04/06/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رسول اللہ ص نے یومِ غدیر کو فرمایا "من کنت مولا فھذا علی مولاہ" برادران کہتے ہیں کہ یہاں مولا کا مطلب دوست کے ہیں. برادران سے سوال ہے کہ کیا رسول اللہ ص کی حدیث غدیر صرف انہی چھ کلمات پر ہے!؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حضرت علی ع کا رسول اللہ ص کا جانشین و وصی ہونا اور رسول اللہ ص کے بعد خلیفہ ہونا صرف اسی حدیث پر منحصر ہے، جو آپ "مولا" کے معنی کو تبدیل کر لیں گے تو بات ختم.؟؟
نہیں میرے عزیز ایسا ہر گز نہیں ہے..
مندرجہ ذیل وہ چند اہم احادیث کہ جہاں رسول اللہ ص نے حضرت علی ع کی خلافت کا اعلان کیا اور ان کی اطاعت کا حکم دیا.
1. حدیثِ ذولعشیرہ
رسول اللہ ص نے جب اللہ کے حکم سے اللہ کی وحدانیت اور اپنی کارِ رسالت کی ابتداء اپنے گھر و عشیرہ سے کی کیوں کہ حکمِ پروردگار ہوا کہ "وَانْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاٴَقْرَبِیْنَ" ترجمہ: اور (اے رسول) اپنے قریب ترین رشتے داروں کو تنبیہ کیجیے۔ [سورہ شعراء: 214]، یہی وہ حکمِ پروردگار تھا جو کہ دعوتِ ذولعشیرہ کے تحتِ عنوان سے رسول اللہ ص نے انجام دیا، جب رسول اللہ ص نے خاندانِ عبد المطلب کو دعوت کے لئے بلایا جس میں ان کے چچا جناب ابوطالب ، جناب حمزہ، جناب عباس اور ابو لھب بھی تھے، جب سب لوگ کھانا کھا چکے تو رسولِ خُدا ص جو کہ دعوتِ حق دینا چاہتے تھے (کیوں کہ کھانے کی دعوت کا اصل مقصد ہی دعوتِ حق تھا) کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا:
أنی قد جئتکم بخیر الدنیا والآخرة، وقد امرنی اللہ تعالیٰ أن أدعوکم الیہ، فأیکم یوازرنی علی ھذا الامر علی أن یکون اخي و وصیي وخلیفتي فیکم؟“
ترجمہ: میں تم میں دنیا وآخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں، اور خداوندعالم نے مجھے حکم دیا ھے کہ میں اس دعوت کو تمھارے سامنے پیش کردوں، پس تم میں کون شخص ھے جو اس کام میں میری مدد کرے، اور جو شخص میری مدد کرے گا وہ میرا بھائی، میرا وصی اور میرا خلیفہ هوگا.
اور تاریخ گواہ ہے وہاں صرف حضرت علی ع کھڑے ہوئے اور رسولِ خدا ص کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے فرمایا:
"أنا یا نبي اللہ... اے اللہ کے نبی میں حاضر هوں"
اس موقعہ پر رسولِ خدا ص نے فرمایا:
ان ھذا أخي وَ وصیي وَ خلیفتي فیکم، فاسمعوا له واطیعوا“
ترجمہ: یہ (علی ع) میرا بھائی، میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ ہے ان کی بات کو سنو اور ان کی اطاعت کرو.
سبحان اللہ… اللہ کے رسول ص نے پہلی ہی دعوت میں حضرت علی ع کی خلافت کا اعلان بھی کر دیا اور ان کی بات کو سُننے اور ان کی اطاعت کا حکم بھی فرمایا.
مطلب رسولِ خُدا ص رسالت کی ابتداء سے ہی کارِ رسالت کے امور کو آگے لے جانے اور اس مشن کو جاری رکھنے کے حوالے سے جانشین اور خلیفہ کے ہونے کی طرف متوجہ تھے تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ وقتِ آخر وہ معین نا کریں بلکہ رسول اللہ ص نے تو ابتداءِ اسلام میں ہی (جب فلاں فلاں فلاں مسلمان تو کجا بلکہ اسلام کی "سین" سے ہی واقف نہ تھے) حضرت علی ع کی خلافت کا اعلان فرمایا اور ان کی اطاعت کا حکم فرما دیا تھا.
2. حدیثِ منزلت
رسولِ خُدا ص نے حضرت علی ع کے بارے میں فرمایا:
انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی
ترجمہ:
اے علی تم میں اور مجھ میں وہی نسبت ہے جو جناب ھارون اور جناب موسیٰ (ع) کے درمیان تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں.
اب جنابِ ھارون کی جنابِ موسی ع سے کیا نسبت تھی، خود قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ جس میں حضرت موسی ع اللہ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَ اجۡعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنۡ اَہۡلِیۡ ہٰرُوۡنَ اَخِی اشۡدُدۡ بِہٖۤ اَزۡرِیۡ وَ اَشۡرِکۡہُ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ.
اور میرے کنبے میں سے میرا ایک وزیر بنا دے، میرے بھائی ہارون کو، اسے میرا پشت پناہ بنا دے، اور اسے میرے امر (رسالت) میں شریک بنا دے. [سورہ طه، 29, 30، 31، 32]
اللہ تعالی نے جنابِ موسی ع کی دعا و درخواست کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: قَدۡ اُوۡتِیۡتَ سُؤۡلَکَ یٰمُوۡسٰی
اے موسیٰ! یقینا آپ کو آپ کی مراد دے دی گئی. [طه: 36 ]
یہاں پر ایک نقطہ کی طرف اشارہ اور ایک سوال کرتا چلوں کہ جب اللہ کے نبی جنابِ موسی خود اپنی طرف سے اپنا مددگار اپنا وزیر نہیں بنا سکتا بلکہ اللہ سے دعا کرتے ہوئے اللہ سے کنفرمیشن سرٹیفیٹ طلب کر رہا ہے، تو اے مسلماں حیف ہے تمہاری عقلوں پر کہ تم نے کیسے خود اپنے لئے اپنا مددگار نہیں بلکہ رسول اللہ ص کا خلیفہ اور اور کارِ رسالت کا شریک بنا دیا..!!!؟؟
جنابِ موسی ع اللہ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے اللہ میرے کنبے سے میرے اہل میں سے میرا وزیر بنا دے میرے بھائی ھارون کو، اسے میرا پشت پناہ اور میرے اس امرِ رسالت کا شریک بنا دے. اور پروردگار نے فورا دعا کو قبول کریا.
سورہ الأعراف آیت 142 میں ارشادِ رب العزت ہے جس میں جنابِ موسی ع اپنے بھائی جنابِ ھارون سے مخاطب ہیں: وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ.
موسی نے اپنے بھائی ھارون سے کہا کہ تم میری قوم میں میرے خلیفہ (جانشین) ہو."
پس جنابِ ھارون کی نسبت جنابِ موسی ع سے کہ وہ ان کے وزیر بھی، ہیں پشت پناہ بھی ہیں، امرِ کارِ رسالت کے شریک بھی ہیں، اور جنابِ موسی ع کے جانشین و خلیفہ بھی ہیں.
اب حدیثِ منزلت کہتی ہے کہ اے علی ع تمہاری نسبت میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون کی موسی ع سے، مطلب علی ع رسول اللہ ص کے وزیر بھی ہیں، پشت پناہ بھی ہیں، اور امرِ کارِ رسالت کے شریک بھی ہیں، اور جانشین و خلیفہ بھی ہیں.
3۔ حدیثِ غدیر.
غدیر کے مختصر پس منظر کو سابقہ تحریر میں بیان کیا جا چکا ہے.
یہاں چند اور پہلو کی طرف اشارہ مقصود ہے ایک تو یہ جو کہ لفظ "مولا" کی معنی کو لیکر اعتراض یا تأویل کی جاتی ہے دوست وغیرہ، اب یہاں پر ان برادران سے وہی سوال جو کہ اس تحریر کی ابتداء میں کیا تھا دوہراتا ہوں کہ آیا کہ حدیثِ غدیر صرف انہی چھ کلمات (من کنت مولا فہذا علی مولا) پر مشتمل ہے!؟ کیا حضرت علی ع کا رسول اللہ ص کا جانشین و وصی ہونا اور رسول اللہ ص کے بعد خلیفہ ہونا صرف اسی حدیث غدیر کے لفظِ "مولا" پر منحصر ہے، کہ "مولا" کے معنی کو تبدیل کرلیا جائے تو بات ختم.؟؟
ایسا بلکل بھی نہیں ہے بلکہ یہ چھ کلمات ایک طویل و فصیح و بلیغ خطبہ کا حصہ ہیں، اور رسول اللہ ص نے اس فصیح و بلیغ خطبہ میں حمد و ثناء فرمائی ہے دیگر چند امور کی طرف توجہ دلائی اور حکمِ پروردگار کو پہنچایا اور حضرت علی ع کی ولایت و خلیفہ و جانشین ہونے کا اعلان کیا و اقرار بھی لیا. اب ایک لمحے کیلئے مان بھی لیا جائے کہ یہاں "مولا" کا معنی دوست ہے تو اسی دوست کی اطاعت و اقتداء کو اسی خطبہ میں واجب قرار دیتے ہوئے رسول اللہ ص نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! جان لو کہ اللہ نے علی ع کو تمہارا ولی اور امام بنادیا ہے اور تمام مہاجرین وانصار اور نیکی کے ساتھ ان کے تابع رہنے والوں اور ہر شہری ودیہاتی، ہر عجمی و عربی، ہر آزاد و غلام، ہر چھوٹے و بڑے اور ہر سیاہ و سفید پر علی ع کی اطاعت کو واجب کردیا ہے۔ ہر توحید پرست کے لیے ان کی حاکمیت جاری ہے، ان کا قول قابل اطاعت اور ان کا امر نافذ ہے، ان کا مخالف ملعون اور ان کا پیروکار مستحق رحمت ہے۔ جو ان کی تصدیق کرے گا وہ ہی مومن ہے اور ان کی بات سن کر اطاعت کرے گا اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے گا. اے لوگو! راہِ علی ع سے منہ نہ موڑنا اور ان کی ولایت سے سرکشی نہ کرنا اس لیئے کہ وہ حق کی ہدایت کرتا ہے اور خود بھی اس پر عمل کرتا ہے. پھر فرمایا کہ "آگاہ ہو جاؤ کہ میں نے اپنے کلمات تمہیں سنا دیئے، آگاہ ہو جاؤ میں نے پہنچا دیا، آگاہ ہو جاؤ! میں خدا کی طرف سے بیان کر رہا ہوں میرے بھائی علی ع کے علاوہ کوئی بھی مؤمنین کا امیر نہیں، میرے بعد اس کے علاوہ کوئی ایک بھی اس امیری کے لائق نہیں.
سبحان اللہ...
وہ حدیثِ ذولعشیرہ ہو، حدیثِ منزلت ہو یا پھر حدیث غدیر ہی کیوں نہ ہو متعدد مقامات پر رسول اللہ ص نے حضرت علی ع کو اپنا خلیفہ و جانشین بتایا، بلکہ اس امر اللہ سے منسوب کیا کہ اللہ نے علی ع خلیفہ و جانشین بنایا پھر اس کی اطاعت و اقتداء کو واجب قرار دیتے ہوئے متعدد مقامات پر متنبہ بھی فرمایا.
اسکے علاوہ بھی دیگر بہت احادیث و مقامات پر اللہ کے رسول ص نے اپنے بعد حضرت علی ع کو خلیفہ و جانشین بتایا ہے.
"الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَهِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْأَئِمَّهِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ"
وسلام:
علی مسلم جلبانی.