25/08/2026
From the Land of Aligarh — A Message for the Next 100 Years of Muslim Education
Today I had the opportunity to visit Aligarh Muslim University. Walking through its historic campus was more than a visit to a university—it was a reminder that civilizations are rebuilt through education.
After 1857, Indian Muslims faced a deep political, social, and educational crisis. Two remarkable educational movements emerged in response. Darul Uloom Deoband (1866) dedicated itself to preserving the Qur’an, Hadith, Islamic scholarship, and Muslim identity. The Aligarh Movement (1875) awakened Muslims to modern education, science, languages, research, and institution-building. Later, Nadwatul Ulama sought to bring greater balance between classical scholarship and contemporary learning.
History also teaches us intellectual fairness. Many scholars disagreed with some of Sir Syed Ahmad Khan’s theological views, yet they acknowledged his immense contribution to Muslim education. Likewise, Deoband never rejected beneficial modern knowledge; it opposed an educational philosophy that separated knowledge from faith.
The lesson for our generation is clear: the future is not Deoband versus Aligarh—it is learning from the strengths of both, while keeping faith at the center.
The Qur’an begins with “Iqra” — Read in the name of your Lord. This is the Islamic philosophy of education: knowledge connected to God, character, and service.
Our vision for the next century:
• Faith rooted in the Qur’an and Sunnah.
• Excellence in science, technology, AI, medicine, law, and economics.
• Madrasas and universities working together, not against each other.
• Students grounded in Islamic values and fully prepared for the modern world.
We do not simply need degree holders; we need a generation that is strong in faith, outstanding in knowledge, noble in character, intellectually confident, and committed to serving both the nation and the Ummah.
Deoband gave us faith. Aligarh gave us confidence. Nadwa taught us balance. Our responsibility is to build the next chapter—an education system where Islam remains the guiding light and modern knowledge becomes a means of excellence and service.
علی گڑھ کی سرزمین سے: برصغیر کی تعلیمی تحریکیں، دیوبند، علی گڑھ اور ندوہ
ایک تاریخی و فکری جائزہ
اللہ تعالیٰ نے آج ایک ایسی تاریخی سرزمین پر حاضر ہونے کی سعادت عطا فرمائی جس کا نام برصغیر کی مسلم تعلیمی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اصل مقصد جامعہ اردو، علی گڑھ میں ایک اہم تعلیمی نشست میں شرکت تھا، لیکن اس سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی زیارت کا موقع ملا۔ اس عظیم جامعہ کی بلند و بالا عمارتیں، سرخ اینٹوں سے مزین علمی ورثہ، جامع مسجد کی روحانی فضا، مولانا آزاد لائبریری کی علمی ہیبت اور صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سمیٹے ہوئے یہ کیمپس دیکھ کر دل بے اختیار ہندوستانی مسلمانوں کی گزشتہ ڈیڑھ سو سالہ تعلیمی جدوجہد کی طرف متوجہ ہو گیا۔
یہ احساس اس قدر گہرا تھا کہ محسوس ہوا قوموں کی تاریخ صرف میدانِ سیاست میں نہیں لکھی جاتی، بلکہ درس گاہوں، کتب خانوں اور علمی تحریکوں میں رقم ہوتی ہے۔ علی گڑھ انہی زندہ ابواب میں سے ایک باب ہے، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے تعلیمی شعور کو نئی سمت عطا کی۔
1857 کے بعد کا ہندوستان: ایک شکست خوردہ مگر زندہ قوم
1857 کی جنگِ آزادی ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی تاریخ ہی نہیں بلکہ تعلیمی تاریخ کا بھی ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ مغلیہ سلطنت کا خاتمہ، دہلی کی علمی و تہذیبی بربادی، مدارس و مکاتب کی تباہی، اوقاف کا ضبط اور مسلمانوں کا سرکاری مناصب سے محروم ہو جانا ایک ایسا سانحہ تھا جس نے پوری قوم کو فکری بحران میں مبتلا کر دیا۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اس کیفیت کو نہایت دردناک انداز میں بیان کیا ہے کہ 1857 کے بعد مسلمان اپنی علمی، معاشی اور سیاسی قوت سے تقریباً محروم ہو گئے تھے اور نئی حکومت کی نگاہ میں بھی مشتبہ سمجھے جاتے تھے۔ (الطاف حسین حالی، حیاتِ جاوید، ص 170–188)
اسی بحران نے برصغیر میں دو بڑی علمی تحریکوں کو جنم دیا۔ ایک تحریک نے دین کے علمی سرمایہ اور اسلامی تشخص کے تحفظ کو اپنا مقصد بنایا، جبکہ دوسری نے مسلمانوں کو جدید علوم اور نئے تعلیمی نظام سے آراستہ کرنے کی کوشش کی۔
دہلی کالج: دو عظیم تحریکوں کا مشترک سرچشمہ
اگر برصغیر کی ان دونوں تحریکوں کی جڑ تلاش کی جائے تو اس کا ایک اہم مرکز دہلی کالج (مدرسہ غازی الدین دہلی) سامنے آتا ہے۔ انیسویں صدی کا دہلی کالج ایسا علمی ادارہ تھا جہاں اسلامی علوم، عربی و فارسی ادب، منطق، فلسفہ، ریاضی، ہیئت، طب اور جدید مغربی علوم کا غیر معمولی امتزاج موجود تھا۔ یہی ادارہ بعد میں دیوبند اور علی گڑھ دونوں روایتوں کے کئی بڑے رجال کا علمی سرچشمہ بنا۔ (Margrit Pernau, The Delhi College: Traditional Elites, the Colonial State and Education Before 1857)
دہلی کالج کے صدر مدرس حضرت مولانا مملوک علی نانوتویؒ تھے، جو اپنے زمانے کے جلیل القدر محدث، فقیہ اور عقلی علوم کے ماہر تھے۔ ان کے درس میں قرآن و حدیث کے ساتھ منطق، فلسفہ، ریاضی اور ہیئت بھی پڑھائی جاتی تھی۔ (سید محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج 1، ص 73–75)
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ان کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے اور انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کا بڑا حصہ مولانا مملوک علیؒ سے حاصل کیا۔ (مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی، سوانح حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، ج 2، ص 125–145)
سر سید احمد خان کا دہلی کالج سے گہرا علمی تعلق تاریخی طور پر ثابت ہے اور انہوں نے اسی علمی ماحول سے استفادہ کیا۔ بعض مؤرخین نے انہیں بھی مولانا مملوک علیؒ کا شاگرد لکھا ہے، لیکن مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی نے اس روایت کو غیر ثابت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے حق میں مضبوط تاریخی دلیل دستیاب نہیں۔ اس لیے علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ سر سید کو دہلی کالج اور مولانا مملوک علیؒ کے علمی حلقے سے وابستہ ضرور کہا جائے، لیکن انہیں ان کا یقینی شاگرد قرار نہ دیا جائے۔ (نور الحسن راشد کاندھلوی، سوانح حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، ج 2، ص 149)۔
یہ تاریخی حقیقت نہایت معنی خیز ہے کہ برصغیر کی دو بڑی تعلیمی تحریکوں کے فکری چشمے ایک ہی علمی ماحول سے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔
سر سید احمد خان اور تحریکِ علی گڑھ کا آغاز
1857 کے بعد سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے پہلے Scientific Society (1864)، پھر Aligarh Institute Gazette (1866) اور تہذیب الاخلاق (1870) کے ذریعے مسلمانوں میں جدید تعلیم، تحقیق اور سماجی اصلاح کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔ (الطاف حسین حالی، حیاتِ جاوید، ص 278–340)
اس جدوجہد کا عملی نتیجہ 24 مئی 1875 کو “مدرسۃ العلوم مسلمانانِ ہند” کے قیام کی صورت میں سامنے آیا، جو بعد میں Muhammadan Anglo-Oriental College اور پھر Aligarh Muslim University بنا۔ (Aligarh Muslim University Act, 1920؛ AMU Centenary History)
سر سید کی نگاہ آکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیمی نظام پر تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستانی مسلمان بھی ایسے رہائشی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کریں جہاں جدید سائنس، زبانیں، قانون اور فلسفہ پڑھایا جائے، تاکہ وہ نئے دور کے تقاضوں کا مقابلہ کر سکیں۔ (حالی، حیاتِ جاوید، ص 364–381)
اختلافِ فکر، مگر اعترافِ خدمت
یہاں ایک نہایت اہم علمی نکتہ ملحوظ رہنا چاہیے۔ سر سید احمد خان کی بعض اعتقادی اور تفسیری آراء سے اکابرِ اہلِ سنت، خصوصاً علمائے دیوبند، نے اختلاف کیا۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تصفیۃ العقائد میں ان کے بعض نظریات کا رد فرمایا، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے فتاویٰ رشیدیہ میں ان کی بعض تاویلات پر علمی تنقید کی، اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بھی اسی اصولی اختلاف کو واضح کیا۔ (مولانا محمد قاسم نانوتوی، تصفیۃ العقائد؛ مولانا رشید احمد گنگوہی، فتاویٰ رشیدیہ، کتاب العلم، ص 517–519؛ مولانا اشرف علی تھانوی، امداد الفتاویٰ، ج 5، ص 390)
لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اکابر نے سر سید کی تعلیمی خدمات کا انکار نہیں کیا۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے مکتوبات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سر سید کی مسلمانوں کے لیے خیرخواہی اور تعلیمی خدمت کو تسلیم کیا، اگرچہ اعتقادی مسائل میں اختلاف کو واضح رکھا۔ (مکاتیبِ قاسمیہ، مکتوب نمبر 61)
یہ اکابر کا علمی انصاف تھا کہ انہوں نے شخصیت اور نظریہ میں فرق رکھا۔ خدمات کو خدمات کہا اور اختلاف کو اختلاف۔
دیوبند اور علی گڑھ: دو دھارے، ایک مشترک مقصد
1866 میں دارالعلوم دیوبند کا قیام اور 1875 میں علی گڑھ تحریک کا آغاز محض دو اداروں کی تاسیس نہیں، بلکہ مسلمانوں کے بحران کے دو مختلف مگر اہم جوابات تھے۔
دارالعلوم دیوبند نے اسلامی علوم، حدیث، فقہ، عربی زبان اور دینی تشخص کے تحفظ کو اپنا بنیادی مقصد بنایا۔ مولانا محمد میاں لکھتے ہیں کہ دارالعلوم کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی جب مسلمانوں کا دینی سرمایہ خطرے میں تھا اور علماء نے وسائل کی شدید قلت کے باوجود اس علمی روایت کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ (مولانا محمد میاں، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج 1، ص 92–108)
دوسری طرف علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کو جدید تعلیم، سائنس، قانون، انتظامیہ اور زبانوں کے میدان میں آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
بظاہر دونوں تحریکوں کی ترجیحات مختلف تھیں، لیکن دونوں کی پشت پر ایک ہی درد کارفرما تھا: مسلمانوں کا علمی اور اجتماعی احیاء۔
ایک تاریخی حقیقت جسے فراموش نہیں کرنا چاہیے
آج علی گڑھ کی سرزمین پر کھڑے ہو کر شدت سے محسوس ہوا کہ اگر دیوبند نے مسلمانوں کے ایمان، دینی علوم اور اسلامی تشخص کی حفاظت کی، تو علی گڑھ نے مسلمانوں کے اندر جدید تعلیم کی ضرورت کا احساس پیدا کیا۔ برصغیر کی مسلم تاریخ کو سمجھنے کے لیے ان دونوں تحریکوں کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک بڑے تاریخی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعد کے ادوار میں دونوں تحریکوں کے درمیان فکری اختلافات نمایاں ہوئے، اور انہی اختلافات کو علمی توازن کے ساتھ سمجھنا تاریخ نویسی کا تقاضا ہے، نہ کہ جذباتی یک رخا بیانیہ اختیار کرنا۔
علم کی وحدت: اسلامی تہذیب کا بنیادی تصور
برصغیر کی تعلیمی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا اسلام میں “دینی” اور “عصری” تعلیم کی موجودہ تقسیم ہمیشہ سے موجود تھی؟ تاریخی اور علمی تحقیق اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ اسلامی تہذیب میں علم کو اس انداز سے دو مستقل خانوں میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا جس طرح آج ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج ہے۔
قرآن مجید نے علم کا آغاز ہی ربِ کائنات کے نام سے کیا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ (سورۃ العلق: 1)۔ اس آیت میں “اقرأ” کو “باسم ربک” کے ساتھ وابستہ کر کے یہ اصول قائم کیا گیا کہ علم اپنی اصل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت، انسان کی اصلاح اور کائنات کی صحیح تفہیم کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے اسلامی روایت میں ہر وہ علم جو انسان اور معاشرے کے لیے نافع ہو، شریعت کے مقاصد کے تابع سمجھا گیا۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ میں علوم کی تقسیم بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ علوم کا مقصد انسان کی دینی اور دنیوی زندگی کی اصلاح ہے، اور شریعت انسان کی انفرادی و اجتماعی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر علوم کی رہنمائی کرتی ہے (شاہ ولی اللہ دہلوی، حجۃ اللہ البالغہ، ج 1، باب العلم)۔
اس لیے اسلامی علمی روایت میں اصل تقسیم نافع اور غیر نافع علم کی تھی، نہ کہ دینی اور دنیاوی علم کی۔
مدرسہ رحیمیہ: جامع نظامِ تعلیم کی روشن مثال
دہلی کا مدرسہ رحیمیہ اس تصور کی بہترین عملی مثال تھا۔ حضرت شاہ عبد الرحیمؒ نے اس ادارے کی بنیاد رکھی اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسے برصغیر کا عظیم علمی مرکز بنا دیا۔ یہاں صرف قرآن و حدیث یا فقہ ہی نہیں پڑھائی جاتی تھی، بلکہ منطق، فلسفہ، ریاضی، ہیئت، طب، حساب اور زبانوں کی تعلیم بھی نصاب کا حصہ تھی (سید ابوالحسن علی ندوی، تاریخِ دعوت و عزیمت، ج 5، ص 228–235)۔
شاہ ولی اللہؒ کی پوری علمی فکر اس بات پر قائم ہے کہ عقل، وحی کی معاون ہے، اس کی حریف نہیں۔ اسی لیے انہوں نے عقلی علوم کو ترک نہیں کیا بلکہ انہیں دینی علوم کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔
یہ نکتہ اس غلط فہمی کی اصلاح کرتا ہے کہ قدیم مدارس صرف فقہ اور حدیث پڑھاتے تھے۔
درسِ نظامی: صرف “دینی نصاب” نہیں
اسی طرح ملا نظام الدین سہالویؒ کے مرتب کردہ درسِ نظامی میں بھی متعدد عقلی اور سائنسی علوم شامل تھے۔ اس نصاب میں شرح تہذیب، قطبی، ہدایۃ الحکمہ، اقلیدس، علمِ ہیئت، حساب اور منطق مستقل مضامین کے طور پر پڑھائے جاتے تھے (ڈاکٹر محمد ایوب قادری، درسِ نظامی: تاریخ و ارتقاء، ص 85–112)۔
یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ برصغیر کے مدارس میں علومِ آلیہ اور علومِ عقلیہ کو دینی علوم کی خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ ان سے الگ کوئی متوازی نظام۔
دہلی کالج: روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج
انیسویں صدی کا دہلی کالج بھی اسی علمی روایت کا تسلسل تھا۔ یہاں عربی اور فارسی کے ساتھ انگریزی، ریاضی، طبیعیات، کیمیا، جغرافیہ اور فلسفہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ دہلی کالج کے “ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی” نے یورپی سائنسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا اور مسلمانوں میں جدید علوم کے فروغ کا ایک مضبوط ذریعہ بنا (Margrit Pernau, The Delhi College: Traditional Elites, the Colonial State and Education Before 1857)۔
یہی وہ علمی فضا تھی جس سے بعد میں دیوبند اور علی گڑھ دونوں روایتوں کے رجال نے استفادہ کیا۔
نوآبادیاتی تعلیمی پالیسی: ایک تاریخی تبدیلی
اس جامع اسلامی تصورِ علم میں بنیادی ادارہ جاتی تبدیلی برطانوی استعمار کے دور میں آئی۔ 1835ء میں لارڈ تھامس بیبنگٹن میکالے نے اپنی مشہور Minute on Indian Education پیش کی، جس میں اس نے ہندوستان میں انگریزی تعلیم کو سرکاری پالیسی بنانے کی سفارش کی۔
میکالے کا مشہور جملہ ہے:
“We must at present do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern — a class of persons, Indian in blood and colour, but English in tastes, in opinions, in morals and in intellect.”
(Thomas B. Macaulay, Minute on Indian Education, 2 February 1835)
یہ عبارت نوآبادیاتی تعلیمی فلسفے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو ہندوستانی معاشرے اور برطانوی حکومت کے درمیان واسطہ بنے اور فکری طور پر مغربی تہذیب سے متاثر ہو۔
مسلمانوں کے آزاد دینی مدارس۔
ڈاکٹر فضل الرحمن لکھتے ہیں کہ مسلم دنیا میں جدید تعلیمی اداروں کے قیام کے بعد “روایتی مذہبی تعلیم” اور “ریاستی جدید تعلیم” کے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا، حالانکہ کلاسیکی اسلامی روایت میں یہ تقسیم اس صورت میں موجود نہیں تھی (Fazlur Rahman, Islam and Modernity: Transformation of an Intellectual Tradition, ص 30–38)۔
اسی حقیقت کی طرف مؤرخہ Gail Minault بھی اشارہ کرتی ہیں کہ برطانوی ہندوستان میں مسلمانوں کے سامنے تعلیم کے دو الگ راستے کھڑے ہو گئے؛ ایک مدرسہ اور دوسرا نوآبادیاتی کالج (Gail Minault, Secluded Scholars, Introduction)۔
اکابرِ دیوبند کا موقف: مخالفت علوم کی نہیں، فکر کی تھی
اس تاریخی پس منظر میں دارالعلوم دیوبند کے موقف کو سمجھنا ضروری ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے انگریزی زبان اور جدید تعلیم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اصولی جواب دیا کہ کسی زبان یا نافع علم کی ذات ممنوع نہیں، بلکہ وہ تعلیم ناجائز ہے جو دین اور ایمان کے لیے نقصان دہ ہو (فتاویٰ رشیدیہ، کتاب العلم، ص 517–519)۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بھی اسی اصول کو بیان کرتے ہوئے لکھا:
“انگریزی زبان اگر کسی دینی یا دنیوی مصلحت کے لیے سیکھی جائے تو اس میں بذاتِ خود کوئی قباحت نہیں؛ قباحت اس فکر میں ہے جو دین کو مغلوب کر دے۔”
(امداد الفتاویٰ، ج 5، ص 390)
مولانا محمد میاں نے تاریخ دارالعلوم دیوبند میں لکھا ہے کہ دارالعلوم کے قیام کا مقصد جدید علوم کی نفی نہیں تھا، بلکہ اس دور میں قرآن و حدیث اور اسلامی علوم کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا، کیونکہ سرکاری نظام ان علوم کی سرپرستی نہیں کر رہا تھا (مولانا محمد میاں، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج 1، ص 92–108)۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اکابر کا اختلاف تعلیمی فکر سے تھا، نافع علوم سے نہیں۔
علی گڑھ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
دوسری طرف سر سید احمد خان کی تشخیص بھی اپنے زمانے کے تناظر میں قابلِ فہم تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ مسلمان:
انگریزی زبان سے ناواقف ہیں۔
جدید قانون اور سائنس سے دور ہیں۔
سرکاری ملازمتوں میں پیچھے رہ گئے ہیں۔
معاشی اعتبار سے کمزور ہو رہے ہیں۔
چنانچہ انہوں نے جدید تعلیمی ادارہ قائم کرنے کو وقت کی ضرورت سمجھا (الطاف حسین حالی، حیاتِ جاوید، ص 278–340)۔
یہاں اختلاف اس تشخیص پر نہیں تھا، بلکہ بعض فکری تعبیرات اور دینی اصولوں کی تشریح پر تھا، جسے اکابر علماء نے الگ موضوع کے طور پر زیرِ بحث لایا۔
آج کی ضرورت: تقسیم کا خاتمہ، امتزاج کی تعمیر
اس تاریخی سفر کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہمیں نوآبادیاتی دور کی پیدا کردہ تعلیمی دوئی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ دینی مدارس کو جدید تحقیق، زبانوں، سائنس اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اور جدید جامعات کو قرآن، حدیث، اسلامی اخلاق اور تہذیبی شعور سے مربوط ہونا چاہیے۔
قرآن کا “اقرأ” اور شاہ ولی اللہؒ کا جامع تصورِ علم، دیوبند کا تحفظِ دین اور علی گڑھ کی تعلیمی بیداری — اگر یہ سب ایک متوازن نظام میں جمع ہو جائیں تو برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آئندہ صدی کی سب سے مضبوط تعلیمی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
برصغیر کی تین بڑی تعلیمی تحریکیں
انیسویں صدی کے آخری نصف میں برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے ایک بنیادی سوال تھا کہ نئی دنیا میں اپنی دینی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے علمی، سماجی اور تہذیبی بقا کیسے حاصل کی جائے؟ اس سوال کے جواب میں تین بڑی تعلیمی تحریکیں سامنے آئیں، جنہوں نے مختلف جہتوں سے امت کی خدمت کی۔
دارالعلوم دیوبند (1866ء): دینی علوم، قرآن و حدیث اور اسلامی تشخص کا تحفظ۔
تحریکِ علی گڑھ (1875ء): جدید تعلیم، سائنس، زبانوں اور معاشرتی بیداری کا فروغ۔
ندوۃ العلماء (1894ء): دینی تعلیم کی اصلاح، عربی زبان کی تجدید، اور قدیم و جدید علوم میں توازن کی کوشش۔
یہ تینوں تحریکیں اپنے مقاصد، مناہج اور ترجیحات میں مختلف تھیں، لیکن ان کا مشترک درد مسلمانوں کی علمی و اجتماعی بقا تھا (مولانا محمد الحسنی، تاریخ ندوۃ العلماء، ص 15–36)۔
دارالعلوم دیوبند: تحفظِ دین کی تحریک
دارالعلوم دیوبند کا قیام 30 مئی 1866ء (15 محرم 1283ھ) کو حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور ان کے رفقاء کی کوششوں سے عمل میں آیا (مولانا محمد میاں، تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج 1، ص 77–92)۔
حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ نے دارالعلوم کی بنیاد رکھتے ہوئے کسی ریاستی سرپرستی کو قبول نہیں کیا، بلکہ عوامی تعاون اور وقف کے نظام کو اختیار کیا۔ ان کا مقصد ایک ایسا علمی مرکز قائم کرنا تھا جہاں قرآن و حدیث کا سرمایہ محفوظ رہے اور ایسے علماء تیار ہوں جو امت کی دینی رہنمائی کر سکیں۔
مولانا محمد میاں لکھتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند دراصل “حکومت سے آزاد ایک علمی تحریک” تھی، جس کی طاقت عوامی اعتماد اور دینی اخلاص تھا (تاریخ دارالعلوم دیوبند، ج 1، ص 101–108)۔
تحریکِ علی گڑھ: جدید تعلیم کی بیداری
دارالعلوم کے تقریباً نو برس بعد سر سید احمد خان نے علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کی بنیاد رکھی۔ ان کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ مسلمان جدید زبان، سائنس، قانون اور انتظامی علوم میں پیچھے رہ گئے ہیں، اس لیے انہیں ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دے (الطاف حسین حالی، حیاتِ جاوید، ص 364–381)۔
سر سید نے آکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیمی نظم سے متاثر ہو کر رہائشی کالج کا تصور پیش کیا، لیکن اس کے ساتھ اسلامی تہذیب کو بھی برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی (حالی، حیاتِ جاوید، ص 381–394)۔
یہ تحریک مسلمانوں میں جدید تعلیم کے شعور کو عام کرنے میں غیر معمولی طور پر کامیاب ہوئی۔
اختلاف کہاں پیدا ہوا؟
یہ سوال اکثر جذبات کے ساتھ پوچھا جاتا ہے، حالانکہ اس کا جواب علمی ہے۔
علمائے دیوبند کا اختلاف اس بات پر نہیں تھا کہ مسلمان جدید علوم حاصل کریں یا نہیں، بلکہ اختلاف سر سید کی بعض اعتقادی اور تفسیری تعبیرات پر تھا۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تصفیۃ العقائد میں معجزات، ملائکہ، جنات اور بعض عقائد کی ایسی تاویلات کا رد فرمایا جنہیں انہوں نے اہلِ سنت کے اصولوں کے خلاف سمجھا (مولانا محمد قاسم نانوتوی، تصفیۃ العقائد)۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے بھی متعدد سوالات کے جواب میں اسی اصولی اختلاف کو بیان کیا (فتاویٰ رشیدیہ، کتاب العلم، ص 517–519)۔
یہ اختلاف علمی تھا، شخصی یا تعلیمی خدمات کی نفی پر مبنی نہیں تھا۔
شبلی نعمانیؒ: دونوں روایتوں کا امین
برصغیر کی تعلیمی تاریخ میں علامہ شبلی نعمانیؒ کی شخصیت منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے علی گڑھ میں تدریس بھی کی، دیوبند کے اکابر سے بھی استفادہ کیا، اور بعد میں ندوۃ العلماء کی علمی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔
شبلی نے سر سید احمد خان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کیا، لیکن بعض فکری تعبیرات پر اختلاف بھی کیا۔ انہوں نے علی گڑھ میں اسلامی علوم کی مضبوطی اور عربی زبان کی اہمیت پر بارہا زور دیا (شبلی نعمانی، مکاتیبِ شبلی، ج 1؛ سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، ج 2، ص 110–145)۔
اسی لیے سید سلیمان ندوی نے شبلی کو “قدیم اور جدید کے درمیان ایک پل” قرار دیا (حیاتِ شبلی، ج 2، ص 140)۔
ندوۃ العلماء: اصلاح اور امتزاج کی کوشش
1894ء میں لکھنؤ میں ندوۃ العلماء قائم ہوئی۔ اس کے قیام کے اسباب میں علماء کی تنظیم، دینی نصاب کی اصلاح، عربی زبان کی تجدید اور مختلف علمی مکاتبِ فکر کے درمیان تعاون کی کوشش شامل تھی (مولانا محمد الحسنی، تاریخ ندوۃ العلماء، ص 37–58)۔
علامہ شبلی نعمانیؒ نے ندوہ کے نصاب میں حدیث، سیرت، تاریخ، عربی ادب اور جدید علمی مباحث کو زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
سید ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں کہ ندوہ کا مقصد یہ تھا کہ ایسا عالم تیار ہو جو اسلامی علوم میں بھی راسخ ہو اور اپنے زمانے کی زبان اور حالات سے بھی واقف ہو (پرانے چراغ، ص 95–108)۔
لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ ندوہ نے قدیم و جدید تعلیم کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی، نہ کہ صرف دیوبند اور علی گڑھ کے اختلافات ختم کرنے کے لیے وجود میں آیا۔
برصغیر کی تعمیر میں مشترکہ کردار
اگر برصغیر کی گزشتہ ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں تحریکوں کے اثر سے ہزاروں مدارس، کالج، جامعات اور تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔
دارالعلوم دیوبند سے دینی مدارس کا عظیم سلسلہ وجود میں آیا، علی گڑھ سے جدید جامعات اور کالجوں کی تحریک اٹھی، اور ندوہ نے عربی زبان، اسلامی تاریخ اور تحقیقی ادب میں نئی روح پیدا کی۔
یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی موجودہ علمی شناخت ان تینوں تحریکوں کی مشترکہ میراث ہے، اگرچہ ہر تحریک کا اپنا جداگانہ مزاج اور منہج رہا۔
اقراء سے اگلی صدی تک — مسلمانوں کے تعلیمی مستقبل کا منشور
علی گڑھ کی اس مختصر حاضری نے ایک بنیادی سوال ذہن میں تازہ کر دیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سو برس کی ان عظیم تعلیمی تحریکوں سے آج ہمیں کیا سبق لینا چاہیے؟ کیا ہم اب بھی “دینی تعلیم” اور “عصری تعلیم” کے دو متوازی راستوں پر چلتے رہیں، یا ایک ایسا جامع تعلیمی تصور اختیار کریں جو قرآن و سنت کی بنیاد پر کھڑا ہو اور زمانے کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہو؟
میری نگاہ میں آج امتِ مسلمہ، خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ تاریخ کی ان تینوں تحریکوں سے ان کا بہترین سرمایہ لے کر ایک نئی تعلیمی تحریک کی بنیاد رکھی جائے۔
اقراء: اسلامی تعلیم کا بنیادی فلسفہ
اسلام کی پہلی وحی صرف “پڑھو” کا حکم نہیں بلکہ “اپنے رب کے نام سے پڑھو” کا اعلان ہے۔
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾
(سورۃ العلق: 1)
اسی ایک آیت میں اسلامی نظامِ تعلیم کا پورا فلسفہ مضمر ہے۔ علم اپنی اصل میں خدا سے مربوط ہے؛ ایسا علم جو انسان کو اپنے رب سے دور کر دے، وہ اسلامی تصورِ علم کا مقصود نہیں، اور ایسا علم جو انسان کو دنیا سے بے خبر کر دے، وہ بھی اسلامی تعلیم کا مطلوب نمونہ نہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ شریعت انسان کی دینی اور دنیوی دونوں زندگی کی اصلاح کے لیے آئی ہے (حجۃ اللہ البالغہ)۔
دین غالب، دنیا معاون
برصغیر کی تعلیمی تاریخ کا شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ نہ دین کو دنیا سے الگ کیا جا سکتا ہے اور نہ دنیا کو دین سے۔
دارالعلوم دیوبند نے دین کی حفاظت کی، علی گڑھ نے دنیا کے علوم میں مسلمانوں کو آگے بڑھنے کی دعوت دی، اور ندوہ نے ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔
آج ضرورت ان تینوں تجربات کے خلاصے کی ہے۔
ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں:
عقیدہ، قرآن، حدیث اور فقہ بنیاد ہوں۔
زبانیں، سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات، قانون اور تحقیق معاون علوم ہوں۔
اخلاق اور کردار پورے نصاب کی روح ہوں۔
تعلیم روزگار تک محدود نہ رہے بلکہ انسان سازی کا ذریعہ بنے۔
یہی وہ تصور ہے جسے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے “دین اور زندگی کی وحدت” سے تعبیر کیا ہے (مسلمانوں کے زوال سے دنیا کا نقصان؛ پرانے چراغ)۔
اکابرِ دیوبند کی تعلیمی فکر سے رہنمائی
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی پوری تعلیمی جدوجہد اس حقیقت کی شاہد ہے کہ دین کی حفاظت صرف عبادات کی تعلیم سے نہیں بلکہ مضبوط علمی شخصیت کی تشکیل سے ہوتی ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے قیام کے مقاصد بیان کرتے ہوئے مولانا محمد میاں لکھتے ہیں کہ اکابر نے ایسے علماء تیار کرنے کا ارادہ کیا جو ہر دور کے فتنوں کا علمی جواب دے سکیں (تاریخ دارالعلوم دیوبند)۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے بارہا یہ اصول بیان کیا کہ نافع دنیاوی علوم حاصل کرنا جائز اور ضرورت کے درجے میں مطلوب ہے، بشرطیکہ وہ دین کے تابع رہیں (امداد الفتاویٰ)۔
اسی لیے اکابر کے ہاں اصل تقسیم “علومِ دین” اور “علومِ دنیا” نہیں بلکہ “مقصود” اور “وسیلہ” کی تھی؛ دین مقصود ہے اور دنیا کے علوم اس کی خدمت اور انسانیت کی منفعت کا ذریعہ ہیں۔
علی گڑھ سے کیا سیکھنے کی ضرورت ہے؟
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آج چلتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے ادارے کھڑے کرنا بھی عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ سر سید احمد خان نے اپنی قوم کے اندر تعلیم کا شوق پیدا کیا، جدید ادارے قائم کیے، زبانوں، سائنس اور تحقیق کی اہمیت اجاگر کی، اور مسلمانوں کو علمی میدان میں دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا۔
ان کی بعض فکری تعبیرات سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن تعلیمی ادارہ سازی، تنظیم، منصوبہ بندی، فنڈ جمع کرنے، نصاب سازی اور قوم کو تعلیم کی طرف متوجہ کرنے کی ان کی صلاحیت تاریخ کا ایک روشن باب ہے (الطاف حسین حالی، حیاتِ جاوید)۔
یہ پہلو ہمارے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔
اگلے سو سال کی مسلم تعلیمی تحریک
آج ہندوستان کے مسلمان ایک نئے تاریخی مرحلے میں کھڑے ہیں۔ آبادی بڑھ رہی ہے، نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ٹیکنالوجی دنیا بدل رہی ہے، مصنوعی ذہانت (AI)، حیاتیاتی علوم، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی زبانیں نئے چیلنج پیش کر رہی ہیں۔
اگر ہم نے اپنی تعلیمی حکمت عملی تبدیل نہ کی تو تاریخ دوبارہ ہمیں پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔
اس لیے اگلی صدی کی مسلم تعلیمی تحریک کے چند بنیادی ستون ہونے چاہئیں:
1. قرآن مرکزِ تعلیم
ہر طالب علم قرآن کی زبان، مفہوم اور عملی پیغام سے واقف ہو۔
2. حدیث اور سیرت بنیادِ شخصیت
رسول اللہ ﷺ کی سنت صرف نصاب کا مضمون نہ ہو بلکہ تربیت کا محور ہو۔
3. عربی، اردو اور انگریزی — تینوں زبانوں میں مہارت
علمی روایت اور عالمی دنیا دونوں سے رابطہ قائم رہے۔
4. جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت
مسلمان صرف صارف نہیں بلکہ محقق اور موجد بنیں۔
5. اخلاق اور خدمت
تعلیم کا مقصد صرف ملازمت نہیں بلکہ انسان سازی ہو۔
مدرسہ اور یونیورسٹی: مقابلہ نہیں، تعاون
میری نگاہ میں آج سب سے بڑی اصلاح یہ ہے کہ مدارس اور جامعات کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شریکِ سفر سمجھا جائے۔
مدارس تحقیق، زبان اور جدید مہارتوں سے فائدہ اٹھائیں۔
جامعات اسلامی تہذیب، اخلاق اور دینی شعور سے اپنا رشتہ مضبوط کریں۔
دونوں مل کر ایسے ادارے قائم کریں جہاں عالم بھی انجینئر بن سکے اور انجینئر بھی دین کا صحیح شعور رکھتا ہو۔
یہی وہ راستہ ہے جو برصغیر کی تینوں تعلیمی تحریکوں کے مثبت پہلوؤں کو جمع کرتا ہے۔
علی گڑھ کی سرزمین پر ایک ذاتی احساس
جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی عمارتوں کے درمیان چل رہا تھا تو دل میں بار بار یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ تاریخ کے بڑے ادارے صرف اپنے بانیوں کی یادگار نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں۔
دیوبند، علی گڑھ، ندوہ اور مدرسہ رحیمیہ — یہ سب ہماری مشترکہ علمی میراث ہیں۔ اختلافات اپنی جگہ محفوظ رہیں، مگر ان اداروں کی خدمات، قربانیاں اور امت کے لیے ان کی جدوجہد بھی اسی دیانت کے ساتھ یاد رکھی جائے جس کی تعلیم ہمارے اکابر نے دی ہے۔
ایک نئی تعلیمی دعوت
آج ضرورت ماضی پر مناظرے کی نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کی ہے۔ ہمیں ایک ایسی نسل تیار کرنی ہے جو ایمان میں راسخ، علم میں ممتاز، کردار میں پاکیزہ، تحقیق میں آگے اور خدمتِ خلق میں نمایاں ہو۔
ہندوستان جیسے عظیم ملک میں مسلمانوں کا روشن مستقبل صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط تعلیمی اداروں، باکردار اساتذہ، محنتی طلبہ اور قرآن کی پہلی آواز “اقرأ” کو زندگی کا شعار بنانے سے تعمیر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی جامع تعلیمی تحریک برپا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس میں دین اپنی اصل عظمت کے ساتھ غالب ہو، جدید علوم اس کے معاون ہوں، اور برصغیر کی آنے والی نسلیں علم، ایمان اور خدمت کے اس حسین امتزاج کی امین بن سکیں۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔