15/04/2020
صفنیاہ کی کتاب۔
تاریخی پس منظر
۔
تاریخی طورپر اہل یہوداہ کی حالت ،
شاہ یہوداہ آخز اتنا اچھا بادشاہ نہیں تھا۔ 2 سلاطین 17 : 1-2
شاہ سامریہ ہُوسیع بن اِیلہ شاہ اسور کا مطیع ہو چکا تھا۔2 – سلاطین 17 : 3-4
شاہ یہوداہ آخز کا بیٹا حزقیاہ اچھا بادشاہ تھا۔2 – سلاطین 18 : 1 – 8
حزقیاہ کا بیٹا منسی خُدا سے دور ہوگیا 2 ۔ سلاطین 20 : 21 ، 21 باب
منسی کا بیٹا امُون بھی خُدا سے دور رہا 2 : سلاطین 21 : 18 - 25
لیکن امُون کا بیٹا یوسیاہ اچھا بادشاہ تھا۔جو خُدا کی طرف لوٹا ۔ 2 : 22 - 1 - 2
تاریخی اعتبار سے سکوتی لشکر نے 632 ق م میں اُسور پر حملہ کیا اِن دنوں میں یوسیاہ بادشاہ اپنی بہتر اصلاحات کر سکتا تھا تاکہ اسوری مدخلت نہ کر سکتے۔لیکن اُس نے کوئی خاص اصلاحات نہ کیں۔ سکوتی لشکر کشی کرتے رہے اور بڑھتے ہوئے مصر کی سرحد تک پہنچ گئے جہاں پر فرعون سموٹلس اول نے اُنہیں شکست دی جس سے اُن کا اسرائیل پر حملہ رُک گیا ۔
صفنیاہ نبی اُن کے مہلک حملوں کے پس منظر میں خُداوند کے غضب کی تصویر کھینچتا ہے۔
اسیری سے پہلے کے تمام انبیاء اصغر میں سب سے آخر میں رکھا گیاہے۔
کتاب کی تاریخ 621 ق م ہے۔
صفنیاہ کا لفظی معنی یہواہ چھپاتا ہے ۔