07/10/2026
سید الشہداء امام حسینؑ کی زیارت کے بارے میں
ایک روایت میں ہے کہ رسولِ خدا ﷺ جو سیدُ الانبیاء ہیں،
فرشتوں کو وصیت فرماتے ہیں کہ مؤمنین کو
امام حسینؑ کے زائرین کی بشارت دیں۔
فرشتے عرض کرتے ہیں: یا رسول اللہ!
کیا وہ ہماری بات سنتے ہیں؟
آپ ﷺ فرماتے ہیں: وہ تمہارا احساس کرتے ہیں۔
فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ ہمارا احساس کیسے کرتے ہیں؟
رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیں: امام حسینؑ کی زیارت میں
انہیں جو انس اور سرور حاصل ہوتا ہے،
وہ تمہاری طرف سے ان تک پہنچنے والا احساس ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر ایک عظیم حقیقت ہے۔
جو شخص انبیاء و ملائکہ کے ساتھ مصافحہ کرنا چاہتا ہے،
یہاں مصافحہ سے مراد ہاتھ سے ہاتھ ملانا نہیں ہے۔
بلکہ انبیاء و ملائکہ کے نورانی چہروں کی تجلیات
تمہاری روح اور قلب پر منعکس ہوتی ہیں۔
پس تمہارے دل اور روح میں خوشی اور سرور پیدا ہوتا ہے،
اور تمہاری روح بلند ہوتی ہے۔
یہی دراصل مصافحہ ہے؛ ہاتھ سے ہاتھ ملانا نہیں،
بلکہ انبیاء و ملائکہ کے نورانی فیوضات کا
روح و قلب پر منعکس ہونا ہے۔