26/05/2026
حجّ را ناتمام گذاشت عازمِ نینوا شد!
حلق و تقصیر و ذبح را وانهاد
برای آن ذبحِ عظیم...
حج را ناتمام گذاشت عازمِ نینوا شد: امام حسین علیہ السلام نے مکہ میں حج کے ارادے کو ناتمام (یعنی عمرہ پر تمام) کیا اور نینوا یعنی کربلا کی طرف چل پڑے۔ کیونکہ دینِ اسلام اور انسانیت کو بچانے کے لیے ان کا کربلا جانا اس وقت سب سے زیادہ ضروری تھا۔
حلق و تقصیر و ذبح را وانهاد: حاجی جب حج کرتے ہیں تو وہ قربانی (ذبح) کرتے ہیں اور سر منڈواتے یا بال کٹواتے ہیں (حلق و تقصیر)۔ شاعر کہتا ہے کہ امام حسینؑ نے مکہ کی ان ظاہری رسموں کو وہیں چھوڑ دیا۔
برای آن ذبحِ عظیم: انہوں نے یہ سب اس لیے چھوڑا کیونکہ وہ مکہ کی عام قربانی کے بجائے کربلا کے میدان میں اپنی، اپنے اہل خانہ اور انصار کی سب سے بڑی قربانی (ذبحِ عظیم) پیش کرنے جا رہے تھے، جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی اشارتاً موجود ہے۔
Team Chura Sharif - Official ©️