15/08/2026
یکم ربیع الاول شب ہجرت کو ١٤٤٧ سال گزر چکے ہیں۔ جب حضرت مولا علیؑ نے حضرت رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سو کر مرضئ پروردگار خرید لی۔
جب حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج رات میری جان کو یہاں خطرہ ہے، لہذا اے علیؑ! آپ میرے بستر پر سو جائیں۔
مولا علیؑ نے پوچھا: یارسول اللہ ؐ! کیا میرے سونے سے آپؐ کی جان بچ جائے گی ؟
نبی اکرم ﷺ نے اثبات میں جواب دیا۔ شیر خداؑ نے اس تجویز کو پسند کیا اور شہادت کے لیے پوری طرح سے آمادہ ہو کر سجدہ شکر بجا لائے کہ خدایا ! تیرا احسان ہے کہ تو نے مجھے اپنے رسولؐ کا فدیہ مقرر کیا ہے۔
مولا علیؑ نے رسول اکرم ﷺ کی سبز رنگ کی یمنی ردا اوڑھی جسے اس سے قبل نبی اکرمؐ اوڑھ کر سویا کرتے تھے۔ علی حیدر کرارؑ قتل گاہ کو پھولوں کی سیج سمجھ کر سو گئے۔
علی شیرِ خدا ؑ نے اپنے جسم کو تلواروں کے سپرد کر کے شجاعت کی ایسی لازوال داستان رقم کی جس کی کائنات میں مثال نہیں ملتی۔ آپ کے اس ایثار کو ملائکہ مقربین نے انتہائی تعجب سے دیکھا۔ خداوند عالم نے آپ کے اس ایثار کی وجہ سے ملائکہ پر مباہات کی تھی۔
رب العالمین نے آپؑ کے ایثار کی تعریف میں یہ آیت مجیدہ نازل فرمائی:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِىْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ رَءُوْفٌ بِالْعِبَادِ.
”اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضاجوئی میں اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے۔“ (سورة البقرة، آية ٢٠٧)
● طبقات کبریٰ، ج ١، ص ۲۲۷
● موسوعة الإمام علي بن أبي طالبؑ في الكتاب والسنة والتاريخ، ج ٩، ص ١٥٨
● كشف اليقين في فضائل أمير المؤمنينؑ، ص ٩٠
● تذكرة الخواص، ص ٤١