20/09/2021
Great Work
سماجی ڈارونیت ایک نظریہ ہے جو 1800 کی دہائی کے آخر میں سامنے آیا جس میں فطری چناؤ کے ذریعے چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء بعض سیاسی ، سماجی یا معاشی نظریات کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سماجی ڈارونسٹ survival of the fittest پر یقین رکھتے ہیں - ان کے خیال میں کچھ لوگ معاشرے میں طاقتور بن جاتے ہیں کیونکہ وہ فطری طور پر بہتر ہوتے ہیں۔ سماجی ڈارونیت کا استعمال پچھلی ڈیڑھ صدی میں سامراج ، نسل پرستی ، یوجینکس اور سماجی عدم مساوات کے لیئے جواز کےطور پر کیا گیا۔
اپنے نظریات کی ترویج کی کوشش میں ، ڈارون نے ماہر معاشیات ہربرٹ سپینسر اور ٹامس مالتھس سے سے بھی نظریا ت لیئے۔ لیکن یہ نظریات ایسے رجحان رکھتے تھے جن میں فساد، جنگ اور بقا کے عناصر تھے۔ سپینسر نے بھی ڈارون کی نظریئے کو معیشت میں استعمال کیا اوریہ نتیجہ دیا کہ مضبوط ترین مزدور ہی کام کرنے اور زندہ رپنے کے قائل ہیں۔
اسپینسر نے تمام ایسے قوانین کی مخالفت کی جس سے مزدوروں ، غریبوں کی حمایت ممکن تھی۔کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ جینیاتی طور پر کمزورہیں، اس لیئے انھیں ناپید ہوجانا چاہیئے۔۔ اس نے دلیل دی کہ اس طرح کے قوانین تہذیب کے ارتقاء کے خلاف جائیں گے جو "نااہل" کے معدوم ہونے میں تاخیر کا باعث بنے گا۔ ڈارون کی سائنس امریکہ میں بھی مقبول ہوئی۔ ممتاز امریکی ماہر معاشیات ولیم سمنربھی سماجی ڈارونسٹ تھے۔ وہ فلاحی ریاست کے مخالف تھے۔وہ جائیداد اور سماجی حیثیت کے لیے انسانوں کے باہمی مقابلے کی حمایے کرتے تھے۔ ان کے نزدیک انفرادی مسابقت کے ذریعے کمزور افراد کو آبادی سے ختم کیا جاسکتا تھا۔ وہ کمزور افراد کو آبادی میں غیر اخلاقی اضافہ سمجھتے تھے۔
ایسے ہی سماجی ڈارونزم آگے بڑھا اور انسانیت کے نام پر ایک اور دھبہ پڑا۔ اس دھبے کا نام سائنس آف یوجینکس تھا جو کہ گالٹن نے پیش کیاتھا۔ گالٹن، جو ڈارون کے کزن تھے، انھوں نے برطانوی اشرافیہ کو میعار مان کر بہتر انسانیت پیدا کرنے کی تجویز دی۔ وہ انسانی فلاح کے مخالف تھے اور رائے رکھتے تھے کہ سماجی ادارے جیسے فلاح و بہبود اور ذہنی پناہ گاہیں کمتر انسانوں کو برطانیہ کے امیر طبقے میں اپنے اعلیٰ ہم منصبوں کے مقابلے میں اعلیٰ سطح پر زندہ رہنے اکے امواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس لیئے انسانی فلاح بند ہونی چاہیئے!
گالٹن کے خیالات امریکہ میں مقبول ہوئے جہاں یوجینکس کے تصورات نے تیزی سے ترقی کی۔
یوجینکس امریکہ میں ایک مقبول سماجی تحریک بنی جو 1920 اور 1930 کی دہائی میں عروج پر تھی۔ کتابوں اور فلموں نے یوجینکس کو فروغ دیا ، جبکہ مقامی میلوں اور نمائشوں میں ملک بھر میں "فٹر فیملی" اور "بہتر بچے" کے مقابلے منعقد ہوئے۔
امریمکہ میں یوجینکس تحریک نے آبادی سے 'کمتر' اور 'ناپسندیدہ' افراد کو ختم کرنے پر خاص توجہ دی۔ یوجینکس موومنٹ کے حامیوں نے استدلال کیا کہ ایسا کرنے کا بہترین طریقہ "نااہل" افراد کو بچے پیدا کرنے سے روکنا ہے۔ بیسویں صدی کے پہلے حصے کے دوران ، 32 امریکی ریاستوں نے ایسے قوانین منظور کیے جن کے نتیجے میں ہزاروںلوگوں کی جبری نس بندی کی گئی جس میں تارکین وطن ، 'رنگدار' لوگ ، غیر شادی شدہ مائیں اور ذہنی مریض شامل تھے۔
پھر یہ سائنس جرمنی میں جا پہنچی۔
جنوب مغربی افریقہ (موجودہ نامیبیا) میں جرمن سائنسدانوں نے سائنس اور اعلیٰ قوم کے نام پر اواہریرو قبیلے پر ظلم کی انتہا کر دی۔ علاقائی قبائل بالخصوص اواہریرو قبیلے کے ایک لاکھ سے زائد افراد کو قتل کر دیا گیا۔ سائنسی مشاہدات کے لیئے ہزاروں کھوپڑیاں جرمنی بھیجی گیئں۔
پھر ہٹلر نے یوجینکس اور سوشل ڈارون ازم کے بارے میں 1924 میں پڑھنا شروع کیا۔
ایڈولف ہٹلر نےاس سائنس سے متاثر ہوکر نازی جرمنی کی نسلی بنیادوں پر پالیسیوں کو ڈیزائن کرنا شروع کیا۔ ان پالیسیز کو بنانے میں اس نے امریکہ میں نس بندی کے قوانین سے خاص راہنمائی لی۔
پھر اس نے سماجی ڈارونیٹ کو اپناتے ہوئے ایک اعلیٰ جرمن قوم کے منصوبے پر کام کرنا شروع کرنا شروع ر دیا۔ اس کا خیال تھا کہ جرمنی میں غیر آریائیوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے جرمن ماسٹر ریس کمزور ہو گئی ہے۔ ہٹلر کے نزدیک جرمن "آریائی" نسل کی بقا اس کے جین پول کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔ اور پھر دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی اور 6 کروڑ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔
اس وقت کے سائسدانوں اور سماجی و معاشی ماہرین کی عمومی رائے تھی کہ انسانیت کی بھلائی ایک غلط اقدام ہے۔ اس سے انسانیت کمزور پڑتی ہے۔ یوں سماجی ڈارنیت اور سائنس آف یوجینکس لاکھوں زندگیاں ہڑپ کر گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سائنسدان گلے تو نہیں کاٹتے!