21/06/2025
یہاں الل یاری کی طرف سے دو روایات نقل کی گئی جن میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ نامزد نہ کرنے (عدم استخلاف) کا ارادہ فرمایا، اور اس پر اہل تشیع یا کچھ معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ:
مثلا "اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حق پر تھے تو استخلاف کیوں نہ کیا؟ اور اگر استخلاف ضروری تھا تو نبی کریم ﷺ نے کیوں نہ کیا؟"
ان دونوں روایات کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں
❖ خلاصۂ روایات:
1. صحیح بخاری (حدیث 7218):
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو لوگوں نے ان کی مدح کی اور استخلاف (جانشینی مقرر کرنے) کا مشورہ دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"اگر میں کسی کو خلیفہ بناؤں تو مجھ سے بہتر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا، اور اگر نہ بناؤں تو مجھ سے بہتر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو مقرر نہیں فرمایا۔"
2. صحیح مسلم (حدیث 1823):
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے والد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"اگر میں خلیفہ مقرر نہ کروں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہیں کیا، اور اگر مقرر کروں تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مقرر کیا۔"
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا تو میں سمجھ گیا کہ وہ کسی کو براہ راست نامزد نہیں کریں گے۔"
❖ فقہی اور اعتقادی تجزیہ (فقہِ حنفی کے مطابق):
1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عدمِ استخلاف اس بات کی دلیل ہے کہ براہِ راست کسی کو جانشین بنانا واجب نہیں ہے، بلکہ امت کی مصلحت پر چھوڑا جا سکتا ہے۔
2. حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے استخلاف کیا، جو ایک جائز اور اجتہادی صورت تھی۔
3. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شوریٰ تشکیل دی، جو خلافت کے انتخاب کا تیسرا جائز طریقہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی قائم فرمائی۔
4. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ "کاش خلافت سے میرا دامن صاف نکل جائے، نہ میرے حق میں ہو نہ میرے خلاف"، ان کے خوفِ خدا، احتساب اور تواضع کا اظہار ہے، نہ کہ کسی کمزوری یا کوتاہی کا۔
❖ خلاصۂ جواب:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کسی کو براہِ راست خلیفہ نامزد نہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق تھا، جبکہ آپ نے شوریٰ کے قیام سے ایک مضبوط نظامِ مشورہ امت کے لیے چھوڑا۔ استخلاف کرنا یا نہ کرنا دونوں شرعی طور پر درست ہیں۔ ان روایات سے کوئی اعتراض اخذ کرنا علم و تقویٰ سے خالی تأویل ہے، جو اہل سنت و جماعت کے اصول کے خلاف ہے۔