07/10/2026
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرجِسَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ۔
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر فرماتے تو (اللہ کی پناہ مانگتے تھے):
سفر کی مشقت اور تکالیف سے،
واپسی کے غم و اندوہ سے،
ایمان و بندگی کی حالت سے گناہ کی حالت کی طرف لوٹنے (یا کامیابی کے بعد ناکامی) سے،
مظلوم کی بددعا سے،
اور اپنے اہل و مال میں کسی برے منظر کو دیکھنے سے۔
حوالہ:
صحیح مسلم (کتاب الحج، باب مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى السَّفَرِ، حدیث نمبر: 3275 / 1343)
مختصر تشریح
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سفر کے ظاہری اور باطنی خطرات سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی ہے:
سفر کی مشقت: سفر انسان کو جسمانی طور پر تھکا دیتا ہے، اس لیے اس کی سختی سے پناہ مانگی گئی۔
واپسی کا غم اور برا منظر: انسان جب سفر سے واپس لوٹے تو اپنے گھر اور مال میں کسی ناگہانی آفت یا ناخوشگوار حادثے سے محفوظ رہے، تاکہ اس کی خوشی غم میں نہ بدلے۔
ترقی کے بعد تنزلی (الحور بعد کور): اس سے مراد ایمان، تقویٰ یا دنیاوی حالت میں بہتری کے بعد دوبارہ زوال یا گناہ کی طرف چلے جانا ہے۔ سفر میں انسان گھر سے دور ہوتا ہے، اس لیے اپنے دین کی حفاظت کی دعا کی گئی۔
مظلوم کی بددعا: سفر میں انسان بعض اوقات جلد بازی یا غصے میں کسی پر ظلم کر بیٹھتا ہے (مثلاً ملازم یا راستے کے مسافر)، جبکہ مسافر کی اور مظلوم کی دعا فوراً قبول ہوتی ہے، اس لیے اس سے خصوصی پناہ مان گی ہے(Stage & Viral Hashtags)
#سفر