Dr Ali Shariati Urdu Official

Dr Ali Shariati Urdu Official انقلاب ایران کے حوالے سے ایک بڑا نام جس نے اپنی تحریروں سے انقلاب کو دوام بخشا۔
(2)

29/12/2025

علی کے پیروکاروں کے دکھ، خود علی کے دکھوں سے زیادہ ہیں؛ کیونکہ علی کے دکھ دراصل اس کے پیروکاروں ہی کے دکھ ہیں۔ علی اس سے کہیں بڑا ہے کہ اپنے ذاتی دکھوں پر رنج کرے۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جب وہ کفر کے مقابل، شرک کے مقابل، اور کھلے دشمن کے سامنے اُحد میں، حنین میں، اور بدر میں کھڑا ہوتا ہے، تو شیر کی طرح گرجتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے پیروکاروں کے درمیان ہوتا ہے، اپنے ہی شیعوں کے درمیان، جب وہ مسجدِ کوفہ میں خلیفہ ہے اور اس کے گرد اس کے ماننے والوں کا ہجوم ہے— وہیں ہم علی کی چیخیں سنتے ہیں، وہیں ہم دیکھتے ہیں کہ درد کے شدید دباؤ میں، غصے اور بے بسی کے عالم میں، وہ اپنے ہی چہرے پر تھپڑ مارتا ہے۔

ڈاکٹر علی شریعتی
علی ع اور ان کے پیروکاروں کے دکھ

28/12/2025

سرخ انقلاب:
ڈاکٹر علی شریعتی کی فکری صدا

ڈاکٹر علی شریعتی کے نزدیک سرخ انقلاب کوئی نعرہ نہیں، کوئی وقتی سیاسی جوش نہیں، بلکہ انسان کے اندر سے پھوٹنے والی وہ آگ ہے جو ظلم کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتی۔ یہ انقلاب اس لمحے جنم لیتا ہے جب انسان یہ ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ جبر تقدیر ہے اور غلامی قسمت۔ شریعتی کے لیے انقلاب کی ابتدا بندوق سے نہیں، شعور سے ہوتی ہے، اور یہی شعور سرخ ہو جاتا ہے جب اس پر مظلوم کا خون گرتا ہے۔ شریعتی کا سرخ انقلاب کربلا کی خاک سے اٹھتا ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی ان کے نزدیک ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام ہے۔ حسینؑ نے یہ ثابت کیا کہ حق کی گواہی کے لیے اکثریت ضروری نہیں، صرف سچ ضروری ہوتا ہے۔ یزید کے مقابل کھڑا ہونا اقتدار کے خلاف بغاوت نہیں تھی بلکہ ضمیر کی بغاوت تھی۔ یہی بغاوت شریعتی کے نزدیک سرخ انقلاب کی اصل روح ہے وہ انقلاب جو مرنے سے نہیں ڈرتا، کیونکہ وہ مر کر زندہ رہنے کا ہنر جانتا ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی مذہب کو دو چہروں میں دیکھتے ہیں۔ ایک وہ مذہب جو سرخ ہے، جو خون مانگتا ہے، قربانی چاہتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، اور ظلم کے سامنے انکار سکھاتا ہے۔ دوسرا وہ مذہب جو سیاہ ہے، جو صبر کو خاموشی میں بدل دیتا ہے، تقدیر کو جبر کا جواز بنا دیتا ہے، اور ظالم کے دربار میں دعا پڑھ کر مظلوم کو سلادیتا ہے۔ شریعتی کے نزدیک سرخ انقلاب دراصل اسی سیاہ مذہب کے خلاف بغاوت ہے ایک ایسی بغاوت جو دین کو طاقتور کے ہاتھ سے چھین کر مظلوم کے دل میں واپس رکھ دیتی ہے۔ اگرچہ شریعتی طبقاتی استحصال اور معاشی ناہمواری کو نظرانداز نہیں کرتے، مگر وہ مارکسزم کے مادّی انسان سے مطمئن نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک انسان صرف پیٹ نہیں، صرف مزدور نہیں، صرف عدد نہیں۔ انسان ایک ذمہ دار ہستی ہے، جس کے اندر انتخاب کی آزادی بھی ہے اور اس انتخاب کا بوجھ بھی۔ اسی لیے شریعتی کا سرخ انقلاب صرف روٹی کا سوال نہیں اٹھاتا، بلکہ وقار، معنی اور انسان ہونے کا سوال بھی سامنے رکھتا ہے۔ سرخ انقلاب شریعتی کے ہاں حکومت گرانے کا نام نہیں، بلکہ خوف گرانے کا نام ہے۔ یہ انقلاب پہلے فرد کے اندر پیدا ہوتا ہے، پھر معاشرے میں پھیلتا ہے۔ جب انسان ظلم کے ساتھ جینا سیکھ لے تو وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ ہوتا ہے، اور جب وہ ظلم کے خلاف مرنے کا فیصلہ کر لے تو وہ مر کر بھی زندہ ہو جاتا ہے۔ شریعتی اسی زندہ انسان کی تلاش میں ہیں وہ انسان جو سوال کرتا ہے، انکار کرتا ہے، اور اگر ضرورت پڑے تو حسینؑ کی طرح تنہا کھڑا ہو جاتا ہے۔

یوں سرخ انقلاب ڈاکٹر علی شریعتی کے نزدیک ایک مسلسل عمل ہے، ایک دائمی احتجاج، ایک ایسا راستہ جس پر چلنے والا شاید کامیاب نہ ہو، مگر سچا ضرور ہوتا ہے۔ کیونکہ شریعتی کے فلسفے میں کامیابی تخت پر بیٹھنا نہیں، بلکہ تاریخ کے ضمیر میں زندہ رہنا ہے۔

26/12/2025

ایک فاتحہ گلاب چہروں کے لئے جو غموں کے بوجھ سے مرجھا گئے
❤️‍🩹

کاروان آلِ محمد (ص) سندھ کی جانب سے جنوری 2026 ایران گروپ کی بکنگ کا آغاز کر دیا ہے۔خواہشمند زائرین آج ہی اپنی رجسٹریشن ...
26/12/2025

کاروان آلِ محمد (ص) سندھ کی جانب سے جنوری 2026 ایران گروپ کی بکنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
خواہشمند زائرین آج ہی اپنی رجسٹریشن کروائیں۔

26/12/2025

کتنا بڑا دکھ ہے ایک ملت علیؑ سے عشق رکھتی ہو اور آخرکار اس کا انجام یزید جیسا ہو؛ کون سا دکھ اس سے بڑا ہے کہ اس دنیا میں ایک ملت، ایک گروہ ایسا موجود ہو جس کی تقدیر کی پیشانی پر علیؑ کی مہر لگی ہو، لیکن اسے فقر سے، نیند سے، تخدیر سے، تفرقے سے، کوته اندیشی سے، بدبینی سے، کمزوری اور ذلت سے رنج اٹھانا پڑے

علی کے پیروکار اور ان کے دکھ
ڈاکٹر علی شریعتی

انجیل کی ایک عبارت ہے جو میرے نزدیک بڑی پسندیدہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر پوری انجیل تحریف شدہ ہو تو اس میں یہ عبارت ...
25/12/2025

انجیل کی ایک عبارت ہے جو میرے نزدیک بڑی پسندیدہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر پوری انجیل تحریف شدہ ہو تو اس میں یہ عبارت زبان پیغمبر کی گواہی دے دیتی ہے اور میرے خیال میں آسمانی کتاب کے محرفین میں اتنا شعور اور اتنی رسائی نہیں کہ وہ ایسا جملہ وضع کر سکیں۔ جملہ یہ ہے :
اے لوگو ( اے بزرگی کے طلبگار انسانو ) ان راستوں سے نہ جاؤ جن پر چلنے والوں کی بہتات ہے بلکہ ان راستوں کو اختیار کرو جن پر چلنے والے کم ہیں۔۔۔گویا اپنے لئے وہ راہ اختیار کرو جو عام ڈگر سے مختلف ہے کیونکہ تاریخ اور حصول منزل کمال ان انسانوں سے وابستہ ہے جنھوں نے خود اپنے لئے اپنی راہیں معین کی ہیں اور ان راستوں کا انتخاب نہیں کیا جن پر بھیڑ چال ہے اور جہاں ہمیشہ دوسرے ان کے لئے سوچتے اور فیصلہ کرتے ہیں ۔

ڈاکٹر علی شریعتی

25/12/2025

آج کی رات طے یہ تھا کہ میرے استاد اور میرے والد — جن سے جو کچھ میں ہوں اور جو کچھ میرے پاس ہے، سب انہی سے ہے —
علیؑ اور اس کے دکھوں کے بارے میں گفتگو کریں؛ لیکن دوستوں نے مجھ سے چاہا کہ ان چند منٹوں میں، جو مراسمِ احیاء تک باقی ہیں، میں بات کروں؛ لیکن میں نہیں جانتا کہ ایسے لمحے میں اور ایسی رات میں کیا بات کی جانی چاہیے؟ آج کی رات، بات کرنا میرے لیے بہت دشوار ہے۔ میں نے سوچا کہ تقریر کے اس موضوع کے بجائے
جو علیؑ اور اس کے دکھ تھے،
علیؑ کے پیروکاروں اور ان کے دکھوں کے بارے میں بات کروں۔

کون سا دکھ اس سے بڑا ہے
کہ ایک ملت علیؑ سے عشق رکھتی ہو اور آخرکار اس کا انجام یزید جیسا ہو؛ کون سا دکھ اس سے بلند تر ہے کہ وہ لوگ، جنہیں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ روحانیت،
آگاہی، منطق اور انصاف کے کس درجے پر ہیں، انہیں علیؑ کے بارے میں اور مکتبِ علیؑ کے بارے میں بات کرنی پڑے اور لوگوں کو علیؑ سے آشنا کرنا پڑے؛ کون سا دکھ اس سے بڑا ہے کہ اس دنیا میں ایک ملت، ایک گروہ ایسا موجود ہو جس کی تقدیر کی پیشانی پر علیؑ کی مہر لگی ہو،
لیکن اسے
فقر سے،
نیند سے،
تخدیر سے،
تفرقے سے،
کوته اندیشی سے،
بدبینی سے،
کمزوری اور ذلت سے رنج اٹھانا پڑے؛

اور کون سا دکھ اس سے بڑا ہے
کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری پرانی نسل، جو علیؑ سے اور علیؑ کے مذہب سے وفادار رہی ہے،
اپنی تخلیقی قوت اور اپنی حرکتی قوت کھو چکی ہے، جمود اور توقف کا شکار ہو گئی ہے،
اور آنے والی نسل کو علیؑ کی تاریخ، علیؑ کی ثقافت اور علیؑ کے مذہب سے جوڑ نہیں سکتی؛ اور وہ امانت جو شیعہ کے عظیم شہداء، شیعہ کے عظیم علماء، بزرگوں، فداکاروں اور علیؑ سے عشق رکھنے والی عوام نے اس نسل کے حوالے کی تھی، وہ اسے اپنے بعد آنے والی نسل تک منتقل نہیں کر سکتی۔ یہ نسل پرانی ہو رہی ہے، فرسودہ ہو رہی ہے اور ہو چکی ہے زوال کی طرف جا رہی ہے، مر رہی ہے؛
اور اس کی جگہ آنے والی چیز
عبس ہے، اور اس کی جگہ آنے والی چیز روحانی فقر ہے، اور اس کی جگہ آنے والی چیز جہل ہے،
اور ماضی سے اور علیؑ سے کٹاؤ اور ٹوٹ پھوٹ ہے۔ اس وقت ہم ایک خاص حالت میں ہیں؛
کوئی رات اور کوئی لمحہ
اس رات اور اس لمحے سے بہتر نہیں کہ ایسا مسئلہ اٹھایا جائے؛
اگرچہ نہ یہ موقع اس بات کے لیے مناسب ہے اور نہ ہی میرے جیسے شخص کے ذریعے؛ لیکن کیا کیا جائے۔ بہرحال، یہ صورتِ حال پیش آ گئی ہے۔ میرے پاس نہ وہ فرصت ہے کہ بہت جذبات کے ساتھ بات کروں، اور نہ وہ حال کہ بہت منطقی اور نپی تلی گفتگو کر سکوں؛ آپ صرف میرے ہر لفظ کے پیچھے جمع شدہ درد کو محسوس کریں۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جو ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ ماضی کی نسل اور مستقبل کی نسل کے درمیان ایک نسل موجود ہے، اور ہماری ساری امید اور ہمارا سارا سرمایہ بس یہی نسل ہے؛ یہی وہ گروہ ہے جو ابھی تک اپنے مذہب کی تلاش میں ہے، ابھی تک اپنے مذہب کو پہچاننے کی فکر رکھتا ہے، اور ابھی بھی چاہتا ہے
کہ علیؑ کو، علیؑ کے حقیقی چہرے کو، سمجھے؛ مذہبِ علیؑ کو سمجھے، اس کے راستے کو
اور اس کے مکتب کو سمجھے؛
لیکن جس صورت میں یہ سب ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے،
وہ ان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ یہ درمیانی نسل، ماضی کی نسل اور مستقبل کی نسل کے درمیان واسطہ ہے؛ ہماری مذہبی ثقافت
اور آنے والی استعماری ثقافت کے درمیان واسطہ ہے؛ اور ایک ایسی نسل کے درمیان واسطہ ہے
جو بہرحال ایک مذہبی روح سے جڑی رہی ہے اور ایک ایسی منقطع نسل کے درمیان جو کھوکھلی اور پوچ پرورش پائے گی اور کل وجود میں آئے گی؛ لیکن یہ نسل ہمیشہ نہیں رہے گی، یہ گروہ ہمیشہ موجود نہیں ہوگا۔ میں آپ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ دس سال بعد،
پندرہ سال بعد، بیس سال بعد، اگر اس ملک میں حسینیۂ ارشاد موجود بھی ہوں اور انہیں موجود رہنے دیا بھی جائے، اور اگر نوجوانوں، تعلیم یافتہ لوگوں،
طلبہ اور یونیورسٹی نسل کے لیے
مذہب کی بنیاد پر بہترین پروگرام بھی رکھے جائیں، تو بھی آج جیسا ہجوم نہیں ہوگا، آج جیسی پذیرائی نہیں ہوگی؛ اور ایسا نہیں ہوگا
کہ ہزاروں طلبہ بدترین حالات میں
سات آٹھ گھنٹے کسی مذہبی اجتماع میں آئیں اور مذہب کی بات سنیں۔ اگر ہم نہ ہلے، اور اگر ہم نے کوئی کام نہ کیا، تو اس کے اندر مذہبی فکر باقی نہیں رہے گی۔

ڈاکٹر علی شریعتی
اقتباس
علی ع کے پیروکار اور انکے دکھ

23/12/2025

کبھی انسان خود سے بھاگنے کے لیے ہجوم میں پناہ لیتا ہے۔

غیر جانبداری
موت کی ایک خاموش شکل ہے۔

ڈاکٹر علی شریعتی

19/12/2025

جو فہم رکھتا ہے اور سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے وضاحت ضروری نہیں جو بے شعور ہے اور نہیں سمجھنا چاہتا اس کے لیے ہر توضیح بیکار و اضافی ہے جو جان جاتا ہے اور سمجھ جاتا ہے عذاب و بلا میں گرفتار ہو جاتا ہے اور جو نہیں جان پاتا اور نہیں سمجھتا وہ عذاب میں مبتلا کرتا ہے یہ امر کسی اہمیت کا حامل نہیں کہ آپ کے پاس کونسی ڈگری اور کونسے مدارک علمی ہیں مھم یہ ہے کہ آپ کا شعور کس حد تک فعال ہے اور آپ کتنے ادراک و بصیرت کے مالک ہیں۔۔۔

Ali shariati

19/12/2025

اے خدا! تُو وہاں بلندی میں، الوہیت کی بلند چوٹی پر، تنہا کیا کر رہا ہے؟

خدایا! تو در آن بالا، بر قلّهٔ بلندِ الوهیت، تنها چه می‌کنی

گفتگو ہائی تنہائی صفحہ ۱۰۱
دکتر علی شریعتی

18/12/2025

حجاب ایک فقہی حکم ہے،
جبکہ عبایا (عباءة) ایک سماجی روایت ہے جو موسم، معاشرتی نظام اور ثقافتی فرق کے مطابق ملک بہ ملک بدلتی رہتی ہے۔
لیکن لوگوں کے ذہنوں میں یہ دونوں چیزیں آپس میں گڈمڈ ہو گئی ہیں۔

— ڈاکٹر علی شریعتی

18/12/2025

"۔۔۔حُر ع تاریخ میں ایک منفرد کردار اور ہیرو بن کے ابھرا۔ اس ہیرو کے عمل کا مفہوم کُل "انسانیت" اور "حُریت" کی تشریح ہے۔ یہ وہ وصف ہے جو انسان کو دیگر جاندار اور مخلوقات سے افضل کرتی ہے۔ جو خدا اور خودی کے سامنے انسان کی ذمہ داری کو زیرخط کرتی ہے۔۔۔حُر نے یہ کردار الفاظ اور تصورات کی صورت نہیں بلکہ اپنی خوشی و خودی و منشا سے محبت و خون سے عملاً ادا کیا اور شعور دیا کہ؛ " تمام انسان حُر ہیں!"

کتاب؛ حُر۔
Dr Ali shariati

Address

Tehran

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Ali Shariati Urdu Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share