Peghame Ahlalbait'AS Najaf al-Ashraf

Peghame Ahlalbait'AS Najaf al-Ashraf اللہم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجہم

یہ وہ آخری پیغام ہے جو حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد بن الحنفیہ اور بنی ہاشم کے نام تحریر فرمایا۔ یہ مخت...
12/06/2026

یہ وہ آخری پیغام ہے جو حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد بن الحنفیہ اور بنی ہاشم کے نام تحریر فرمایا۔ یہ مختصر الفاظ میں ایک عظیم حقیقت کو سمیٹتا ہے:
"أما بعد، فكأنّ الدنيا لم تكن، وكأنّ الآخرة لم تزل، والسلام."
"پس گویا دنیا کبھی تھی ہی نہیں، اور گویا آخرت ہمیشہ سے موجود ہے۔"
"گویا دنیا کبھی تھی ہی نہیں" کا مطلب دنیا کے مادی وجود کا انکار نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر دنیا کو آخرت سے الگ کر کے دیکھا جائے تو اس کی کوئی مستقل حقیقت یا دائمی قدر باقی نہیں رہتی۔ انسانی زندگی کے ابدی سفر میں دنیا محض ایک عارضی مرحلہ ہے، اس لیے اسے اصل مقصد بنا لینا ایک فریب ہے۔
اور "گویا آخرت ہمیشہ سے موجود ہے" اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اصل، دائمی اور حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے، جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
یہی وہ فکر ہے جسے سید الشہداء امام حسینؑ نے کربلا میں اپنے عمل کے ذریعے مجسم کر دیا۔ حق، عدالت اور رضائے الٰہی کے لیے ہر قربانی پیش کر کے آپؑ نے دکھایا کہ جب انسان کی نگاہ آخرت پر ہو تو دنیا کی ظاہری کامیابیاں اور ناکامیاں اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں۔
یہی مفہوم قرآنِ کریم کی اس آیت میں بھی بیان ہوا ہے:

"وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ"
"اور یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے، جبکہ آخرت کا گھر ہی حقیقی زندگی ہے، کاش وہ جانتے۔" (العنکبوت: 64)
اس طرح یہ مختصر جملہ دراصل تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے: دنیا عارضی ہے، آخرت دائمی ہے، اور کامیاب وہی ہے جو فانی کو باقی پر قربان کرنے کے بجائے باقی کو فانی پر ترجیح دے۔

فرازِ دار سے میثمؒ بیان دیتے ہیںرہے گا ذکرِ علیؑ ہم زبان دیتے ہیں   🏴🏴
08/06/2026

فرازِ دار سے میثمؒ بیان دیتے ہیں
رہے گا ذکرِ علیؑ ہم زبان دیتے ہیں

🏴🏴

06/06/2026

🏴🏴

ِإِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَمرجعِ عالیقدر، فقیہِ اہلِ بیتؑ، حضرت آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رح...
06/06/2026

ِإِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
مرجعِ عالیقدر، فقیہِ اہلِ بیتؑ، حضرت آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ کی نمازِ جنازہ امیرالمؤمنین امام المتقین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کے حرم مبارک ادا کردی گئی، حسبِ وصیتِ ان کی تدفین ان کے گھر میں کی جائے گی.

رَحِمَ اللّٰهُ مَنْ أَفْنَى عُمُرَهُ فِي خِدْمَةِ الدِّينِ وَأَهْلِ بَيْتِ النُّبُوَّةِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ.

ِإِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَعالمِ تشیع آج ایک عظیم علمی، فقہی اور روحانی شخصیت سے محروم ہو گیا۔ مرجعِ عا...
04/06/2026

ِ

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

عالمِ تشیع آج ایک عظیم علمی، فقہی اور روحانی شخصیت سے محروم ہو گیا۔ مرجعِ عالیقدر، فقیہِ اہلِ بیتؑ، حضرت آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض کے انتقال کی خبر انتہائی رنج و الم کا باعث ہے۔

آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام، مکتبِ اہلِ بیتؑ، تدریس، تحقیق، تالیف اور تربیتِ علماء کے لیے وقف کر دی۔ نجفِ اشرف کے علمی حوزے میں آپ کی خدمات، علمی آثار اور ہزاروں شاگرد آپ کے اخلاص، تقویٰ اور گہرے علمی مقام کے زندہ گواہ ہیں۔ آپ کا وصال صرف حوزۂ علمیہ نجف کا نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کا عظیم نقصان ہے۔

اس موقع پر ہم حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، مراجعِ عظام، علماءِ کرام اور مرحوم معظّم لہ کے طلابِ کرام مخصوصا انکے فرزند گرامی شیخ محمود اسحاق (حفظہ اللہ) کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔

بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے، انہیں جوارِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ان کے علمی و معنوی فیوض سے بہرہ مند رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رَحِمَ اللّٰهُ مَنْ أَفْنَى عُمُرَهُ فِي خِدْمَةِ الدِّينِ وَأَهْلِ بَيْتِ النُّبُوَّةِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ.

بسم اللہ الرحمن الرحیمرسول اللہ ص نے یومِ غدیر کو فرمایا "من کنت مولا فھذا علی مولاہ" برادران کہتے ہیں کہ یہاں مولا کا م...
04/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
رسول اللہ ص نے یومِ غدیر کو فرمایا "من کنت مولا فھذا علی مولاہ" برادران کہتے ہیں کہ یہاں مولا کا مطلب دوست کے ہیں. برادران سے سوال ہے کہ کیا رسول اللہ ص کی حدیث غدیر صرف انہی چھ کلمات پر ہے!؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حضرت علی ع کا رسول اللہ ص کا جانشین و وصی ہونا اور رسول اللہ ص کے بعد خلیفہ ہونا صرف اسی حدیث پر منحصر ہے، جو آپ "مولا" کے معنی کو تبدیل کر لیں گے تو بات ختم.؟؟

نہیں میرے عزیز ایسا ہر گز نہیں ہے..

مندرجہ ذیل وہ چند اہم احادیث کہ جہاں رسول اللہ ص نے حضرت علی ع کی خلافت کا اعلان کیا اور ان کی اطاعت کا حکم دیا.

1. حدیثِ ذولعشیرہ
رسول اللہ ص نے جب اللہ کے حکم سے اللہ کی وحدانیت اور اپنی کارِ رسالت کی ابتداء اپنے گھر و عشیرہ سے کی کیوں کہ حکمِ پروردگار ہوا کہ "وَانْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاٴَقْرَبِیْنَ" ترجمہ: اور (اے رسول) اپنے قریب ترین رشتے داروں کو تنبیہ کیجیے۔ [سورہ شعراء: 214]، یہی وہ حکمِ پروردگار تھا جو کہ دعوتِ ذولعشیرہ کے تحتِ عنوان سے رسول اللہ ص نے انجام دیا، جب رسول اللہ ص نے خاندانِ عبد المطلب کو دعوت کے لئے بلایا جس میں ان کے چچا جناب ابوطالب ، جناب حمزہ، جناب عباس اور ابو لھب بھی تھے، جب سب لوگ کھانا کھا چکے تو رسولِ خُدا ص جو کہ دعوتِ حق دینا چاہتے تھے (کیوں کہ کھانے کی دعوت کا اصل مقصد ہی دعوتِ حق تھا) کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا:
أنی قد جئتکم بخیر الدنیا والآخرة، وقد امرنی اللہ تعالیٰ أن أدعوکم الیہ، فأیکم یوازرنی علی ھذا الامر علی أن یکون اخي و وصیي وخلیفتي فیکم؟“
ترجمہ: میں تم میں دنیا وآخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں، اور خداوندعالم نے مجھے حکم دیا ھے کہ میں اس دعوت کو تمھارے سامنے پیش کردوں، پس تم میں کون شخص ھے جو اس کام میں میری مدد کرے، اور جو شخص میری مدد کرے گا وہ میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ هوگا.
اور تاریخ گواہ ہے وہاں صرف حضرت علی ع کھڑے ہوئے اور رسولِ خدا ص کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے فرمایا:
"أنا یا نبي اللہ... اے اللہ کے نبی میں حاضر هوں"

اس موقعہ پر رسولِ خدا ص نے فرمایا:
ان ھذا أخي وَ وصیي وَ خلیفتي فیکم، فاسمعوا له واطیعوا“
ترجمہ: یہ (علی ع) میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ ہے ان کی بات کو سنو اور ان کی اطاعت کرو.

سبحان اللہ… اللہ کے رسول ص نے پہلی ہی دعوت میں حضرت علی ع کی خلافت کا اعلان بھی کر دیا اور ان کی بات کو سُننے اور ان کی اطاعت کا حکم بھی فرمایا.

مطلب رسولِ خُدا ص رسالت کی ابتداء سے ہی کارِ رسالت کے امور کو آگے لے جانے اور اس مشن کو جاری رکھنے کے حوالے سے جانشین اور خلیفہ کے ہونے کی طرف متوجہ تھے تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ وقتِ آخر وہ معین نا کریں بلکہ رسول اللہ ص نے تو ابتداءِ اسلام میں ہی (جب فلاں فلاں فلاں مسلمان تو کجا بلکہ اسلام کی "سین" سے ہی واقف نہ تھے) حضرت علی ع کی خلافت کا اعلان فرمایا اور ان کی اطاعت کا حکم فرما دیا تھا.

2. حدیثِ منزلت
رسولِ خُدا ص نے حضرت علی ع کے بارے میں فرمایا:
انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی
ترجمہ:
اے علی تم میں اور مجھ میں وہی نسبت ہے جو جناب ھارون اور جناب موسیٰ (ع) کے درمیان تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں.

اب جنابِ ھارون کی جنابِ موسی ع سے کیا نسبت تھی، خود قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ جس میں حضرت موسی ع اللہ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَ اجۡعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنۡ اَہۡلِیۡ ہٰرُوۡنَ اَخِی اشۡدُدۡ بِہٖۤ اَزۡرِیۡ وَ اَشۡرِکۡہُ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ.
اور میرے کنبے میں سے میرا ایک وزیر بنا دے، میرے بھائی ہارون کو، اسے میرا پشت پناہ بنا دے، اور اسے میرے امر (رسالت) میں شریک بنا دے. [سورہ طه، 29, 30، 31، 32]

اللہ تعالی نے جنابِ موسی ع کی دعا و درخواست کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: قَدۡ اُوۡتِیۡتَ سُؤۡلَکَ یٰمُوۡسٰی
اے موسیٰ! یقینا آپ کو آپ کی مراد دے دی گئی. [طه: 36 ]

یہاں پر ایک نقطہ کی طرف اشارہ اور ایک سوال کرتا چلوں کہ جب اللہ کے نبی جنابِ موسی خود اپنی طرف سے اپنا مددگار اپنا وزیر نہیں بنا سکتا بلکہ اللہ سے دعا کرتے ہوئے اللہ سے کنفرمیشن سرٹیفیٹ طلب کر رہا ہے، تو اے مسلماں حیف ہے تمہاری عقلوں پر کہ تم نے کیسے خود اپنے لئے اپنا مددگار نہیں بلکہ رسول اللہ ص کا خلیفہ اور اور کارِ رسالت کا شریک بنا دیا..!!!؟؟

جنابِ موسی ع اللہ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے اللہ میرے کنبے سے میرے اہل میں سے میرا وزیر بنا دے میرے بھائی ھارون کو، اسے میرا پشت پناہ اور میرے اس امرِ رسالت کا شریک بنا دے. اور پروردگار نے فورا دعا کو قبول کریا.

سورہ الأعراف آیت 142 میں ارشادِ رب العزت ہے جس میں جنابِ موسی ع اپنے بھائی جنابِ ھارون سے مخاطب ہیں: وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ.
موسی نے اپنے بھائی ھارون سے کہا کہ تم میری قوم میں میرے خلیفہ (جانشین) ہو."
پس جنابِ ھارون کی نسبت جنابِ موسی ع سے کہ وہ ان کے وزیر بھی، ہیں پشت پناہ بھی ہیں، امرِ کارِ رسالت کے شریک بھی ہیں، اور جنابِ موسی ع کے جانشین و خلیفہ بھی ہیں.

اب حدیثِ منزلت کہتی ہے کہ اے علی ع تمہاری نسبت میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون کی موسی ع سے، مطلب علی ع رسول اللہ ص کے وزیر بھی ہیں، پشت پناہ بھی ہیں، اور امرِ کارِ رسالت کے شریک بھی ہیں، اور جانشین و خلیفہ بھی ہیں.

3۔ حدیثِ غدیر.
غدیر کے مختصر پس منظر کو سابقہ تحریر میں بیان کیا جا چکا ہے.

یہاں چند اور پہلو کی طرف اشارہ مقصود ہے ایک تو یہ جو کہ لفظ "مولا" کی معنی کو لیکر اعتراض یا تأویل کی جاتی ہے دوست وغیرہ، اب یہاں پر ان برادران سے وہی سوال جو کہ اس تحریر کی ابتداء میں کیا تھا دوہراتا ہوں کہ آیا کہ حدیثِ غدیر صرف انہی چھ کلمات (من کنت مولا فہذا علی مولا) پر مشتمل ہے!؟ کیا حضرت علی ع کا رسول اللہ ص کا جانشین و وصی ہونا اور رسول اللہ ص کے بعد خلیفہ ہونا صرف اسی حدیث غدیر کے لفظِ "مولا" پر منحصر ہے، کہ "مولا" کے معنی کو تبدیل کرلیا جائے تو بات ختم.؟؟
ایسا بلکل بھی نہیں ہے بلکہ یہ چھ کلمات ایک طویل و فصیح و بلیغ خطبہ کا حصہ ہیں، اور رسول اللہ ص نے اس فصیح و بلیغ خطبہ میں حمد و ثناء فرمائی ہے دیگر چند امور کی طرف توجہ دلائی اور حکمِ پروردگار کو پہنچایا اور حضرت علی ع کی ولایت و خلیفہ و جانشین ہونے کا اعلان کیا و اقرار بھی لیا. اب ایک لمحے کیلئے مان بھی لیا جائے کہ یہاں "مولا" کا معنی دوست ہے تو اسی دوست کی اطاعت و اقتداء کو اسی خطبہ میں واجب قرار دیتے ہوئے رسول اللہ ص نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! جان لو کہ اللہ نے علی ع کو تمہارا ولی اور امام بنادیا ہے اور تمام مہاجرین وانصار اور نیکی کے ساتھ ان کے تابع رہنے والوں اور ہر شہری ودیہاتی، ہر عجمی و عربی، ہر آزاد و غلام، ہر چھوٹے و بڑے اور ہر سیاہ و سفید پر علی ع کی اطاعت کو واجب کردیا ہے۔ ہر توحید پرست کے لیے ان کی حاکمیت جاری ہے، ان کا قول قابل اطاعت اور ان کا امر نافذ ہے، ان کا مخالف ملعون اور ان کا پیروکار مستحق رحمت ہے۔ جو ان کی تصدیق کرے گا وہ ہی مومن ہے اور ان کی بات سن کر اطاعت کرے گا اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے گا. اے لوگو! راہِ علی ع سے منہ نہ موڑنا اور ان کی ولایت سے سرکشی نہ کرنا اس لیئے کہ وہ حق کی ہدایت کرتا ہے اور خود بھی اس پر عمل کرتا ہے. پھر فرمایا کہ "آگاہ ہو جاؤ کہ میں نے اپنے کلمات تمہیں سنا دیئے، آگاہ ہو جاؤ میں نے پہنچا دیا، آگاہ ہو جاؤ! میں خدا کی طرف سے بیان کر رہا ہوں میرے بھائی علی ع کے علاوہ کوئی بھی مؤمنین کا امیر نہیں، میرے بعد اس کے علاوہ کوئی ایک بھی اس امیری کے لائق نہیں.

سبحان اللہ...
وہ حدیثِ ذولعشیرہ ہو، حدیثِ منزلت ہو یا پھر حدیث غدیر ہی کیوں نہ ہو متعدد مقامات پر رسول اللہ ص نے حضرت علی ع کو اپنا خلیفہ و جانشین بتایا، بلکہ اس امر اللہ سے منسوب کیا کہ اللہ نے علی ع خلیفہ و جانشین بنایا پھر اس کی اطاعت و اقتداء کو واجب قرار دیتے ہوئے متعدد مقامات پر متنبہ بھی فرمایا.
اسکے علاوہ بھی دیگر بہت احادیث و مقامات پر اللہ کے رسول ص نے اپنے بعد حضرت علی ع کو خلیفہ و جانشین بتایا ہے.

"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَهِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْأَئِمَّهِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ"

وسلام:
علی مسلم جلبانی.

01/06/2026

العجل یا صاحب العصر و الزمان ❤️‍🩹🤲
🎙️قبلہ مولانا علی شیر نجفی


31/05/2026

يسألونك عن المهدي (عج)
🎙️قبلہ مولانا علی شیر نجفی

30/05/2026

بغیر کوشش کے خُدا سے طلبِ توفیق کرنا...!!
🎙️ علی مسلم جلبانی

Address

AL-NAJAF AL-ASHRAF
Najaf
54010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peghame Ahlalbait'AS Najaf al-Ashraf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share