو یہ کہ حضور پاک ؐ کا جو نام ہے وہ ہمارا ایمان ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں فرشتوں سمیت درود بھیجتا رہتا ہوں ۔ اندازہ لگاوء ، محبت کا یہ عالم ہے ۔ اللہ کیسے درود بھیجتا ہو گا؟ اللہ کی محبت کیا ہے؟ اللہ کی محبت بھی اللہ جیسی بڑی ہے ۔ اگر حضور پاک ؐ کسی کو بخش دیں اور معاف کر دیں تو وہ معاف ہو سکتا ہے ، لیکن اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا ۔ اگر حضور پاکؐ کہہ دیں کہ میں نے معاف کر دیا ہے تو شاید اب وہ قبول ہو جائے ۔ یہ ممکن ہو سکتا ہے

اور کوئی سوال بولو ۔۔۔۔۔۔ آپ بولیں تا کہ کوئی بات رہ نہ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوچھو!

(گفتگو والیم 19 ....... صفحہ نمبر 239 ، 240 ،241 ، 242 ، 243 ، 244 ، 245)

۔۔۔فرمان ؛ حضرت واصف علی واصف رح

🌺

02/04/2024

حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجھہ
(21 رمضان المبارک 40 ہجری یومِ شہادت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘)
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘،ابوتراب، اسد اللہ، حیدرکرار، شیرِ خدا۔۔۔
دامادِ رسول ﷺ،سسر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘۔۔۔
فاتح خیبر۔۔۔
چوتھے خلیفۂ راشد۔۔۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاوہ دو خوش نصیب ہستیاں ہیں جو اس وقت تربیتِ نبوی ﷺ میں آئے جب ذہن بالکل صاف کاغذ کی مانند تھے اور علومِ نبوت کی ایسی برکات ان اذہان پر کندہ ہوئیں کہ ایک علم کا دروازہ کہلایا اور ایک خواتین میں علم کا سب سے بلند مینارہ۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘سے نہ صرف ظاہری علوم کے سر چشمے پھوٹے بلکہ باطنی علوم کے بھی سرخیل قرا ر پائے۔۔۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ جب ہجرت کے لئے روانہ ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کو اپنے بسترِ مبارک پر لٹا گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ جب بیت المقدس کی فتح کے بعد وہاں روانہ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر کر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ اللہ! کیسا مقام؟ کیا بلند و بالا شان؟ کاشانۂ نبوت کا بھی محبوب چراغ اور آسمانِ صحابیت کا بھی ایک درخشندہ ستارہ جس کی چمک تا قیامت آنکھوں کو خیرہ کرتی رہے گی۔
جنت کی بشارت زندگی میں پائی اور عشرۂ مبشرہ کی پاک فہرست میں شامل ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہادت کے عظیم مرتبے کی بشارت لسانِ نبوی ﷺ سے ادا ہوئی۔۔۔۔
شجاعت، ذہانت، فراست کا ایک عظیم علمبردار۔۔۔۔۔۔
الفاظ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کی شان بیان کرنے سے قاصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ میں جب کچھ ناعاقبت اندیش آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کی شان کو گھٹانے کی ناکام کوشش میں سرگرداں تھے
تو
ایک خاندانِ فاروقی کے چشم و چراغ
"عمرِ ثانی حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ" نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کے لئے وہ خوبصورت تاریخی الفاظ ادا کئے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کے نام کا لازمی جزو بن گئے
"کرم اللہ وجھہ‘"
"اللہ آپ کا چہرہ روشن کرے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
19رمضان المبارک ،فجر کا وقت، ابدی بدبخت ابنِ ملجم لعنۃ اللہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ پر چالیس روز سے زہر میں بجھائی ہوئی تلوار سے سرِ مبارک پر حملہ کیا۔۔۔۔
اسی کاری زخم سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘21 رمضان المبارک 40 ہجری کو شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوئے۔۔۔۔۔
ابنِ ملجم ایسے بدبخت اور ملعونین کیا جانیں کہ "سارعو الی الجنۃ" اور "سارعو الی المغفرۃ" کے حامل انسان ظاہری زندگی ختم ہونے سے ختم نہیں بلکہ امر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔
جو دنیا میں "الفوز الکبیر" کی بشارت پاجائیں،ان کے لئے یہ خاتمۂ زندگی نہیں۔۔۔۔
جو جان کنی کے مراحل میں *"ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا"* کے بے ساختہ الفاظ ادا کرتے ہوں، اُن کی خوشی کی انتہائیں یہ ملعونین کیا جانیں۔۔۔۔۔۔
(رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘)

تحریر: آفاق احمد

Address

Bahawalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deen or Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share