30/09/2026
حضرت میر سید یعقوب ( سونہ وار ) رحمۃ الللہ علیہ کا تعارف ۔۔
حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کا خاندانی تعلق قاضی میر سید علی بخاری بڈشاہی سے جا ملتا ہے۔ شیخ الاسلام قاضی میر سید علی بخاری رحمۃ الللہ علیہ بڈشاہ کے دورِ حکومت میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کا تعلق ساداتِ بخاری سے تھا۔ اس خاندان سے متعدد نامور علماء و مشائخ پیدا ہوئے، جن میں حضرت قاضی موسیٰ شہید رحمۃ الللہ علیہ اور حضرت میر سید نازک نیازی قادری رحمۃ الللہ علیہ (قاضی کدل) مشہورِ زمانہ ہیں۔
حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کی تاریخِ ولادت، جائے پیدائش اور اکثر حالات و واقعات کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ البتہ چند معلومات ضرور درج ہے بالخصوص یہ کہ حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ، حضرت میر سید نازک نیازی قادری رحمۃ الللہ علیہ کے چچیرے بھائی تھے۔
حضرت میر سید نازک نیازی قادری رحمۃ الللہ علیہ کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں کشمیر میں سلسلۂ قادریہ کا بانی کہا جاتا ہے۔ جب حضرت میر سید اسماعیل شامی رحمۃ الللہ علیہ واردِ کشمیر ہوئے تو انہیں حضرت شیخ الاسلام بابا داؤد خاکی رحمۃ الللہ علیہ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ چونکہ حضرت میر سید نازک نیازی قادری رحمۃ الللہ علیہ، حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدومی رحمۃ الللہ علیہ کے حکم سے حضرت بابا داؤد خاکی رحمۃ الللہ علیہ کی تربیت میں تھے، اس لیے حضرت میر سید اسماعیل شامی رحمۃ الللہ علیہ نے حضرت بابا داؤد خاکی رحمۃ الللہ علیہ سے حضرت میر سید نازک نیازی قادری رحمۃ الللہ علیہ کو قادری سلسلے میں تربیت کے لئے طلب فرمایا۔
حضرت میر سید اسماعیل شامی رحمۃ الللہ علیہ نے حضرت میر سید نازک نیازی قادری رحمۃ الللہ علیہ کی قادری سلسلے میں تربیت فرمائی اور انہیں اجازت و خلافت سے نوازا۔ نیز جو تبرکات آپ اپنے ساتھ لائے تھے، وہ بھی حضرت میر سید نازک نیازی قادری رحمۃ الللہ علیہ کے سپرد فرمائے۔ درگاہِ غوثیہ سرائے بالا میں موجود تبرکات بھی انہی تبرکات میں سے ہیں۔
حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کا تذکرہ حضرت شیخ الاسلام بابا داؤد خاکی رحمۃ الللہ علیہ نے قصیدۂ لامیہ میں ان الفاظ میں کیا ہے:
ذو فضائل میر یعقوب است از نوابِ ما
سید است ہست از اجدادِ او قاضی جلال
قصیدۂ لامیہ میں حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کا تذکرہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت بابا داؤد خاکی رحمۃ الللہ علیہ کی نظر میں حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کس قدر بلند مقام رکھتے تھے۔
حضرت میر سید یعقوب (سونہ وار) رحمۃ الللہ علیہ کے حالات میں تاریخِ کبیر کے حوالے سے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی جاتی ہے:
حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ عالی درجہ سادات میں سے تھے اور صاحبِ حالات و مقامات۔ چنانچہ صاحبِ خوارق السالکین نے آپ کے ذکر میں لکھا ہے کہ ’’قدوۃ الآفاق، زبدۃ المشائخ، مرشدِ مرغوب، سید یعقوب، حضرت میر نازک نیازی قادری کے چچیرے برادر اور قطب البر والبحر، مردِ روشن ضمیر و صاحبِ تاثیر حضرت بابا داؤد خاکی رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مندوں میں سے تھے۔‘‘
رافضیوں نے ذاتی تعصب کی بنا پر آپ کو، یعنی حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کو، خلوت میں اکیلا پا کر آپ کا دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ کاٹ ڈالا۔ اس کے بعد آپ، جنابِ سیادت مآب، نے اپنی باقی عمر درس و تدریس، قرآنِ مجید کی کتابت اور سخت عبادتوں میں بسر فرمائی۔۔
درج بالا تاریخی معلومات کے علاوہ بعض مشائخِ کرام کے پاس حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کے حوالے سے مزید معلومات بھی موجود ہیں، تاہم یہ معلومات زبانی طور پر ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل ہوئی ہیں اور ان کے حصول کا ذریعہ بعض باطنی ذرائع و روحانی تجربات بیان کیے جاتے ہیں۔ اسی بنا پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان معلومات کو یہاں تفصیل کے ساتھ پیش نہ کیا جائے۔
البتہ اس سلسلے میں ایک واقعہ کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ماضی قریب میں قطب الاقطاب حضرت مولانا محمد امین صاحب اویسی قریشی رحمۃ الللہ علیہ جب سونہ وار میں واقع ایک نرسنگ ہوم میں طبی معائنے کے لیے تشریف لے گئے تو ان کی نظر حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کے مزارِ مبارک پر پڑی۔ منقول ہے کہ اپنے روحانی تجربے کی بنا پر انہیں اس مقام کے بارے میں یہ ادراک ہوا کہ یہاں ایک بلند پایہ ولی کامل مدفون ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے بعض رفقاء سے بھی اس بات کا ذکر فرمایا کہ اس مقام پر ایک بلند مرتبہ ولی الللہ مدفون ہیں۔
یہ واقعہ بھی حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کے مقام و مرتبے کے حوالے سے اہلِ دل کے مشاہدات اور روحانی روایات میں قابلِ ذکر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم چونکہ اس نوعیت کی روایات کا تعلق باطنی تجربات سے ہے، اس لیے انہیں تاریخی قطعی شہادت کے بجائے ایک منقول روحانی روایت کے طور پر ہی بیان کرنا زیادہ محتاط طرزِ عمل سمجھتا ہوں ۔
یہ چند سطور حضرت میر سید یعقوب رحمۃ الللہ علیہ کے حالات و مقام کے حوالے سے پیش کی گئیں۔ الللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے کرام کی محبت و ادب نصیب فرمائے۔
والللہ اعلم بالصواب
والسلام۔۔
راقم الحروف
عیان مشتاق