Jamat-e-Ahle Sunnat

Jamat-e-Ahle Sunnat Through this page, the beliefs of the Sunnis will be protected, and in these circumstances,

21/06/2025

یہاں الل یاری کی طرف سے دو روایات نقل کی گئی جن میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ نامزد نہ کرنے (عدم استخلاف) کا ارادہ فرمایا، اور اس پر اہل تشیع یا کچھ معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ:

مثلا "اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حق پر تھے تو استخلاف کیوں نہ کیا؟ اور اگر استخلاف ضروری تھا تو نبی کریم ﷺ نے کیوں نہ کیا؟"

ان دونوں روایات کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں

❖ خلاصۂ روایات:

1. صحیح بخاری (حدیث 7218):
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو لوگوں نے ان کی مدح کی اور استخلاف (جانشینی مقرر کرنے) کا مشورہ دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"اگر میں کسی کو خلیفہ بناؤں تو مجھ سے بہتر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا، اور اگر نہ بناؤں تو مجھ سے بہتر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو مقرر نہیں فرمایا۔"

2. صحیح مسلم (حدیث 1823):
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے والد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"اگر میں خلیفہ مقرر نہ کروں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہیں کیا، اور اگر مقرر کروں تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مقرر کیا۔"

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا تو میں سمجھ گیا کہ وہ کسی کو براہ راست نامزد نہیں کریں گے۔"

❖ فقہی اور اعتقادی تجزیہ (فقہِ حنفی کے مطابق):

1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عدمِ استخلاف اس بات کی دلیل ہے کہ براہِ راست کسی کو جانشین بنانا واجب نہیں ہے، بلکہ امت کی مصلحت پر چھوڑا جا سکتا ہے۔

2. حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے استخلاف کیا، جو ایک جائز اور اجتہادی صورت تھی۔

3. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شوریٰ تشکیل دی، جو خلافت کے انتخاب کا تیسرا جائز طریقہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی قائم فرمائی۔

4. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ "کاش خلافت سے میرا دامن صاف نکل جائے، نہ میرے حق میں ہو نہ میرے خلاف"، ان کے خوفِ خدا، احتساب اور تواضع کا اظہار ہے، نہ کہ کسی کمزوری یا کوتاہی کا۔

❖ خلاصۂ جواب:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کسی کو براہِ راست خلیفہ نامزد نہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق تھا، جبکہ آپ نے شوریٰ کے قیام سے ایک مضبوط نظامِ مشورہ امت کے لیے چھوڑا۔ استخلاف کرنا یا نہ کرنا دونوں شرعی طور پر درست ہیں۔ ان روایات سے کوئی اعتراض اخذ کرنا علم و تقویٰ سے خالی تأویل ہے، جو اہل سنت و جماعت کے اصول کے خلاف ہے۔

21/06/2025
21/06/2025

سوال:

کیا مستدرک الحاکم حدیث #3327 کے تحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو "عدو اللہ و عدو کتابہ" (اللہ اور اس کی کتاب کا دشمن) کہنا، نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے کہ:

"من دعا رجلا بالكفر أو قال: يا عدو الله، وليس كذلك، إلا حار عليه" (صحیح بخاری و مسلم)

یعنی: "جو کسی کو کافر کہے یا کہے 'اللہ کا دشمن'، اور وہ ایسا نہ ہو، تو یہ کلمہ اسی کی طرف لوٹ آتا ہے"۔
کیا اس سے حضرت عمر پر الزام لوٹتا ہے؟ بعض شیعہ حضرات اسی پر اعتراض کرتے ہیں۔ وضاحت فرمائیں۔

الجواب، وبالله التوفيق:

الحمدلله رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین، و علی آلہ و صحبہ أجمعین۔

مذکورہ حدیث اور واقعہ کے درمیان فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ اعتراض پیدا ہوا ہے، جس کا جواب اصولِ فقہ، حدیث اور سلف صالحین کے فہم سے بالکل واضح ہے۔

❶ حدیثِ "من دعا رجلًا بالكفر..." کا مفہوم:

یہ حدیث اس شخص پر وعید ہے جو کسی مسلمان کو عمداً یا عقیدہ کی بنیاد پر اللہ کا دشمن یا کافر کہے، حالانکہ وہ ایسا نہ ہو۔ اس حدیث میں قصدِ تکفیر یا قصدِ اہانتِ دینی شرط ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانیؒ (فتح الباری: 12/296) فرماتے ہیں:"هذا إذا كان مستحلا لذلك، أو غير متأول، أما مع التأويل فلا يرجع إليه شيء"
(یہ وعید اس شخص کے حق میں ہے جو کسی تاویل کے بغیر یا حلال سمجھ کر ایسا کہے، ورنہ تاویل یا اجتہاد کی صورت میں وعید لاگو نہیں ہوتی۔)

❷ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: سیاق و سباق

مستدرک حاکم حدیث #3327 میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بحرین سے واپس بلایا گیا، اور جب کچھ مالی حسابات میں شبہ پیدا ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غصے اور تحقیق کے دوران سخت کلام کیا:
"يا عدو الله وعدو كتابه أسرقت مال الله؟"

یہ قول:
وقتی ناراضگی اور شدید مالی احتساب کی کیفیت میں کہا گیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں اس پر رجوع فرمایا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وضاحت قبول کی۔
اس کا نہ مطلب کفر ہے، نہ دائمی عداوت کا الزام۔

علامہ زاہد کوثریؒ فرماتے ہیں:
"عمر کا ایسا کلام، کسی پر بدگمانی کی بنا پر وقتی جملہ ہو سکتا ہے، اس سے صحابی کی عدالت پر حرف نہیں آتا، بلکہ اس سے عدل و احتیاط ظاہر ہوتی ہے۔"

❸ کلامِ غصبی کا حکم:

شریعت میں کلامِ غضب (یعنی غصے میں کہی گئی بات) کا حکم ہمیشہ نیت، سیاق، اور مقصد پر موقوف ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

"لا يقضي القاضي وهو غضبان" (ابو داؤد)

یعنی غصے کی حالت میں قاضی کا فیصلہ معتبر نہیں، کیونکہ وہ نیت و مقصد سے ہٹ سکتا ہے۔

ایسے جملوں کو اصولی، عقائدی یا فتوے کی بنیاد بنانا سخت جہالت ہے۔

❹ اہل سنت کا اصول:
اہل سنت کے ہاں صحابہ کرام عدول و ثقہ ہیں، اور ان کے باہمی اختلافات یا کلام کو معصیت یا فسق پر محمول نہیں کیا جاتا۔

> وَالسَّابِقُونَ الأوَّلُونَ مِنَ المُهَاجِرِينَ وَالأنصَارِ... رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
(التوبہ: 100)

❺ نتیجہ:
لہٰذا مذکورہ اعتراض باطل ہے، اور نبی کریم ﷺ کی مذکورہ حدیث کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر اطلاق درست نہیں۔ یہ اعتراض نہ اصولِ حدیث کے مطابق ہے، نہ فقہ کے، نہ اقوالِ سلف کے۔

فتویٰ:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا "عدو اللہ" کہنا وقتی، تحقیقی اور غصبی سیاق میں تھا، نہ کہ عقیدتی یا دائمی اعلانِ دشمنی۔ اس لیے نبی کریم ﷺ کی حدیث کا اطلاق ان پر کرنا باطل اور گمراہ کن تعبیر ہے۔ اس طرح کے اعتراضات دراصل صحابہ کرام کی عظمت کو مجروح کرنے کی شیعہ روش کا حصہ ہیں، جن سے اہل سنت کو مکمل اجتناب اور ان کا علمی رد کرنا لازم ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

12/08/2022

100 Urs e Sarkar Tajul Aulia Alaiher Rehma

05/08/2022

‏حضرت ام عطیہ ؓ کہتی ہیں: رسول الله ﷺ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع فرمایا ہے.
ابوداؤد 3127
(بخاری 1306، 4892؛ نسائی 4185؛ مسلم 2164، 2163)

حضرت قیس بن عاصم ؓ نے (اپنی وفات سے پہلے) فرمایا: مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول الله ﷺ پر نوحہ نہیں کیا گیا.
نسائی 1852

27/07/2022

کیا گھرمیں غازی عباس کا عَلم لگانا جائز ہے؟

Kya Ghar me Gazi Abbas ka Alam(jhanda) Lagana jaiz hai?

27/07/2022

Ashrafi shajre me 14 Masoomin ki wazahat by Huzoor sayyed mehmood Ashraf sahab qibla

23/07/2022

مرتضٰی شیرِ حق اشجع الاشجعین
بابِ فضل و ولایت پہ لاکھوں سلام

شیرِ شمشیر زن شاہِ خیبر شکن
پَر توِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

اہل طریقت کے نزدیک ولایت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے متعلق جملہ ابحاث سے جماعت اہلسنت زمانہ دراز سے واقف ہیں پھر بھی نہ جانے کیوں مندرج دلائل کا سہارا لے کر چند عیار عید غدیر خم منانے پر اتارو ہیں ؟

جبکہ عید غدیر خم کا شیعی پس منظر کسی ذی علم پر مخفی نہیں عیدِ غدیر، ظہورِ مولودِ کعبہ ، ظہورِ مولی علی وغیرہ جیسے ایام تفضیلیوں نے اہل تشیع کے گھر سے ادھار لیکر اہلسنت کی جھولی میں ڈال دیئے ہیں۔ بات تفضیلیوں کی ہوتی تو انہیں بیگانہ کہہ کر خود کو دلاسہ دے لیتے مگر ہمارے کچھ سنی خانقاہی حضرات بھی عقیدت کا جام پی کر محبت و الفت کی مستی میں ان ایام کو منانے کا اہتمام کرنے لگے ہیں ارے نادانوں ہمارے اسلاف نے اسے بطور عید کبھی نہیں منایا، اور وہ عید غدیر نام کی کسی عید کو نہ جانتے تھے، نہ مانتے تھے، نہ مناتے تھے۔ لہذا اس اضافے کی چندان ضرورت نہیں ہے اور نہ مبارکبادیوں اور تہنیتوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہے،

کاش یہ خانقاہیں اپنے جذب کی کیفیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نتائج پر غور کرنے کی عادت ڈالیں، مباح اور عدمِ ممانعت جیسے دلائل دینے کے بجائے اسکے مفاسد کو سمجھنے کی کوشش کریں، شریعتِ مطہرہ نتائج کے فاسد ہونے پر ممانعت کا حکم دیتی ہے سینکڑوں مثالیں احکامِ اسلامیہ کی موجود ہیں، دین کو اصلی حالت پر باقی رکھنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

اہلسنت میں ان ایام کے فروغ پانے میں ہمارے انہیں خانقاہی حضرات کی لغزشیں ہیں۔ پیرانِ عظام اپنی خانقاہوں پر نیز اپنے فیس بک چینلز پر یہ ایام مناکر فارغ ہوجاتے ہیں اور پیچھے جاہل عوام تاریخیں کھول کر الٹا سیدھا پڑھ کر اپنے نظریات کو تباہی کے قریب لے جاتی ہیں۔ اللہ ہدایت کی توفیق دے۔

اب ہر چند کوشش کرکے ایسے دلائل بھی پیش کئے جارہے ہے کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبارت کی روشنی میں گویا اس دن کو منانا جائز و مستحسن ہے مقولہ " مارے گھٹنا پھوٹے آنکھ" کی زندہ نظیر نظر آتا ہے عبارت ملاحظہ فرمائیں

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان خان قادری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

مقال (۳۸ تا ۴۵) : یہی قاضی صاحب سیف المسلول میں مرتبہ قطبیت ارشاد کو یوں بیان کرکے کہ : فیوض وبرکات کا رخانہ ولایت کہ از جناب الٰہی براولیاء اللہ نازل مے شود اول بریک شخص نازل مے شود وازاں شخص قسمت شہد بہریک ازاوالیائے عصر موافق مرتبہ وبحسب استعداد می رسد وبہ ہیچ کس از اولیاء اللہ بے توسط اوفیضی نمی رسد وکسے از مردانِ خدا بے وسیلہ اور درجہ ولایت نمی یابد اقطاب جزئی و اوتاد وابدال و نجیاء ونقباء وجمیع اقسام ازاولیائے خدا بوے محتاج می باشند صاحب این منصب عالی راامام و قطب الارشاد بالاصالۃ نیز خوانند وایں منصب عالی از وقت ظہور آدم علیہ السلام بروحِ پاک علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ مقرر بود ۔ (سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷ تا ۵۲۹) ۔ کارخانہ ولایت کے فیوض وبرکات جو خدا کی بارگاہ سے اولیاء اللہ پر نازل ہوتے ہیں پہلے ایک شخص پر اترتے ہیں اور اس شخص سے تقسیم ہو کر اولیائے وقت میں سے ہر ایک کو اس کے مرتبہ واستعداد کے مطابق پہنچتے ہیں اور کسی ولی کو بھی اس کی وساطت کے بغیر کوئی فیض نہیں پہنچتا۔ْ اور اہل اللہ میں سے کوئی بھی اس کے وسیلہ کے بغیر درجہ ولایت نہیں پاتا ۔ جزئی اقطاب اوتادہ ابدال، نجبا، نقباا ور تمام اقسام کے اولیاء اللہ اس کے محتاج ہوتے ہیں، اس منصب بلند والے کو امام اور قطب الارشاد بالاصالۃ بھی کہتے ہیں __ اور یہ منصب عالی ظہور آدم علیہ السلام کے زمانے سے حضرت علی مرتضٰی کرم اللہ وجہہ کی روح پاک کے لیے مقرر تھا ۔ (ت)

پھر ائمہ اطہار رضوان اللہ تعالٰی علیہم کو بترتیب اس منصب عظیم کا عطا ہونا لکھ کر کہتے ہیں: بعد وفات عسکری علیہ السلام تاوقت ظہور سید الشرفا غوث الثقلین محی الدین عبدالقادرالجیلی ایں منصب بروح حسن عسکری علیہ السلام متعلق بود ۔ (سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷ تا ۵۲۹) ۔ حضرت عسکری کی وفات کے بعد سید الشرفا غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی کے زمانہ ظہور تک یہ منصب حضرت حسن عسکری کی روح سے متعلق رہے گا ۔ (ت)

پھر کہا : چوں حضرت غوث الثقلین پیدا شد ایں منصب مبارک بوے متعلق شدوتا ظہور محمد مہدی این منصب بروح مبارک غوث الثقلین متعلق باشد ۔ (سیف المسلول مترجم اردو خاتمہ کتاب فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۵۲۷ تا ۵۲۹،چشتی) ۔ جب حضرت غوث الثقلین پیدا ہوئے یہ منصب مبارک ان سے متعلق ہوا اور امام محمد مہدی کے ظہو رتک یہ منصب حضرت غوث الثقلین کی روح سے متعلق رہے گا ۔ (ت)

"اصل ان سب اقوال ثلٰثہ کی جناب شیخ مجد الف ثانی سے ہے ، جیسا کہ جلد سوم مکتوب نمبر ۴۳ صفحہ۱۲۳ میں مفصلاً مذکور، ان کے کلام میں اس قدر امرا اور زائد ہے کہ: بعدا ز ایشان (یعنی حضرت مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنی) بہریکے از ائمہ اثنا عشر علے الترتیب والتفصیل قرار گوفت ودراعصا رایں بزرگواران و ہمچنیں بعداز ارتحال ایشاں ہر کس را فیض وہدایت می رسد بتوسط این بزرگوار ان بودہ ملاذ ملجائے ہمہ ایشاں بودہی اند تا آنکہ نوبت بحضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رسید قدس سرہ ، ط الخ اھ ملخصاً ۔ (سیف المسلول مترجم اردو فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۶۹) ۔حضرت مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کے بعد بارہ اماموں میں سے ہر ایک کے لیے ترتیب وتفصیل کے ساتھ قرارپذیر ہوا ۔ ان بزگوں کے زمانے میں اسی طرح ان کی رحلت کے بعد جسے بھی فیض وہدایت پہنچتی انہی بزرگوں کے توسط سے تھی اور سب کا ملجا یہی حضرات تھے یہاں تک کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ ، تک نوبت پہنچی الخ (ت) ۔ (فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ نمبر 810 تا 812)"
خدارا شرم کیجیے ولایت مولائے کائنات سے بھلا کس سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو اعتراض ہوسکتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک حدیث" من کنت مولاہ فعلی مولاہ" نہ مولا علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت مطلقہ کی دلیل ہے، نہ ہمارے نزدیک اس سے ان کی خلافت بلا فصل ثابت ہوتی ہے۔ نہ اس حدیث کے الفاظ سے اور نہ ائمہ کے اقوال سے مذکور عبارت فتاوی رضویہ یا مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی سے کیا دلیل پکڑی جارہی ہے واللہ اعلم بالصواب لیکن اس قسم کے عمل سے جماعت میں چھپے ناصبیوں اور خارجیوں نیز نیم رافضیوں و تفصیلیوں کو اپنے بغض اور تقیہ باز شیعوں کو عظیم موقع فراہم کیا جارہاہے۔
‎اس کو ذریعہ بناکر وہ لوگوں کے دلوں میں پیوست محبت اہل بیت کو کمزور کرتے ہے
‎خانقاہوں سے لوگوں کو دور کرتے ہیں۔ سادہ لوحوں کے عقیدے کو تشابہ وغیرہ کے نام سےمتزلزل کرتے ہیں۔ بعض نواصب نے تو اس مہتم بالشان اور محکم البنیان حدیث شریف کو ہی نزاعی بنانے کی کوشش کی ہے۔
‎علاوہ ازیں اہل بیت سے محبت کے اظہار کے لئے ہمارے پاس بے شمار وسائل ہیں نہ کسی نئے وسیلے کی ایجاد کی حاجت ہے، نہ کسی وسیلے کو کہیں سے برآمد کرنے کی کوئی ضرورت ہے۔
‎اللہ ہمارے دلوں کو اہل بیت کی محبت سے معمور رکھے اور صحابہ کرام کے سوء ادب سے ہمیشہ ہمیں دور رکھے۔

لیکن اس کے لیے ہمیں"عید غدیر " جسکا شیعی پس منظر روز روشن کی طرح عیاں ہے کا سہارا لینے کی بھلایا ضرورت آن پڑی اس دن کو جس طرز پر منایا جارہا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ عوام اہلسنت والجماعت شیعہ مذہب قبول کرلے یا کم از کم گمراہی گہرے گڑھے میں جا گرے۔۔۔

23/07/2022

اہل طریقت کے نزدیک ولایت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے متعلق جملہ ابحاث سے اہلسنت زمانہ دراز سے آگاہ پھر بھی نہ جانے کیوں مندرج دلائل کا سہارا لے کر لوگ عید غدیر خم منانے پر اتارو ہیں؟

و راہی است کہ بقربِ ولایت تعلق دارد : اقطاب و اوتاد و بدلا و نجباء و عامۂ اولیاء اﷲ، بہمین راہ واصل اندراہ سلوک عبارت ازین راہ است بلکہ جذبۂ متعارفہ، نیز داخل ہمین است و توسط و حیلولت درین راہ کائن است و پیشوای، و اصلان این راہ و سرگروہ اینھا و منبع فیض این بزرگواران : حضرت علی مرتضی است کرم اﷲ تعالے وجھہ الکریم، و این منصب عظیم الشان بایشان تعلق دارد درینمقام گوئیا ہر دو قدم مبارک آنسرور علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام برفرق مبارک اوست کرم اﷲ تعالی وجھہ حضرت فاطمہ و حضرات حسنین رضی اللہ عنہم درینمقام با ایشان شریکند، انکارم کہ حضرت امیر قبل از نشاء ہ عنصرے نیز ملاذ این مقام بودہ اند، چنانچہ بعد از نشاءہ عنصرے و ہرکرا فیض و ہدایت ازین راہ میر سید بتوسط ایشان میر سید چہ ایشان نزد ن۔ قطہ منتھائے این راہ و مرکز این مقام بایشان تعلق دارد، و چون دورہ حضرت امیر تمام شُد این منصب عظیم القدر بحضرات حسنین ترتیبا مفوض و مسلم گشت، و بعد از ایشان بہریکے از ائمہ اثنا عشر علے الترتیب و التفصیل قرار گرفت و در اعصاراین بزرگواران و ہمچنیں بعد از ارتحال ایشان ہر کرا فیض و ہدایت میرسید بتوسط این بزرگواران بودہ و بحیلولۃ ایشانان ہرچند اقطاب و نجبای وقت بودہ باشند و ملاذ وملجاء ہمہ ایشان بودہ اند چہ اطراف را غیر از لحوق بمرکز چارہ نیست۔

(امام ربانی مجدّد الف ثانی، مکتوبات، 3 : 251، 252، مکتوب نمبر : 123)

23/07/2022

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اور ان کے بعد خلیفہ ہے اسے جو میں دیکھوں تو ابوبکر صدیق کی تصویر تھی

طبرانی معجم کبیر میں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی، میں زمانہ جاہلیت میں ملک شام کو تجارت کے لئے گیا تھا ملک کے اسی کنارے پر اہل کتاب سے ایک شخص مجھے ملا پوچھا کیا تمہارے یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے؟ہم نے کہاہاں، کہا تم ان کی صورت دیکھو تو پہچان لو گے؟میں نے کہا ہاں، وہ ہمیں ایک مکان میں لے گیا جس میں تصاویر تھیں، وہاں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ مجھے نظر نہ آئی، اتنے میں ایک اور کتابی آکر بولا: کس شغل میں ہو؟ہم نے حال کہا، وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا وہا ں جاتے ہی حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیرمجھے نظر آئی اور دیکھا کہ ایک شخص حضور کے پیچھے حضور کے قدم مبارک کو پکڑے ہوئے ہے، میں نے کہا یہ دوسرا کون ہے، وہ کتابی بولا:انہ لم یکن نبی الا کان بعدہ نبی الا ھذا فانہ لا نبی بعدہ وھذا الخلیفۃ بعدہ۔

بیشک کوئی نبی ایسا نہ ہوا جس کے بعد نبی نہ ہو سوا اس نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ دوسرا ان کے بعد خلیفہ ہے۔ اسے جو میں دیکھوں تو ابوبکر صدیق کی تصویر تھی ۱؎

(۱ ؎ المعجم الکبیر، حدیث ۱۵۳۷، المکتبۃ الفیصلیۃ،بیروت، ۲/ ۱۲۵)(دلائل النبوۃ ابو نعیم، عالم الکتب،بیروت، ۱/ ۹)

21/07/2022

यांचे राफज़ीयत बनाम मैलाईयत!

मुफ्ती अख्तर हुसैन अलीमी साहब किब्ला..

رافضیت بنام مولائیت از مفتی اختر حسین علیمی صاحب قبلہ

Address

Nagpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamat-e-Ahle Sunnat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share