Islamic Information

Islamic Information لا إلـ‗__‗ـه إلآ اللـ‗__‗ـه *** محمـ‗__‗ـد رسـ‗__‗ـول اللـ‗__‗ـه This is your Page, where you can share stories, links, photos and videos about Islam

07/01/2026

کیا ابھی بھی ٹک ٹاک پر پابندی نہیں ہونی چاہۓ۔۔ اففف کتنے سفاک لوگ ہیں ہم؟؟
پیشے کے لحاظ سے موٹر سائیکل مکینک رضوان اقبال کا کہنا ہے کہ جب 19 دسمبر کو وہ معمول کے مطابق کام کاج کے بعد شام کو گھر واپس آئے تو اُن کی والدہ نے بتایا کہ ’تمھاری بیوی بچوں کو ساتھ لے کر یہ کہہ کر نکلی تھیں کہ میں بچوں کے گرم کپڑے وغیرہ لینے بازار تک جا رہی ہوں اور ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گی۔ لیکن جب انھیں گئے پانچ گھنٹے ہو گئے ہیں تو اہلخانہ کو پریشانی ہوئی۔
والدہ کے ہمراہ موجود تینوں بچوں، سات سالہ فجر، چار سالہ حرم اور دو سالہ محمد ذکریا، کے لاپتہ ہونے پر والد نے کہا کہ ’اپنی والدہ کی یہ بات سُن کر میں پریشان ہوا، لیکن انھیں تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں وہ جلد گھر واپس آ جائیں گے۔‘
رضوان کے مطابق پھر انھوں نے اپنی اہلیہ کے دونوں موبائل نمبرز پر کال کی تو وہ بند تھے جس پر وہ گھبرا گئے۔ اُس وقت تک اُن کے رشتہ دار اور ہمسائے بھی اس بارے میں لاعلم تھے۔
’میں نے فوراً بازار جانے کا فیصلہ کیا۔ بازار جاتے ہوئے بھی میں پاگلوں کی طرح بار بار دائیں بائیں دیکھ رہا تھا اور دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ وہ بچوں کے ساتھ واپس آتی ہی ہو گی۔ میں نے دو تین گھنٹے اسی بھاگ دوڑ میں گزار دیے لیکن اُن کا کچھ پتہ نہ چلا۔‘
’گھر واپس لوٹا تو دماغ میں عجیب طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ گھر کے افراد کی باتوں سے یہی لگ رہا تھا کہ بیوی گھر سے بھاگ گئی ہے لیکن دل نہیں مان رہا تھا۔
بقول رضوان کے ’بیوی بچوں کے بغیر پہلی رات قیامت کی رات تھی۔ میں نے گھر کا بیرونی دروازہ کھلا رکھا تھا کہ شاید وہ اچانک آ جائیں۔
رضوان اقبال کے بقول وہ دو دن تک اپنے بیوی بچوں کو تلاش کرتے رہے مگر انھیں کوئی کامیابی نہ ملی۔ وہ 21 دسمبر کو علاقے کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھانے گئے اور پولیس کو درخواست دی۔
گجرات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے خاتون کے زیرِ استعمال دونوں موبائل نمبرز کا ڈیٹا اور لوکیشن حاصل کی جس سے معلوم ہوا کہ ان کی آخری لوکیشن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے بھمبھر آزاد کشمیر کی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’خاتون کو ٹریس کر کے ٹریپ کرنا ایک مشکل کام تھا۔ ہماری انٹیلیجنس ٹیم اس میں کامیاب رہی اور خاتون کو ٹریپ کر کے واپس سرائے عالمگیر کے قریب بلوایا گیا جہاں پہلے سے موجود پولیس کی خفیہ ٹیم کے اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں خاتون کی نشاندہی پر اُن کے دوست ملزم بابر حسین کو بھی پکڑ لیا گیا۔‘
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرعمرفاروق نے بتایا کہ اس وقت تک یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ تینوں بچے کہاں ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ ’کبھی کہتی تھیں کہ بچے گوجرانوالہ میں رشتے دار کے گھر ہیں اور کبھی کہتی کہ انھیں راولپنڈی بھجوا دیا ہے۔‘
تاہم کچھ گھنٹوں بعد پولیس افسر کے بقول خاتون نے ’اعتراف کیا کہ اس نے بابر حسین کے ساتھ مل کر بچوں کو مار دیا ہے کیونکہ اس کے بغیر اُن کی شادی نہیں ہو سکتی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ جب تفتیشی افسران نے پوچھا کہ لاشیں کہاں ہیں تو خاتون نے کہا کہ ’(ملزم) بابر کو اس علاقے کا علم ہے، جہاں لاشیں دفن ہیں۔
گجرات پولیس نے بھمبھر کی پولیس سے رابطہ کیا اور کرائم سین انویسٹیگیشن کی ٹیم وہاں روانہ کی جنھوں نے ’ملزمان کی نشاندہی پر‘ ویران پہاڑی علاقے میں ایک مقام پر کھدائی کر کے بچوں کی لاشیں برآمد کیں۔
ملزمان کے بیانات کی روشنی میں پولیس کا الزام ہے کہ دونوں ملزمان شادی کرنا چاہتے تھے مگر اس منصوبے کی راہ میں ’بچے رکاوٹ تھے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر فاروق کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش یہ معلوم ہوا کہ ملزم بابر نے ملزمہ کی جانب سے بچے ہمراہ لانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ’اسی بحث و تکرار میں دونوں نے مبینہ طور پر فیصلہ کر لیا کہ بچوں کو ٹھکانے لگانا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن اور سرائے عالمگیر کے ڈی ایس پی ممتاز میکن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے ’اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے بڑی مقدار میں بچوں کو فروٹ چاٹ نیند کی گولیاں دیں۔ جب وہ گہری نیند میں چلے گئے تو انھوں نے باری باری تینوں بچوں کے گلے دبا کر انھیں قتل کر ڈالا۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ایک ویران مقام پر ’لاشیں جلا دیں تاکہ وہ شناخت کے قابل نہ رہیں جس کے بعد انھوں نے لاشوں کو وہیں دفن کر دیا۔
یاد رہے کہ عدالت میں پولیس کی جانب سے لیے گئے اعترافی بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔
پولیس کے تفتیشی افسران کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ اُن کی ڈیڑھ سال قبل بابر سے ٹک ٹاک پر دوستی ہوئی تھی۔
’جب انھوں نے شادی کا پلان بنایا تو ملزمہ نے اپنے خاوند سے طلاق لینے کے لیے کئی بار بات کی اور جھگڑے کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کے دوسرے ملزم بابر کا تعلق بھمبھر سے ہے۔
تھانہ سٹی بھمبھر کے ڈیوٹی آفیسر سجاد حسین شاہ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ بابر حسین کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر والے تالہ لگا کر نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے ہیں۔
سجاد حسین شاہ نے بتایا کہ ملزم بابر حسین غیر شادی شدہ ہیں۔
خواتین سے معذرت کے ساتھ
"یہاں پر میں ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی ایک بات کا حوالہ ضرور دینا چاہونگا انہونے کہا تھا احادییث کی روشنی میں قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہوگی کہ تم اپنی عورتوں کو زنجیروں سے جکڑ بھی دوگے لیکن وہ آزادی کے نام پر زنجیریں توڑ کر پھر بھی باہر نکلے گی" اگر آپ ٹک ٹاک پر پابندی نہیں لگوا سکتے تو کم سے کم اپنے گھر کی خواتین کے موبائل میں سے کم سے کم ٹاک کو ڈیلیٹ کیجۓ ورنہ رسوائی اور ذلت کے لیۓ تیار رہیۓ۔۔ شکریہ

17/09/2025

زبردستی ویکسینیشن اور والدین کی ذمہ داری

دنیا بھر میں بیماریوں اور ویکسین کے حوالے سے ہمیشہ مختلف آراء اور خدشات موجود رہے ہیں۔ لیکن ایک بات مسلمہ ہے کہ انسانی جسم پر کوئی بھی طبی عمل والدین یا فرد کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج کل اسکولوں میں نو سے چودہ سال کی بچیوں کو زبردستی HPV ویکسین لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ یہ اقدام کئی والدین کے لیے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔

---

والدین کے خدشات کیوں جائز ہیں؟

1. HPV کینسر واحد کینسر نہیں
دنیا میں سینکڑوں اقسام کے کینسر پائے جاتے ہیں۔ صرف ایک کینسر کے خلاف ویکسین پر اتنی بڑی مہم، اور وہ بھی صرف بچیوں پر، سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان میں سرویکل کینسر کے کیسز صرف 2 فیصد کے قریب ہیں، پھر یہ "ایمرجنسی" کیوں؟

2. زبردستی کا عمل غلط ہے
ویکسینیشن ایک طبی فیصلہ ہے۔ والدین کو معلومات دی جا سکتی ہیں، قائل کیا جا سکتا ہے، لیکن زبردستی ویکسین لگانا انسانی اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔

3. تعلیمی اداروں کا مقصد تعلیم ہے، ویکسینیشن نہیں
اسکول بچوں کو تعلیم دینے کے لیے بنے ہیں، طبی مراکز نہیں۔ اسکول میں کلاس کے دوران بچوں کو زبردستی ویکسین لگانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ یہ بچوں کے ذہنی سکون پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

4. کئی سوالات ابھی باقی ہیں

یہ ویکسین نئی ہے، طویل مدتی اثرات پر مکمل تحقیق ابھی باقی ہے۔

پہلے پولیو اور کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات اور ضمنی اثرات سامنے آئے۔

والدین کو یہ حق ہے کہ وہ سوال کریں اور شفاف جواب لیں۔

---

والدین کو کیا کرنا چاہیے؟

1. اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں
والدین کو چاہیے کہ وہ اسکول انتظامیہ سے تحریری طور پر مطالبہ کریں کہ بچوں کو زبردستی ویکسین نہ لگائی جائے۔

2. قانونی طریقہ اپنائیں
آئینِ پاکستان ہر شہری کو اپنی جان اور صحت کے فیصلے کرنے کا حق دیتا ہے۔ والدین قانونی طور پر تحریری انکار (Consent Refusal Form) اسکول کو دے سکتے ہیں۔

3. متبادل علاج اور صحت کی دیکھ بھال
صحت مند طرزِ زندگی، متوازن خوراک، ورزش، اور باقاعدہ میڈیکل چیک اپ بھی بیماریوں سے بچاؤ کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔

4. دوسرے والدین سے رابطہ۔
اجتماعی آواز زیادہ اثر رکھتی ہے۔ والدین آپس میں رابطہ کر کے ایک مشترکہ مؤقف اپنا سکتے ہیں۔

---

خلاصہ.

21/08/2025
08/12/2024
اگر تمہاری عبادت تمہیں مسجد سے باہر برائیوں سے نہیں روکتی تو پھر وہ عبادت نہیں عادت ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔
06/12/2024

اگر تمہاری عبادت تمہیں مسجد سے باہر برائیوں سے نہیں روکتی تو پھر وہ عبادت نہیں عادت ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔

Address

Link Road
Abbottabad
22010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share