21/08/2026
مفتی مبارک صاحب القاسمی سے مختصر مگر یادگار ملاقات
محرر: میر اعجاز لولابی
آج 7ربیع الأول 1448۔عشاء کی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ نماز میں تقریباً تین چار منٹ باقی تھے۔ مسجد میں داخل ہوا تو دوسری صف میں ایک صاحب عمامہ باندھے تشریف فرما تھے، مگر اس وقت میری نگاہ ان پر نہیں پڑی۔ نماز کا وقت ہوا تو میں امامت کے لیے کھڑا ہوا۔ نماز مکمل کرنے کے بعد جب دوسری سلام پھیر کر آیت الکرسی پڑھ رہا تھا، اچانک نگاہ حضرت مفتی مبارک احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ پر پڑی۔ پہچانتے ہی بے حد خوشی ہوئی اور میں نے حضرت سے اجازت طلب کی کہ اگر چند منٹ عنایت فرمائیں تو کچھ نصیحت کی درخواست ہے
حضرت نے بڑی شفقت سے آمادگی ظاہر فرمائی اور تقریباً گیارہ منٹ نہایت مختصرمگر جامع اور فکر انگیز گفتگو فرمائی گفتگو کا بنیادی موضوع موجودہ دور میں الحاد کا فتنہ اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں اسلام کے خلاف پیدا کیے جانے والے فکری اعتراضات تھا
حضرت نے نہایت سنجیدہ اور مدلل انداز میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ آج الحاد محض ایک نظریہ نہیں رہا بلکہ نوجوانوں کے اذہان کو متاثر کرنے والی ایک فکری یلغار کی صورت اختیار کرچکا ہےجس کا مقابلہ علم دلیل بصیرت اور مضبوط دینی فکر کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے
دورانِ گفتگو حضرت نے حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کی معروف کتابچہ اورادِ فتحیہ کا بھی ذکر فرمایا اور اس بات کی تلقین کی کہ اسے محض ایک وظیفہ سمجھ کر پڑھنے کے بجائے اس کے اندر موجود عقائد و ایمانی مضامین کو سمجھتے ہوئے اس پر عمل اور اہتمام کیا جائے۔ اسی ضمن میں حضرت نے موجودہ مروجہ تعلیمی نظام کے تاریخی پس منظر اور اس کے بعض فکری اثرات پر بھی گفتگو فرمائی بالخصوص اس پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ اسلامی تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کے نتیجے میں نئی نسل کے فکری رجحانات کس طرح متاثر ہوئے ہیں۔
مجھے خوشی ہوىی کہ حضرت نے گفتگو کے لیے نہایت بروقت اور موزوں موضوع کا انتخاب فرمایا جس مسجد میں ہم نے نماز ادا کی وہاں ایسے کئی نوجوان موجود ہیں جن سے براہِ راست یا بالواسطہ مختلف مواقع پر فکری اور اعتقادی مسائل کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی ہے، اور بعض نوجوان الحاد کے شبہات سے متاثر بھی نظر آتے ہیں۔ چنانچہ حضرت کی یہ مختصر گفتگو اسی ضرورت کے عین مطابق تھی۔
دل چاہ رہا تھا کہ حضرت سے مزید استفادہ کیا جائے اور گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر اور جاری رہے لیکن عشاء کے بعد لوگوں کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں کسی کو کھانے کا اہتمام کرنا ہوتا ہے اور کسی کو آرام کی فکر اس لیے مختصر وقت میں حضرت نے جس جامعیت کے ساتھ موضوع پر روشنی ڈالی وہ قابلِ قدر ہے
گفتگو کے دوران حضرت نے میرے بارے میں فرمایا کہ انکا تعارف نہیں لیکن الحمدللہ میں انہیں کئی سالوں سے جانتا ہوں۔
حضرت کو شاید اس وقت میرے ساتھ سابقہ ملاقاتیں یاد نہ تھیں نماز کے بعد چونکہ حضرت ہسپتال کسی کی عیادت کے لیے آیے ہوئے تھے، اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ چند قیمتی لمحات مزید حضرت کی معیت میں گزاروں
چنانچہ تقریباً ہسپتال کے گیٹ تک میں حضرت کے ساتھ گیا میں نے حضرت سے ماحضر تناول فرمانے کی بھی گزارش کی لیکن حضرت نے معذرت فرمائی غالباً واپس شوپیان جانے کی وجہ سے
میں اپنے ہم عصر نوجوان علماء میں جن حضرات کے طرزِ گفتگو، اسلوبِ بیان اور علمی انداز سے متاثر ہوں، ان میں حضرت مفتی مبارک صاحب کا نام بھی نمایاں ہے سوشل میڈیا کے ذریعے بھی وقتاً فوقتاً حضرت سے استفادہ کا موقع ملتا رہتا ہے
حضرت ایک منجھے ہوئے نوجوان عالمِ دین ہیں۔ عقائد کا موضوع ہو یا مسائل کا ان کے گفتگو کرنے کا انداز یہ ہے کہ بات کو دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور یہی چیز ان کے طرزِ بیان کو مؤثر اور قابلِ استفادہ بناتی ہے
مجھے یاد ہے کہ تقریباً ایک سال قبل میں نے حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ایک مضمون تحریر کیا تھا اس کے بعد حضرت نے واٹسپ پر مجھے پیغام بھیجا اور تحلیل الذبائح سے متعلق ایک کتاب کے بارے میں دریافت فرمایا چونکہ میں نے اس وقت حضرت شاہ صاحب کے حوالے سے ایک مضمون اس عنوان کے ساتھ تحریر کیا تھا کہ شاہ صاحب نے کشمیر کے مختلف مقامات پر خطاب فرمایا، جن میں خانقاہِ معلیٰ بھی شامل ہے، اس لیے ابتداء میں مجھے غلط فہمی ہوئی کہ شاید حضرت میرے مضمون پر کوئی تنقید فرما رہے ہیں
اس غلط فہمی کی وجہ یہ تھی کہ تقریباً چار سال پہلے حضرت سے فون پر میری قدرے تلخ کلامی ہوگئی تھی اسکی بنیادی وجہ میں نے حضرت اور حضرت حافظ نعمان نوشہری صاحب کے نام سے سوشل میڈیا پر مناظرے کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جس کے بعد حضرت نے مجھ سے فون پر گفتگو فرمائی تھی۔ چنانچہ وہ سابقہ واقعہ ذہن میں ہونے کی وجہ سے میں حضرت کے سوال کو درست طور پر سمجھ نہ سکا
بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت کا مقصد میرے مضمون پر طنز یا اعتراض کرنا نہیں تھابلکہ وہ مذکورہ کتاب کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے کہ وہ یہاں کسی کے پاس متن کی شکل میں موجود ہے میں نے اس وقت معذرت کرتے ہوئے عرض کیا کہ میرے پاس وہ کتاب موجود نہیں ہے۔ البتہ اگر اس کتاب کے بارے میں کسی سے صحیح اور مستند معلومات حاصل کرنی ہوں تو مولانا احمد سعید شاہ لولابی قاسمی صاحب سے رجوع کیا جاسکتا ہے
بہرحال آج کی یہ مختصر ملاقات میرے لیے نہایت خوشگوار ہے
حضرت مفتی مبارک صاحب دامت برکاتہم العالیہ نہایت نرم مزاج خوش گفتار باوقار اور علمی ذوق رکھنے والی منجھی ہوئی شخصیت ہیں۔ عموماً کوئی نئی کتاب منظرِ عام پر آتی ہے تو حضرت کے زیرِ مطالعہ جلد ہی پہنچ جاتی ہے اور یہ ان کے وسیع مطالعے اور علمی ذوق کی علامت ہے کبھی کبھار جو کتاب علماء اور دیگر اہل ذوق حضرات کے لیے اہم ہو تو اسے سوشل میڈیا کے ذریعے سے تعارف بھی کرواتے ہیں اور اس کو خریدنے و مطالعہ کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ حضرت مفتی مبارک صاحب القاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی علمی، دعوتی اور فکری خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے، نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے ان کی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنائے اور انہیں صحت و عافیت کے ساتھ دین کی خدمت کے لیے طویل عمر عطا فرمائے
والسلام.