31/05/2025
💠 عندلیبان علم و ادب (3) | ادیب عصر علامہ سید علی اختر رضویؒ
ادیب عصر علامہ سید علی اختر رضویؒ کا آبائی وطن گوپال پور سیوان بہار ہے ، ۱۹ ستمبر ۱۹۴۸ کو آپ کی ولادت ہوئی ، ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کی پھر اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے جامعہ ناظمیہ لکھنؤ تشریف لے گئے جہاں جید الاستعداد اساتذہ سے کسب فیض کرکے ’’ممتاز الافاضل کی سند سے سرفراز ہوئے۔
فراغت کے بعد ایک عرصہ تک تبلیغی خدمات انجام دئیے اور اس سلسلہ میں دور دراز خطوں کا سفر کیا ۔ آپ بڑے اچھے خطیب تھے ، میرٹھ اور شیخ پورہ حسین آباد میں کئی برسوں تک محرم اور چہلم کا عشرہ خطاب فرمایا۔
ادیب عصر مرحوم قادر الکلام اور کہنہ مشق شاعر بھی تھے ، ’’شعور‘‘ تخلص کرتے تھے ، حال ہی میں آپ کے کلام کا مجموعہ ’’کلیات شعور‘‘ شائع ہوا ہے ۔
آپ نے اپنے قلم حقیقت رقم سے مختلف موضوعات پر موجودہ و آئندہ نسلوں کے لئے اچھی خاصی کتابیں ترجمہ و تالیف اور تصنیف کے مرحلہ سے گزاریں اور ڈھیروں مضامین تحریر کئے ، آپ کے قلمی آثار میں ’’ترجمہ الغدیر‘‘کی گیارہ جلدوں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے جسے آپ کی زندگی کا عظیم ترین کارنامہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔
ادیب عصر مرحوم ۱۰فروری ۲۰۰۲ کو اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے ۔
✍🏻مولانا سید شاہد جمال رضوی
📚 عندلیبان علم و ادب جلد اول ص ۳۳۴۔۳۴۳
Ulamae Bihar
ــــــــــــــــــــ
مرکز احیاء آثار علمائے بہار
https://chat.whatsapp.com/HggxJeuYdbIABbMOPKlLpL
Join on Social Media
Facebook: https://www.facebook.com/UlamaeBihar/
Instagram:
https://instagram.com/ulamaebihar
Telegram:
https://t.me/UlamaeBihar