13/08/2026
کامیابی کا ایک بنیادی اصول اور امیر محترم کے اسفار ۔۔۔
کوئی ادارہ، جماعت یا تنظیم محض عہدوں، اجلاسوں، قراردادوں اور خوب صورت نعروں سے کامیاب نہیں ہوتی۔ ادارے کاغذوں پر نہیں، کرداروں کے اندر زندہ ہوتے ہیں، اور کردار اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب آدمی کسی کام کا محض نگران نہ رہے بلکہ اس کے انجام میں خود بھی شریک ہو۔
دنیا کی کامیاب تنظیموں کے پیچھے ایک بنیادی اصول کارفرما ہوتا ہے، جسے جدید اصطلاح میں Skin in the Game کہا جاتا ہے یعنی جس فیصلے کا مشورہ دو، اس کے نتائج میں خود بھی شریک ہو، جس کشتی میں دوسروں کو سوار کرو، اس میں اپنا قدم بھی رکھو، جس مقصد کی کامیابی کی خواہش کرو، اس کے لیے اپنا وقت، اپنی صلاحیت، اپنی محنت، اپنی آسائش اور بسا اوقات اپنا مفاد بھی داؤ پر لگاؤ۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں فیصلے کرنے والے اور نتائج بھگتنے والے الگ الگ ہوں۔ جہاں مشورہ دینے والے کو نقصان کا اندیشہ نہ ہو، وہاں مشورہ محض الفاظ بن جاتا ہے اور جہاں ذمہ داری عہدے کی زینت بن جائے مگر قربانی زندگی کا حصہ نہ بنے، وہاں تنظیم آہستہ آہستہ جسم تو رہ جاتی ہے، روح کھو دیتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر محترم ڈاکٹر حافظ عبد الکریم حفظہ اللہ تعالیٰ کی قیادت کو بھی اگر اسی اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو قیادت کا مفہوم محض ایک منصب یا انتظامی ذمہ داری نہیں رہتا، بلکہ ایک امانت، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ عملی وابستگی بن جاتا ہے۔
قیادت کا حسن یہ نہیں کہ قائد دوسروں کو قربانی کا درس دے، قیادت کا حسن یہ ہے کہ لوگ اپنے قائد کو بھی اسی راستے کی گرد میں کھڑا دیکھیں جس راستے پر چلنے کی دعوت انہیں دی جا رہی ہے۔
ایک کارکن جب یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا امیر، اس کا منتظم اور اس کی قیادت بھی اسی سفر کے مسافر ہیں، انہیں بھی مشکلات کا سامنا ہے، وہ بھی وقت دے رہے ہیں، اپنی آسائشیں قربان کر رہے ہیں اور ادارے کی کامیابی و ناکامی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، تو کارکن کے اندر ایک عجیب قوت پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہ محض حکم کی تعمیل نہیں کرتا بلکہ مقصد کی حفاظت کرتا ہے۔
اور اگر قیادت صرف دوسروں سے قربانی مانگے اور خود محفوظ فاصلے پر کھڑی رہے تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ کیونکہ انسان الفاظوں سے زیادہ کرداروں سے متاثر ہوتا ہے۔
Skin in the Game کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص یکساں مقدار میں قربانی دے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ذمہ دار اپنے حصے کا بوجھ خود اٹھائے۔ کسی کے پاس وقت ہے تو وقت دے، کسی کے پاس علم ہے تو علم دے، کسی کے پاس وسائل ہیں تو وسائل دے، کسی کے پاس اثر و رسوخ ہے تو اسے مقصد کے لیے استعمال کرے، اور کسی کے پاس صرف اخلاص ہے تو وہ اخلاص بھی کم سرمایہ نہیں۔
اصل قیادت وہ نہیں جو سب کو آگے بھیج دے،
اصل قیادت وہ ہے جو خود آگے کھڑی ہو۔
جماعتیں بھی اسی اصول سے مضبوط ہوتی ہیں، ادارے بھی، تحریکیں بھی۔ تاریخ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے حصے کی قیمت ادا کی۔ محض تقریروں سے تحریکیں زندہ نہیں رہتیں، محض قراردادوں سے ادارے مضبوط نہیں ہوتے اور محض عہدوں سے قیادت پیدا نہیں ہوتی۔ کسی نہ کسی کو اپنی آسائش، اپنا وقت، اپنی توانائی، اپنی شہرت اور کبھی کبھی اپنی ذات بھی مقصد کی چوکھٹ پر رکھنی پڑتی ہے۔
اسی لیے کسی جماعت یا تنظیم کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے عہدیدار کتنے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے عہدیدار اپنے مقصد کے ساتھ کتنے وابستہ ہیں۔
جس دن ذمہ دار یہ سمجھنے لگیں کہ جماعت صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ میری بھی ذمہ داری ہے، اس کی کامیابی میری کامیابی اور اس کی کمزوری میں میری بھی جواب دہی ہے، اُس دن ادارے میں جان پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
پھر اجلاس صرف اجلاس نہیں رہتے، فیصلے محض فیصلے نہیں رہتے، عہدے صرف نام نہیں رہتے اور ذمہ داریاں صرف فہرست کا حصہ نہیں رہتیں، سب کچھ ایک مشترکہ مقصد، ایک مشترکہ امانت اور ایک مشترکہ جدوجہد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اور شاید کسی بھی ادارے کی کامیابی کا سب سے مختصر فارمولا یہی ہے۔
اگر کشتی سب کی ہے تو طوفان میں چپو بھی سب کو اٹھانا ہوگا۔
جس ادارے میں ہر شخص دوسروں کو Skin in the Game کا درس دے اور خود کنارے پر کھڑا رہے، وہاں کامیابی ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔
لیکن جس جماعت کے ہر فرد، بالخصوص اس کے ذمہ داران، کے دل میں یہ احساس جاگ جائے کہ
یہ صرف ادارہ نہیں، میری ذمہ داری ہے
یہ صرف مقصد نہیں، میری امانت ہے
اور اس کی کامیابی کے لیے مجھے بھی اپنا حصہ داؤ پر لگانا ہے۔
تو پھر وہ جماعت محض قائم نہیں رہتی، زندہ رہتی ہے، بڑھتی ہے، اثر پیدا کرتی ہے اور تاریخ میں اپنا نقش چھوڑتی ہے۔
قیادت دراصل وہی ہے جہاں عہدہ ذمہ داری بن جائے، ذمہ داری قربانی بن جائے، اور قربانی ایک ایسے مقصد سے جڑ جائے جسے انسان اپنی ذات سے بڑا سمجھنے لگے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں Skin in the Game محض ایک انگریزی اصطلاح نہیں رہتی، بلکہ قیادت کی روح اور کامیاب تنظیم کا بنیادی اصول بن جاتی ہے۔ جسے امیر محترم بخوبی نبھا رہے ہیں اور دوسروں کے لئے ایک مثال ۔۔۔
سردار جواد علی خان
پنڈی گھیب اٹک